میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 5 مئی، 2020

ایتھوپیا کا نائی، کرو-نائی ماحول میں

جنوری میں  کی 5 تاریخ کو  اسلام آباد سے عدیس ابابا آنا پڑا ۔   
14 مارچ کو چم چم (نواسی) کی سالگرہ تھی ۔ بڑھیا نے  10 مارچ کو وارننگ دی کہ آپ کی بال بہت بڑھ گئے ہیں ، کٹوا لیں  ۔
"نہیں ٹھیک ہیں زیادہ نہیں بڑھے " میں نے جواب دیا ۔
"نہیں بُرے لگ رہے ہیں ، کٹوا لیں لوگ یا کہیں گے " بڑھیا بولی ۔
" کون سے لوگ ؟" میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا 
" ارے وہی جو سالگرہ پر آئے  گے " بڑھیا بولی '
" وہ کون سا میرے رشتے کے لئے آرہے ہیں " میں نے جواب دیا۔
" کچھ خدا کا خوف کرو ، اِس عمر میں بھی رشتے کا سوجھ رہا ہے ؟" بڑھیا  نے جھاڑا ۔

" جب ، اِس عمر میں  مصطفیٰ کھر اپنی گود میں اپنے ڈیڑھ سال کے بچے کو اُٹھا سکتا ہے ، تو میں نے کیا جرم کیا ہے ؟ ویسے بھی جب میں نے آپ کے کہنے پر  ، ایتھوپیئن نائی سے بال کٹوائے تھے تو اُس نے کون سا ہیرو بنا دیا تھا ؟" میں نے جوابی وار کیا ۔
" اچھے تو بال کاٹے تھے ، ایتھوپیا میں وہی کٹ کاٹیں گے جو یہاں کا رواج ہے " بڑھیا بولی ۔
" پپا ، آپ ہلٹن چلے جائیں وہاں کا باربر اچھا ہے " بیٹی نے رائے دی ۔
" وہاں کیا خوبی ہے ؟ ہے تو وہ بھی ایتھو پیئن " میں نے جواب دیا ۔ 
" آپ انجوائے کریں گے "۔ یہ کہہ کر اُس نے ہلٹن فون ملایا  اور 13 تاریخ شام 3 بجے کی بکنگ کروا دی ۔
" ارے بھئ  آج کیوں نہیں ؟" میں نے پوچھا ۔

" پپا وہاں ، اپائنٹمنٹ لینا پڑتی ہے " بیٹی بولی ۔
" اُنہوں نے بال کاٹنے  ہیں یا دانت نکالنا ہے " میں نے پوچھا ۔
" شکر کریں ، آپ کو تین دن بعد اپائنٹمنٹ مل گئی عورتوں کو ہفتہ پہلے بکنگ کروانا پڑتی ہے " بیٹی بولی ۔ 
13 تاریخ  کو بیٹی کو میسج آیا ،" آپ کی اپائنٹمنٹ منسوخ ہو گئی ہے ، آئیندہ تاریخ آپ کو بتا دی جائے گی ۔
چنانچہ اِس بوڑھے نے سکون کا سانس لیا ، ڈی ایچ اے ، ون میں ٹینکی کے نیچے نائی کی دُکان سے 100 روپے میں بال کٹوانے والا ،  400 ایتھوپیئن   روپوں میں بال کیسے کٹوا سکتا  ؟ 
چلو اب  چھٹی ، واپسی  اپریل میں دبئی جا  کر ، پاکستانی باربر سے بال کٹوائیں گے ۔ 
مارچ گذرا تو معلوم ہوا ایتھوپیا سے باہر نکلنے والے سارے راستے بند !
 اور بال تھے کہ روزانہ کے حساب سے بڑھ رہے تھے ۔ 
صبح سو کر اُٹھتا اور شیشے میں خود کو دیکھتا تو ایسا معلوم ہوتا جیسے رات کو بالوں میں بم پھٹا ہے ۔ 
کبھی دل میں آتا  کہ سر کو خود احتسابی کے عمل سے گذارا جائے ۔ لیکن پھر ڈر لگتا - کہ کہیں نیب کی طرح اگر احتساب کا عمل زیادہ ہو گیا ، تو سر منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا ۔ 
آج کی بات ہے ، کہ بڑھیا نے تھیلا دے کر کہا : "یہ سامان لے آئیں " 
بوڑھا سامان لینے  محلّے کی مارکیٹ چلا گیا ، وہاں باربر کی دُکان پر  دیکھی کھلی ہوئی تھی -
تجسس کے مارے دکان میں گیا ۔ کوئی نہیں تھا ، واپس مڑا تو سامنے کافی شاپ پر بیٹھا نوجوان     تیزی سے میرے طرف بڑھا ۔  اور ٹوٹی پھوٹی انگلش میں پوچھا ۔
" بال کٹوانے ہیں ؟"
" جی ، مگر مجھے کرونا سے ڈر لگتا ہے " میں نے کہا ۔

" نو نو سر ۔ میرے پاس سینیٹائزر ہے ۔ آپ فکر مت کرو ۔ تمام سامان کرونا پروف ہے ۔ کل کمیٹی والے چیک کر کے گئے ہیں" اُس نے کہا ۔
اور بوڑھے کو کرسی پر بیٹھنے کو کہا ۔ 
نوجوان بارباربر سے سامان نکالا ، اُسے ایک ٹرے میں ڈالا اور ایک بوتل سے لکوئڈ اُنڈیلا ، کمرے میں سپرٹ کی بو بھر گئی ۔ پھر اُس نے میرے ہاتھوں پر سینی ٹائزر سے سرے کیا ، میرے بالوں پر سپرے کیا ، خود گلوز پہنے ، ماسک لگایا   ۔ ایک خود ساختہ چولہے میں سپرٹ ڈال کر آگ لگائی اور اپنی بال کاٹنے کی مشین  اور اُس کی لوہے کی گراری کو آگ سے گذارا ۔ 
آگ بند کرنے کے بعد اُس نے سپرے سے ماحول میں اُڑنے والے کرونا کے جراثیم کو نیست و نابود کیا-
بوڑھے نے کرسی کے ہینڈلز پر دو دفعہ سپرے کروایا       اور بوڑھے سے پوچھا ،
" کس قسم کی ہیر کٹ کرنی ہے " 

اور ہیر کٹ کےچارٹ کی طرف اشارہ  کیا ۔


بوڑھے نے غور سے تمام نوجونوں کے ہیر سٹائل کی تصاویر دیکھیں  اور سب سے نیچے بائیں سے دوسرے نوجوان کی طرف اشارہ کر کے کہا ،
" ایسی " اور بوڑھا  آنکھیں بند کرکے کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
مشین کی گھر گھر سے  تین ماہ کے بڑھے ہوئے بال گھاس کی طرح کٹ کر گرنے لگے ۔  
اُس نے بعد جو بوڑھے کا سر بنا ۔


وہ ایسا تھا ، نوجوان باربر  سے پوچھا ۔"
کتنے پیسے ؟"
" 50 بر " وہ بولا۔

کہاں 400 بر اور کہاں 50 بر ؟؟
چنانچہ مبلغ 100 ایتھوپئین بر ،  جو پاکستان کے مطابق 500 روپے تقریباً بنتے تھے دے  کر شکریہ ادا کرنے کے بعد سامان خرید کر گھر آیا ۔
بڑھیا نے درہازہ کھولا ، اور حیران ہو کر پوچھا ،
" یہ کیا ؟ کیا  ہیر کٹ کروائی ہے ؟ "
" جی ، بال بڑھ گئے تھے ، سوچا کروالوں" میں بولا ۔
"یہ کیسی کروائی ہے ؟ اِس سے بہتر تھا گنجے ہو جاتے " بڑھیا نے طنز کیا ۔

"اور آپ کو کرونا کا ڈر نہیں لگا "
" کرونا ، گنجا ہونے کے ڈر سے ایتھوپیئن نائی کی دکان میں نہیں گھستا "  میں نے جواب دیا۔
" کتنے بُرے بال کاٹے ہیں بد بخت نے" بڑھیا بولی "اچھا جائیں گرم پانی سے خوب نہائیں "
" ارے بیوی گھر کی کھیتی ہے  مہینے بعد پھر کٹنے کے قابل ہوگی " میں نے مزاحیہ انداز میں کہا 
" ٹھیک ہے اگلی دفعہ میں کاٹوں گی "  بڑھیا بولی 
" چالیس سال ہو گئے ہیں حجامت بناتے ہوئے اب بھی دل نہیں بھرا " یہ کہہ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ۔

تیا ر  کے بعد  شیشے میں دیکھا ،"کیوں دوستو !  بال کچھ بُرے نہیں کاٹے؟ "


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔