Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 18 فروری، 2024

سلائی مشینوں کی خریداری

 
چار سلائی مشینیں  لے کر وقار کھنہ پل  پہنچ گیا ،اسرار  نے مشینوں کو چیک کیا اور اوکے رپورٹ دی ، چنانچہ بوڑھے نے 47 ہزار روپے وقار کے بھائی شیراز کو ایزی پیسہ کردئے ۔ یہ مائکروفنانس بینکنگ میں  ٹیلینور والوں نے اپنا سکہ بٹھالیا ہے ۔ اب بنکوں  نے بھی راست کے نام سے ایزی پیسہ بینکنگ کو سپورٹ کیا ہے ۔
پہلا پراجیکٹ۔کھنّہ پل کے پاس بلال ٹاؤن میں شروع کردیا ہے ۔جس میں چار سلائی مشینیں  پراجیکٹ ڈائریکٹر علی ابراہیم  کو مہیا کر دی ہیں  ، جن میں دو نئی قیمت فی سلائی مشین مبلغ 16 ہزار روپے ۔(10 سال فری سروس ) دو ری فربش فی سلائی مشین   مبلغ 9ہزار روپے۔
 اگر مشینوں کے صرف خراب پارٹس تبدیل کئے جائیں اور رنگ نہ کروایا جائے ، تو قیمت  فی مشین  مبلغ 6 ہزار روپے میں ملتی ہے ۔
دوسرا  پراجیکٹ ۔ میرپوخاص  (سندھ)میں۔ 
تیسرا پراجیکٹ ۔شجاع آباد  ۔
چوتھا پراجیکٹ :اڈیالہ روڈ راولپنڈی ۔
 پانچواں  پراجیکٹ: تربت (بلوچستان) اور 
چھٹا  پراجیکٹ :گوادر میں  عنقریب ترتیب وار شروع کرنے کا پروگرام ہے ۔دعا کریں کے بے وسائل خواتین کا روزگار شروع ہو جائے ۔

کیا اِس پراجیکٹ میں  بے وسیلہ خواتین اور بچوں کو اتنا منافع ہوگا کہ وہ گھر بیٹھے  اپنا روزانہ کے اخراجات  کو سہارا دے  سکیں  ؟

 ٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔