Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 18 فروری، 2024

ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹس

بوڑھے کے اِس نئے سوشل ورک کی طرف ، گوادر، تربت،مانسہرہ اور نوشہرہ میں کسی نے پذیرائی نہیں کی۔ میرپورخاص کے رہنے والے ایک نوجوان، علی منور نے جو میرے محلے سیٹلائیٹ ٹاؤن    میں ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے اور ریڈیو کا آر جے بھی سوشل ورک میں کافی ایکٹو بھی ، اُس سے    ، بے وسیلہ خواتین اور بچیوں کو ٹیلرنگ کا کام سکھا کراُن کی مالی سپورٹ سے متعلق  رائے پوچھی۔
 اُس نے جواب دیا بہترین کام ہے لیکن اُن کے وسائل نہیں کہ وہ سلائی مشین خرید سکیں ۔اگر اُن کو سلائی مشین خرید کر دی جائے تو پھر اُن کی مدد ہو جائے ۔ 
بوڑھے نے پوچھا ۔ نئی سلائی مشین کی کیا قیمت ہے ۔ 
اُس نے کہا ، پرانی سلائی مشینوں سے بھی اُن کا کام چل سکتا ہے ۔ اگر اُن میں نئے پرزے ڈلوادئے جائیں ۔
  بڑھیا سے مشورہ  لیا اُس نے قبول کر لیا ۔ 

جنوری میں قران فہم مکتب کے ، ملت ابراہیم حنیف گروپ کے دوست میرے گھر پر اکٹھے ہوئے ۔ نوجوان سلیمان ایسے نظام کا دلدادہ تھا جو  علامہ پرویز احمد کے نظام  (سوشل کمیونسٹ) سے مطابقت رکھتا تھا ۔ جس  کے فلسفے سے میں متفق نہیں ۔

بوڑھے کو  علم تھا کہ علی ابراہیم کا ایک بھائی ٹیلرنگ کا کام کرتا ہے ۔ میں نے اُس کو  علی منور کا آئیڈیاپیش کیا ، اُس نے بتایا کہ اُس کی چھوٹی بہن بھی سلائی کرتی ہے وہ عورتوں اور لڑکیوں کو ٹریننگ دے سکتی ہے ۔ اور اُس کے گھر میں ایک کمرہ خالی بھی ہے وہاں یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔ بوڑھے نے کہا الحمد للہ ۔

 بوڑھے نے علی  ابراہیم سے معلومات لیں ۔ 

ایک ٹیلر ، دن میں کتنے لباس تیار کر سکتا ہے ؟

کام پر منحصر، ایک دن میں 5 لباس اور اگر کام کم ہو تو 2 لباس ایک ٹیلر تیار کرسکتا ہے ۔ ہاتھ کی مشین میں یہ کم ہو جاتے ہیں ۔  1000 روپے  فی سوٹ لیا جاتا ہے ۔  270 روپےکل خرچ آتا ہے  ۔ اگر سینے والے کو 300 روپے دیا جائے تو 430 روپے منافع بنتا ہے ۔جس میں لازمی اخراجات  نکالنے کے باوجود مزید   بچت ہو سکتی ہے ۔یوں مشین اپنی قیمت خود ادا کر سکتی ۔ اور اُس قیمت سے ایک مشین اور خریدی جا سکتی ہے یا اگر بجلی ہو تو بجلی کی موٹر  تربیت یافتہ  خواتین کو دی جاسکتی ہے یوں سلائی کی رفتار تیز ہوجائے گی اور اضافی سوٹ سے بجلی کا خرچہ نکالا جاسکتا ہے ۔ اگر ایک گھر میں تین سلائی مشینیں ہوں تو اُس گھر کی ماہانہ آمدنی  بڑھ سکتی ہے ۔

 چنانچہ یہ چارٹر بنایا گیا ۔

 

بوڑھے  کی ایک کمپنی کی رقم  کے مبلغ  84 ہزار روپے ایک بنک کے کرنٹ  اکاونٹ میں  2011 سے پڑے تھے ، جن کے لئے  بنک اکاونٹ ایکٹو کروا کر نکلوانے تھے ، وہ بوڑھے نے ملت ابراہیم حنیف پراجیکٹ کو دینے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ جب بنک جا کر اکاونٹ ایکٹو کرواناچاہا تو معلوم ہو کہ وہ بوڑھے اور اُس کے بڑے بیٹے کا جائینٹ اکاونٹ ہے اور وہ بڑی عید پر اپنے بچوں کے ساتھ آئے گا ۔

  30 جنوری 2024 کو بڑھیا شدید بیمار ہوگئی، چلنے سے قاصر ، درد ریح نے بے حال کردیا ۔ بوڑھے نے یکم فروری کوائر جناح سے  کوئیٹہ جانا تھا ، 31 تاریخ  کو وہ 12 فروری کی تاریخ   کروائی۔ شعبان کا مہینہ، لگنے والا تھا ، بوڑھے کو خیال آیا  کہ سلائی کا کام عید کی وجہ سے زیادہ ہوجائے گا لہذا پراجیکٹ کو شروع کردینا چاھئیے ،

  9 فروری کو علی ابراہیم سے بات ہوئی اور اُسے  تین نئی مشینیں خریدے کے لئے  کہا ۔11 فروری کو  اُس کا بھائی اسرار   مشین محلہ راجہ بازار  گیا  ۔وہاں اُس کی ملاقات، وقار سے ہوئی ۔ جس نے کل مشینیں دینے کاوعدہ کیا۔ اور 12 تاریخ کو بوڑھا ، کوئٹہ جا پہنچا ۔

٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭



 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔