Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 30 مئی، 2020

تاڑ اور تاڑی

ایک نشہ آور مشروب!
جھمپیر کے کھجور کی ٹوڈی کراچی کے باروں میں سرو کی جاتی تھی-
کھجور کی تاڑی اور اس سے تیار شدہ گڑ!
بھارتی فلم سوداگر اور ذکر کچھ موتی اور محجوبی بیگم کا!

تاڑ ایک ناریل کے درخت جیسا اونچا درخت ہے جسے عربی میں طار فارسی میں تال بنگالی میں تال گجراتی میں تاڑ سندھی میں ٹاری ۔
یہ درخت عام طور پر جنوبی بھارت بنگلہ دیش ویتنام اور کمبوڈیا وغیرہ میں بکثرت پایا جاتا ہے- بچپن میں میں نے کراچی کے گاندھی گارڈن یعنی چڑیا گھر میں بھی تاڑی کے درخت لگے دیکھے تھے - اس کے علاوہ کراچی کے پرانے علاقوں گارڈن ، اولڈ کلفٹن وغیرہ کے پرانے بنگلوں کے لان میں کہیں کہیں تاڑی کے درخت نظر آجاتے ہیں-
یہ درخت بیس سے چوبیس گز بلند ہوتاہے۔اس کا تنا نہایت مضبوط ہوتا ہے۔تنے کے آخری حصے کھجور کی مانند پتے ہوتے ہیں۔ہر ایک پتا ایک ایک شاخ پرلگا ہوتا ہے۔پتے بڑے بڑے پنجے کی شکل میں ہوتے ہیں۔اور بالعموم پنکھے بنانے کے کام آتے ہیں۔پھل ناریل کے برابر سخت اور سیاہ ہوتا ہے۔اس پھل کامغز کھایا جاتا ہے۔
اس درخت سے جورطوبت تروش پاتی ہے اسکو تاڑی کہتے ہیں۔

تاڑ کے پکے پھل کا کاٹ کر اس کا مغز نکال لیتے ہیں۔جونہایت شاداب و شیریں اور فالودہ کی مانند منجمد ہوتا ہے۔اس کو چاقو سے تراش کر کھاتے ہیں۔نہایت لذیز ہوتا ہے۔لیکن دیرہضم اور نفاخ ہے تقویت وتفریح اورتسکین حرارت کی غرض سے اس مغز کو باریک باریک قاشوں میں تراش کر عرق گلاب میں تر کرکے مصر ی سے شیریں کرکے کھاتے ہیں۔جن سے پیشاب کی سوزش دور ہوجاتی ہے۔پیاس کو تسکین دینے کیلئے خوب ہےعلاوہ ازیں اس کے استعمال سے بدن کو غذائیت پہنچتی ہے اور کچھ عرصہ تک استعمال کرنے سے بدن فربہ ہوتاہے۔
جنوبی بھارت کے گائوں دیہات کے میلوں ٹھیلوں میں آج بھی تاڑی کا مشروب لوگ بطور تفریح پیتے ہیں - ہولی دیوالی پر اس کو بطور نشہ آور مشروب کے استعمال کیا جاتا ہے-
جنوبی ہند میں اس سے دیسی کھانڈ تیار کی جاتی ہے اس کی چھال کے جوشاندے سے غرغرے دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتے ہیں۔اس کا سرکہ ہاضم معدہ وطحال کو نافع ہے۔

تاڑی یا تاڑ کا جھاڑ گرم مرطوب ساحلی علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے - خط استوا کے گرد جتنے بھی ساحلی علاقے ہیں وہاں تاڑ بکثرت پائے جاتے ہیں -
ملائشیا سے لے کر جنوبی امریکہ اور مغربی افریقہ ان درختوں سے بھرے ہوئے ہیں جہاں اس کے پھل کو پام اور اس پھل کے تیل کو پام آئیل کہتے ہیں
یہ مغربی افریقہ میں پکانے کے لئیے استعمال ہوتا ہے
اسکا مزہ اختیاری ہوتا ہے یعنی جس کو بھا جائے اسکو بھا جایے ورنہ اسکی تلخی کریلوں کی طرح کسی کسی کو برداشت ہوتی ہے
مغربی افریقہ کے ممالک گھانا نایجیریا ایوری کوسٹ لائبیریا وغیرہ میں پام کی شراب بہت پی جاتی ہے - یہ عرف عام میں ، پام وائین کہلاتی ہے مزے کی بات امریکہ میں یہ پام وائین ایک مشروب کی طرح ان دکانوں پر بھی ملتی ہے
جہاں شراب فروشی کا لائسنس نہیں ہوتا
شاید ابھی تک امریکیوں کو۔معلوم نہیں کہ یہ۔مشروب نشہ۔انگیز ہے-

 تاڑی (Toddy)
ایک سفیدی مائل رطوبت ہے جو درخت تاڑسے ٹپکتی ہے اس کی بومکروہ ہوتی ہے۔مزہ شیریں ترشی مائل ہوتی ہے۔
تاڑ کے درخت پر پھلوں کو کاٹ کر اس جگہ مٹی کا برتن باندھ کر دیتے ہیں ۔تاکہ اس میں رطوبت ٹپک ٹپک کر جمع ہوتی رہیے۔اس رس کو جمع کرنے والے کو رسیا کہا جاتا ہے-

مزاج اس کا سردوتر درجہ اول۔
مصفیٰ خون ،ملین مقوی باہ ،مقوی ومسمن بدن ،مسکن حرارت ،مدربول قاتل کرم شکم
استعمال۔
تاڑی زیادہ ترشوقیہ پی جاتی ہے۔اگرچہ یہ اپنے سکر کی وجہ سے ناقابل استعمال ہے لیکن فوائد کی بناپر اس کو بکثرت استعمال کیاجاتاہے۔ضعیف اور ناقداشخاص اس کے استعمال سے طاقت ور اورفربہ ہوجاتے ہیں ۔ضعف باہ کےمریض بھی اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔غمگین اور رنجیدہ اشخاص اس کو پینے کے بعد تازہ دم ہوجاتے ہیں ۔اور ان کی تھکن دور ہوجاتی ہے۔پیاس کی حالت میں پینے سے پیاس دفع اور قبض کا ازلہ کرتی ہے۔پیشاب کی سوزش کو دور کردیتی ہے۔یہ سوزاک میں نہایت مفید ہے۔کرم شکم اس کے نہارمنہ پینے سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ حکیم سعید نے اپنی کتاب دیہاتی معالج میں اس کے فوائد و نقصان کا ذکر کیا ہے- حکیم صاحب کہتے ہیں کہ کبھی کبھار بطور تفریح پینے کے لئے اچھا مشروب ہے لیکن اگر اس کو بطور نشہ عادت بنا لیا جائے تو اس سے جسم کو وہی نقصانات پہنچتے ہیں جو کہ کسی بھی نشہ آور مشروب سے ہوسکتے ہیں-
تاڑی کا سرکہ ۔
اس کا مزاج گرم ایک خشک دو بیان کیاجاتاہے۔یہ ہاضم ہوتاہے۔
نفع خاص۔
بھارت ، بنگلہ دیش اور دیگر کچھ ممالک میں تاڑی بطور نشہ آور مشروب کے استعمال کی جاتی ہے-
تھکن دور کرنے کے لئے بجائے چائے کے استعمال کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں اس کو نحیف اور کمزورلوگ استعمال کرکے فربہ ہوجاتے ہیں ۔

کھجور کی تاڑی( ٹوڈی)
تاڑی ایک ایسا مشروب ہے جو تاڑ کے درخت کے علاوہ کھجور کے درخت سے بھی تیار کیا جاتا ہے- کسی زمانے میں کراچی کے نزدیک جھمپیر کے کھجور کے باغات ، 'تاڑی' کی وجہ سے خاصی مقبولیت رکھتے تھے۔
کھجور کی تاڑی شراب کی ایک قسم ہے، جو تازہ اور جوان کھجور کے درخت میں چھید کرنے کے بعد اس میں ایک چھوٹا پائپ پیوست کر کے نکالی جاتی تھی۔ درخت کے اوپر حصے میں جہاں سے شاخیں نکلتی ہیں وہاں ایک مخصوص طریقے سے چھیل کر کٹ لگا دیا جاتا ہے - اس کٹ کے ساتھ مٹی کے ایک برتن کو باندھ کر دوسرے دن تک چھوڑ دیا جاتا تھا، جس میں سے قطرہ قطرہ رس ٹپک کر جمع ہوتا تھا۔ سورج ڈھلتے ہی رس کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا۔ یعنی اگر اس کو طلوع آفتاب سے قبل پیا جائے تو مفید ہے لیکن طلوع آفتاب کے بعد یہ نشہ آور مشروب بن جاتا ہے-
سورج کی کرنوں کے نہ پڑنے تک اسے 'نیرو' کہا جاتا تھا مگر جیسے ہی اس پر سورج کی کرنیں پڑنے لگتی تھیں، تو اسے 'تاڑی' کہا جاتا تھا۔ 1970 میں ورجینیا کمپنی جھمپیر سے تاڑی لے کر کراچی کے باروں میں فراہم کرتی تھی، جہاں اسے اور بھی ذائقے دار بنایا جاتا تھا، پھر یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ جھمپیر کراچی سے 114 کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے ہوا سے بجلی بنانے والے پنکھے نصب کر کے ونڈ انرجی فارم بنایا گیا ہے-
کھجور کی ٹوڈی یا تاڑی سے گڑ نما شکر بھی بنائ جاتی ہے جو ایک خاص سوغات ہے- اس کو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ رات یا شام کے وقت کھجور کے درختوں میں پتوں کی جڑ کے قریب ایک کٹ لگا کر اس کے ساتھ چھوٹی چھوٹی مٹکیاں باندھ دی جاتی ہیں- درخت پر لگائے شگاف سے قطرہ قطرہ رس ٹپک کر مٹکیوں میں گرتا رہتا ہے- دوسرے دن صبح یہ مٹکیاں اتار کر ان میں موجود رس کو ایک بڑے کڑھائو میں ہلکی آنچ پر گنے کے رس کی طرح پکایا جاتا ہے جو پانی خشک ہونے پر کھجور کا گڑ بن جاتا ہے-انتہائ لذیذ اور مقوی سوغات ہے-
تاڑی یا تاڑ کا جھاڑ گرم مرطوب ساحلی علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے
خط استوا کے گرد جتنے بھی ساحلی علاقے ہیں وہاں تاڑ بکثرت پائے جاتے ہیں
ملائشیا سے لے کر جنوبی امریکہ اور مغربی افریقہ ان درختوں سے بھرے ہوئے ہیں
جہاں اس کے پھل کو پام اور اس پھل کے تیل کو پام آئیل کہتے ہیں یہ مغربی افریقہ میں پکانے کے لئیے استعمال ہوتا ہے اسکا مزہ اختیاری ہوتا ہے یعنی جس کو بھا جائے اسکو بھا جایے ورنہ اسکی تلخی کریلوں کی طرح کسی کسی کو برداشت ہوتی ہے
مغربی افریقہ کے ممالک گھانا نایجیریا ایوری کوسٹ لائبیریا وغیرہ میں پام کی شراب بہت پی جاتی ہے ایہ عرف عام میں ، پام وائین کہلاتی ہے - مزے کی بات امریکہ میں یہ پام وائین ایک مشروب کی طرح ان دکانوں پر بھی ملتی ہے جہاں شراب فروشی کا لائسنس نہیں ہوتا شاید ابھی تک امریکیوں کو۔معلوم نہیں کہ یہ۔مشروب نشہ۔انگیز ہے
اگر آپ نے 1973 میں بننے والی امیتابھ بچن اور نوتن کی فلم سوداگر دیکھی ہو تو اس میں امیتابھ گائوں میں یہی کام کیا کرتے تھے- موتی ( امیتابھ بچن) گائوں میں موجود کھجور کے درختوں سے مٹکیاں باندھ کر رس جمع کرتا اور وہ رس گائوں کی ایک بیوہ خاتون محجوبی ( نوتن) کو دے جایا کرتا جو اپنے گھر کے صحن میں لکڑیوں کے بڑے چولہے پر ایک کڑھائو میں یہ رس سہجی سہجی سی آنچ پر پکا کر اس کا بہترین گڑ تیار کردیتی جسے موتی گائوں کے نزدیکی قصبے کے بازار میں لے جا کر فروخت کردیا کرتا تھا- گڑ کے بیوپاری موتی کے گڑ کے بڑے معترف تھے اور منہ مانگے داموں یہ گڑ خرید لیا کرتے تھے- موتی دراصل گائوں کی ایک لڑکی پھول بانو (پدما کھنہ) سے محبت کرتا تھا لیکن پھول بانو کے والد کی طرف سے بطور مہر بہت زیادہ رقم کا مطالبہ موتی پورا نہ کرسکتا تھا- موتی نے محجوبی بیگم سے نکاح کرلیا کیونکہ وہ کھجور کا گڑ بنانے میں ماہر تھی اور اس جیسا گڑ پورے علاقے میں کوئ نہیں بناتا تھا- موتی محجوبی کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دے کر اس سے خوب گڑ بنواتا اور اسے بازار میں فروخت کرکے پیسے جمع کرتا رہا تاکہ پھول بانو کے مہر کی رقم جمع کرسکے- محجوبی کا بنایا گڑ پورے بازار میں سب سے زیادہ مہنگا فروخت ہوتا تھا- مطلوبہ رقم جمع ہونے کے بعد موتی نے محجوبی کو بانجھ پنے کا بہانہ بنا کر طلاق دے دی اور نوجوان پھول بانو کو دلہن بنا کر گھر لے آیا- لیکن جب عشق کا نشہ سر سے اترا تو موتی نے گڑ بنانے کا کام پھول بانو کو سونپ دیا مگر پھول بانو جوانی کے نشے میں مست ایک الہڑ دوشیزہ تھی- اسے کھجور کے رس کے گڑ بنانے کا کوئ تجربہ نہ تھا- گڑ بناتے ہوئے وہ بڑا مشہور گانا گاتی ہے
سجنا ہے مجھے سجنا کے لئے
زرا الجھی لٹیں سنوار دوں
ہر انگ کا رنگ نکھار لوں
کہ سجنا ہے مجھے سجنا کے لئے
پھول بانو کی انہی مستیوں اور غسل کے دوران اس کے انگ نکھرتے گئے اور گڑ کا رنگ جل جل کر سیاہ پڑتا گیا جسے بازار میں گڑ کا بیوپاری چکھ کر تھوک دیتا ہے اور موتی سے کہتا ہے کہ میاں یہ کیا اٹھا لائے ہو؟
کئ مرتبہ ایسا ہونے پر موتی کے مالی حالات انتہائ خراب ہوجاتے ہیں اور پھول بانو سے بھی ان بن ہوجاتی ہے-
اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ موتی رس کی مٹکیاں لے کر جھکے سر اور شرمندہ قدموں کے ساتھ ایک بار پھر محجوبی بیگم کے دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے-
یہ تو ہوگئ موتی اور محجوبی کی کہانی لیکن پاکستان کے صوبہ سندھ میں سکھر اور خیر پور میں بے شمار کھجور کے باغات موجود ہیں لیکن یہ علم نہیں کہ کوئ وہاں بھی ان درختوں سے ٹوڈی اور اس سے گڑ تیار کرتا ہے کہ نہیں؟ اگر آپ کے علم میں ایسی کوئ اطلاع ہو تو ضرور مطلع کیجئے گا-

(مختلف ویب سائٹس، بلاگز، کتب اور انسائیکلو پیڈیا سے مدد لی گئ ہے)  
 Sanaullah Khan Ahsan

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔