میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 9 مئی، 2020

شگفتگو کی اکیسویں وٹس ایپ محفل - فرام ہوم

زعفرانی بزم شگفتگو کےمزاحیہ مناثرہ کی 21 ویں محفل
تاریخ: 9 مئی 2020
وقت: 2:00 بجے دوپہر سے 4:30 دوپہر
نوعیت: آن لائن- واٹس ایپ کے شگفتگو گروپ میں باری باری مضامین کی چسپیدگی، اور پھر ان کو پڑھنے کے بعد، شرکاء کے تحریری تبصرے۔
نظامت: عاطف مرزا
روداد نویس: حبیبہ طلعت
شرکاء: (بلحاظ ترتیبِ اظہار)
آصف اکبر (پرسنل مرزا)
عاطف مرزا (الٰہ دین کا چراغ )
حبیبہ طلعت (میاں، بیوی اور رسّہ)
حسیب الرحمن اسیر (کورونا آیا ہے)
شازیہ مفتی (اطلاع عام)
عزیز فیصل، ڈاکٹر (نثرانچے)
کلیم محمد ، ڈاکٹر (جام ساقی کی سوزوکی)
نعیم الدین خالد ( ایتھوپیائی نائی کرونائی ماحول میں)


خوف اور دہشت سے لطف اٹھانا، انسان کی جبلت میں شامل ہے۔سنا ہے پیرس میں ایک خاص تھیٹر دہشت انگیز کھیل دکھانے کے لیے وقف تھا۔ پھر ہماری قوم تو خدا کے فضل و کرم سے ڈھیٹ بھی واقع ہوئی ہے۔ اسے خود ہیبت ناک واقعات گھڑنے میں کمال حاصل ہے جبکہ دہشتناک حالات سے گذرنے کا تجربہ مستزاد ۔۔۔ بقول کسے، اس قوم کو کارساز میں پھرنے والی چڑیل کا تو یقین آسکتا ہے مگر کورونا ایک وبا ہے اس پر یقین کرکے سنجیدہ لینے والی نہیں ہے۔ پھر بزم زعفرانی کے ارکان کیوں سہمے رہتے، جو ماحول میں مسکراہٹوں سے رونق بڑھانے کی ٹھان چکے ہیں۔
محفل تھی مواصلاتی رابطے پر، سو پچھلی محفل کے تجربات کی روشنی میں نیم مارشل لائی ضابطوں پر ہی استوار ہوئی ۔۔ سب سے پہلے عاطف مرزا نے اصول و ضوابط کا خاکہ سامنے ٹانگ دیا اور تمام ممبران کو نظام الاوقات تھما دیا گیا، 



جس کے مطابق آصف اکبر نے بسم اللہ کی۔۔ حیران نہ ہوں، یہ محض ایک سوچا سمجھا اتفاق رہا کہ ان کو اس عمر میں بسم اللہ کرنا پڑی۔ انہوں نے اپنا مضمون "پرسنل مرزا" کے نام سے پیش کیا، جو معروف مزاح نگاروں کے مقبول کردار "مرزا" کی مناسبت سے لکھا گیا تھا۔ ان کےچلبلے فقروں نے حاضرین کو بہت ہنسایا۔۔ ڈاکٹر عزیز فیصل کا بھرپور تبصرہ تھا " آصف صاحب کا گھمن گھیریاں دیتا، اپنی حسرتوں کا پر مزاح اظہار اور خوبیوں کا مزاحیہ محاسبہ کرتا مضمون روانی اور شگفتگی کے تسلسل کے ساتھ بہت خوب رہا۔
ابھی مسکراہٹیں تھمیں تک نہیں تھیں کہ اپنی باری کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سچ مچ عاطف مرزا کی آمد ہوئی۔



 عاطف مرزا نے "الہ دین کا چراغ" تلے، بقول ارشد محمود، پوری سیاسی تاریخ اور میڈیائی ابتری پر کاری وار کیا گیا ہے۔ عاطف مرزا نے الہ دین کا چراغ رگڑنے سے دھماکہ ہونے اور نتیجے میں الٰہ دین اور جن کی ہلاکت پر خبروں کے دلچسپ ٹکر چلائے۔۔ مثلاً جن کے گروہ کو پکڑنے کے لیے کریک ڈاؤن۔ چراغ کوہ قاف سے غیر قانونی طور پر سمگل کیا گیا تھا۔ کوہ قاف سے آنے والی فلائٹ کے مسافر کے سامان کی ایکسرے فوٹیج ہمارے چینل نے حاصل کر لی، وغیرہ۔ مختصر تحریر کو غیر مختصر داد ملتی ہی چلی گئی۔
اب باری ارشد محمود کی تھی مگر انہوں نے محض سامعین اور ناظرین میں شامل رہنے پر اکتفا کیا، یوں ہم ایک گھنٹے قبل ہی وارد ہوگئے ۔

ہمارا مضمون "میاں بیوی اور رسّہ" تھا جس میں روایتی بندھن پر لاک ڈاون کے حوالے سے مسلسل قید کے دوران رسّہ کشی پر روشنی ڈالی گئی تھی۔۔ موضوع کی بنیاد پر حاضرین نے پسند کیا۔

اب شمع، حسیب الرحمن اسیر کے سامنے دھر دی گئی۔ انہوں نے "کرونا آیا ہے" کی ایک بار پھر اطلاع بہم پہنچائی اور مختصر مگر پر لطف کے مصداق خوب داد سمیٹی۔۔ لکھتے ہیں کہ "کرونا کی آمد سے قبل ہر اینٹ کے نیچے اہل حکمت سکونت پذیر تھے اب ایک ایک اوپر بھی براجمان ہوگیے ہیں"۔ اس مضمون پر سب سے بلیغ داد آصف اکبر کی رہی کہ ابھی تو دم درود سہہ رہا ہے، لیکن تاجدار ( کورونا) دم ہی نہ دے جائے۔


اب باری تھی شازیہ مفتی کے " اطلاع عام" کی۔ جس دلچسپ پیرائے میں انہوں نے ایک حادثے کی کھلکھلاتی روداد بیان کی، لکھتی ہیں کہ " نہ جانے کتنی دیر بعد آنکھ کھلی تو یاد تو فورا آگیا سب لیکن چونکہ اداکاری کا شوق بچپن سے تھا تو جی آنکھیں پٹپٹا کر ایک ہوکا بھرا اور سوال کیا " میں کہاں ہوں ؟
ابھی یہ پوچھنا تھا
" میں کون ہوں؟ میاں صاحب تمام حالات خبرنامے کی طرح سنا کرپھر سے اپنے خول میں کچھوے کی طرح پناہ گزین ہوگے ۔"
اس پر سب سے اعلی تبصرہ حسیب اسیر کا رہا۔ کہتے ہیں کہ حادثے عمر کو تجربے کے سوا کیا دیتے ہیں۔ عزیز فیصل نے کہا کہ ایک حادثے کی روداد سے گوناکوں بہلو نکال کر معاشرت، رواداری، بدتہذیبی اور خدمت گزاری کے اوصاف اجاگر کیے۔


اب شمع دان عزیز فیصل کے سامنے تھا۔ ان کی آمد پر آصف اکبر نے کہا کہ عزیز فیصل وہ ٹونٹی ہیں جس کو جتنا بھی کس کر بند کیا جائے، اس میں سے مزاح ٹپکتا ہی رہتا ہے۔ ہلکے پھلکے نثرانچوں نے ہمیشہ کی طرح عجب بہار دی۔ ایک نثرانچے میں کہا گیا تھا کہ وہ اتنی موٹی ہے کہ کسی کے ساتھ ایک پیج پر آ ہی نہیں سکتی۔ اس پرشاعری کی قطعا مناہی کے باوجود آصف اکبر نے کہا اگر عزیز فیصل اجازت دیں تو اس حوالے سے ایک فلمی نغمے پر مشتمل ٹانگ توڑ تبصرہ کروں:
ایک کرسی میں تو آتا ہی نہیں ---
میرا محبوب کتنا زیادہ ہے۔۔۔۔۔


ان کے بعد ڈاکٹر محمد کلیم نے اپنےمخصوص انداز میں جام ساقی کی سوزوکی کی ادائیں دکھائیں، جس نے شبیر مستری سے اپنا یارانہ خوب گانٹھا تھا۔ لکھتے ہیں کہ " ایک دن ایک ساتھی طالب علم نے آپ سے استفسار کیا کہ کیا آپ فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر کام کرتے ہیں، انہوں نے جب انکار کیا تو وہ بولے پھر آپ کے ہاتھ کالے کیوں رہتے ہیں؟" ڈاکٹر عزیز فیصل کا بھرپور تبصرہ رہا کہ ڈاکٹر صاحب بات سے بات نکالنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ صورت حال سے مزاح کشید کرنا اور شخصیت کی کجی سے دلچسپ نکتے نکالنا آپ کی ہر تحریر کی جان ہے۔
دو دن بعد پردیس سے نعیم الدین خالد نے صبح اپنا مضمون اس معذرت کے ساتھ پیش کیا کہ عین وقت پر نیند آجانے کے سبب وہ شریک نہیں ہو سکے تھے۔ انہوں نے بعنوان"ایتھوپیا کا نائی کرونائی ماحول میں" دلچسپ داستان پیش کی۔

چار شرکاء ایسے بھی تھے جو پراسرار طریقے پر روپوش ہو گئے۔ لاک ڈاؤن کے سبب نہ مسجد سے اعلان کرایا جا سکا نہ کنوؤں میں بانس ڈالے جا سکے۔ نتیجتاً بر وقت شروع ہونے والی محفل کو بروقت ختم کرنا پڑا۔
یوں یہ قہقہاتی محفل اختتام پذیر ہوئی۔
تمام ساتھیوں کی طرف سے ان تمام ساتھیوں کا بہت شکریہ جو اس محفل میں شگفتگی کا احساس دلاتے رہے۔۔۔

(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔