بوڑھے کی ٹویوٹا گاڑی بہت پرانی ہے ۔1989 ماڈل ہے اور نام کرینہ ۔
آپ پریشان نہ ہوں ۔ اس کا کپور فیملی سے کوئی تعلق نہیں ۔
۔ 2000 میں پھیلنے والی مہلک بیماری کرونا کی بھاری بھرکم چھوٹی بہن ہے۔سیلون کار ہے۔ لہذا ایک لٹر میں 5 کلومیٹر چلتی ہے ۔کیوں کہ 1498 ہارس پاور کی طاقت رکھتی ہے۔
۔ 2005 میں دوست اکبر (مرحوم) سے میرے پاس آئی ۔اور لقب رام پیاری پایا اِس سے پہلے بلیلہ لقب کی مزدا 626 تھی ۔ جس پر میرے چاروں بچوں نے ڈرائیونگ سیکھی ۔اور میری کمپنی کے تمام دوست بشمول ابو سعید اُس کی ڈیزلانہ رفتار کے مزے اٹھاتے ۔ کیوں کہ سندھ سے ساتھ لایا تھا ۔ لہذا ٹوکن ٹیکس بھی سندھ ہی بھجواتا تھا ۔
رام پیاری کا کارینا کا ٹوکن ٹیکس ہر سال بڑھتے بڑھتے یکم جولائی 2023 میں ۔ 4000 روپے سالانہ تک جا پہنچا۔
پچھلے سال اکتوبر 2005 میں یاد آیا ۔
او ہو ۔ بوڑھا کرینہ عرف رام پیاری کا 2024 کا ٹوکن ٹیکس تو جمع کروانا بھول گیا ۔
ابوسعید کو وٹس ایپ کیا کہ کل جب سیشن کورٹ جائیں گے تو وہاں ایچ 9۔نائین اسلام آباد میں واقع ایکسائز سنٹر میں جا کر یہ کام بقلم خود کر دیں گے۔
ابو سعید نے جواب دیا ۔ وہاں جانے کی کیا ضرورت ۔ اسلام آباد کا ٹوکن ٹیکس گھر بیٹھے ایزی پیسہ سے آن لائن بھی ادا کیا جا سکتا ہے ۔
اچھا یہ بوڑھے کے علم میں نہیں تھا۔
وہ بے چارہ تو ہر سال پوسٹ آفس جا کے یہ کام چلچلاتی دھوپ یا خون منجمند کرنے والی اسلام آباد کی سردیوں میں خود ہرسال جولائی میں کرواتا تھا-
ابو سعید نے گاڑی کا نمبر مانگا ۔ جو ؤٹس ایپ کردیا ۔
اُس نے 12اکتوبر کو بتایا کہ ۔ جناب آپ کا پچھلا دو سال کا ٹوکن ٹیکس ادا نہیں ہوا۔
کیسے ممکن کے جولائی 2025 میں فارن آفس کے پوسٹ آفس جاکر جہاں پارکنگ حاصل کرنا ، پہاڑ پر چڑھنے سے بہتر ہو تا ۔ خود ادا کر دیا تھا ۔
خیر اُسی دن بوڑھے نے ایزی پیسہ سے مبلغ-/ 12،010 روپے ۔ایزی پیسہ سے جمع کروایا ۔جو حسنین حیدر ۔ آئی سی ٹی وہیکل ٹوکن ٹیکس کے خزانچی نے وصول کر لیا ۔
اوربوڑھے نے رسید سنبھال کر سکون کا سانس لیا ۔
کیونکہ پچھلے سال کا تجربہ تھا تو 3 جولائی سے اسلام آباد ایکسائز گورنمنٹ آف پاکستان میں گھسنے کی کوشش کی ۔وہاں سے ٹوکن ٹیکس کا لنک دبایا ۔ صفحہ کھلا اور ناٹ فاونڈ کا صفحہ منہ چڑا رہا تھا۔
گویا اب عسکری 14 سے وایا ڈیفنس روڈ۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس اسلام آباد جانا پڑے گا ۔
صبح سات بجے گھر سے نواسی کے ساتھ نکلا ، اُسے دادا کے گھر ای الیون چھوڑا اور واپسی پر شامی روڈ سے ایچ نائن آگیا ۔
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کے سامنے ، سروس روڈ پر گاڑی پارک کی تو دو ایجنٹ لپک کر آئے ۔
ایک بولا۔ سر جی ٹوکن بنوانا ہے
دوسرے نے کہا گاڑی ٹرانسفر کروانی ہے ۔
اُن سے معذرت کرکے ۔
ایکسائز آفس میں داخل ہونے سے پہلے بھول بھلیوں سے گذرتا کمپاونڈ میں داخل ہوا ۔ ٹوکن ٹیکس جمع کروانے والوں کی بھیڑ سے گذرتا ہوا ، تاروں سے گھِرے ایک باڑے میں پہنچا ۔جہاں پسینے کی بو میں لوگوں کا ہجوم تھا ۔ کاونٹر کی کھڑکیا ں بند تھیں ۔کیوں کہ آفس نہیں کھلےتھے۔
ٹوکن ٹیکس جمع کروانے والے جلدی آگئے کہ سورج چڑھنے سے پہلے ٹوکن ٹیکس جمع کروا کر اپنے اپنے کاموں پر چلے جائیں ۔
وہاں کھڑے ہوئے ایک نوجوان سے پوچھا ۔ ٹوکن ٹیکس جمع کروانے کا نیا طریقہ کیا ہے؟
اُس نے دور کی بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا آپ وہاں چلے جائیں ۔
بوڑھے نے باڑے سے نکل کر تازہ فضا میں سانس لیا ، ہاھ میں پکڑی بوتل سے پانی کا گھونٹ بھرا اور بلڈنگ کی طرف چل پڑا ۔
وہاں بھی تینوں کھڑکیوں پر 10 سے 15 افراد کھڑے تھے ۔ ایک کھڑکی خالی تھی۔ بوڑھے نے پڑھا۔ خواتین و سینیئر سٹیزن ٹوکن ٹیکس کاؤنٹر ۔
سینیئر سٹیزن و خواتین کی کھڑکی خالی تھی ۔وہاں اپنی گاڑی کا سمارٹ کارڈ دکھایا۔
نوجوان نے کہا : آپ ساتھ والی بلڈنگ کی پہلی منزل پر ابراھیم صاحب سے ملیں وہ آپ کو گاڑی کی اوریجنل قیمت لکھ کر دیں گے تو آپ سے ہم اُس کے مطابق ٹیکس لیں گے ۔
لیکن پچھلے سالوں میں تو انجن کے مطابق ٹیکس لیا تھا۔ یعنی 1600 سی سی کار کا ٹوکن ٹیکس مبلغ 4000 ہزار روپے سالانہ ۔ہے نا دکھ کی بات ۔
نوجوان بولا ۔"جناب اب گاڑی کی اوریجنل قیمت خرید کے مطابق ٹوکن ٹیکس لیا جائے گا ۔ اِسی لئے اب آن لائن سسٹم بند کر دیا گیا ہے"۔ ،
بوڑھا پریشان ہو گیا کہ 2004 کی پرانی رجسٹر گاڑی کا تو ٹیکس معاف ہو جانا چاھئیے ۔ معلوم نہیں حکومت وقت اب خزانہ بھرنے کے لئے کون سی دو دھاری تلوار بنائے گی ؟
.jpeg)
سیڑھیاں چڑھ کر بلڈنگ کے گراونڈ فلور پر پہنچا اور لوہے کے کھلے ہوئے گیٹ سے اندر داخل ہوا ۔
چلتا چلتا کوریڈور کے آخر تک گیا جہاں بائیں طرف مزید سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں ، آہستہ آہستہ ریلنگ کو پکڑتا بوڑھا پہلی منزل پہنچا ۔
جہاں سامنے بائیں طرف مزید سیڑھیاں تھیں۔ لہذا دائیں طرف گیلری کی طرف مڑا۔ اور دائیں طرف تالا بند دروازے دیکھتا اور قدم بڑھاتا آخری دروازے ۔ جو صاحب کا تھا ۔وہاں پہنچا وہ بھی بند تھا ۔ اُس کے ساتھ پی اے کا دروازے پر تالا نہیں تھا ۔ اُسے کھولا ۔ خالی کمرہ تھا ۔ صبح 9 بجنے میں دو منٹ باقی تھے ۔لہذا ابھی ڈیوٹی شروع نہیں ہوئی ۔کہاں بوڑھا جو اپنے آفس کے وقت سے پانچ منٹ پہنچنے کا عادی تھا ۔ واپس ہوا۔ سامنے 6 سیڑھیاں اوپرجا رہی تھیں ۔ 3 افراد کھڑے تھے ۔ بوڑھا بھی اوپر گیا اور بائیں طرف کے دروازے کو کھولا ۔
سلام علیکم "کہا اور پوچھا" ابراہیم صاحب تشریف رکھتے ہیں " ۔
مزید کچھ پوچے بغیر جواب ملا ۔ اگر آپ کی گاڑی کا نمبر، آئی ڈی کے ہے تو اسی کمرے کے پیچھے جائیے وہاں ابراہیم صاحب مل جائیں گے "۔
شکریہ ادا کر کےواپس نکلا اور اِسی فلور پر دائیں طرف پتلی گلی میں مڑا دیکھا تو کوئی کمرا نہیں تھا ۔ لیکن بائیں طرف نیچے کی طرف جانے والی سیڑھیوں کے خاتمے پر ایک کنٹینر نماکمرہ تھا ۔اُسے اتر کر کھولا۔مزید اندر تین سیڑھاں تھیں ۔ بوڑھے کو اپنا نو جوانی میں نیلم ویلی کا مٹی اور پتھروں کا بنکر یاد آگیا جو دھنی میں تھا ۔اور نوجوان سیکنڈ لفٹین کا نشیمن تھا ۔
سلام کرکے پوچھا ۔" ابراہیم صاحب ہیں" ۔
جواب ملا "ابراہیم صاحب تو نہیں آپ اندر اتر آئیں"۔
اتر کر اندر گیا اورخالی کرسی پر بیٹھا کراپنے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل سے پیاس بجھائی ۔
اور گویا ہوا : گاڑی کا ٹوکن ٹیکس بھرنا ہے ، نیچے سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہوں۔ کہ آئی ڈی کے۔8021 سیریل نمبر کی گاڑی کی قیمت خرید لکھوا کر لائیں۔
ایک نوجوان اندرگیا اور گاڑی کی فائل نکال کر لایا۔بوسیدہ کاغذات الٹے ۔ بولا ۔جناب اِس میں قیمت خرید نہیں لکھی ۔
معلومات دیں : یو این گاڑی نمبر ۔یو این ۔ 67 ۔ 924 تھی ۔ نیلامی میں دوست نے خریدی تھی ۔آپ نیلامی کے کاغذات میں دیکھیں ۔چالان فارم 32 اے ضرور لگا ہوگا ۔
نوجوان نے دوبارہ کاغذات الٹے ۔ چالان فارم 32 اے ۔ سے گاڑی کی قیمت دیکھی اور ایک کاغذ پر رقم ۔ 28281 روپے لکھ کر دے دی ۔
کہا : یہ جمع کروادیں ۔
جناب 640 روپے دے دیں ؟
وہ کس لئے: بوڑھے نے پوچھا ؟۔
جی ٹوکن ٹیکس ہے ۔ جواب ملا ۔
بوڑھے نے 640 روپے بڑھائے اُس نے رسید اور سمارٹ کارڈ تھما دیا
جی اپنے گھرجایئے ۔ وہ خوش دلی سے بولا۔اب یہی ٹوکن ٹیکس ہو گا






.jpeg)





