Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 17 مئی، 2020

17 مئی کی ڈائری - شانزے کی سالگرہ

آج اِس پیاری شہزادی شانزے آصف کی سالگرہ تھی-
بوڑھا اور بڑھیا جب سے یہاں آئے ہیں ہر ہفتے ، تمام فیملیز سالگرہ  - ون ڈش پارٹییز اور کسی نہ کسی تقریبات کے بہانوں سے ہر ہفتے ملاقات ہوتی تھی۔ 
 14 مارچ چم چم کی سالگرہ کے بعد ، کرونا  نے سب کو خوفزدہ کر دیا -سب اپنے اپنے گھروں میں محبوس ہو گئے -
آج  خوفزدہ پاکستانی خاندانوں   کی عدیس ابابا میں پہلی ملاقات ہے -  شانزے کی سالگر ہ کے بہانے منائی گئی -
عارف صاحب کے گھر کی یہ خوبی ہے ۔ کہ اِس محبت کرنے والے گھر کا پختہ  لان بہت بڑا ہے ، جہاں بچوں کے ہلاگلا کرنے اور کھیلنے کے لئے جگہ  ہے -
تینوں فیملیز اپنی اپنی ڈش بنا کر لائیں - 


عارف  کی بیگم بڑھیا کی بہو ہے اور آصف  کی بیگم بیٹی اور بڑھیا   پاکستانی خاندانی محبت کی فضاء میں سانس لے رہی ہے ۔
سب بچوں اور فیملیز نے عارف صاحب کے گھر بہت انجوائے کیا -

ویل ڈن آصف صاحب اور عارف صاحب -

ارے ہاں پریرنا غنچہ کا ذکر کرنا بھول گیا ، پاکستانی مٹی میں پلے بڑھے اور کھیلے کودے ملتانی والدین  کی مہاجرزادی  بیٹی ہے ، جو  آج کل دہلی میں رہائش پذیر ہیں  - یہ ہمارے لئے ایک نہایت پیاری بچی ہے ، جس کو بچوں کا آنٹی کہنا برا لگتا ہے لہذا سب پریرنا کو باجی کہتے ہیں -
٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔