Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏رنگروٹ سے آفیسر تک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏رنگروٹ سے آفیسر تک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 7 مئی، 2023

پی ٹی آئی کی غلاظت میں لتھڑے لوگ

گمنام پی ٹی آئی کی غلاظت میں لتھڑے فوجی دوست ۔

جب نصف صدی پہلے ، جب،   :۔
٭۔نہ آرمی آفیسر کو ھاوسنگ کا مکان ملتا تھا،
٭۔نہ ڈی ایچ اے کا  پلاٹ  ملتا تھا ۔
 ٭۔نہ  آرمی پبلک سکول ہوتے تھے ۔

اور
٭۔نہ ہی ریٹائرمنٹ کے بعد نوکری ملتی تھی ۔

میرے اُفق کے بار بسنے والے گمنام وٹس ایپی دوست :۔
تب  بھی قبول صورت  اور باکردار  لڑکیاں، آرمی ، ائر فورس اور نیوی  کے آفیسروں کو ایلیئٹ کلاس سے شادی کے لئے مل جایا کرتی تھیں ۔
خواہ آرمی آفیسر ، سپاہی کا بیٹا ہو یا مستری کا ، یا دکاندار کا  یا کسان کا ،
کیوں کہ وہ ، معمولی کلاس کا بیٹا پاس آؤٹ ہوتے ہی ایلیئٹ کلاس میں شامل ہوجاتا تھا ۔
اور آرمی آفیسرکی بیوی بننا اعزاز کی بات ہوتی تھی ۔ 

کیوں کہ آرمی آفیسر کا بچہ یا بچی اپنے باپ کے کیرئیر سے بلند ہی دیکھا ہے ، سوائے اُن بچوں کے جوبگڑ گئے ۔ 
میں پرسوں ، ایک سینئر آفیسر کرنل نذرعباس کے گھر گیا جو عسکری 10 میں  رھائش پذیر ہے۔وہاں اُس کا کورس میٹ کرنل نعیم جعفری، میں اور میرا فوجی بیٹا،  بیٹھے پرانے 1980 کے قصے دھرا رہے تھے ۔ کیوں کہ ہم تینوں کے بچے ہم عمر ھیں  ، اور اب فوج، سول   انجنیر ، چارٹرڈ اکاونٹ اور بینکر ہیں۔ پاکستان میں ہیں اور بیرونِ ملک باعزت روزگار کما رہے ہیں ۔ 
کرنل نذرعباس نے کہا ، نعیم میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ  ریٹائر منٹ کے بعد میں ایسے گھر میں رہوں گا ۔ 

میں نے کہا: سر  یاد ہے کہ 1980 میں جب عسکری ھاوسنگ کی سکیم آئی تو ہم تینوں کے پاس ڈاؤن پیمنٹ جمع کروانے کی رقم نہیں تھی ۔
میں سوچتا تھا کہ تین بچے پالوں یا قسطیں کٹواؤں ؟
یہ فوج کا ہم مڈل کلاس والوں پر احسان ہے کہ ہمیں رہنے کو باعزت چھت دی ہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نوکری اور بچوں اور بہترین تعلیم کے مواقع اور بڑھاپا سکون سے گذارنے کے لئے پنشن ۔
دوسال میں ایک بار باہر جاب کرنے والے بچوں کے پاس ، اپنے گرینڈ چلڈرنز سے ملنے نکل جاتے ہیں ۔

بنگلہ ، گاڑی اور تعلیم یافتہ بچے ، سے زیادہ اگر یہ خاتون چاھتی ہے۔

  تو باجوہ یا عاصم منیر کیا کر سکتا ہے ؟؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


پیر، 2 مارچ، 2015

گورکھے اکیڈمی میں ۔


سہیل ہم چاروں میں سب سے چھوٹا تھا، ایف ایس سی کرتے ہی فوج میں آفسر بننے چلا آیا۔ امجد زمان ملٹری کالج کا فارغ التحصیل تھا اور اپنے کلاس فیلوز سے ایک سال بعد آیا تھا۔ فاروق عرف گھگو کا بھی یہی حال تھا اور ہمارے ساتھ کے  ہم سے ڈیڑھ سال سینئر تھے۔ آپ سمجھ گئے نا۔ نہیں سمجھے  اچھی بات ہے۔ دل جلے  فارسی میں کہتے تھے،
خدایا سگ باش برادر خورد مباش  (خدا کتا بنادے چھوٹا بھائی نہ بنائے)
اور پی ایم اے میں ،"خدا  بے شک جونئیر بنائے مگر جونئیر کلاس فیلوز کا جونئیر نہ بنائے"۔
ہمارے کمرے سے  تیس گز کے فاصلے پر، جنٹل مین کیڈٹ آفس المعروف جی سی آفس، سیکنڈ پاکستان بٹالین تھا جہاں آٹھ بجے رات، منتخب کیڈٹس کے اخلاق و اطوار کی تصحیح کی جاتی تھی۔ اِن کیڈٹس نے ہمارے کمرے کو سومنات کا مندر سمجھا ہوا تھا اور یہ سب ملٹری کالج کے تھے۔ اور امجد زمان کی محبت میں ہمارے کمرے میں گھسے چلے آتے۔ گورکھا نام سنا ہے آپ نے؟ نہیں آ پ کیسے سن سکتے ہیں بلکہ ایک کیڈٹ کو گورکھا پوزیشن صرف دیکھا جا سکتا ہے۔
 تو قارئین،  اخلاق و اطوار کی درستگی کے لئے آنے والے کیڈٹس ہمارے کمرے میں آتے ہی ہمیں، گورکھا پوزیشن میں جانے کا غیر قانونی حکم دے دیتے۔ اتوار کا دن تھا ہم نے بابے کو کیفِ ٹیریا بھجوا کے جلیبیاں اور سموسے منگوانے کا حکم دیا تا کہ فُل ٹائم عیاشی کی جاسکے۔ کوئی تین چار کمرے پہلے کے سامنے سے ایک آواز گونجی،
”امجد زمان کا کمرہ کون سا ہے؟“
ہمارا خون لمحے کے لئے خشک ہو گیا، عیاشی کا محل دھڑام سے زمیں بوس ہوگیا۔ سہیل نے تجویز دی، الماریوں میں چھپ جاتے ہیں۔سہیل اور فاروق ایک الماری میں، امجد اور میں دوسری الماری میں غڑاپ سے چھپ گئے۔ کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا، کمرے کا دروازہ کھلنے کے انداز سے معلوم ہو جاتا کہ کون آیا ہے۔ آنے والے سیکنڈ ٹرم کے بپھرے ہوئے شیر تھے اور اِس امید پر کودے کہ شکار اندر موجود ہے۔ لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ کہ کمرہ خالی تھا۔ وہ کمرے میں چکر لگانے لگے ایک نے باتھ روم ا دروازہ کھٹکھٹایا، شاید شکار اندر ہو مگر  وہ بھی خالی،
”میرا خیال ہے یہ لوگ میس گئے ہوں“۔
یہ کہہ کر وہ جانے کے لئے پلٹے کہ ٹھک کی آواز  اور فاروق کا سر الماری کے پٹ سے ٹکرایا اور الماری کھل گئی۔  ہوا یوں کہ گھگھو جس کی ہر جگہ سونے کی عادت تھی، یہاں تک کہ فال اِن میں کھڑا کھڑا سوجاتا۔ وہ الماری کی گرم فضا میں جونہی غتر بُود ہوا اُس کا سر الماری کے پٹ سے ٹکرا گیا۔
 دوسری الماری کھولی گئی،اُس کے بعد۔
”عجب تھا جہاں کا منظر“  کہیں مسجود تھے سہیل و فاروق۔کہیں پھِرکی تھے نعیم اور امجد۔ 
 کوئی ڈیڑھ گھنٹے  کے بعد خلاصی ہوئی، کمرے میں گرم گرم جلیبیوں،سموسے  اور چائے کا جو مزہ آیا وہ بیان سے باہر۔
فرسٹ ٹرم کے خاتمے پر دوڑ دوڑ کر ہماری ٹانگیں بگلے کی طرح ہوگئی تھیں اور پیٹ کمر کی آخری  ہڈی کو چھوتا تھا۔ بیلٹ ٹائیٹ کرنے کے آخری سوراخ بھی فیل ہو جاتے اور سٹاف ہماری بیلٹ میں ایک انگلی پھنسا کر اُس میں سے پوری بٹالین کے گذرنے کا دعویٰ کرتا۔ یا حکمیہ انداز  میں طربیہ سوز کی لے پر چلاتا،
”نعیم صاحب۔ پی ایم اے روڈ پر ایسے مت چلیں جیسے آپ ولیمہ کی دعوت سے واپس آرہے ہیں  یا 
آواز شیر کی طرح نکالیں میمنے کی طرح نہیں"
 نعیم صاحب، زمیں پر ایڑیاں اتنی زور سے لگیں کہ پانی نکل آئے“ وغیرہ وغیرہ
اگر آپ نے کرنل محمد خان کی کتابیں نہیں پڑھیں تو آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا، کہ اُن کے زمانے میں ڈرل سکوئر میں پالی جانے والی شرارتی مکھی  اپنی اولادکو کیڈٹس کی ناک  کے پارک میں تفریح کا لطف اُن کی سرشت میں نفوذ کروا گئی۔ جونہی سٹاف،”ہوشیار باش“ کرواتا یہ ”بھن بھن“ کا نعرہ  مار کر ناکوں کی چونچ پر آبیٹھتیں۔ اور کیڈٹس کو سلیوٹنگ ٹیسٹ میں، پریڈ گراونڈ میں سلیوٹنگ ٹیسٹ میں ناک کو آزادنہ کھجانے پر فیل کروا دیتیں۔ جس کے لئے وہ پچھلے آٹھ ہفتوں سے ایڑیاں مار مار کر اپنی تمام عقل بقولِ سویلیئن، زمین میں پہنچا دیتا تھا اور اُس کی اوپر کی منزل خالی ہوجاتی۔ اُس کے بعد کیڈٹ کو سو گز دور ایک چارمربع فٹ  کے ٹارگٹ کے عین درمیان میں اپنی تما م توجہات مرکوز کرتے ہوئے، مقصد کے حصول کو اپنا نصب العین بنانے کی تربیت دی جاتی۔ جو کیڈٹ جتنا زیادہ اپنے نصب العین کے قریب بغیر کسی شک و شبہ ہوتا وہ اتنا ہی فوجی زندگی کا کامیاب فرد کہلاتا۔ عملی زندگی میں یہ ٹارگٹ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔جو سینئیر کے حکم ”گو“ سے شروع ہوتا ہے اور ٹارگٹ کے حصول پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ لیکن اِ س کے درمیان وہ تمام قوانین آتے ہیں جو فوجی کتابوں میں لکھے ہوتے ہیں جن کا انحراف ٹارگٹ کے حصول کے بعد سزا پر ختم ہوتا ہے۔

اکیڈمی کا پہلا سہانا اتوار

دوسری صبح منہ اندھیرے پو پھٹنے سے قبل، اتوار کا سہانا دن، جب کہ دنیا والے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ ہم فقط ایک جانگیئے میں، انتیس عدد دیگر ملزمانِ کمیشن کے ساتھ باجماعت شبنم آلود لان میں کھڑے اپنی قوتِ برداشت کا امتحان دے رہے تھے۔
 ہمارے جسم پر پڑنے والی شبنم، بھاپ بن کر ایسے اُڑ رہی تھی جیسے گرم توے پر پانی کے چھینٹے ڈالنے کے بعد اٹھتی ہے۔ ساڑھے سات بجے حکم ملا کہ دس منٹ میں تیار ہوکر ناشتے کے لئے، فال اِن ہوجائیں۔
 یا خدا، صرف دس منٹ،ایک  کمرے میں ہم چار کیڈٹ تھے۔ سہیل، فاروق، امجد، ہم اور دو باتھ روم ، گویا پانچ منٹ فی کیڈٹ تیاری کے لئے ملے۔
ناشتے کے بعد ہم دوڑتے ہوئے، ایک بیرک کے سامنے پہنچے جہاں ہمیں ماہر گیسو تراش کے سپرد کر دیا گیا۔
 فوج سے تربیت حاصل کر کے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ حضرات بڑے بڑے شہروں میں اپنی دکانیں کچھ اِس طرح بڑھاتے ہیں، کہ ایشیاء کے ماہر زلف  اور گیسو تراش آف ہیئر کٹنگ سیلون، ملٹری سے منظور شدہ بمع بیس اکیس دیوار پر آویزاں اسناد جو بیدردی سے مجبور فوجیاں کے بال ترشوانے پر عطا ہوئیں۔
  ہم لان میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے  باربر شاپ میں اپنی باری پر داخل ہوئے اور ایک کرسی پر بٹھا دیئے گئے۔ ایک سفید کپڑے میں ہمیں اس طرح جکڑا کہ نہ ہم ہاتھ ہلا سکتے تھے اور نہ کسمسا سکتے تھے۔بس ہماری گردن  باہر تھی ۔ ہمارے سر پر ایک ہاتھ سختی سے جم گیا جس نے ہمارا سر  اتنا جھکایا کہ سامنے پڑی میز  سے صرف تین انچ دور رہ گیا ،جو ہر جھٹکے پر    ڈھک کی فریاد بلند کرتا۔
ماہرِ گیسو خراش  نے ہمارے سر کو گھاس کا میدان سمجھ کرتراشنا شروع ، مشین کی گھر گھر سنائی دیتی اور کبھی قینچی کی چخ چخ، نجانے ہمارے سر کا حدود اربعہ اُن کی سمجھ میں نہ آیا یا وہ بے چارے تھک گئے تھے۔
 لہذا انہوں نے  ، ہمیں سفید کفن سے آزاد کیا اور تشریف لے جانے  کا کہا ۔
 آئینے میں شکل دیکھی ایسا لگتا تھا کہ کسی گنبد پر چیل نے اپنا آشیانہ بنایا ہو۔ اس کے بعد ستم یہ کہ ہمیں فوٹو گرافر کے کیمرے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ جب اپنی تصویر دیکھی تو جیل سے فرار ہونے والے اُس قیدی کی تصویر لگی جو عادی مجرم ہو۔اس پر ہمیں میرپورخاص کے فوٹو گرافر کو مہارت کا سرٹیفکیٹ دینے کو دل چاہا نے لگا۔جس نے ہماری میٹرک کے لئے تصویر کھینچی تھی ۔جس پر ری ٹچنگ ہونے کے باوجود نیگیٹو کا گمان ہوتا تھا ۔
بڑے لوگوں پر بڑی مصیبتیں آتی ہیں۔ ادب کی دنیا میں اقبال اور غالب،دردو  میر کے ساتھ ہمارے پسندیدہ شاعر ہیں۔ ہم اپنی بعض مشکلات میں ان کے شعروں سے حل کے لئے فال نکالتے ہیں  اور یہی اکثریت  کا چلن ہے،
 سوائے کچھ بد چلنوں  کے جو امام دین کے پرستار ہیں، خیر ہم نے بھی  انہی کا سہارا لیااور اس پر عمل بھی کیا،   
کرالنگ کے دوران ہم نے   اپنی ہستی کو خاک  میں ملانے کی حتی المقدور کوشش کی  لیکن ہمار کہنیاں اور گھٹنے گل و گلزار ہونے کے بجائے، لالہ زار ہو گئے۔
 خودی کو بلند کرنے کے  مقام تک پہنچنے کے لئے ،  ہم نے دیوار  کی آخری  حد تک ٹانگیں لے جانے کی کوششیں کیں۔ مگر خدا تو کیا کاپل صاحب نے ہماری رضا نہیں پوچھی اور نہ ہی کبھی پوچھنے کی ضرورت محسوس  کی۔
جنوری شروع ہوا آسمان پر بادل امنڈ امنڈ کر آتے اور خاموشی سے گذر جاتے لیکن جب برستے تو زمین کے بجائے ہم پر برستے  ہم دعا کرتے کہ بس برسیں لیکن  برف نہ گرائیں۔ کیوں کہ برف کا گرنا اور ہمارا برف میں قلابازیاں لگانا لازم و ملزوم تھا اور ایک صبح  ”بابے“ نے بتایا کہ
 ”سر جی !مخے  بار  تے برفاں لگی دیاں نے“ ۔ 
”کیا  آ آ آ آ"،  ہم چاروں کی خوفزدہ آواز بلند ہوئی۔
 وہ دن ہمارا    گذر گیا، کیسا گذرا بس گذر گیا۔
 دو بجے سب کے ساتھ پی ایم اے روڈ پر اپنے جوتے بجاتے  دوڑتے واپس میس کی طرف جارہے تھے  اور اقبال کا شعر کانوں میں گونج رہا تھا۔ ع
سنبھل کر قدم رکھنا راہِ الفت میں۔ کہ سر جاتا ہے گامِ اولیں پر۔

 لائبریری کے سامنے  ایسا محسوس ہوا کہ دنیا ہمارے ارد گرد  گردش میں ہے اور ہم بے وزنی کی کیفیت میں ہوا میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، پھر ہم یک لخت کسی چھپکلی کی مانند پٹ سے زمین پر گرے۔
  پہلے تو اپنے دماغ کو  اس حادثے کے متعلق بتاتے رہے اور ساتھ یہ بھی سوچتے رہے کہ دوسرے مصرعے میں، ”سر جاتا ہے“ کے بجائے، ”پھسل جاتا ہے“ ہوتا تو نہایت مناسب ہوتا۔
  ہمارا سر زمین سے ٹکرایا اور کائینات ساکن ہو گئی، ہوش واپس آئے تو ہم، ہسپتال میں تھے۔
 دوسرے دن سی ایم ایچ گئے ایکسرے ہوا، ہڈی بچ گئی لیکن بائیں ران سوج گئی۔ 
ایک ہفتہ  اکیڈمی کے ہسپتال" پی ایم اے ایچ"   میں رہنے والے  ہم واحد فرسٹ ٹرم کے جنٹل مین کیڈٹ تھے۔ باقی سیکنڈ، تھرڈ اور فائنل ٹرم کے تھے۔ ہمارے آرام کے اہتمام کا اندازہ آپ نہیں کر سکتے  اور نہ ہی سوچ سکتے ہیں۔

جمعہ، 16 جنوری، 2015

شخصی آزادی کا آخری دن !

کوہاٹ سے واپسی کس طرح ہوئی یہ ایک دردناک سفر کی ہولناک داستان ہے۔
شوال کے دن تھے۔ راولپنڈی سے حاجی صاحبان کراچی کی طرف بمع اپنے خاندان و دوستاں رواں دواں تھے۔ریلوے سٹیشن پر پورا شہر موجود تھا ، موجود تھا تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ۔ 
عوامی میل میں ، واپسی  کی  ٹکٹ اور سیٹ ہم نے  اترتے ہی  بُک کروادی تھی ، لیکن سیٹ تک پہنچنا  ، کارِ دشوار تھا ، بہر حال  ہم بھی گھسڑ مسڑ کے گسیڑم گھساڑ ہوکر سیٹ پر پہنچے ،    ٹرین  سےحیدر آباد اور وہاں سے میرپورخاص پہنچے ۔
اکیڈمی جائن کرنے کا لیٹر ہم سے پہلے گھر پہنچ چکا تھا ۔ کہ 16 نومبر 1977 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں نصف جہیز کے ساتھ رپورٹ کی جائے ۔  
گھر پہنچے ہی ،   سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ہر کوئی ہمیں تعریفی نظروں سے دیکھتا۔ مائیں اپنے نالائق فرزندوں کو ہماری مثال دیتیں ۔ ارسطو اور افلاطون ہمیں شک کی نظروں سے دیکھتے ۔ اور آئی ایس ایس بی کے میعارِ سلیکشن    گرنے پر  افسوس کرتے ہوئے ، فوج کے مستقبل  پر دعائے خیر کرتے ۔
  اور پھر13 نومبر کو ہم      کاکول جانے کے لئے  تیار تھے ۔ سب رشتہ دار، عزیز و اقارب  ہمیں الوداع کہنے گھر  پر آئے ہوئے تھے۔ ہر کوئی سلامتی سے سفر کی دعائیں دے رہا تھا۔
 والدہ صاحبہ نے ہمارے بازو پر امام ضامن باندھا۔ گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔
ایک کالے مرغے کے سر پر دستِ شفقت پھروایا، جو یقیناًقربان ہوکر ہمارے سفر اکیڈی سے باعزت اخراج کا ضامن بنا۔
 والدہ  نے  چھوٹے  بھائی کو ساتھ لے کر ، ہمارے ساتھ حیدر آباد تک جانا فرض سمجھا۔ مبادا کہ کہیں ہم حیدر آباد سے کسی غلط ٹرین میں نہ بیٹھ جائیں۔چنانچہ ابّا سمیت ،ہم تینوں  ، ٹانگے پر بیٹھ کر ، ریلوے سٹیشن پہنچے ،    ٹرین وقت مقررہ پر وسل بجا کر چل پڑی۔
 اگلاسٹیشن ٹنڈو الہ یار تھا ہم دروازے میں کھڑے ہوئے شاید کوئی دوست ہمیں نظر آجائے۔
 ہمیں دروازے میں ہار پہنا کھڑا دیکھ کر ایک نوجوان مسلم نے نعرہ لگایا،”اسلام“  سب نے باآوازِ بلند کہا،”زندہ باد“ 
 اور پھر وہ باری باری ہمارا ہاتھ چومنے لگے۔
 ہم حیران کہ خدایا! یہ کیسا کرشمہ ہے، انہیں کیسے خبر ہوئی کہ ہم پاک فوج کے مایہ ناز آفسر بننے اکیڈمی جا رہے ہیں۔ بعد میں عقدہ کھلا کہ گلے میں پھولوں کے ہار ہونے کی وجہ سے وہ ہمیں ”حاجی“ سمجھ رہے  تھے۔ بہرحال حضرت انسان کا اس میں کیا قصور وہ بے چارہ تو ظاہری صورت دیکھ کر دھوکا کھا جاتا ہے۔


     سولہ نومبر 1974 بروز ہفتہ،  4 ذی القعدہ  1394 ھجری، جو ہماری تاریخ میں یادگار دن تھا ،کیوں کہ اس دن پاکستان کے وقت کے مطابق ٹھیک شام کو چار بج کر پندرہ منٹ اور تیس سیکنڈ کو جب ہماری ٹیکسی پی ایم اے کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو ہمارے شہری حقوق سلب ہوچکے تھے۔ اور ہم  54 لانگ کورس کا حصہ بن چکے تھے ، 
بس اب یہی کورس ہماری پہچان تھا اور اِس کے مظلومین ، جنہیں کورس میٹس کہا جاتا ہے  -
گیٹ کے سامنے چھ سات کیڈٹ اور دو بغل میں ڈنڈا دبائے  فوجی حوالدار  کھڑے تھے، انہوں نے ٹیکسی رکوائی ہم نے گردن گھما گھما کر  اور آنکھیں مل مل کر دیکھا مگر ہمیں کہیں بھی شامیانے اور قناتیں نظر نہیں آئیں۔
 جو فوجی حضرات اپنے قابلِ قدر مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے لگواتے ہیں۔ ٹیکسی سے اترے  ڈرائیور نے سامان اتار کر نیچے رکھا۔ہم نے پیسوں کی ادائیگی کی اور اس کا شکریہ ادا کیا اس نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا۔
 ہمارے میزبانوں نے نہایت شائستگی سے اسے واپس جانے کو کہا۔ 
ٹیکسی کے جاتے ہی ایک کرخت آواز ہمارے کانوں میں گونجی،
”سامان اٹھاؤ“ 
مڑ کر دیکھا۔ ہمارا ایک میزبان خوفناک بلکہ خونخوار نظروں سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔
 ”تم نے میرا حکم نہیں سنا“ وہ دوبارہ چلایا،
”جی، آپ مجھے کہہ رہے ہیں؟“ ہم نے حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
 ”یہاں کوئی قلی نہیں ہے؟“ ہم نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے کہا،
 ”قلی، کیا کہا قلی؟  یہ سامان تم خود اٹھاؤ“ وہ  گلے کی گہرائیوں سے دھاڑا۔
ہم  میں جانے کہاں سے پھرتی آگئی جھک کر سامان اٹھایا ، یہاں کے جذبہ ء میزبانی کی دل میں تعریفیں کرتے ہوئے ۔ اپنے ایک میزبان کے پیچھے تقریباً دوڑتے ہوئے ایک بڑی عمارت کے لان میں پہنچے جس کا نام بٹالین میس تھا اور اب بھی ہے ۔
  یہاں ایک میلہ سا لگا ہوا تھا بھانت بھانت کی آوازیں آرہی تھیں اور ان آوازوں کے پس منظر میں لوگ قلا بازیاں اور دوسرے کرتب دکھا رہے تھے۔
 ہم بھی اپنا سامان ایک طرف رکھ کر انہیں لوگوں میں شامل ہوگئے۔ اور اپنی پہلی زندگی پر بھی پچھتا رہے تھے کہ اگر کسی سرکس میں نوکری کی ہوتی تو آج اتنی تکلیف نہ اٹھانا پڑتی۔
 ایکرو بیٹکس کے مختلف مظاہروں کے بعد رات گیارہ بجے اپنی رہائش گاہ، انگریزوں کے دور میں لکڑی سے بنی ہوئی بیرک میں پہنچادیئے گئے۔
 وہاں برآمدے میں لگے ہوئے قدآدم آئینے میں اپنا حلیہ دیکھا، 
 واللہ اگر اس وقت ہمیں  مجسموں کی نمائش میں رکھ دیا جاتا تو پہلا انعام ہمارے مجسمے کو ملتا۔

جمعرات، 15 جنوری، 2015

اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو ؟

ڈیڑھ ماہ بعد ہمیں یہ مژدہ پڑھنے کو ملا کہ۔ میڈیکل بورڈ کے سامنے سی ایم ایچ ملیر کینٹ میں پیش ہوں۔ اِس کا مطلب تھا کہ ہم تحریری امتحان میں پاس ہوگئے ہیں۔
 بس کیا تھا ہم تیسرے مرحلے کے لئے تیار ہونا شروع ہوئے۔ ارسطو اور افلاطون نے ہمیں ایک کام کی بات بتائی کہ،
 ”کھانسنے کے بعد ڈاکٹر یک دم  امیدوار کا پیٹ پکڑ کر زور سے دباتا ہے اور اُس کے بعد ٹونٹی لگا کر دل کی دھڑکنیں گنتا ہے۔ بس وہاں تیار رہنا  وہ سب سے خوفناک مرحلہ ہوتا ہے“
 ہم میڈیکل کے لئے پہنچے وہاں بھانت بھانت کے لوگ آئے تھے۔ 
 اُن میں سے ایک بالکل عجیب ہیئت نما نوجوان تھا، دبلا پتلا، بڑا سر، لمبے بال، لٹکتی ہوئی مونچھیں، سرخ رنگ کی بیل باٹم  پیلے شوخ رنگوں کی بڑے پھولوں کی نیلے رنگ کی قمیض  ، یہ  نوجوان شاید  بینڈ آفیسر بننے جا رہا ہے  ، ہم نے سوچا  ۔
  خیر اُس سمیت ہم بھی میڈیکل میں کامیاب ہوگئےاور آئی ایس ایس بی ،کے آخری مرحلے کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔  تیاری کیا تھی بس اپنی انگریزی کو انگلش میں تبدیل کرنا تھا۔ 
افلاطون نے کہا ،" انگلش فلمیں دیکھو ، انگلش "
ارسطو نے کہا ، "ابے ، اُس  کی انگلش ٹھیک کروانے کا بول کردار خراب  کروانے کا نہیں "  

پھر ارسطو نے ہمیں اپنے گھر سے ، آئی ایس ایس بی کی تیاری کی کتابیں لا کر دیں ۔   

 ستمبر  1974 کے آخری دن ہمیں لیٹر ملا کہ 27 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان   ، ہمیں کوہاٹ میں انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کر روبرو پیش ہونا ہے ۔
 لہذا  ہم 27 اکتوبر 1974 کے دن 1500 بجے سے پہلے پہلے ، ڈپٹی اسسٹنٹ  ایڈجوٹنٹ جنرل کے پاس رپورٹ کریں ۔
 اس طرح  ہم کراچی  عازم کوہاٹ ہوئے۔ ریل سے راولپنڈی کا  عوامی میل میں سفر  ، دو دن چچا کے ہاں قیام اور پھر وہاں سے   بس  اڈے پر پہنچے جہاں ، سے آدھی بس  " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " کی تھی ، بس میں نوجوانوں کی موجودگی کے باوجود پراسرار ، خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ جن کے جلو میں  کوہاٹ  پہنچے۔
  " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " کا یہ قافلہ ،  بس اڈے پر آئی  ہوئی ،ایس ایس بی کی بس میں بیٹھ کر ، منزلِ مقصود  پہنچا ، جہاں اپنے کاغذات دیئے ، ایک چٹ دی جس میں کمرے کا نمبر اور چیسٹ نمبر لکھا تھا ، ویٹرز نے سامان اٹھایا ، کمرے میں پہنچے ، خودکو تازہ دم کیا اور میس پہنچ گئے۔ جہاں ہمیں بریفنگ دی گئی اور فارم بھروائے گئے اور اگلے دن ہمیں ٹیسٹوں کے رولر میں سے گذارا جانے لگا اور یوں چوتھا دن آگیا۔ گو کہ ہمیں تقریباً   آئی ایس ایس بی  کی کٹھالی سے گذرے 40 سال گذر گئے ہیں ۔ لیکن کل کا واقعہ لگتا ہے ۔
 جس دن ہمیں نامہ اعمال ملنا تھا۔ہم سب ایک دوسرے سے اپنی پرفارمنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ہر کوئی اپنی پرفارمنس کے بارے میں پُر امید تھا۔کہ وہ یقیناً منتخب ہوجائے گا ۔
سوائے ہمارے  ،وہ یوں کہ جب ڈپٹی  پریذیڈنٹ نے اپنے انٹرویو میں پوچھا،
”اخبار پڑھتے ہو؟“
 ہم نے جواب دیا،”نہیں“ ۔ 
”کیوں؟“ اُنہوں نے پوچھا۔
”سر ! میں  بی اے فائینل ائر کے امتحان دے رہا ہوں، وقت نہیں ملتا“  ہم نے جواب دیا۔
”آج اینٹی روم میں اخبار تو دیکھا ہوگا؟“ سوال ہوا۔
”جی سر!“  ہم نے جواب دیا۔
”اُس میں سے کیا پڑھا؟“ انہوں نے پھر پوچھا۔
 ”سر جو صفحہ میرے ہاتھ آیا اُس میں سے صرف ٹارزن کی کہانی پڑی“  ہم نے جواب دیا۔
 ”ہوں ں ں ں،" ایک لمبا ہنکارا  بھر کر پوچھا ،
"  کیا تھا اُس میں؟“
ہم  وہ قسط سنا دی جو اخبار میں تھی۔
”تمھیں ٹارزن کی کیا بات پسند ہے؟“ پھر سوال ہوا  ۔ 
”سر، ٹارزن مضبوط کردار کا ایک ہمدرد انسان ہے جو مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کرتا ہے“۔ہم نے جواب دیا ۔ 
اُنہوں نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے،  مسکرا کر پوچھا،
”اور اُس کی بیوی جین تمھیں کیسی لگتی ہے؟“۔
 ”سرو ہ بھی ٹارزن کی طرح ایک بہادر اور ہمدرد عورت ہے“ ہم نے جواب دیا ۔ 
”اچھا اگر تم نہ سلیکٹ ہوئے تو آئیندہ کیا کروگے؟“  انہوں نے پوچھا۔
 ”سر میں اکنامکس میں ماسٹر کرنے کے بعد ایجوکیشن کور کے لئے ایپلائی کروں گا“ میں نے جواب دیا
”گڈ ٹھیک ہے۔ ایجو کیشن آفیسر، تم جاسکتے ہو، وش یو گڈ لک“  انہوں نے مستقبل بعید کی امید دلائی ۔
ہمارا بھی پکا غلیل بنانے کا ارادہ تھا  ،خوا ہ سائیکل کی ٹیوب سے بنے یا  ۔ ۔ ۔ ۔  !
میں اُن کے آفس سے کشتیاں جلا کر باہر نکل آیا۔ سب اینٹی روم میں بیٹھے ہوئے ، ایک بجے کھانا کھایا ، کھانے کے بعد میس کے سامنے  جمع ہونے  کا حکم ملا ،  تھوڑی دیر بعد ایک سٹاف آیا اور بولا،
”جن صاحب کے میں نام پکاروں وہ سب پریزیڈنٹ صاحب کے انٹرویو کے لئے رک جائیں گے اور باقی تمام صاحب ،اپنی کلیرینس کروا کر گھر جائیں۔ لیٹر اُن کے گھر آجائیں گے"۔

 کوئی پندرہ امیدواروں کے نام پکارے گئے۔ اُن میں سے ایک ہمارا بھی تھا۔  وقار، ذوالفقار، فاروق،طغرل،   وغیرہ کے نام یاد   ہیں ۔ کیوں کہ ہم سب ساتھ پی ایم اے  گئے تھے۔
 ہم سب کو سلیکشن کا مژدہ سنایا گیا اور کچھ فارم بھروائے گئے اورعصر کے بعد   " فیوچر کمیشنڈ آفیسراں " نے  آئی ایس ایس بی سے واپسی کے لئے رختِ سفر باندھا۔

عوامی میلہ یا میل

کہتے ہیں گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا  رخ کرتا ہے۔نجانے اٖس وقت ہمارے ستارے گردش میں تھے یا علمِ نجوم کے مطابق زہرہ نے مریخ پر ستم ڈھایا ہوا تھا جب ہمارے سر پر پاکستان آرمی میں کمیشن لینے کا بھوت سوار ہوا .
پہلے تو کئی دن اس بھوت کا تنقیدانہ جائزہ لیتے رہے۔ ارسطو  اور افلاطون کے تجربات اور فلسفوں کی روشنی میں اسے پرکھا ِ ،
ارسطو اور افلاطون ہمارے دوستوں کا نام ہے جو ہم سے پہلے فوج میں جانے کی کئی کوششیں کر چکے تھے۔ لیکن ناکام ہوئے  ۔ اٖس کی وجہ ممتحن کا اُن کے ذوق کے مطابق نہ ہونا ہے۔  ارسطو تو آخری منزل  یعنی کوہاٹ سے لوٹ کر آنے والوں میں سے تھا ، اپنے تعارف میں خود کو " آر سی او " بتاتا ، مزید تفصیل پوچھنے پر ، "آر  کمیشن آفیسر "    بتاتا ،
یہ " آر " کِس کا مخفف ہے ؟" سوال ہوتا !
" جی رجیکٹڈ کا " ! مصومیت سے جواب دیتا

اور افلا طون کا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے سینے کی پیمائش وہاں ختم ہو جاتی ہے۔ جہاں سے فوج کے لئے  پیمائش شروع ہو تی ہے ۔
بلا کا حاضر جواب،جس کی وجہ سے  میڈیکل  آفیسر بھی بوکھلا گیا ۔

اُس نے پوچھا،”سگریٹ پیتے ہو؟“
افلاطون فوراً بولا، ”سر دھواں نکل رہا ہے“۔
 یہ اور بات کہ افلاطون کو بعد میں ائرفورس والوں نے اکاؤنٹ  کی اعلیٰ تعلیم کے بعد اکاونٹ آفیسر منتخب کر لیا ِ اور ارسطو الیکٹریکل انجنئیر بن گیا۔
  خیر تمام تر مشکلات کو دیکھنے کے باوجود ہم نے پورے غور و خوض کے ساتھ تمام دوستاں و دشمنان کے سامنے فوج میں جانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ۔کچھ لوگ مارے حیرت کے گنگ رہ گئے اور اُنہوں نے دانتوں  تلے اپنی اگلیاں دبا لیں  ۔
 جو نکتہ چیں قسم کے تھے اُنہوں نے حسبِ عادت  و معمول ہماری قابلیت میں کیڑے نکالنے شروع کردئیے۔
"وزن زیادہ ہے ، انٹیلجنس ٹیسٹ میں رہ جاؤ گے ،  آبسٹیکل کرنا تمھارے بس کی بات نہیں ، مشکل ہے ، کیوں اپنا  تعلیمی سال ضائع کرتے ہو ؟ "
ارسطو و افلاطون کی ذہنی بلوغت  سے ہمارا مقابلہ کروا کر  ہمیں نامنتخب اور وقت کا ضیاع کرنے والا احمق قرار دے رہے تھے۔اور بعض اس میدان ِ جانگسل  میں ہماری ہمت بڑھانے لگے-
 َبہرحال ہمارا سر عقل سے خالی نہیں ہے  اِس لئے ہم نے تمام مشورہ جات و تنقیدات کو دماغ  کی گہرائی میں دفن کر دیا 
کیا خوشگوار دن تھا ، باد ل آسمان پر چھائے تھے ،  والدہ کے ہاتھ کا ترتراتا پراٹھا کھا کر والدہ کی دعاؤں کے ساتھ  ،پھر علیٰ صبح گھر سے روانہ ہوا ، اور    اپنے اکلوتے بہترین لباس پر ٹائی لگا کر ،ریکروٹنگ آفس   کے لئے روانہ ہوئے ،جہاں سے اخبار میں دئیے گئے، اشتہار کے مطابق مبلغ پانچ روپے کے پوسٹل آرڈر کو دکھا کر فارم  ملنا تھا۔ پوسٹل آرڈر ایک دن ہم نے پہلے خرید لیا تھا۔
 کیماڑی سے دس پیسے کا ٹکٹ لے کر براستہ ٹاور صدر پہنچے،  ریکروٹنگ آفس میں ایک ہجوم تھا ۔جو پھیلتا ہوا فٹ پاتھ سے آدھی سڑک سے دائیں اور بائیں طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ سب کی نظریں  مین گیٹ کی طرف تھی۔ جہاں سے خوشی میں سرشار کوئی نہ کوئی  ہفتِ اقلیم    کا خزانہ لئے نکل رہا تھا۔ یقیناً یہ سب اُن مردِ میدان کا دیدار کرنے آئے تھے جو کمیشن کا بھوت سر کرنے نکلے تھے۔
ہم دروازے کی طرف بڑھے تو کئی ہاتھوں نے ہمیں ایسے پیچھے کھینچا جیسے سینما کی ٹکٹ لینے والوں کو پیچھے گھسیٹا جاتا ہے۔
”اَبے لائن میں کھڑا ہو ،لائن میں ،ہم کیا یہاں جھک مارنے آئے ہیں؟"
اور ہمیں لائن کے آخری سرے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔  ہم پیچھے کو مڑے  تھے کہ انسانی سمندر کی ایک زبردست موج نے ہمیں  پیچھے کی طرف اچھالا ، جیسے اخبار والا ، اخبار اچھالتا ہے  اور ہم مین گیٹ کے چھوٹے دروازے سے لٹکے ہوئے تھے ،دوسری  موج  نے ہمیں بغلی درواز ے سے اندر پھینک دیا ،ہم کپڑے جھانکتے اُٹھے تو دو مضبوط ہاتھوں نے اندر بنی ہوئی لائن میں کھڑا کر دیا۔ مڑ کر دیکھا تو گیٹ کے بغلی دروازے کے سامنے دو چھ فٹ اونچے  پاک فوج کے جوان  سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے کھڑے تھے۔ لیکن یہ دیوار کبھی کبھی لڑکھڑا جاتی اور پانچ چھ مشتاقانِ کمیشن  فارم ، ہماری طرح لڑکھڑاتے اندر آ گرتے۔ لائن آگے بڑھتی رہی  اور ہم نے آخر وہ فارم حاصل کر لیا۔ جس کو  بھر کر مکمل کرنے کے بعد کمیشن آفیسر بننے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جاتا۔
فارم لے کر گھر پہنچے تو ،   ہماری حالتِ زار دیکھ کر سب تقریباً  پریشان ہو کر ہمارے ارد گرد جمع ہوئے۔
والدہ , ”ہائے اللہ! کیا ہوا میرے لعل کو“  کہتی ہوئی دوڑتی آئیں۔
 ”یہ کس نے حالت بنائی تیری؟
کیا جھگڑا ہوا ہے؟ کس نے مارا ہے؟“
 ہم نے کہا، ”ذرا سانس تو لینے دیں اور پانی پلوائیں“ 
اتنا کہنا تھا کہ ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے مجمع میں بھگدڑ مچ گئی، ہر کوئی پانی لینے دوڑا۔ پانی پینے کے بعد ہم ذرا تجسس بڑھانے کے لئے خاموش رہے۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی سب کے کان ہماری طرف لگے ہوئے تھے۔ والدہ صاحبہ کی آواز نے سکوت توڑا
”اے لڑکے! اب بتا آخر کیا ہوا؟ “
ہم نے گردن گھما کر سب کی طرف دیکھا  سب کا چہرہ سوالیا نشان بنا ہوا تھا۔ آخر کار ہم نے اپنی حالت پر غور کئے بغیر  اپنا  بائیاں ہاتھ کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈالا  اور پھر  بلند کیا جس میں وہ قیمتی فارم تھا۔ جو ہم نے اپنا کوٹ  اور قمیص اُدھڑوانے کے بعد حاصل کیا تھا۔
 ”یہ کیا ہے؟“ سب چلائے۔
ہم نے گردن کو اکڑاتے ہوئے فاتحاہ انداز میں کہا،”کمیشن کا فارم“
یہ سننا تھا کہ سب کے چہرے خوشی سے گلنار ہوگئے، والدہ، خالہ اور دیگر خواتین ہم جیسے لائق فرزند کی بلائیں لینے لگیں۔
فارم لینے کے بعد دوسرا بڑا مرحلہ تصویر کھنچوانے کا تھا۔ بن ٹھن کر فوٹو گرافر کے پاس پہنچے، پہلے تو پوز بنانے  میں بڑی دقت پیش آئی، فوٹو گرافر ہمیں جس اندازمیں بٹھاتا،  اُس پوز کی  فوٹو ہم نے صرف تھانے کے بورڈ پر لگی دیکھیں تھیں لہذا ہم وہ پوز منسوخ کر دیتے۔
ہم نے پوچھا کہ”شیشہ ہے آپ کے پاس؟“۔
”ہاں ہے، وہ دیوار پر لگا ہے" اُس نے جواب دیا 
”اچھا ایسا ہے کہ ہم  بیٹھ کر پوز بناتے ہیں۔ جب ہم کہیں تو ہمارا منہ کیمرے کی طرف کر دینا“  ہم نے اُسے ہدایت دی۔
  دراصل ہمیں اِس قسم کا پوز چاہئیے تھا کہ جی ایچ کیو والے دیکھتے ہی پھڑک جائیں، کہ واہ اِس برخوردار کے چہرے سے کتنی ذھانت ٹپکتی ہے۔ ہم تیار ہوگئے تو فوٹو گرافر نے ہمیں پھرکی کی طرح گھما کر کیمرے کی آنکھ کے سامنے کیا اور فوٹو کھنچ لی،
”کل آکر لے لینا“ وہ بولا۔
 ہم رسید لے کر گھر واپس آگئے۔ دوسرے دن واپس آئے تو اُس ناہنجار نے رسید لے کر فوٹو دیتے پوچھا،
”کس فلم میں بچوں کو ڈرانے کا کردار ملا ہے“ 
ہم نے تصویر  دیکھی۔دوبارہ دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ فوٹو گرافر نے اپنی خباثت دکھائی یا پھر کرسی کے یک لخت گھمانے کے مکمل تاثرات ہمارے چہرے پر منجمد ہو چکے تھے ۔  یوں ہمیں تین روپے مزید خرچ کرکے تصویر کھنچوانی پڑی اور اُسے فارم پر چسپاں کرکے، فارم کو راولپنڈی روانہ کر دیا۔
مہینے بعدہمیں لیٹر ملا کہ دوسرے مرحلے کے، تحریری امتحان کے لئے، فلاں تاریخ کو کینٹ بورڈ سکول صدر کراچی پہنچ جائیں۔مطلوبہ تاریخ کو  اپنے دوست افتخار احمدقریشی  (محمود آباد) کے ساتھ  سکول پہنچ گئے، وہ  سکول کے پارک میں  بنچ پر بیٹھ گیا اور ہم کمرہ امتحان میں داخل ہو گئے۔ شاندار طریقے سے امتحان دیا اور امتحان کے بعد افتخارکے ساتھ اُس کے بڑے بھائی ، رفیق احمد قریشی ،  کے آفس پہنچے۔  جو کسی فرم میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ تھے ،انہوں نے ، سموسے اور چائےمنگوائی  اور ہم سے پیپر لے کر دیکھا،
”مضمون کس پر لکھا؟“ اُنہوں نے پوچھا،
 ”بھائی! عوامی میل پر“۔ ہم نے سموسہ کھاتے کھاتے رک کر جواب دیا۔
 ”عوامی میل؟“ انہوں نے استسفار کیا
”یہاں عوامی میل تو نہیں عوامی میلہ لکھا ہے!“ وہ شک آمیز لہجے میں بولے،
”نہیں بھائی عوامی میل ہے“ ہم نے وثوق سے کہا۔
 انہوں نے پرچہ ہمیں دیتے ہوئے کہا،”چلو کوئی بات نہیں، اگلی دفعہ پرچہ غور سے پڑھنا“۔
ہم نے پرچہ دیکھا وہاں عوامی میل کے بجائے عوامی میلہ لکھا ہوا تھا۔
 ہم نے جھینپ مٹاتے ہوئے کہا،”بھائی اگر کوئی صاحب ذوق ہوا تو ہمیں بیس نہیں تو دس نمبر ضرور دے گا۔ کیوں کہ ہم نے کینٹ ریلوے سٹیشن سے راولپنڈی تک، عوامی میل کا ایسا سفر نامہ لکھا ہے۔ کہ یقیناً وہ پاکستانی انگریزی ادب کا حصہ بننے کے قابل شاہکار ہے“۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔