Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏YES لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏YES لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 18 فروری، 2024

سلائی مشینوں کی خریداری

 
چار سلائی مشینیں  لے کر وقار کھنہ پل  پہنچ گیا ،اسرار  نے مشینوں کو چیک کیا اور اوکے رپورٹ دی ، چنانچہ بوڑھے نے 47 ہزار روپے وقار کے بھائی شیراز کو ایزی پیسہ کردئے ۔ یہ مائکروفنانس بینکنگ میں  ٹیلینور والوں نے اپنا سکہ بٹھالیا ہے ۔ اب بنکوں  نے بھی راست کے نام سے ایزی پیسہ بینکنگ کو سپورٹ کیا ہے ۔
پہلا پراجیکٹ۔کھنّہ پل کے پاس بلال ٹاؤن میں شروع کردیا ہے ۔جس میں چار سلائی مشینیں  پراجیکٹ ڈائریکٹر علی ابراہیم  کو مہیا کر دی ہیں  ، جن میں دو نئی قیمت فی سلائی مشین مبلغ 16 ہزار روپے ۔(10 سال فری سروس ) دو ری فربش فی سلائی مشین   مبلغ 9ہزار روپے۔
 اگر مشینوں کے صرف خراب پارٹس تبدیل کئے جائیں اور رنگ نہ کروایا جائے ، تو قیمت  فی مشین  مبلغ 6 ہزار روپے میں ملتی ہے ۔
دوسرا  پراجیکٹ ۔ میرپوخاص  (سندھ)میں۔ 
تیسرا پراجیکٹ ۔شجاع آباد  ۔
چوتھا پراجیکٹ :اڈیالہ روڈ راولپنڈی ۔
 پانچواں  پراجیکٹ: تربت (بلوچستان) اور 
چھٹا  پراجیکٹ :گوادر میں  عنقریب ترتیب وار شروع کرنے کا پروگرام ہے ۔دعا کریں کے بے وسائل خواتین کا روزگار شروع ہو جائے ۔

کیا اِس پراجیکٹ میں  بے وسیلہ خواتین اور بچوں کو اتنا منافع ہوگا کہ وہ گھر بیٹھے  اپنا روزانہ کے اخراجات  کو سہارا دے  سکیں  ؟

 ٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹس

بوڑھے کے اِس نئے سوشل ورک کی طرف ، گوادر، تربت،مانسہرہ اور نوشہرہ میں کسی نے پذیرائی نہیں کی۔ میرپورخاص کے رہنے والے ایک نوجوان، علی منور نے جو میرے محلے سیٹلائیٹ ٹاؤن    میں ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے اور ریڈیو کا آر جے بھی سوشل ورک میں کافی ایکٹو بھی ، اُس سے    ، بے وسیلہ خواتین اور بچیوں کو ٹیلرنگ کا کام سکھا کراُن کی مالی سپورٹ سے متعلق  رائے پوچھی۔
 اُس نے جواب دیا بہترین کام ہے لیکن اُن کے وسائل نہیں کہ وہ سلائی مشین خرید سکیں ۔اگر اُن کو سلائی مشین خرید کر دی جائے تو پھر اُن کی مدد ہو جائے ۔ 
بوڑھے نے پوچھا ۔ نئی سلائی مشین کی کیا قیمت ہے ۔ 
اُس نے کہا ، پرانی سلائی مشینوں سے بھی اُن کا کام چل سکتا ہے ۔ اگر اُن میں نئے پرزے ڈلوادئے جائیں ۔
  بڑھیا سے مشورہ  لیا اُس نے قبول کر لیا ۔ 

جنوری میں قران فہم مکتب کے ، ملت ابراہیم حنیف گروپ کے دوست میرے گھر پر اکٹھے ہوئے ۔ نوجوان سلیمان ایسے نظام کا دلدادہ تھا جو  علامہ پرویز احمد کے نظام  (سوشل کمیونسٹ) سے مطابقت رکھتا تھا ۔ جس  کے فلسفے سے میں متفق نہیں ۔

بوڑھے کو  علم تھا کہ علی ابراہیم کا ایک بھائی ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے ۔ میں نے اُس کو  علی منور کا آئیڈیاپیش کیا ، اُس نے بتایا کہ اُس کی چھوٹی بہن بھی سلائی کرتی ہے وہ عورتوں اور لڑکیوں کو ٹریننگ دے سکتی ہے ۔ اور اُس کے گھر میں ایک کمرہ خالی بھی ہے وہاں یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔ بوڑھے نے کہا الحمد للہ ۔

 بوڑھے نے علی  ابراہیم سے معلومات لیں ۔ 

ایک ٹیلر ، دن میں کتنے لباس تیار کر سکتا ہے ؟

کام پر منحصر، ایک دن میں 5 لباس اور اگر کام کم ہو تو 2 لباس ایک ٹیلر تیار کرسکتا ہے ۔ ہاتھ کی مشین میں یہ کم ہو جاتے ہیں ۔  1000 روپے  فی سوٹ لیا جاتا ہے ۔  270 روپےکل خرچ آتا ہے  ۔ اگر سینے والے کو 300 روپے دیا جائے تو 430 روپے منافع بنتا ہے ۔جس میں لازمی اخراجات  نکالنے کے باوجود مزید   بچت ہو سکتی ہے ۔یوں مشین اپنی قیمت خود ادا کر سکتی ۔ اور اُس قیمت سے ایک مشین اور خریدی جا سکتی ہے یا اگر بجلی ہو تو بجلی کی موٹر  تربیت یافتہ  خواتین کو دی جاسکتی ہے یوں سلائی کی رفتار تیز ہوجائے گی اور اضافی سوٹ سے بجلی کا خرچہ نکالا جاسکتا ہے ۔ اگر ایک گھر میں تین سلائی مشینیں ہوں تو اُس گھر کی ماہانہ آمدنی  بڑھ سکتی ہے ۔

 چنانچہ یہ چارٹر بنایا گیا ۔

 

بوڑھے  کی ایک کمپنی کی رقم  کے مبلغ  84 ہزار روپے ایک بنک کے کرنٹ  اکاونٹ میں  2011 سے پڑے تھے ، جن کے لئے  بنک اکاونٹ ایکٹو کروا کر نکلوانے تھے ، وہ بوڑھے نے ملت ابراہیم حنیف پراجیکٹ کو دینے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ جب بنک جا کر اکاونٹ ایکٹو کرواناچاہا تو معلوم ہو کہ وہ بوڑھے اور اُس کے بڑے بیٹے کا جائینٹ اکاونٹ ہے اور وہ بڑی عید پر اپنے بچوں کے ساتھ آئے گا ۔

  30 جنوری 2024 کو بڑھیا شدید بیمار ہوگئی، چلنے سے قاصر ، درد ریح نے بے حال کردیا ۔ بوڑھے نے یکم فروری کوائر جناح سے  کوئیٹہ جانا تھا ، 31 تاریخ  کو وہ 12 فروری کی تاریخ   کروائی۔ شعبان کا مہینہ، لگنے والا تھا ، بوڑھے کو خیال آیا  کہ سلائی کا کام عید کی وجہ سے زیادہ ہوجائے گا لہذا پراجیکٹ کو شروع کردینا چاھئیے ،

  9 فروری کو علی ابراہیم سے بات ہوئی اور اُسے  تین نئی مشینیں خریدے کے لئے  کہا ۔11 فروری کو  اُس کا بھائی اسرار   مشین محلہ راجہ بازار  گیا  ۔وہاں اُس کی ملاقات، وقار سے ہوئی ۔ جس نے کل مشینیں دینے کاوعدہ کیا۔ اور 12 تاریخ کو بوڑھا ، کوئٹہ جا پہنچا ۔

٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭



 

 

ہفتہ، 17 اکتوبر، 2020

آن لائن خریداری ڈرل مشین

 اِس طرح شروع کی کہ وٹس ایپ کے ایک اشتہار نے بوڑھے کی اشتہائےجبلتِ تالیف کے بعد تخلیق و ترتیب بڑھا دی اور بوڑھے نے 16 اکتوبر کو ،  یہ  آن لائن آرڈر کر دیا ۔ 

Cordless Roto matic Grinder & Drill- Rs:4990/-

جو 20 اکتوبر کو بوڑھے کے ہاتھ میں تھا ،بوڑھے نے پیکٹ کھولا ۔ اشیاء دیکھیں ، غصہ آیا ۔ پیغام وٹس ایپ کیا :۔

اِس ڈسپلے میں جو وڈیوز لگائی ہیں اُس میں سے یہ تین چیزیں  ، بمع بلیڈ اور اٹیچ منٹ مجھے نہیں ملیں


  

آپ کا جو اشتہار ہے اُس کے مطابق تمام چیزیں مجھے ملنی چاھئیں ، ورنہ آپ دھوکا دہی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔کہ اشتہار میں کچھ دکھایا اور چیزیں کچھ اور بھجوائیں ۔

 یہ پیغام بھجوا کر ۔

 بوڑھے نے منی گرائینڈ ر چلایا جو 30 سیکنڈ چل کر بند ہو گیا ۔ بوڑھا پریشان ، کہ پانچ ہزار روپے دھویں میں اُڑ گئے ؟؟  

گرو  جی کی بات یاد آگئی ، کہ آن لائن کبھی شاپنگ نہ کریں !۔

خیر وٹس ایپ پر پیغام ڈالا ۔

آپ کی ڈرل صرف 30 سیکنڈ چل کر بند ہوگئی ۔
کیا آپ کا راولپنڈی میں کوئی سروس سینٹر ہے ؟

جواب ملا ، ہمارا کوئی راولپنڈی میں سروس سینٹر نہیں ۔ آپ کِس چیز کی بات کر رہے ہیں ؟ ہمیں ایک چھوٹی سی کلپ بنا کر سینڈ کر دیں ۔

بوڑھے نے یہ کلپ بھیج دی ، وٹس ایپ کے پیغامات چلتے ہے ۔ 

 

ایک طویل وٹس ایپ کی جنگ  شروع ہو گئی اور ٹی وی شاپی ۔کے منتظم اسامہ  کو یہ ، لکھا:۔

 آپ کی ڈرل صرف 30 سیکنڈ چل کر بند ہوگئی ۔ کیا آپ کا راولپنڈی میں کوئی سروس سینٹر ہے ؟ 

لیکن آپ نے لکھا ہم کچھ نہیں کر سکتے !

 کیا آپ بے ایمانی سے گھٹیا چیزیں فروخت کرنے کے اشتہار دے رہے ہیں ؟

!  یہ نہ سمجھیں کہ میں درگزر کر دوں گا ! مجھے یقینی کوئی حل چاھئیے  

اور  اشتہار بھجوایا ۔

 پہلے میں تمام سوشل میڈیا پر آپ کے خلاف لکھوں گا ۔ اُس کے بعد جو بھی قانونی کاروائی میرے بس میں ہو سکی آپ کے خلاف کروں گا ۔ 

خیر ، اسامہ کا بھلا ہو کہ اُس نے ڈرل واپس منگوائی۔اور مجھے 28 نومبر کو ، اچھی ڈرل مشین بھجوا دی ۔

:۔  میں نے لکھا

اسامہ جی : میرے پاس ایک بہتر ڈرل مشین اور دیگر ٹولز ہیں ، یہ میں نے چھوٹی اشیاء کے لئے منگوائی تھی ۔

خیر ، اسامہ نے معذرت کر دی ، کہ یہ اُن کے پاس نہیں ہیں اگر آئے تو میں آپ کو بھجوا دوں گا ۔

بدھ، 16 ستمبر، 2020

بوڑھا دی کارپینٹر

تو اُفق کے پار رہنے والے دوستو۔

 چم چم نے درست لکھا ، کہ، میرے گرینڈ فادر الماریاں بناتے ہیں ۔
بوڑھا اور بڑھیا بمع چم چم عدیس ابابا سے پاکستان پہنچے۔ پہلے 7 دن تو قرنطائن میں گذارے ، پھر عسکری 14 کے کرائے کےگھر میں برفی کے بابا کے ساتھ شفٹ ہو گئے ۔ 

لہذا بوڑھے نے پھر ، ترکھان کے کام کو وُڈ ورک آرٹ میں تبدیل کرنے کے لئے ۔ اپنی  مکمل آٹو میٹڈ ورکشاپ کی تیاری۔

اب سوال یہ پیدا ہوا کہ بوڑھا اپنی ورکشاپ کہاں لگائے؟
تو جناب بوڑھے نے اپنی ورکشاپ کی تیاری کر دی  ۔ بازار سے کیکر کی لکڑیوں کی ٹیبل بنوانے کا پروگرام بنا ، کہ اتوار کو گالف کھینے کے بعد بازار جاؤں گا ۔

جب بڑھیا نے سنا کہ بحریہ میں قاضی کے ساتھ گالف کھیلنا ہے تو فرمائش جھاڑ دی ۔ کہ برفی بھی نہیں  ہے ، میں اکیلی ہوں مجھے ،   مسز رانی قاضی  کے پاس چھوڑ دیں ۔ وہ کافی عرصے سے بلا رہی ہیں ۔ 

گالف کے بعد، قاضی کے گھر پہنچا ۔ تو پورچ میں پرانی لکڑیوں کا انبار دیکھا ۔ 

نوجوان بھابی ! یہ کیا ۔امریکن پنشن سے گذارا نہیں ہو رہا ، جو  قاضی نے نئے تعمیر شدہ گھر میں  کباڑیئے کی دکان کھول لی ہے ؟

ار ے بھائی کیا بتاؤں ؟ اِن کے بڑے بھائی اپنے آبائی گھر کو از سر نو ٹھیک کر رہے ہیں یہ سب کاٹھ کباڑا وہاں پڑا تھا ۔ یہ ٹرک بھر کر اُٹھا لائے ۔

کاٹھ کباڑا ؟؟ خدا کا خوف کریں بھابی ۔ یہ تو نہایت نایاب اور قیمتی لکڑی ہے ، اِن سے وُڈ ورک آرٹ کے بہترین شاہ پارے بن سکتے ہیں ۔ بوڑھے نے کہا ۔

یہ دونوں کورس میٹس کباڑیئے ہیں - ٹین ٹپڑ جمع کرتے ہیں ، بڑھیا نے پورچ میں آتے ہوئے کہا ۔ کل یہ لکڑی کے بڑے بڑے گٹکے لائے ہیں شائد جلا کر ،تاپیں گے ۔  

قاضی کے گھر سے ، کھڑکیوں کی بلیاں اُٹھائیں اور اُنہیں جوڑ کر اپنی ورکنگ ٹیبل کی بنیاد رکھی ۔

جو آہستہ آہستہ بوڑھے کی عمر کے مطابق ، دن میں3  لیبر گھنٹے ، ورکشاپ 3 خوشی گھنٹے گالف ۔ 1 گھنٹہ برفی کے ساتھ ۔ 5گھریلو گھنٹے سمع خراشی-4گھنٹے  دنیا سے رابطہ وٹس ایپ وفیس بُک، 6 گھنٹے ساونڈ سلیپ ۔باقی 2 گھنٹے  تحلیل نفسی  برائے  آخرت۔ کی مصروفیات میں تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہے ۔
   

باقی آئیندہ ۔ 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 17 اگست، 2017

تربیت برائے روز گار - نوجواناں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لیکن دکھ کی بات ، کئی ایجنٹوں نے فون کیا ۔ کہ شائد انہیں بھی پہلی تنخواہ کمیشن کے طور پر مل جائے ، جس کا بوڑھے کو دُکھ ہوا ،  گاؤں میں ایجنٹ سسٹم نے بے چارے   عوام کا بیڑا غرق کر رکھا ہے ۔ ملازمت پر رکھوانے کے لئے  مبلغ  10 ہزار سے 50 ہزار روپے کمیشن  وہ بھی  آدھا رکھوانے کے لئے اور آدھا تنخواہ ملنے تنخواہ  کی صورت میں اور اگر رکھوانے کے مہینے کے بعد نکال دیا گیا تو  کمیشن ایجنٹ کی موجیں ، اگلے ملازم رکھوانے کے لئے مزید آدھا کمیشن ہاتھ میں ۔ اور جہاں رکھوایا گیا وہاں سے  پہلی تنخواہ ، یعنی   پانچوں انگلیاں تیل میں اور سر کڑھائی میں ۔
اب گاؤں یا شہر کے نوجوانوں،  کو ماہر ملازم کہلوا کر  رکھوایا جاتا ہے ، لیکن جب وہ ملازمت پر جاتا ہے گویا     "گھگو گھوڑا " اب  بیگم صاحبہ کیا کریں ، اُسے سکھانے کا وقت تو نہیں اُن کے پاس ۔ کیوں کہ پہلے مہینے کی تنخواہ   تو ایجنٹ کو دے دی ۔
ایجنٹ سے  شکایت کریں ، تو جواب ہوتا ہے :
" باجی  مجھے تو کہا تھا کہ کھانا پکانا آتا ہے " 
" جی کھانا پکانا تو آتا ہے وہ ہم نہیں کھا سکتے ، اور جو روٹیاں بناتا ہے   وہ کسی کر سر پر مار کر سر ضرور توڑا جاتا ہے " باجی دل کی بھڑاس نکالتی ہے ۔
" باجی ، بے چارہ گاؤں کا ہے بے روزگار ہے ، کام سیکھ لے گا ۔ تھوڑے دن دیکھ لیں۔ اللہ جزاء دے گا  " ایجنٹ انسانی ہمدردی کا پانسا پھینکتا ہے ۔
اب جو جزاء ایجنٹ نے وصول کی اُس کا ذکر نہیں !
لہذا ، مہینے دو مہینے بعد ،کولمبس بن کے ملازمت کی تلاش میں گاؤں سے نکلنے والا  بے چارہ  واپس اپنی تھاں پر ، ایجنٹ نے زیادہ ہمدردری دکھائی تو گاؤں والوں کے دباؤ پر لئے گئے آدھے پیسے واپس کر دے گا ۔ پہلے مہینے کی تنخواہ اور ، کلائینٹ سے لی گئی آدھے مہینے کی تنخواہ بونس ۔
جب بوڑھے کو یہ معلوم ہوا  تو بوڑھے نے ہر اشتہار میں لکھنا شروع کیا ، 
لیکن پھرایک اور چکر شروع ہو گیا ۔
" جی میرا کزن ہے ، بے چارہ بہت غریب ہے ، دعائیں دے گا "۔
بوڑھے  نے اب اِس بات پر زور دیا کہ ، امیدوار اپنے ذاتی موبائل سے  ۔ اپنا نام ، والد کا نام ، شناختی کارڈ نمبر ، عمر  اور گاؤں کے بارے   دئے گئے نمبر پر ایس ایم ایس کرے گا ، فون نہ کیا جائے ۔
بوڑھے نے  ، آئے ہوئے پیغامات  ، پر فون کرنا شروع کئے ۔ جہاں تو امیدوار خود ہوتا تو بوڑھا مکمل انٹرویو لیتا اور اپنے پاس لیپ ٹاپ میں بنائے ہوئے فارم میں انٹرویو کے مطابق ، مختلف   چیزوں کے مختلف  ، پوائنٹس دیتا ۔شارٹ لِسٹ کرتا  اور انتظار کرنے کا کہتا  -
 
دوسری بار  دئیے گئے پوائنٹس کے مطابق شارٹ لسٹ کئے ہوئے امیدواروں کاپھر موبائل انٹرویو لیتا  ، کئی فون اُٹھاتے اور کئی کا موبائل بند ملتا ۔ چنانچہ   پوائنٹس میں مزید کمی یا اضافہ کرتا ۔ اور پھر کسی وقت بھی بلانے کے حکم کا  انتظار  کرنے کا مژدا سناتا-
تیسری بار ۔ فوری بلاوہ کا  حکم دیتا ، جو جوان آجاتا ، اُسے ٹریننگ پر کسی کے گھر بھجوادیا جاتا ۔   جہاں بیگم صاحبہ اور پہلے سے موجود ملازم اُس کی تربیت شروع کر دیتے ۔
ٹریننگ کے اوقات:  صبح 7 بجے سے شروع  ہوتے ، دوپر کو ایک گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ آرام اور رات کو  9 بجے تک کھانا کھلا کر    چھٹی ۔ 

یوں سمجھیں کی بلاک ٹریننگ پروگرام کے مطابق :
1.Kitchen Management.
2.House Keeping.
3.Lawn & Kitchen garden Management.
4. Outfit Maintenance.
5.MC/Car General Cleaning. 

  پہلے مہینے   کی تربیت میں ، منتخب نوجوان ، دوسرے دن  وہ اپنی چپاتی خود  بناتا ، ساتھ ہی کچن کے اوپر کے کام  یعنی برتنوں کی صفائی ،مصالحہ جات  برائے سالن کی تیاری  و دیگر  گھریلو کام ، بسترے سمیٹنا ، چھوٹے موٹے کپڑے دھونا ، ماسی کے صفائی کی نگرانی اور جھاڑ پونچھ ، کار کی صفائی ، مارکیٹ سے چھوٹا موٹا روزمرہ کا سودا لانا ،  بھی انجام دیتا ۔
بوڑھے کا یہ طریقہ ہے ، کہ دوسرے دن نوجوان سے چائے بنواتا ہے  یا تو چائے بہت اچھی بنتی اور یا بوڑھے کو دل کڑا کر کی پینی پڑتی ہے ۔ لیکن پہلے گھونٹ کے بعد بوڑھا  بڑھیا کو کہتا ہے ،
" بھئی واہ !  کیا بہترین چائے بنائی ہے ، مزہ آگیا "
نوجوان کے چہرے پر خوشی قابلِ دید ہوتی ہے اور بڑھیا کے لئے اشارہ ، کہ نوجوان کو ذرا چائے بنانی سکھائی جائے ۔ لیکن بوڑھے کی ہمت دیکھئے کی وہ چائے پوری پی جاتا ہے۔  مہینے کے اختتام پر   مبلغ  پانچ ہزار روپے تنخواہ کی ادائیگی جو وہ  ایزی پیسہ سکیم کے ذریعے اپنے گھر بھجوا دیتا  ۔ کھانا ، رہائش  اور بجلی  مُفت ہوتی ہے ، جب کہ اپنے گھر سے باہر کام کے لئے نکلنے والے  کو  اپنی تنخواہ سے ادائیگی کرنا پڑتی ہے ۔
دوسرے مہینے میں وہ  ناشتہ   (پراٹھا  یا ڈبل روٹی ، انڈے یا آلو کے کٹس )تیار کرنا  اور  سنیکس (سموسے ، کباب ، چپس اور پکوڑے ) تلنا سیکھ جاتا ۔ 
دوسرے مہینہ مکمل ہونے کے بعد  ایک ہفتہ کی چھٹی دی جاتی ، یہ ایک ہفتہ کی چھٹی بھی اُس کا امتحان ہوتا ۔ اُسے  اتوار کو دوپہر 12 بجے  کے بعد لازمی واپس آنا پڑتا ۔ جو بغیر بہانہ ٹھیک ٹائم پر  آجاتا  تو وہ ٹھیک تین مہینے کے بعد  اپنی ٹریننگ (ناشتہ ، چائے ،سنیکس ،  دال  یا آلو  اور چاول  بنانا ) مکمل کرنے کے بعد ، فوج میں بطور این سی بی جانے کے لئے تیار کر دیا جاتا ،   اور دیر سے آنے والے کو ،مزید ایک ماہ مزید ٹریننگ کرنا پڑتا ۔
ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد اُسے  ایک سرٹیفکیٹ اور ہفتے کی چھٹی ملتی اور چھٹی کے بعد اُسے  فوجی آفیسر کے پاس بھجوادیا جاتا ۔ جہاں وہ ایک ہفتے  کے اندر ، قبول ہے کی سند حاصل کرنے کے بعد  بھرتی ہو جاتا ۔

 

سوائے16  کے اب تک سب ، فوج میں اپنے اپنے صاحبوں کے ساتھ موجود ہیں-
تین نے  فوج میں جانے سے انکار کر دیا دو   کا تعلق صوابی سے تھا اور ایک مردان سے ،  تینوں  انڈونیشیاء میں ہوٹلز پر ملازمت کر رہے ہیں   اور ایک  ، وہ  من موجی ہے ،  تین فوجی آفیسروں کے پاس بھجوا چکا ہوں  ، تینو ںجگہ وہ  سیٹ نہیں ہو سکا ، کیوں کہ حافظ ہے ، رمضان میں تراویح پڑھاتا ہے ۔ اور اپنی مرضی کا صاحب چاہتا ہے ۔ کہ جو اُسے   پانچ نمازوں کے وقت  کم از کم گھنٹے کی چھٹی دے ، اب وہ صاحب کا انٹرویو لیتا ہے اور انکار کر دیتا ہے ۔ بوڑھے  کو وٹس ایپ کرتا ہے ۔
" سر میری ملازمت کا کیا ہوا ؟ "
" انتظار کرو " بوڑھا لکھتا ہے ، کیوں کہ بوڑھے کو معلوم ہے ، کہ ٹریننگ سے پہلے وہ   میڈیکل  رِپ تھا اور اب بھی وہی کام کر رہا ہے ۔ 

جبکہ بوڑھا صرف اُن نوجوانوں کو روزگار دلانے کی دلچسپی رکھتا ہے ، جو کوئی کام  اِس وجہ سےنہیں کر سکتا ، کہ اُس کا آئی کیو لیول بہت کمزور ہو  اور اپنے کام سے کام رکھنے والا ہو ،صرف بتائے ہوئے طریقے پر کام کرے اور ابنِ بطوطہ کی طرح مزید جہاںگردی کرنے کی خواہش نہ رکھتا ہو ۔ 
بوڑھے کا یہ سفرآہستہ اپنی   منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔
2014 میں دئیے جانے والے اشتہار میں ، این سی بی ملازم کی تنخواہ  10 ہزارتھی ۔
2015 میں دئیے جانے والے اشتہار میں ، این سی بی ملازم کی تنخواہ  11 ہزارتھی ۔
2016 میں دئیے جانے والے اشتہار میں ، این سی بی ملازم کی تنخواہ  13 ہزارتھی ۔
2017 میں دئیے جانے والے اشتہار میں ، این سی بی ملازم کی تنخواہ  14 ہزارتھی ۔ 


2018 میں دئیے جانے والے اشتہار میں ، این سی بی ملازم کی تنخواہ  15 ہزار تک جا پہنچی ہے  ۔






٭٭٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭٭٭ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔