Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 9 جنوری، 2014

فہرست ۔ رنگروٹ سے آفیسر تک

 یادوں کے جھروکوں سے ،مہاجرزادہ کی سر گذشت۔

رنگروٹ سے آفیسر تک ۔ 

سیاچین کی تنہائیوں  یعنی    1993 تا 1994 ، میں ہم نے اپنے فوجی سروس کے دوران مختلف  فوجی رسالوں میں چھپے ہوئے مضمون کے علاوہ اپنی زندگی کے حالات ، قلم بند کرنے شروع کئے،  جو تین رجسٹروں پر مشتمل تھے۔

ہماری یاداشتِ  ماضی بعید سے قریب تک کا وہ انمول خزانہ  ، سیاچین سے واپسی پر راستے میں پڑنے والی بارش کی نذر ہوگیا جو لکڑی کے بکس میں  بند ایک فوجی ٹرک میں سفر کر رہا تھا ۔
ہمارے  کورس  کی سالانہ ہر اکتوبر میں منائی  میٹنگ  برائے  جشنِ  سلبی ءِ  شخصی آزادی ،  میں پلاٹون میٹ طارق شیخ   نے    پوچھا ۔
" چیکو ، وہ جو تم ایک کتاب لکھ رہے تھے کیا ہوا ؟" 

"شیخ صاحب ! وہ پانی کی نذر ہو گئی  " ہم نے جواب دیا !
" تو دوبارہ لکھ دو، اب تو وقت ہی وقت ہے " ۔

 کل رات  (آٹھ جنوری  2014)     ہمیں اچانک خیال آیا کہ، کیوں نہ جو کچھ لکھا ہے ۔وہ  دوستوں کے لئے وہ بلاگرز(پڑھیں : بلاگ کیسے بنائیں؟)  کے حوالے کرد یا جائے۔
تو دوستو ، یہ واقعات چونکہ فوج سے متعلق ہیں  کچھ باتیں آپ کو سمجھ نہیں آئیں گی، تو پوچھ لینا، آپ کی رائے میرا حوصلہ بڑھائے گی تو مزید لکھوں گا۔ شکریہ
سلیکشن یاترا اور آئی ایس ایس بی
رنگروٹ سے آفسر۔ 2 عوامی میلہ یا میل-۔
 
 
اکیڈمی کا پہلا سہانا اتوار۔ 2 یادوں کے جھروکوں سے۔
 
3 سٹوڈیو، پیر ٹروپنگ  اور ہم۔1 ۔ 4سٹوڈیو، پیر ٹروپنگ  اور ہم۔2
 
ہزاروں خواہشیں ایسی ۔  
فوجیات -لفٹینیات
 
نیم لفٹین عازمِ جنتِ روئے زمیں  ۔ نیم لفٹین یونٹ میں۔
 
نیم لفٹین کو کپتان کا سلام۔ نیم لفٹین پر بھاری ذمہ داری۔
 
نیم لفٹین کا کوئٹہ تربیت کے لئے جانا۔ سیکنڈ لفٹین پیچھے پِھر۔
 

رنگروٹ سے آفسر تک کا سفر ۔ یکم دسمبر 1999 کو ختم ہوگیا اوربوڑھا  47 سال  کی عمر میں ریٹائر ہو گیا ۔

آپ نے بوڑھے کی فوجی زندگی کے جوانی کے صرف پانچ سال کے چیدہ چیدہ واقعات  پڑھے۔ ریٹائمنٹ کے بعد کُلّی سویلیئن زندگی گذارنے کے بعد ، بوڑھے کا واسطہ پھر فوجیوں سے کیا پڑا ، ماضی پھر یاد آگیا ۔

اِس سفر کا کافی حال باقی ہے ۔ بوڑھا ضرور لکھے گا ۔ لیکن اب یادش بخیر کے نئے موضوعات  جن میں کئی ہیں - وہ دقتاً فوقتاً لکھے جائیں گے ۔ 

اب بوڑھے کا سفر سوئیٹ بکس   میں ، چم چم، برفی ، لڈو اور چیکو کے سَنگ شروع ہو گا ۔

٭٭٭٭  فوجی بوڑھا نہیں ہوتا   ٭٭٭٭٭

 

٭٭٭٭٭٭٭٭

 


 






کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔