Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 19 اپریل، 2021

19 فروری کو پنشنرز کی میٹنگ

  19 فروری کی صبح مجھے سبزواری کا فون آیا   کہ  میجر صاحب ،  اسلام آباد و راولپنڈی کے تمام  پنشنر کی  میٹنگ  ، رانا   محمد اسلم  ریٹائرڈ پی ایس  تو سیکریٹری وفاقی مذہبی امور کے گھر ہوگی  جہاں 22 فروری کی پریس کانفرنس کے انتظامات کے بارے میں  ، ڈسکشن ہو گی اگر آپ جاسکتے ہیں تو وہاں اپنے پنشنر ساتھیوں کے ساتھ پہنچ جائیں  اور باقی پنشنرز جن کو آپ جانتے ہیں اُنہیں بھی بتائیں ۔

بوڑھا عسکری 14 سے نکلا اور ٹھیک 3 بجے دوپہر رانا محمد اسلم کے گھر پہنچ گیا۔ بوڑھا پریشان کہ اسلام آباد و راولپنڈی کے پنشنرز یہاں کیسے سما سکیں گے؟

 گھر کے مغرب کی طرف خالی علاقہ تھا وہاں چل پڑا شاید وہاں کرسیاں وغیرہ رکھ دیں ہوں ۔جاکر دیکھا   وہ جگہ بالکل خالی تھی ۔ واپس رانا صاحب کے گھر آیا ڈور بیل  کا بٹن دبایا  کوئی جواب نہیں 5 منٹ بعد ایک اور صاحب موٹر سائیکل پر آئے ،  بوڑھے نے موبائل پر رانا صاحب کو فون کیا ۔ رانا صاحب باہر نکلے تعارف کروایا جہاں 20 کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ بوڑھے نے رانا صاحب سے پوچھا۔

رانا صاحب ۔ جن لوگوں کو وٹس ایپ پر یا موبائل پر دعوت دی ہے وہ یہاں سما جائیں گے ؟
رانا صاحب نے جواب دیا ، 

جو پہلے آئیں گے وہ بیٹھ جائیں گے باقی کھڑے ہو کر باتیں سُن لیں گے۔

یہ کہہ کر رانا صاحب اپنے ڈرائینگ روم میں چلے گئے۔ آہستہ آہستہ کرسیاں بھرنا شروع ہو گئیں ۔

میٹنگ کیا تھی ؟ ایک بولنے کا مقابلہ ہو رہا تھا ۔

 وہاں وہاں ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ یہ سبز واری کون ہے اِس کا حدود اربعہ کیا ہے ؟ 

کسی کو نہیں معلوم تھا ۔ وہاں جو بھی کاروائی ہوئی اُس کی مکمل گُفتگو کی وڈیو میں نیچے ڈالتا ہوں ۔

 وہ دیکھ کر آپ سمجھ جائیں گے ۔ کہ 65 سے 70 سال کے سمجھدار ، لوگوں نے ایسوسی ایشن بنانے کے لئے کیا گفتگو کی اور یہ بیل کیسے منڈھے چڑھی؟

میٹنگ 19 فروری  کی 2021   کی وڈیو

میری سبزواری صاحب سے پہلے ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی میں اُن کے بارے میں جانتا ہوں ، بس اتنا معلوم ہے کہ جب تین رُکنیِ کمیٹی نے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد  الاؤنس کا اعلان کیا  تو پنشنرز کے لئے  پنشن  میں کسی بھی اضافے کا  اعلان کیا اور نہ ہی یہ نوید دی کہ اُن کی پنشن میں اضافے کا اعلان بجٹ 2021-2022 میں کیا جائے گا ۔

٭۔ پنشنرز حکومت پر بوجھ ہیں ۔

٭۔ ہر سال حکومت پنشن کی مد میں ہر سال اربوں روپے پنشنرز کو دیتی ہے ۔

٭- لاکھوں گھوسٹ پنشنرز ہیں ۔

٭۔ آئی ایم ایف نے تمام ملکوں سے پنشن کا نظام لپیٹ دینے کو کہا ہے ۔ اگر معاشی ترقی کی رفتار بڑھانا ہے ۔

کیا حکومت ، عوام کو ماموں بنا رہی ہے ۔ کہ اپنے  معاشی جموندروں کو قلابازیاں کھلوا رہی ہے ۔

 ایک ایک مشیر 35 لاکھ ماہانہ تنخواہ لے رہا ہے ،  وزیر اِس بہتی گنگا میں ،  دل بھر کر اشنان کر رہے ہیں ۔ اور اگر خزانہ خالی ہو رہا ہے تو ۔ پنشنرز کو پنشن دینے اور اُس میں حکومت کی معاشی ناکام کا مقابلہ  تو نہیں       ہاں سسکتی لائن سے اوپر  زندگی گذارنے کے معمولی سے اضافہ  نہیں کر سکتی ؟؟

کہاں ہے وہ دعوے مدینہ ریاست بنانے والے ؟؟

٭۔ میٹنگ 21 فروری 2021  

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 


  

 

 

 

بدھ، 24 فروری، 2021

وزیر اعظم پاکستان کے نام ایک خط

 آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭٭٭٭وزیر اعظم کے نام ایک خط ٭٭٭٭٭

 



٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭- دوسری میٹنگ

٭۔تیسری میٹنگ

٭۔آل پاکستان پنشنرز ملکی خزانے پر بوجھ ہیں ۔  

منگل، 23 فروری، 2021

میں ملکی خزانے پر کبھی بوجھ نہیں رہا ۔ ایک ریٹائر فوجی

  أعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ

  بِسْمِ  اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي۔

 وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي ۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي ۔(دعائے موسیٰ کلیم اللہ کے ساتھ)

 

جناب وزیر دفاع حکومت، پاکستان

!کے نام کھلا خط

كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ

 

پاکستان کے برف پوش پہاڑوں  کے دفاعی علاقوں میں یہ نوجوان محو رقص ہیں اِن کی خوشی کا سبب  وہ  جوش اور ولولہ ہے جو مادرِ وطن کی حفاظت کے لئے اِن کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہے ۔

 یہ اپنے خاندان سے دور اُن کی معاشی کفالت بڑے سکون سے کر رہے ہیں کیوں کہ بھرتی ہوتے وقت اُن سے جو وعدے کئے وہ حکومتِ پاکستان اپنی پوری مساعی سے پورے کر رہی ہے ، اِن پر ہونے والا بلا حساب خرچ حکومتِ پاکستان پر بوجھ نہیں ،  کیوں کہ حکومتِ پاکستان اِن کی قربانیوں سے کرارض پر قائم ہے ۔ ورنہ خون خوار دشمن 1947 سے پاکستان پر نظریں جمائے بیٹھے ۔ اِنہیں معلوم ہے کہ اُن کی ملک کے لئے قربانی اُن کے خاندان کی کفالت کی راہ میں  حائل نہیں ہوگی ۔  کیوں کہ حکومت پاکستان نہ صرف اُن کے لئے ایک شفیق ماں ہے بلکہ اُس کی سرکار میں خدمت انجام دینے والی تمام سرکاری ملازموں کی بھی ماں ہے ۔

جو ہر سال بڑھتے ہوئی مہنگائی سے نپٹنے کے لئے نہ صرف تنخواہ   اور الاؤنسز سے اُن کی کفالت کرتی ہے بلکہ ،  اپنی   خدمت کا معاوضہ ، تاج برطانیہ کے کفالت الاؤنس  کی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن  دے کر

اُن کی خدمات کو 1947 سے بطور حق سراہا رہی ہے ۔

اگر برف پوش پہاڑوں پر خوشیاں مناتے ہوئے اِن پاکستانی محافظوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اِنہیں حکومتِ پاکستان سے اپنا حق مانگنے کے لئے ، دیگر سرکاری ملازموں کی طرح عمر رسیدگی میں سڑکوں پر بینر لے کر کھڑا ہونا پڑے تو اِن کی خوشیوں کے اِس رقص پر  مستقبل کی مایوسیوں کا سایہ چھا جائے گا ۔ جناب ۔ یکم دسمبر  1999 کو ریٹائر ہونے والا یہ 68 سالہ بوڑھا ،  جب کل اپنی پنشن میں اضافے کے لئےاپنے سے بھی عمر رسیدہ ،   پنشنرز اور ریٹائرڈ  ڈیفنس فورسز کے ملازمین  کے ساتھ   بینرلے کراسلام آباد پریس کلب کے باہر کھڑا ہوا ، تو مجھےایک خفت کا احساس ہوا کہ    ،میں بھی اِنہی جیسے ملکی دفاع میں سرشار نوجوانوں کے ساتھ  14 اگست  1993 کے دن سیاچین پر پاکستان کے قیام کی 46 ویں سالگرہ پر محو رقصاں تھا ۔  مجھ سمیت یہ سب نوجوان ریٹائر ہوچکے ہیں اور اپنے خاندان کی  کفالت کی گاڑی اِس امید پر کھینچ رہے ہیں ، کہ شاید  پچھلے 73 سالوں کی طرح اِس سال بھی حکومتِ پاکستان معاشی مہنگائی کے اِس دور میں اُن کی کفالت کرتے ہوئے  ، ملک کی خدمات کرنے والے  اِن  میں نوجوانوں کی اشک سوئی کرتے ہوئے 25 فیصد الاؤنس  اضافے کے ساتھ  ، موجودہ حکومت کے نئے پاکستان میں پنشنرز  کے کفالت الاؤنس ( پنشن) میں اضافہ کرے گی اور دولتمند مشیروں کی تجاویزِ کہ تمام پنشنرز ملکی خزانے پر بوجھ ہیں ۔

جناب  47 سال  کی عمر میں پاکستان آرمی سے ریٹائر ہونے والا ،یہ بوڑھا پنشنر دیگر پنشنر  سمیت یہ سوچ رہا ہے کہ نئے پاکستان کے انصاف پرست حکمران کیوں نہ پاکستان کے تمام پنشنرز    کو  ریٹائر منٹ کے بعد زہر کے ٹیکوں سے نوازیں ، تاکہ ملک کی خدمت  کا دعویٰ کرنے والے ،سرکاری ملازموں  کے ووٹ منتخب وزراء کے تنخواہوں ، الاؤنسز  اور دیگر اضافی مراعات کے لئے  قومی خزانہ وافر مقدار میں موجود ہو ۔    

والسلام

 

میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد

22 -02-2021

 

 

 

 

 

 

بدھ، 17 فروری، 2021

مہاجرزادہ کی آپّا میں شمولیت

 "پاکستان کے تمام پنشنرز ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں ۔ چلو چلو اسلام آباد چلو "
18 فروری کو مجھے ایک دوست لیفٹننٹ کرنل (ر) محمد عمران بٹ نے وٹس ایپ کیا ۔ جو مجھے بہت پسند آیا ۔ میں نے اُسے وٹس ایپ کیا کہ، بٹ صاحب ہم سوچ رہے تھے ، آل پاکستان پنشنرز کے اتحاد کا  یہ نعرہ مجھے بہت پسند آیا ۔

میں نیچے اُس  کا وائس میسج ڈال رہا ہوں ۔

کرنل عمران بٹ کے اِس وائس میسج نے  میرے ذہن میں سیاچین پر میری خدمت کرنے والے میرے  بیٹ مین  گنرمحمد بوٹا خان  کی بات      میرے تحت الشعور (دماغی ہارڈ ڈسک) سے شعور  ( ریم میموری) میں چھلانگ لگا کر آگئی ۔

پنڈ دادن خان کا بوٹا جو اپنی سروس کا آخری سال 1993 میں مکمل کر رہا تھا ، اُس سے میری ملاقات ۔ 29 نومبر 1976 میں ہوئی تھی    - جب اُسے وادیءِ نیلم میں دھنّی کے مقام پر  مجھے بطورِ بیٹ میں  دیا گیا ۔ بوٹا خان  ، ٹھیٹھ پنجابی بولنے والا ، تعلیم کے حساب سے چٹّا اَن پڑھ لیکن تربیت کے مطابق ایک بہترین ملازم ثابت ہوا ۔  دو سال میرے پاس رہنے کے بعد وہ میرے بیٹری کمانڈر   میجر ارسل نواز کے پاس بھجوادیا گیا ۔ وقت گذرتا گیا ۔ پھر اَن پیڈ لانس نائیک محمد بوٹا خان سے میری ملاقات  مارچ 1993 میں ہوئی جب میں اپنی یونٹ کا سیکنڈ اِن کمانڈ پوسٹ ہوا ۔ 

میں آفس میں بیٹھا تھا کہ رنر نے بتایا  کہ ، سر ، اَن پیڈ لانس نائک محمد بوٹا  خان آپ سے ملنا چاہتا ہے وہ ایک مہینہ بعد ریٹائر ہو رہا ہے ۔ 


اَن پیڈ لانس نائک محمد بوٹا  خان آفس میں داخل ہوا ۔   وہ اندر داخل ہوا ۔ میں پہچان گیا ۔ اُس نے زور سے سلیوٹ مارا ۔ میں کھڑا ہوا اور بولا،
بوٹے خانا تینوں کدروں پُٹ کے میرے مگر مار دتا  جے ۔

اَن پیڈ لانس نائک محمد بوٹا  خان ، شرمندہ ہو کر ویسے ہی مسکرایا جیسے وہ  18 سال پہلے مسکرایا کرتا تھا  اور پہلی بار جواب دیا :
سر جی تہاڈی ماسی دے پنڈ، توں !

 میری گلزار خالہ کے لئے پڑھیں ،" نمّو  کی پہلی اُڑان "

میں اُس سے اُٹھ کر گلے ملا۔ پاس کرسی پر بٹھایا  اور بوٹے نے چائے پینے تک اپنی پوری  کہانی سنا دی ۔ میں نے کمانڈنگ آفیسر  سے بات کی یوں، اَن پیڈلانس نائیک بوٹا خان میرا بیٹ مین بن کر سیاچین کے میدانِ جنگ میں  آگیا ، جہاں اُس کی تنخواہ  میں اضافہ ہو اور وہ   دو ماہ بعد ریٹائر ہو کر   سنٹر چلا گیا اور پھر پنڈدادن خان ۔  

بوٹے   یونٹ سے   میرا موبائل نمبر اور جولائی 2019 میں فون آیا :

یہ سب گفتگو پنجابی میں ہوئی ۔

بوٹے کیسا حال ہے ؟ بہو اور بچے کیسے ہیں ؟

سر جی ۔ اللہ کا شکر ہے ۔   سر جی کوئی ملازمت دلا دو ؟
بوٹے ملازمت کہاں ملتی ہے ؟ سر جی آپ نے پہلے احسان کیا تھا ، اب ایک اور کردو ، پنشن بہت کم ہے ۔ بوڑھا ہوگیا ہوں ملازمت نہیں ملتی ،  بہو تنگ کرتی ہے -آپ تو لوگوں کو  بیٹ میں کی ملازمت دلواتے ہو مجھے بھی دلوادو ۔

بوٹے  70 سال کا ہوگیا ہے اب تجھے ملازمت پر کون رکھے گا ۔ اگر رکھوا دوں تو  اگلا بندہ کہے گا ، میجر صاحب :  اے بوٹا  کدروں پُٹ کے میرے مگر مار دتا  جے ۔

سر جی : مجھے اپنے ہاں گیٹ پر چوکیدار رکھوادو ، آپ کی گاڑی صاف کروں گا ، آپ کے لئے گیٹ کھولوں گا، بس مجھے کھانا کھلا دینا اور  برانڈے میں چارپائی رکھ دینا ۔

بوٹے ، تیرا پنشن میں گذارا نہیں ہوتا  ، پھر بیٹا بھی ہے، پنشن کے پیسوں سے  تو نے گھر بھی بنایا تھا ، روٹی تو تجھے بیٹا بھی کھلاتا ہوگا  ، 6 ہزار روپے گھر بیٹھے کافی نہیں ؟
" سر جی بیٹا کہندا جے ، ابّا   تیری پنشن نال ساڈا گذارا نئی ہونا ، نالے توں ٹاپاں بہوں کھاندا جے، کسی صاب کو ل  چوکیدار دی ملازمت کر لے  "

یہ سُن کر ، یہ بوڑھا سُن سا ہو گیا ۔ لیکن پھر غصے میں بھر گیا،
بوٹے اپنے خبیث بیٹے کو بتاؤ ، کہ گھر تمھارا ، پنشن   تمھاری  ، بچے کے بیٹی اور بیٹے کے چوکیدار تم   ، تم نے اُسے پالا ، پڑھایا   اب وہ کیسے کہتا ہے ؟ کہ بڑھاپے میں تم چوکیداری کرو ۔ اُسے تمھاری خدمت کرنا چاھئیے  تم اُس کے باپ ہو، اب باپ بنو ، رات کو درخت کے نیچے سونے اور بارش میں   چھپّر کے نیچے سونے کے بجائے  ، اُسے بولو اپنا گھر تلاش کرے ۔ یا تمھیں چوکیداری کے بدلے کھانا کھلائے۔

سر جی میں ،بہت بیمار ہوا تھا ، رشتہ داروں کے کہنے پر  گھر  اُس کے نام کر دیا ہے ۔

پنشنر دوستو، یہ جملہ کہانی کا کلائمکس تھا ۔ جب میں  جولائی  2020 میں عدیس ابا با سے واپس آیا ، بوٹے کے نمبر پر فون کیا ، تو معلوم ہوا ۔اَن پیڈلانس نائیک بوٹا خان روٹیوں سے بے نیاز ہو چکا تھا ۔


پنشنر دوستو:  یوں بوٹے  کے دُکھ بھرے جملے نے  بوڑھے کو سیّد حفیظ  سبزواری کو فُون کرنے پر مجبور کر دیا ، جو بقول اُس کے  محکمہ صحت کا  ایک ریٹائرڈ  پنشنر ہے ۔ بوڑھے نے اُسے بتایا کہ بوڑھا بھی ایک پنشنر ہے اور فوج سے تعلق ہے ۔ فوج کے پنشن کے قواعد و ضوابط اپنے ہیں اور اکاونٹنٹ  جنرل آف پاکستان کے مختلف اداروں کے لئے اپنے ۔ یہ بتائیں کہ میں کیسے تمام پنشروں کی مدد کر سکتا ہوں۔

 یوں یہ پوسٹ اِس بوڑھے نے دیگر بوڑھوں کو ایک نیک کاز کے لئے ڈالی :

 19 فروری کی صبح مجھے سبزواری کا فون آیا   کہ  میجر صاحب ،  اسلام آباد و راولپنڈی کے تمام  پنشنر کی  میٹنگ  ، رانا   محمد اسلم  ریٹائرڈ پی ایس  تو سیکریٹری وفاقی مذہبی امور کے گھر ہوگی  جہاں 22 فروری کی پریس کانفرنس کے انتظامات کے بارے میں  ، ڈسکشن ہو گی اگر آپ جاسکتے ہیں تو وہاں اپنے پنشنر ساتھیوں کے ساتھ پہنچ جائیں  اور باقی پنشنرز جن کو آپ جانتے ہیں اُنہیں بھی بتائیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭- پنشنرز کی اسلام آباد میں پہلی میٹنگ-


 

 

 

 

 
میں نے سبزواری سے بات کی اُس نے بتایا کہ وہ 22 فروری کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرے گا ۔ میں نے پوچھا اسلام آباد کب آنے کا پروگرام ہے ؟ اُس نے بتایا کہ وہ 21 فروری کو اسلام آباد پہنچے گا ۔
مجھے 18 فروری کو جناب رانا محمد اسلم کی طرف سے میسج ملا کہ 19 فروری کو اُن کے گھر میں میٹنگ ہے آپ تشریف لائیں ۔ میں وہاں پہنچا وہاں جو بھی کاروائی ہوئی اُس کی مکمل گُفتگو کی وڈیو میں نیچے ڈالتا ہوں ۔
وہ دیکھ کر آپ سمجھ جائیں گے ۔ کہ 65 سے 70 سال کے سمجھدار ، لوگوں نے ایسوسی ایشن بنانے کے لئے کیا گُفتگو کی ۔

٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 13 فروری، 2021

بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا۔

ایک حاملہ خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں
بولی ،  اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟
شوہر نے جواب دیا۔

 میں اس کو تمام روزمرہ زندگی کی روایات سکھاؤں گا، کھیل، ریاضی، لوگوں کی عزت اور وغیرہ وغیرہ۔
خاتون نے پھر پوچھا۔
اگر بیٹی ہوئی تو؟
شوہر نے جواب دیا۔

میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔
میں غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ میری پرورش اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے کرے۔
بالوں کی کنگھی کرنے سے لیکر ڈریسنگ تک 

ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک 
نیز کہ وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے تربیت کرے گی۔
وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔

خاتون نے پھر پوچھا ۔

کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟
شوہر نے جواب دیا۔

بیٹے میں یہ ساری خصوصیات ڈالی جاتی ہے، لیکن بیٹی ان خصوصیات کیساتھ پیدا ہوتی ہے۔
خاتون نے پوچھا۔

لیکن بیٹی تو ہمارے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گی؟
شوہر نے جواب دیا۔

 بیٹی ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں رہے گی، لیکن روحانی طور پروہ ہرلمحہ ہمارے ساتھ ہوگی۔
یہ بات کہہ کر شوہر نے اپنے مکالمے کو ختم کیا۔

 بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا۔

٭٭٭٭

منگل، 9 فروری، 2021

گنگناہٹ سے بیماریوں کی تشخیص

 انسانی عارضے ، رازداریاں ، مختلف گنگناہٹ سے سمجھنے والوں کے لئے اظہار اور معالجانِ ظرف کے لئے تشخیص: ۔
جیا جلے، جان جلے ،رات بھر دھواں چلے۔
بیماری: بخار ۔
من ڈولے میرا تن ڈولے ۔

 بیماری: چکر آنا 

بیڑی جلائی لے جگر سے پیا،جگر میں بڑی آگ ہے

 بیماری: ایسیڈیٹی ۔

تجھے یاد نہ میری آئی ،کسی سے اب کیا کہنا

 بیماری: یادداشت کمزور 

ٹپ ٹپ برسا پانی، پانی نے آگ لگائی۔

 بیماری: پیشاب میں جلن۔

 ہائے رے ہائے نیند نہیں آئے۔

 بیماری: بے خوابی ۔

جیا دھڑک دھڑک جائے۔

 بیماری: ہائی بلڈپریشر۔

 تڑپ تڑپ کے اس دل سے آہ نکلتی رہی۔

 بیماری: ہارٹ اٹیک ۔

بتانا بھی نہیں آتا چھپانا بھی نہیں آتا۔

 بیماری: بواسیر۔

 سہانی رات ڈھل چکی ہے نہ جانے تم کب آؤ گے۔

 بیماری: قبض

 اور آخر میں ۔ ۔ ۔ ۔ 

 

لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی ہے۔

 بیماری: ۔ پیچس۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 31 جنوری، 2021

بھان سنگھ اور پنجابی سکھ گرودوارہ میرپور خاص

میرپورخاص میں شہر کے بیچوں بیچ ایک سکھ گرو دوارہ ( غلط العام گردوارہ) تقسیم سے پہلے قائم ہے ۔ جو میرپورخاص میں رہنے والے سکھوں کی عبادت کے لئے بنایا گیا تھا ۔ جس میں موجود جماعت اسلامی کے دفتر میں مہاجرزادہ نے کئی لیکچر سنے ۔ دو دن پہلے ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک مضمون ڈالا ۔

ہجرتوں اور دربدری پرکھوُں کے گھر چھوٹنے کے دُکھ- بھان سنگھ کیوں رویا ۔ 

یہ تحریر2015 دسمبر میں ڈان نیوز میں چھپی ، میر پور خاص  اور بھان سنگھ آباد کا نام پڑھتے ہی یادوں کے چھپے مینڈک پھدک پھدک کر باہر آنے لگے ۔آپ بھی پڑھئے مہاجرزادہ کی یاداشت کے ساتھ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  

بھان سنگھ کیوں رویا؟ بھان سنگھ کون ہے؟کہاں کا رہنے والا ہے؟وہ کب رویا؟اور کیوں رویا؟ 
یہ چار سوالات ہیں جن کے ہمیں جواب دینے ہیں۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ بھان سنگھ ایک سکھ ہے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ میرپور خاص کے رہائشی تھے۔
میرپور خاص میں ان کی حویلی اور بیٹھک بھی تھی۔
ان کی بیٹھک ایک بنگلے کی شکل میں تھی۔ بیٹھک کے عقبی حصے میں ایک اصطبل بھی تھا۔
ان کی رہائش گاہ اور بیٹھک کے اطراف میں ساری زمین ان کی ملکیت تھی۔ اس لیے اس علاقے کوبھان سنگھ آباد کہا جاتا تھا۔

مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بھان سنگھ کیوں رویا۔ اس سوال کا جواب ایک جملے میں ممکن نہیں۔سب سے پہلے ہمیں بھان سنگھ کے شہر میرپور خاص کا ایک تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔
میرپور خاص جیسا کہ نام سے ظاہر ہے میروں کا خاص علاقہ۔
تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے میرپور خاص میں بسنے والے مہاجرین جو خطوط انڈیا یا پاکستان کے دیگر شہروں میں اپنے رشتے داروں کے نام بھیجتے تھے، تو گھر کے پتے کے ساتھ شہر کا نام میرپور خاص سندھ ضرور لکھتے تھے۔اسی طرح حیدرآباد میں بسنے والے مہاجرین حیدرآباد سندھ لکھتے تھے۔

( مجھے اچھی طرح یاد  1971 میں ،میں ماڑی پور میں  بلاک 29 میں رہتا تھا کہ لیٹر بکس میں ایک پوسٹ کارڈ ملا ، جس پر انگلش میں ایڈریس لکھا تھا ۔اور انگلش  بالکل ایسی لکھی تھی جیسی ڈاکٹر کے نسخے میں ہوتی ہے- پوسٹ آفس سے وہ ،میرپور جانے کے بجائے ماڑی پورآ گیا اورایڈریس ناصر صاحب کا تھا جوہمارے گھر سے چار گھر بعد رہتے تھے )۔ 
لہذا، انہیں یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ میرپور آزاد کشمیر میں بھی ہے ۔جبکہ حیدرآباد انڈیا میں بھی ہے 
کہیں غلطی سے ان کا بھیجا جانے والا خط حیدرآباد دکن یا میرپور آزاد کشمیر نہ چلا جائے اور وہاں سے آنے والے خط کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال تھا۔
ایسا ہوتا تو نہیں تھا لیکن خطرہ تو تھا۔ بہرحال فی الوقت ہمارا موضوع ہے میرپور خاص اور بھان سنگھ۔ہم پہلے بتا چکے ہیں میرپور خاص میں سکھ آبادی میں کم ہی سہی لیکن تھے ضرور۔
شہر کے بالکل مرکز میں ان کا گرودوارہ تھا اور آج بھی ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ گرودوارے میں جماعت اسلامی اور محکمہ اوقاف و متروکہ املاک کا دفتر ہے۔
گرودوارے کی پیشانی پر ایک تختی بھی آویزاں ہے جس پر غالباً گورمکھی تحریر ہے۔
گرودوارہ شہر کے وسط میں قائم ہے ۔مگر اب اس میں مختلف دفاتر قائم ہیں.
گذشتہ دنوں متروکہ وقف املاک پاکستان کے منتظم اعلیٰ جناب صدیق الفاروق کراچی پریس کلب تشریف لائے اور ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سے ہجرت کرنے والے جن غیر مسلموں کی زمینوں، دکانوں، عبادت گاہوں پر جو ناجائز قبضے کیے گئے وہ خالی کروائے جائیں گے۔

 

اس موقع پر ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا میرپور خاص کے گرودوارے سے بھی قبضہ خالی کروایا جائے گا جس کے ایک حصے پر آپ کے اپنے دفتر کا قبضہ ہے؟
کیا گرودوارے کو سکھوں کے حوالے کیا جائے گا؟
تو جواباً انہوں نے فرمایا کہ چونکہ اب میرپور خاص میں سکھ موجود نہیں تو یہ عبادت گاہ کس کے حوالے کی جائے؟

بات ٹھیک ہی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد بھان سنگھ بھی پاکستان سے انڈیا ہجرت کر گئے۔
اس کے بعد دوسرے سکھ بھی میر پورخاص چھوڑ گئے ہوں گے۔
بھان سنگھ کا میرپور خاص میں گھر تھا اور گھر کے نیچے دکانیں بھی۔
وہ بنیادی طور پر زمیندار تھے لیکن انہوں نے اپنے گھر کے نیچے دکانیں بھی بنائی تھیں۔
بھان سنگھ کی ان دکانوں کی خصوصیت یہ ہے کہ آج 70 یا 80 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان دکانوں کے دروازے اسی طرح کے بنے ہوئے ہیں۔جس طرز پر بھان سنگھ نے یہ دروازے بنوائے تھے۔ ان دروازوں کا کمال یہ ہے کہ یہ دو تہوں پر مشتمل ہیں۔

(بچپن میں قائم ٹاکیز کے بالکل سامنےکوئی دس بارہ دکانوں کی ایک لائن تھی جن میں ایسے ہی  شٹر لگے تھے جن میں سے دو میں 1968 میں جب چینی کی راشنگ ہوئی تو یہاں گودام اور آفس تھا ۔ جس سے  ہر ماہ گھریلو افراد  کی تعداد کے حساب سے  راشن کارڈ چینی تقیسم کی جاتی تھی ، مٹھائی کی دُکان کے مالک محلے والوں سے راشن کارڈ جمع کرتے اور بوریوں کے حساب سے چینی اُٹھاتے ، مہاجرزادہ)   
دروازے جب کھلتے ہیں تو دکان کا سائبان بن جاتے ہیں -اور جب بند کیے جاتے ہیں تو دروازہ بند ہوجاتا ہے۔
یہ دکانیں اور ان کے دروازے اب بھی موجود ہیں۔ انہی دروازوں کے اوپر ایک گھر کے آثار بھی ہیں ۔جس کی بیرونی دیوار کے اوپری وسطی حصے پر گھڑیال کا ڈھانچہ موجود ہے۔

وقت کی گرد میں گھڑیال کی اصل صورت غائب ہو گئی ہے -لیکن اس کی باقیات ڈھانچے کی صورت میں موجود ہیں۔گھڑیال کے اب صرف آثار رہ گئے ہیں۔دو تہوں والے دروازے ویسے ہی ہیں جیسےبھان سنگھ نے 70 سے 80 سال قبل لگوائے تھے-جماعتِ اسلامی کے بورڈ کے پیچھے گرودوارے کی تختی موجود ہے ۔جہاں تک گرودوارے کی بات ہے۔
تو وہ تو میرپور خاص میں موجود ہے۔

اس کے اطراف میں دکانیں ہیں وہ تقریباً 50 سے زائد ہیں ۔لیکن ان دکانوں کی ملکیت کے لیے کوئی بھی سکھ دستیاب نہیں۔ہم نے سوچا کہ گرودوارے کی عمارت کا ایک تصویری خاکہ بنایا جائے، اس لیے ہم میرپور خاص پہنچے۔جیسے ہی ہم نے گرودوارے کی تصاویر بنانی شروع کی تو آس پاس کے بہت سارے دکاندار ہمارے قریب آگئے اور کہنے لگے ”گرودوارہ کب گرے گا“ ؟ہم نے انہیں بتایا کہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے  ۔ہم تو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس شہر میں سکھوں کا  گرودوارہ ،  اب بھی  موجود ہے۔ جس سے انہیں بہت مایوسی ہوئی۔خیر ہم گرودوارے کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے، مختصر اور تنگ سڑھیاں چڑھتے بالائی منزل پر پہنچ گئے۔اب بنیادی بات یہ تھی کہ تصویریں کس طرح بنائی جائیں؟ہم نے دیکھا کہ جماعت اسلامی کے دفتر کے باہر ایک صاحب سو رہے ہیں۔ہم نے ان کو جگایا اور بتایا کہ ہم گرودوارے کے حوالے سے تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دفتر کا چوکیدار باہر گیا ہے۔گرودوارے کے باہر جماعت اسلامی کی ایک تختی ویزاں تھی اور تختی کے نیچے ایک اور تختی تھی۔ہمارے دوست واحد پہلوانی نے اس تختی کی جانب توجہ دلائی۔ لیکن یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔کہ جماعت اسلامی کی تختی کو ہٹا کر کس طرح گردوارے کی تختی کی تصویر لی جائے۔ہم نے دروازے پر موجود ایک صاحب سے پوچھا کہ جماعت اسلامی کی یہ تختی کس طرح ہٹا کر گرودوارے کی تصویر لے سکتے ہیں؟انہوں نے کہا ”ڈنڈے“ سے۔اس کے بعد انہوں نے ایک بانس کا ڈنڈا لیا اور جماعت اسلامی کی تختی کو تھوڑا اوپر کر دیا۔اس کے بعد گرودوارے کی تختی بالکل نمایاں تھی۔

ہم ابھی گرودوارے کی تصاویر بنا ہی رہے تھے ۔کہ اچانک ایک صاحب نے ہمیں آکر کہا
ابے بھائی سکھ تو ہیں نہیں گرودوارہ شہر کے بیچ میں ہے، اب جلدی سے گرودوارہ گراؤ اور دکانیں بناؤ۔تصویریں تو بن گئیں لیکن ہمارے لیے اسے پڑھنا ناممکن تھا۔
اس کے لیے ہم نے ممتاز نقاد، ادیب اور ترجمہ نگار اجمل کمال کو تصویریں ارسال کیں کہ ہماری مدد فرمائیں۔

انہوں نے یہ تصویریں انڈین پنجاب میں ان کے ایک دوست چرن جیت سنگھ تیجا کو بھیجیں۔ تختی کا ترجمہ انہوں نے یوں کیا: 


تختی کا ترجمہ انہوں نے یوں کیا: ”اک اوں کار گُر پرشاد پنجابی سکھ گرودوارہ میرپور خاص (Ekonkaar Gur Prashad Punjabi Sikh Gurudwara Mirpurkhas).

(    سکھوں کا یہ ایک منترا  ،اونگ کر، ست گُر پرس ہے۔تصویر پر یا منترے کے الفاظ پر کلک کر کے اسے سنیئے  )

ہم جب بھان سنگھ کے گھر کی تلاش میں میرپورخاص کے علاقے ۔بھان سنگھ آباد میں پہنچے تو ہم نے ان کے گھر اور بیٹھک کی تلاش کرلی تھی ۔لیکن ہمارے ذہن میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا کبھی بھان سنگھ دوبارہ لوٹ کر آئے اور اپنے گھر اور بیٹھک کا جائزہ لیا۔بھان سنگھ کے گھر کی موجودہ حالت ،بالاآخر ہم اس بیٹھک تک پہنچ گئے جہاں وہ رہتے تھے۔بیٹھک کے باہر ایک صاحب جنہوں نے اپنا نام حاجی رفیق بتایا، موجود تھے۔ہم نے ان سے کہا کہ بھان سنگھ کا گھر کون سا ہے۔انہوں نے انگلی کے اشارے سے ایک مکان کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ گھر اب عمر راجپوت صاحب کا ہے اور یہی گھر بھان سنگھ کا تھا۔ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے بھان سنگھ کو دیکھا ہے۔جواب میں انہوں نے اقرار میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ہاں۔

1964 میں جب میں سات سال کی عمر کا بچہ تھا تو اچانک علاقے میں شور ہوگیا کہ بھان سنگھ آیا ہے ۔تو پھر میں نے دیکھا کہ ایک عمر رسیدہ سکھ پگڑی پہنے اس گلی میں آیا، کچھ دیر بعد وہ گھر سے باہر چلا گیا۔ یہ گھر اس وقت علوی ایڈووکیٹ کا تھا۔بعدازاں انہوں نے یہ گھر عمر راجپوت کو فروخت کر دیا تھا۔اب اس گھر میں عمر راجپوت رہتے ہیں۔باقی تفصیل آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔ہم نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عمر راجپوت باہر تشریف لائے۔ہم نے ان سے درخواست کی کہ ہمیں بھان سنگھ کی بیٹھک دیکھنی ہے جو اب آپ کا گھر ہے۔ انہوں نے کہا بیٹا آؤ۔

ہم گھر میں داخل ہوئے اور تصویریں بنائیں، اور پھر عمر صاحب سے پوچھا کہ کیا کبھی بھان سنگھ یہاں واپس لوٹ کر آئے؟"ہاں آئے تھے، 2004 کی بات ہے، دن کے کوئی 12 بجے کا وقت ہوگا۔گھر کے دروازے پر دستک ہوئی، بیٹا اختر تمہیں تو اندازہ ہے یا نہیں لیکن ایک طے شدہ بات ہے کہ میں بڈھا ہو گیا ہوں اور ریٹائرڈ بھی، بچے اور ان کے بچے صبح کو اپنے دفاتر اور اسکولوں کی جانب چلے جاتے ہیں۔ میں اکیلا ہی گھر میں ہوتا ہوں اس لیے دروازے پر دستک ہو تو پہنچتے پہنچتے خاصی دیر لگ جاتی ہے۔"لیکن جب میں نے دروازہ کھولا تو ایک معمر شخص جو تقریباً نوے کے پیٹے میں تھا، دروازے پر ایک ادھیڑ عمر عورت، جس کا تعارف اس نے اپنی بیٹی کی حیثیت سے کروایا، کھڑا تھا۔عمر رسیدہ شخص مجھ سے بولا بھان سنگھ کا گھر یہی ہے۔ 

میں نے کہا ہاں۔ آپ کو کس سے ملنا ہے۔تو وہ بولے میں بھان سنگھ ہوں۔ کیا میں اپنا گھر دیکھ سکتا ہوں تو میں نے کہا کیوں نہیں، اور میں انھیں گھر کے اندر لے آیا۔"میں نے اپنے باورچی سے کہا کہ چائے وغیرہ کا بندوبست کرے گھر کے مالک آئے ہیں۔باورچی گھر کے اندورنی حصے کی طرف چلا گیا۔اس کے بعد فقط اتنا ہوا کہ دو سے لے کر پانچ منٹ تک بھان سنگھ اور وہ ادھیڑ عمر لڑکی گھر کے در و دیوار پر ہاتھ پھیرتے رہے، چومتے رہے اور اس دوران روتے رہے۔

میں نے کہا ،آپ بیٹھیں میں چائے لے کر آتا ہوں ۔لیکن جب میں واپس آیا تو نہ بھان سنگھ تھا اور نہ اس کی بیٹی۔میں دوڑتا ہوا گلی میں آیا اور بھان سنگھ بھان سنگھ پکارتا رہا، لیکن گلی میں خاموشی اور سناٹا تھا۔"ہاں ! ایک بات اور۔ بھان سنگھ آباد کا سرکاری نام اب اورنگ آباد ہے۔لیکن لوگ اب بھی اس علاقے کو بھان سنگھ آباد پکارتے اور لکھتے ہیں۔"

(اختر بلوچ) 

تصاویر بشکریہ عمران شیخ

٭٭٭٭٭٭٭

مہاجر زادہ ۔1964 میں اپنی   والدہ   اوربہن بھائیوں کے ساتھ میرپور خاص آیا۔لیکن اِس سے پہلے وہ دو دفعہ دادی کی زندگی میں آیا۔ جس کی کچھ کچھ جھلکیاں ذہن میں موجود تھیں۔ ریلوے سٹیشن سے خالہ زاد بہن ور بھائی کے ساتھ تانگے میں آتے ہوئے ، امی اور خالہ زاد بھائی کی باتیں سُن رہا تھا ۔ تو معلوم ہوا کہ کھڈی مل کے بعد سیٹلائیٹ ٹاون تک سڑک کے کنارے بھان سنگھ کی زمین پر مہاجروں نے گھر اور دکانیں بنا لی ہیں ۔ جو کچی تھیں اور واحد سرخ اینٹوں کی منقش حویلی  بھان سنگھ کی تھی ، جس کے سامنے دکانیں ، پیچھے تالاب ، کنواں اور کھڈی مل تھی جو کپاس سے دھاگا اور سوتی کپڑا بنایا کرتی ، بڑی مل شہر میں تھی ، مول چند کا باغ جہاں، راجپوتانہ ،  مہاراشٹرا اور دیگر علاقوں سے مہاجر آئے ، ان کے لئے یہاں پہلا کیمپ لگا ۔ پھر سیٹلائیٹ ٹاون کا سروے ہوا اور 150 گز کے کوارٹر بنے ۔اور مہاجروں کو الاٹ کئے گئے،  بلاک 29 کا کوارٹر نمبر 396 چچا اکرام الدین کو الاٹ ہوا ۔ جو سیٹلائیٹ ٹاؤن کی پلاننگ کرنے والی کمپنی میں سروئیر تھے ۔

چچا کے گھر سے دروازوں میں سے گذرتے بڑے آرام سے خالہ کے گھر پہنچ جاتے جو دادی کے گھر سے شارٹ کٹ 250 گز تھا اور سڑک پر سے 300 گز دور تھا ۔اور بھان سنگھ کی حویلی ایک میل دور شہر کی طرف تھی اور سول ہسپتال ہمارے گھر سے کوئی سوا میل دور تھا ۔ سول ہسپتال کے پاس ریلوے پھاٹک عبور کرتے  ہی مولچند کا باغ شروع ہو جاتا جو لمبائی میں  جوہڑوں تک تھا اورچوڑائی میں 12 ووٹ والے ،  پاور سٹیشن تک تھا۔ بھانسنگھ کی زمین کوئی آدھا میل تک تھی اور چوڑائی میں جہاں جوہڑ ختم ہوتے تھے اُس سے تھوڑا آگے تھی ۔ یہاں فصل بھی ہوتی اور آم اور دیگر پھلوں ، کھرنی ، املی ، جنگل جلیبی اور دیگر درخت بشمول کیکر بھی ہوتے تھے ۔ اُس کے بعد نہر تک کیکر اور شیشم کے درخت تھے ۔ زمین کی زرخیزی کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف درختوں کی بہتات تھی ، کیوں کہ زمین میرواہ سے نکلنے والی جرواری شاخ سے سیراب ہوتی ۔ ہمارے گھر سے تالاب کی طرف ایک بڑ کا بہت بڑا درخت تھا اور اُس سے آگے شمشان تھا ۔ جہاں ہندو اپنے مردے جلاتے ۔یہ علاقہ آسیب زدہ مشہور تھا ۔ تالابوں کی کھدائی کے بعد بھی کئی لوگوں کو رات کو چلانے کی آوازیں جو میرے خیال میں ہم جیسے شریر بچے رات کو کھیلتے وقت یا اُس سڑک سے گذرتے وقت آوازیں نکالتے، سب گھروں کی مین اور پچھلی گلی میں کھلنے والے دروازوں پر زنجیر والہ کنڈی ہوتی ، رات کو کالا دھاگا باندھ کردور جا کر کھینچے اور گھر والوں کو ڈراتے۔ 

سیٹلائیٹ ٹاؤن کا یہ نقشہ مہاجر زادہ نے اپنی یاداشت سے بنایا ہے ۔


 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭                   

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔