Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 24 فروری، 2021

وزیر اعظم پاکستان کے نام ایک خط

 آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭٭٭٭وزیر اعظم کے نام ایک خط ٭٭٭٭٭

 



٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭- دوسری میٹنگ

٭۔تیسری میٹنگ

٭۔آل پاکستان پنشنرز ملکی خزانے پر بوجھ ہیں ۔  

جمعرات، 18 فروری، 2021

میٹنگ 19 فروری 2021

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭-دوسری میٹنگ

  ٭٭٭٭تیسری میٹنگ  کی کاروائی ٭٭٭٭٭

 19 فروری 2021  کو شام  3 بجے رانا محمد اسلم خان نے میٹنگ کا اہتمام کیا ۔ جس میں 35 ممبران نے شرکت کی ۔ میٹنگ کا باقاعدہ آغاز  نامزد چیئرمین    جناب سید  حفیظ سبزواری  کی اجازت سے ہوا ۔جناب رانا صفدراقبال نے تلاوتِ کلام پاک  سنائی اوردعا کی کہ اِس میٹنگ میں ہونے والے فیصلے اتحاد کی برکت سے کامیابی کی منزل چھوئیں ۔
نامزد  جنرل سیکریٹری   نے   مورخہ 15 فروری 2021 کو ہونے والی میٹنگ کی کاروائی پڑھ کر سنائی  اور میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں سے ممبران کو آگاہ کیا  -
اِن فیصلوں کی تائید سید قائم عباس نے کی اوردوسری تائید   راناصفدر اقبال  نے کی جو کثرتِ رائے سے منظور کی ۔
ممبران نے مختلف آراء دیں جو کم و بیش وہی تھیں جو 15 فروری 2021 کی میٹنگ میں دی گئیں ۔ جو نئی تھیں وہ درج ذیل ہیں :
اِس میٹنگ میں درج ذیل نکات پنشنرز کی ویلفیئر کے لئے پیش کئے گئے ۔
1- سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے 25 فیصد اضافے کے ساتھ ہی پنشنرز کی  پنشن میں بھی 25 فیصد پنشن کا اعلان کیا جائے ۔
2- تمام پنشنرز کو بناویلنٹ فنڈ اور گروپ انشورنش کی رقم فوراً اداکی جائے ۔
3- جن محکموں نے اپنے ملازمین کو ابھی تک پنشن نہیں دی ، اُن کو فوراً پنشن ادا کرنے کا پابند کروایا جائے ۔
4-اِس کے باوجود کہ تمام ملازمین نے ایک جیسی ملازمت پر تندہی اور جانفشانی سے ملازمت کی ہے ،لیکن ایک ہی گریڈ کے مختلف سالوں میں ریٹائر ہونے والے ملازموں کی پنشنز میں  بہت زیادہ فرق ہے ، یہ فرق دور ہونا چاھیئے ۔  
5- مختلف محکموں کے پنشن کے قوانین میں فرق ہے ، گو کہ اِن قوانین کو ایک جیسا نہیں بنایا جاسکتا ، لیکن مہنگائی تو سب پنشنرز پر یکساں  دباؤ ڈالتی لہذا اِس تفریق کو دور کیا جائے ۔
6-مختلف کارپورشنوں کے پنشنرز کے پنشن کے معاملات پر بھی غور کیا جائے ۔
7-ایک فوجی اپنے ٹریننگ سنٹروں اوربعد دی جانے والی تربیت سے بہترین  منتظم ، ٹیکنیشن ، انجنیئرنگ سپروائزر ، میڈیکل سٹاف ، استاد  بنتے ہیں لیکن 70 فیصد   40 سال سے 50 سال کی عمر میں کلر سروس کی مدت پوری کرنے کے  بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں – اور پنشن کی مد میں ملنے والی رقم کسی نوسر باز کے ہاتھوں گنوا بیٹھتے ہیں اور اُس کے بعد ، ملازمت کی تلاش میں دھکے کھاتے ہیں ۔ اِس کا  حل یہ تجویز کیا جاتا  ہے کہ مختلف آفات کے وقت سول انتظامیہ فوج سے مدد لیتی ہے ۔ اگرحکومت نیشل سروس کوربنائے اوراُس میں یہ تربیت  یافتہ سپاہی شامل کر دیئے جائیں اور اُنہیں اپنے اپنے علاقوں کی سول انتظامیہ کے ساتھ منسلک کردیا جائے  ۔تو اِس سے پاکستان کی تربیت یافتہ  افرادی قوت بڑھ سکتی ہے اور ہمیں ہنگامی صورتِ حال سے نپٹنے کے لئے ضلعی سطح پر بہترین  ملٹری قوانین کے تابع  تربیت یافتہ، منتظم ، ٹیکنیشن ، سول ورکس کے ماہر، میڈیکل سٹاف  اور ٹیچرز مل سکتے ہیں ۔جو پاکستان کے تباہ حال انفرا سٹرکچر کو دوبارہ بحال کرسکتے ہیں کیوں کہ وہ حاضر سروس سول آرمڈ   فورسز کے جوانوں کی طرح ملٹری قوانین کے تابع ہوں گے ۔
8- جناب راجہ غلام جیلانی نے بتایا کہ اُن کا تعلق پی آئی اے کے شعبے سے ہے ۔ پی آئی اے میں پنشن کے بارے کافی قانونی سقم موجود ہیں ، جن کے لئے وہ بذاتِ خودایک پٹیشنر ہیں ۔ خیر آمدن بر سر مقصد اسوقت DGM پینشن کو 6لاکھ پچاس ہزار روپے پر پینشن فنڈ سے ملازم رکھا ہوا ہے.جو ایک ماہ کی پینشن گول کرنے پر تلا ہوا. اپنے کہتے ہیں کہاں لکھا ہوا ہے کہ پینشن پہلی تاریخ کو ملے گی جبکہ PIA رولز کے مطابق پنشن پہلی تاریخ کو ہی ملنا چاھیئے ۔18000 پنشنرز اور بیوائیں شدت سے پہلی تاریخ کو پنشن کا انتظار کرتی ہیں ۔ آل پاکستان پنشنر ایسوسی ایشن کے عہدیداران کو ہماری مدد کرنا چاھئیے ۔
9-صوبیدار شمس چترالی کے بتایا کہ فوج کے ہم رکاب بارڈر پر ڈیوٹی کرنے  اور مینوئل آف ملٹری لاء کی تلوار نیچے حکومتِ پاکستان کے استحکام کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود اُن کی پنشن اور فوج میں کام کرنے والی کی پنشن میں دُگنا فرق ہے ۔ یہاں تک کہ فوج میں جوانوں کا کھانا پکانے پر  بھرتی کئے گئے لانگری کی تنخواہ و پنشن  ، سول آرمڈ فورسز کے سپاہی سے زیادہ ہوتی ہے ۔اِس فرق کو تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ختم کیا جائے ۔  جب ہم فوجیوں کے ساتھ نادیدہ دشمنوں کے مقابلے میں زخمی ہوتے ہیں تو ہمارا ملٹری ہسپتال میں علاج نہیں ہوتا-ہمارا بھی ملٹری ہسپتالوں میں علاج کروایا جائے نیز ہم 2017 سے ضرب حزب میں پاکستان آرمی کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں ہمیں یکم جولائی 2017 سے الاؤنس دیا جائے ۔
10- ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ایک ملک گیرہڑتال کرنا چاھئیے تا کہ حکومت کے ایوانوں میں پنشنرز کی گونج بھی سنی جاسکے ۔
11-ممبران نے تجویز پیش کی کہ 22 فروری کو 12 بجے دن  پریس کانفرنس میں شریک ہونے والے ممبران ایک علامتی ہڑتال ضرور کریں ۔
12- جناب صفدر اقبال اوررانا محمد اسلم نے تجویز پیش کی کہ  ایسوسی ایشن کو چلانے کے لئے فنڈ کی ضرورت پیش آئے گی جس کے لئے رضاکارانہ طور پر ممبران اپنی حیثیت کے مطابق فنڈ دیں  کیوں کے پریس کانفرنس کےلئے فیس اورعلامتی  ہڑتال کے لئے ہمیں بینر بنوانے پڑیں گے ۔
13-آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے جناب سید حفیظ سبزواری کو بطور چیرمین نامزد کریں اورایک متفقہ پینل  نامزد کیا جائے   تاکہ صحافیوں کے سوالات و جوابات کو احسن طریقے سے اور وضاحت سے دیئے جاسکیں – لیکن اُس سے پہلے آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  میں زیادہ سے زیادہ ممبر بنائے جائیں ۔ اور اِس کے لئے کوئی علامتی فیس کم از کم 100 روپے مقرر کی جائے اور اگر کوئی ممبراپنی مالی حیثیت کے مطابق کوئی ڈونیشن دینا چاھتا ہو وہ بھی قبول کیا جائے ۔
14- صفدراقبال صاحب نے تجویز دی کہ جب تک  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  کا رجسٹر ہونے کے بعد اکاؤنٹ نہیں کھلتا تو رقم کِس اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی اور کو ن رقوم کی بطور امانت  وصولی کی ذمہ  داری قبول کرے گا ، جس کے لئے عارضی طور پر بنک اکاؤنٹ ، ایزی  پیسہ اکاونٹ اور جاز اکاونٹ کی ضرورت ہوگی تاکہ ، ممبر شپ فیس  مبلغ 100 روپے ممبران آسانی سے بھجواسکیں – جو ایک جانگسل کام ہوگا

 15- میجر(ر) نعیم الدین خالد نے تجویز پیش کی چونکہ اُن کی پنشن کے علاوہ  کوئی آمدن نہیں ، لہذا اُن کے نیشنل بنک آف پاکستان کے علاوہ ، دیگر بنکوں میں بچوں کی طرف سے فیملی سپورٹ کے لئے بھجوائی جانے والے میزان  بنک اورالائیڈ بنک کے اکاونٹ کے علاوہ اُن کے ذاتی خرچے کا اکاؤنٹ سمٹ بنک میں موجود ہے ۔ جس میں 15563 روپے اور 91 پیسے موجود ہیں – یہ رقم وہ ایسوسی ایشن کو بطور ڈونیشن دینے کے لئے تیار ہیں ۔ نیز اُن کا ایک ایزی پیسہ اکاونٹ   03365500208موجود ہے جس  کو اُنہوں نے ضرورت مند  فوج سے منسلک افراد کی مدد کےلئے بنایاہے ، اُس میں ممبران اپنی رقوم بھیج سکتے ہیں ، نیز وہ اپنے جاز کے موبائل نمبرپر جاز کیش اکاؤنٹ بھی کھول لیں گے ۔

میٹنگ کے اختتام پر  نامزد چیئرمین سید حفیظ سبزواری نے   مندرجہ ذیل فیصلے کئے  :

1-  پروفیسر قاسم مسعود ۔سید قائم عباس ۔ مصطفیٰ حسین ، چیف وارنٹ آفیسر (ر) محمد توقیر ہاشمی   ۔ رانا محمد اسلم ،راناصفدر اقبال  ،رانا اشفاق احمد   اور     میجر ریٹائرڈ نعیم الدین خالد  ، پر مشتمل نامزد پینل بنایا گیا اور اِنہی ممبران کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی / کونسل کا رکن  نامزد کیا گیا ۔

 میجر(ر) نعیم الدین خالد کی ، اُن کے سمٹ بنک ، ایزی پیسہ اکاؤنٹ اور جاز کیش اکاؤنٹ  کے عارضی استعمال کی  تجویز ،و سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  نے منظور کر لی گئی ۔
3- چیئرمین سید حفیظ سبزواری نے  ممبران سے وصول کی گئی رقم کے حساب کی ذمہ دار ی کے لئے ، چیف اکاؤنٹنٹ صفدراقبال اوررانا محمد اسلم  اورمیجر(ر) نعیم الدین خالد   کو اکاؤنٹ مینیجمنٹ کمیٹی کا ممبر بھی نامزد کیا ۔


4- بنیادی مہم ،” تنخواہوں کو پنشن کے ساتھ بڑھاؤ “ کی سلوگن  کی منظوری کی حتمی ڈیڈ لائن 5 مارچ 2021 رکھی گئی ۔
5-پریس  کانفرنس سے پہلے عارضی علامتی ہڑتال کے لئے ، بینر بنوانے کی ذمہ  داری  مصطفیٰ حسین ممبر  سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو تفویض کی گئی ۔
6-   آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے لوگو ، لیٹر پیڈ کی  ڈیزائینگ ، چھپائی اور مہریں بنوانے کی اجازت دی گئی ۔ جو ممبر  اپنے تعارف کے لئے  وزٹنگ کارڈ چھپوانا چاہتا ہے وہ یہ کام ذاتی رقومات سے کرے گا ۔
7-   آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے ممبران و متفقین سے وصول ہونے والی رقومات  کسی بھی صورت میں  ، چائے پانی و دیگر غیر ضروری لوازمات پر استعمال نہیں کی جائیں گی -
8- ممبر  ان سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  و     آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے  عہدے داران رضاکارانہ بنیاد پر منتخب کئے جائیں اُنہیں کسی قسم کا محنتانہ یا سفری اخراجات و رہائش فراہم نہیں کی جائے گی -
9-  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن کی ذمہ داری   ، میجر(ر) نعیم الدین خالد   اور صفدر اقبال کو سونپی گئی ۔

 10-  آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  کے ممبران کی پنشن  میں حکومتِ پاکستان  سے اضافے کی منظوری کے بعد ، پاکستان کے پنشنر کے تمام مسائل کے لئے  ،  حکومت پاکستان کے تمام اداروں ، بشمو ل پاکستان ڈیفنس فورسز  اور  وزارتِ دفاع کے ماتحت    قائم سول آرمڈ فورسز  ، اور وہ تمام  ادارے جو اپنے  ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن ،گریجوئیٹی ، گروپ  انشورنس   اور بناولنٹ     جیسی سہولت دیتے ہیں ، اُن کے قوانین  کو ریٹائر ڈ ملازمین کے لئے  بہتر بنانے کے لئے تمام مساعی بروئے کار لائی جائیں گی -

میٹنگ میں شامل ہونے والے تمام ممبران نے کثرت رائے سے تمام تجاویز قبول کیں اور دعائیہ کلمات کے بعد ، ایک بھرپور عزم کے ساتھ میٹنگ اختتام پذیر ہوئی ۔   جناب اسلم رانا صاحب نے  میٹنگ میں شامل تمام حاضرین کی چائے اور دیگر لوازمات سے تواضع کی ۔ جس کا تمام ممبران اور حاضرین نے خوش دلی اور بھرپور مسرت سے شکریہ ادا کیا اور اُن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے رزق میں برکت کی دُعائیں دیں ۔

سیکریٹری جنرل نے قلم بند کیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭- دوسری میٹنگ

٭۔تیسری میٹنگ  


 

 

منگل، 16 فروری، 2021

میٹنگ 15 فروری 2021


آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

  ٭٭٭٭دوسری میٹنگ  کی کاروائی ٭٭٭٭٭

مختلف اداروں کے ریٹائرڈ پنشنرز کے ساتھ کوارڈی نیشنز اور اُنہیں موجودہ وقت میں اتحاد کی ضرورت سے روشناس کروانے کے بعد کوآرڈینیٹرز نے 12 فروری 2021 کو میٹنگ بلانے کا عندیہ دیا ، جس پرسید حفیظ سبزواری نے وٹس ایپ گروپ جو 12 فروری کو بنادیا گیا تھا   - جس پر تمام  ممبران کو اطلاع دے دی گئی  چنانچہ 15 فروری 2021  کو شام  3 بجے رانا محمد اسلم خان نے میٹنگ کا اہتمام کیا ۔ جس میں مندرجہ ذیل ممبران نے شمولیت کی :
سید حفیظ سبزواری - وفیسر قاسم مسعود ۔سید قائم عباس ۔چیف وارنٹ آفیسر (ر) محمد توقیر ہاشمی   ۔ سید حفیظ سبزواری ، میجر ریٹائرڈ نعیم الدین خالد  ،  راناصفدر اقبال  ،رانا اشفاق احمد  ،  پیٹی آفیسر (ر) محمد زمان خان ، حوالدار(ر)  شہزاد بلوچ، تنویر حسن ، ظفر اقبال ، احسان خان  ۔ مصطفیٰ حسین  اور
اِس میٹنگ میں درج ذیل نکات پنشنرز کی ویلفیئر کے لئے پیش کئے گئے ۔
1- سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے 25 فیصد اضافے کے ساتھ ہی پنشنرز کی  پنشن میں بھی 25 فیصد پنشن کا اعلان کیا جائے ۔
2- تمام پنشنرز کو بناویلنٹ فنڈ اور گروپ انشورنش کی رقم فوراً اداکی جائے ۔
3- جن محکموں نے اپنے ملازمین کو ابھی تک پنشن نہیں دی ، اُن کو فوراً پنشن ادا کرنے کا پابند کروایا جائے ۔
4-اِس کے باوجود کہ تمام ملازمین نے ایک جیسی ملازمت پر تندہی اور جانفشانی سے ملازمت کی ہے ،لیکن ایک ہی گریڈ کے مختلف سالوں میں ریٹائر ہونے والے ملازموں کی پنشنز میں  بہت زیادہ فرق ہے ، یہ فرق دور ہونا چاھیئے ۔  
5- مختلف محکموں کے پنشن کے قوانین میں فرق ہے ، گو کہ اِن قوانین کو ایک جیسا نہیں بنایا جاسکتا ، لیکن مہنگائی تو سب پنشنرز پر یکساں  دباؤ ڈالتی لہذا اِس تفریق کو دور کیا جائے ۔
6-مختلف کارپورشنوں کے پنشنرز کے پنشن کے معاملات پر بھی غور کیا جائے ۔
7-ایک فوجی اپنے ٹریننگ سنٹروں اوربعد دی جانے والی تربیت سے بہترین  منتظم ، ٹیکنیشن ، انجنیئرنگ سپروائزر ، میڈیکل سٹاف ، استاد  بنتے ہیں لیکن 70 فیصد   40 سال سے 50 سال کی عمر میں کلر سروس کی مدت پوری کرنے کے  بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں – اور پنشن کی مد میں ملنے والی رقم کسی نوسر باز کے ہاتھوں گنوا بیٹھتے ہیں اور اُس کے بعد ، ملازمت کی تلاش میں دھکے کھاتے ہیں ۔ اِس کا  حل یہ تجویز کیا جاتا  ہے کہ مختلف آفات کے وقت سول انتظامیہ فوج سے مدد لیتی ہے ۔ اگرحکومت نیشل سروس کوربنائے اوراُس میں یہ تربیت  یافتہ سپاہی شامل کر دیئے جائیں اور اُنہیں اپنے اپنے علاقوں کی سول انتظامیہ کے ساتھ منسلک کردیا جائے  ۔تو اِس سے پاکستان کی تربیت یافتہ  افرادی قوت بڑھ سکتی ہے اور ہمیں ہنگامی صورتِ حال سے نپٹنے کے لئے ضلعی سطح پر بہترین  ملٹری قوانین کے تابع  تربیت یافتہ، منتظم ، ٹیکنیشن ، سول ورکس کے ماہر، میڈیکل سٹاف  اور ٹیچرز مل سکتے ہیں ۔جو پاکستان کے تباہ حال انفرا سٹرکچر کو دوبارہ بحال کرسکتے ہیں کیوں کہ وہ حاضر سروس سول آرمڈ   فورسز کے جوانوں کی طرح ملٹری قوانین کے تابع ہوں گے ۔
8- ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ایک ملک گیرہڑتال کرنا چاھئیے تا کہ حکومت کے ایوانوں میں پنشنرز کی گونج بھی سنی جاسکے ۔

میٹنگ کے اختتام پر مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے :
1- ہمارا بنیادی اورپہلا مقصد ، 25 فیصد پنشن کے اضافے کا تنخواہوں کے ساتھ منسلک کروانا ہے -
2- ہم اَمن پسند ، بالغ نظر ، سنجیدہ ، بردبار اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے گُفت و شنید پر یقین رکھنے والے پنشنرز ہیں ۔ لہذا حکومت کے ایونوں تک اپنی آواز پہنچانے کا واحد ذریعہ علامتی ہڑتال اورپریس کانفرنس ہے ۔ کیوں نہ ہم پریس کانفرنس کی ایک متفقہ تاریخ منتخب کرلیں  اورمصطفیٰ حسین صاحب کو اِس کی کوآرڈینشن کا پریس کلب انتظامیہ سے مورخہ 22 فروری 2021  کو کہیں ۔
3- آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے جناب سید حفیظ سبزواری کو بطور چیرمین نامزد کریں اورایک متفقہ پینل بنایا جائے تاکہ صحافیوں کے سوالات و جوابات کو احسن طریقے سے اور وضاحت سے دیئے جاسکیں – لیکن اُس سے پہلے آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن  میں زیادہ سے زیادہ ممبر بنائے جائیں ۔
4- آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے  میجر  (ر) محمد نعیم الدین خالد کو جنرل سیکریٹری کی ذمہ دار سونپی گئی ۔
5-پریس کانفرنس کے انقاد سے پہلے ، سوشل میڈیا پر ملک گیر معلومات پھیلائی جائے جس کی پوسٹ بنانے کی ذمہ داری صرف اورصرف  سید حفیظ سبزواری کی ہوگی جو بطور چیئرمین اِسے قانونی نکتہ نظر سے بنائیں گے اور ہر قسم کی غلط معلومات پھیلانے والے اور آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے مقصد کو سبوتاژ کرنے والے ممبر کو وٹس ایپ سے فوراً نکالیں اور بلاک کریں ۔
میٹنگ میں حاضر ممبران نے اِن تینوں فیصلوں کی بھرپور تائید کی اوراگلی میٹنگ  کے لئے  جو 19 فروری 2021 کو ہونا طے پائی کہ زیادہ سے زیادہ ممبران لانے کی  ہامی بھری ۔
دعائیہ کلمات کے بعد ، ایک بھرپور عزم کے ساتھ میٹنگ اختتام پذیر ہوئی ۔

سیکریٹری جنرل نے قلم بند کیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭ -دوسری میٹنگ
٭۔تیسری میٹنگ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 

ہفتہ، 13 فروری، 2021

بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا۔

ایک حاملہ خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں
بولی ،  اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟
شوہر نے جواب دیا۔

 میں اس کو تمام روزمرہ زندگی کی روایات سکھاؤں گا، کھیل، ریاضی، لوگوں کی عزت اور وغیرہ وغیرہ۔
خاتون نے پھر پوچھا۔
اگر بیٹی ہوئی تو؟
شوہر نے جواب دیا۔

میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔
میں غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ میری پرورش اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے کرے۔
بالوں کی کنگھی کرنے سے لیکر ڈریسنگ تک 

ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک 
نیز کہ وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے تربیت کرے گی۔
وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔

خاتون نے پھر پوچھا ۔

کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟
شوہر نے جواب دیا۔

بیٹے میں یہ ساری خصوصیات ڈالی جاتی ہے، لیکن بیٹی ان خصوصیات کیساتھ پیدا ہوتی ہے۔
خاتون نے پوچھا۔

لیکن بیٹی تو ہمارے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گی؟
شوہر نے جواب دیا۔

 بیٹی ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں رہے گی، لیکن روحانی طور پروہ ہرلمحہ ہمارے ساتھ ہوگی۔
یہ بات کہہ کر شوہر نے اپنے مکالمے کو ختم کیا۔

 بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا۔

٭٭٭٭

جمعہ، 12 فروری، 2021

میٹنگ 12 فروری 2021

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

  ٭٭٭٭پہلی  میٹنگ  کی کاروائی ٭٭٭٭٭

ہر روز کی بڑھتی ھوئی مہنگائی ، جس نے پاکستان کے سارے شہریوں بلخصوص  تنخواہ دار طبقوں  کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس وجہ سے  مورخہ 10 فروری 2021  کو فیڈرل اور صوبائی ملازمین سمیت ریٹائرڈ ملازمین نے ڈی چوک پر احتجاج کیا ۔جس میں حکومت پاکستان کی طرف سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی ۔ پوری دنیا نے نیشنل براڈ کاسٹ میڈیا پی یہ منظر دیکھے  ۔ لیکن جس  بے دردی سے حکومتی نمائیندوں نے اپنے حقوق مانگنے والے  بوڑھے اور جوان شہریوں  پر آنسو گیس پھینکی  جس نے علاقے کو دھویں کے بادلوں سے بھر دیا  جو کسی جنگ کا منظر پیش کررہا تھا اور کچھ لوگوں کو پولیس نے گرفتار بھی  کیا – اپنے حقوق مانگنے    پر حکومت کی اِس غیر اخلاقی کوششوں سے پریشان ہوگئے ۔ کیوں کہ جلاؤ ، گھیراؤ، ماردو ، تباہ کردو ، کچل دو  کی سیاست کرنے والے عوامی منتخب نمائیندوں نے پر اَمن احتجاج کو پوری دنیا کے لئے ایک سوالیئہ   نشان بنا دیا ۔پاکستان بھر سے پرنٹ میڈیا ، ٹیلیویژن اور عوام کے ردعمل نے گورنمنٹ کو قائل کیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر اپنے حقوق مانگنے والوں کی شکایت سنے اور اُن کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کرے ۔
11 فروری کو وفاقی وزرا اور سرکاری ملازمین کے نمائندوں کے مابین مذاکرات ہوئے ۔ جس میں ریٹائرڈ ملازمین کے نمائندوں کو سہواً یا جان بوجھ کر نظر انداز کیا اور اُنہیں   شامل نہیں کیا گیا ۔  سرکاری ملازمین کے جن نمائندوں نے مذاکرات کیے انہوں نے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے ریٹائرڈ ملازمین کا ذکر تک نہ کیا اور نہ ہی مذاکراتی کمیٹی میں ریٹائرڈ ملازمین کا کوئی نمائندہ شامل کیا گیا ۔جس پر جڑواں شہروں   ( راولپنڈی اوراسلام آباد ) کے ریٹائر ڈ ملازمین نے چیدہ چیدہ لوگوں  سے مشورے کئے  اور قائل کیا کہ ہمیں بھی اپنے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کرنے چاھئیں  ورنہ  تمام پنشنرز  کو ر بجٹ میں کسی نہ کسی بہانے نظرانداز کر دیا جائے گا  ، چنانچہ سب کے مشورے سے یہ طے پایا کہ  ملک بھر میں ریٹائرڈ ملازمین کی بڑی تعداد موجود ہے  اور اُنہوں نے اپنی ایسوسی ایشنز اور سوسائیٹیز بھی بنائی اوررجسٹر کی ہوئی ہیں تو کیوں نہ اِن سب کو  ایک پلیٹ فارم پر متحدہ کرنے کے لئے کوئی تنظیم بنائی جائے  اور حکومت کو قائل کیا جائے کہ پنشنرز کو بھی  تنخواہ دار سرکاری ملازمین کے ساتھ شامل کیا جائے ۔ لہذا  اگلے دن تمام محکموں بشمول   بشمول ڈیفنس فورسز کے  ہم خیال ریٹائرڈ ملازمین کو دعوت دی گئی  تاکہ تمام پنشنرز کو اپنے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے ۔
  12 فروری 2021   کو ، تمام ریٹارئرڈ ملازمین  بشمول ڈیفنس فورسز کو اکٹھا کیا گیا اور اتفاقِ رائے سے  ، آل پاکستان پنشنرز ایسوی ایشن کی بنیاد رکھی گئی ۔جس میں شامل مندرجہ ذیل افراد نے رضاکارانہ افراد نے  اپنے طور پر زیادہ سے زیادہ افراد کو قائل کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ذمہ داری سنبھالی ۔
پروفیسر قاسم مسعود ۔سید قائم عباس ۔چیف وارنٹ آفیسر (ر) محمد توقیر ہاشمی   ۔صوبیدار شمس چترالی ، پیٹی آفیسر (ر) محمد زمان خان ، رانا محمد اسلم خان ۔سید حفیظ سبزواری ، میجر ریٹائرڈ نعیم الدین خالد ،میجر (ر) حبیب خان ایڈوکیٹ ،  راناصفدر اقبال  ،رانا اشفاق احمد  ، حوالدار(ر)  شہزاد بلوچ، تنویر حسن ، ظفر اقبال ، احسان خان  ۔ مصطفیٰ حسین  اورسید حفیظ سبزواری کو بطور چیف کوارڈی نیٹر   اسلام آباد و راولپنڈی چنا گیا ۔  میٹنگ کی کاروائی کو ضابطہءِ تحریر میں لانے کی ذمہ داری کے   میجر  (ر) محمد نعیم الدین   خالد نے خود کو والنٹیئر کیا  ۔
پہلی میٹنگ کے خاتمے کا اعلان ون پوائینٹ ایجنڈا 

  تنخواہوںاور پنشنوں کے 74 سالہ اشتراک کو کسی بھی طریقے سے ختم نہ کیا جائے اور تنخواہوں کے ساتھ پنشن بڑھانے کا  اعلان ہمیشہ اکٹھا کیا جائے ۔ 

اور اِس عہد کے ساتھ ، آل پاکستان پنشنرز ایسوی ایشن  کے  تمام پنشنرز  ممبرا ن اور نامزد افرانے کہ   کسی بھی صورت میں آل پاکستان پنشنرز ایسوی ایشن  کو سیاست ، تخریبی سرگرمیوں میں ملوث نہیں کریں گے  اور  پاکستان کے استحکام میں تندہی سے مشغول کسی بھی ادارے کی  آنچ پرحرف نہیں آنے دیں گے ۔ اور نہ ہی کسی ایسے کام میں ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم یا اُس کا نام استعمال کریں گے جو پاکستان کے  قوانین اور آئین کے خلاف ہو ۔
اللہ ہم سب پنشنرز کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو شیطانی ، فسادی اور شری   خیالات  سے افراد سے بچائے ۔ آمین و ثم آمین
سیکریٹری جنرل نے قلم بند کیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آل پاکستان پنشنرز کے لئے بنائی گئی ایسوسی ایشن کی جہد و جہد ۔ 

٭- پہلی میٹنگ

٭ -دوسری میٹنگ
٭۔تیسری میٹنگ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 

 

 

 

 

 

 

منگل، 9 فروری، 2021

گنگناہٹ سے بیماریوں کی تشخیص

 انسانی عارضے ، رازداریاں ، مختلف گنگناہٹ سے سمجھنے والوں کے لئے اظہار اور معالجانِ ظرف کے لئے تشخیص: ۔
جیا جلے، جان جلے ،رات بھر دھواں چلے۔
بیماری: بخار ۔
من ڈولے میرا تن ڈولے ۔

 بیماری: چکر آنا 

بیڑی جلائی لے جگر سے پیا،جگر میں بڑی آگ ہے

 بیماری: ایسیڈیٹی ۔

تجھے یاد نہ میری آئی ،کسی سے اب کیا کہنا

 بیماری: یادداشت کمزور 

ٹپ ٹپ برسا پانی، پانی نے آگ لگائی۔

 بیماری: پیشاب میں جلن۔

 ہائے رے ہائے نیند نہیں آئے۔

 بیماری: بے خوابی ۔

جیا دھڑک دھڑک جائے۔

 بیماری: ہائی بلڈپریشر۔

 تڑپ تڑپ کے اس دل سے آہ نکلتی رہی۔

 بیماری: ہارٹ اٹیک ۔

بتانا بھی نہیں آتا چھپانا بھی نہیں آتا۔

 بیماری: بواسیر۔

 سہانی رات ڈھل چکی ہے نہ جانے تم کب آؤ گے۔

 بیماری: قبض

 اور آخر میں ۔ ۔ ۔ ۔ 

 

لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی ہے۔

 بیماری: ۔ پیچس۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 31 جنوری، 2021

بھان سنگھ اور پنجابی سکھ گرودوارہ میرپور خاص

میرپورخاص میں شہر کے بیچوں بیچ ایک سکھ گرو دوارہ ( غلط العام گردوارہ) تقسیم سے پہلے قائم ہے ۔ جو میرپورخاص میں رہنے والے سکھوں کی عبادت کے لئے بنایا گیا تھا ۔ جس میں موجود جماعت اسلامی کے دفتر میں مہاجرزادہ نے کئی لیکچر سنے ۔ دو دن پہلے ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک مضمون ڈالا ۔

ہجرتوں اور دربدری پرکھوُں کے گھر چھوٹنے کے دُکھ- بھان سنگھ کیوں رویا ۔ 

یہ تحریر2015 دسمبر میں ڈان نیوز میں چھپی ، میر پور خاص  اور بھان سنگھ آباد کا نام پڑھتے ہی یادوں کے چھپے مینڈک پھدک پھدک کر باہر آنے لگے ۔آپ بھی پڑھئے مہاجرزادہ کی یاداشت کے ساتھ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  

بھان سنگھ کیوں رویا؟ بھان سنگھ کون ہے؟کہاں کا رہنے والا ہے؟وہ کب رویا؟اور کیوں رویا؟ 
یہ چار سوالات ہیں جن کے ہمیں جواب دینے ہیں۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ بھان سنگھ ایک سکھ ہے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ میرپور خاص کے رہائشی تھے۔
میرپور خاص میں ان کی حویلی اور بیٹھک بھی تھی۔
ان کی بیٹھک ایک بنگلے کی شکل میں تھی۔ بیٹھک کے عقبی حصے میں ایک اصطبل بھی تھا۔
ان کی رہائش گاہ اور بیٹھک کے اطراف میں ساری زمین ان کی ملکیت تھی۔ اس لیے اس علاقے کوبھان سنگھ آباد کہا جاتا تھا۔

مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بھان سنگھ کیوں رویا۔ اس سوال کا جواب ایک جملے میں ممکن نہیں۔سب سے پہلے ہمیں بھان سنگھ کے شہر میرپور خاص کا ایک تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔
میرپور خاص جیسا کہ نام سے ظاہر ہے میروں کا خاص علاقہ۔
تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے میرپور خاص میں بسنے والے مہاجرین جو خطوط انڈیا یا پاکستان کے دیگر شہروں میں اپنے رشتے داروں کے نام بھیجتے تھے، تو گھر کے پتے کے ساتھ شہر کا نام میرپور خاص سندھ ضرور لکھتے تھے۔اسی طرح حیدرآباد میں بسنے والے مہاجرین حیدرآباد سندھ لکھتے تھے۔

( مجھے اچھی طرح یاد  1971 میں ،میں ماڑی پور میں  بلاک 29 میں رہتا تھا کہ لیٹر بکس میں ایک پوسٹ کارڈ ملا ، جس پر انگلش میں ایڈریس لکھا تھا ۔اور انگلش  بالکل ایسی لکھی تھی جیسی ڈاکٹر کے نسخے میں ہوتی ہے- پوسٹ آفس سے وہ ،میرپور جانے کے بجائے ماڑی پورآ گیا اورایڈریس ناصر صاحب کا تھا جوہمارے گھر سے چار گھر بعد رہتے تھے )۔ 
لہذا، انہیں یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ میرپور آزاد کشمیر میں بھی ہے ۔جبکہ حیدرآباد انڈیا میں بھی ہے 
کہیں غلطی سے ان کا بھیجا جانے والا خط حیدرآباد دکن یا میرپور آزاد کشمیر نہ چلا جائے اور وہاں سے آنے والے خط کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال تھا۔
ایسا ہوتا تو نہیں تھا لیکن خطرہ تو تھا۔ بہرحال فی الوقت ہمارا موضوع ہے میرپور خاص اور بھان سنگھ۔ہم پہلے بتا چکے ہیں میرپور خاص میں سکھ آبادی میں کم ہی سہی لیکن تھے ضرور۔
شہر کے بالکل مرکز میں ان کا گرودوارہ تھا اور آج بھی ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ گرودوارے میں جماعت اسلامی اور محکمہ اوقاف و متروکہ املاک کا دفتر ہے۔
گرودوارے کی پیشانی پر ایک تختی بھی آویزاں ہے جس پر غالباً گورمکھی تحریر ہے۔
گرودوارہ شہر کے وسط میں قائم ہے ۔مگر اب اس میں مختلف دفاتر قائم ہیں.
گذشتہ دنوں متروکہ وقف املاک پاکستان کے منتظم اعلیٰ جناب صدیق الفاروق کراچی پریس کلب تشریف لائے اور ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سے ہجرت کرنے والے جن غیر مسلموں کی زمینوں، دکانوں، عبادت گاہوں پر جو ناجائز قبضے کیے گئے وہ خالی کروائے جائیں گے۔

اس موقع پر ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا میرپور خاص کے گرودوارے سے بھی قبضہ خالی کروایا جائے گا جس کے ایک حصے پر آپ کے اپنے دفتر کا قبضہ ہے؟
کیا گرودوارے کو سکھوں کے حوالے کیا جائے گا؟
تو جواباً انہوں نے فرمایا کہ چونکہ اب میرپور خاص میں سکھ موجود نہیں تو یہ عبادت گاہ کس کے حوالے کی جائے؟

بات ٹھیک ہی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد بھان سنگھ بھی پاکستان سے انڈیا ہجرت کر گئے۔
اس کے بعد دوسرے سکھ بھی میر پورخاص چھوڑ گئے ہوں گے۔
بھان سنگھ کا میرپور خاص میں گھر تھا اور گھر کے نیچے دکانیں بھی۔
وہ بنیادی طور پر زمیندار تھے لیکن انہوں نے اپنے گھر کے نیچے دکانیں بھی بنائی تھیں۔
بھان سنگھ کی ان دکانوں کی خصوصیت یہ ہے کہ آج 70 یا 80 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان دکانوں کے دروازے اسی طرح کے بنے ہوئے ہیں۔جس طرز پر بھان سنگھ نے یہ دروازے بنوائے تھے۔ ان دروازوں کا کمال یہ ہے کہ یہ دو تہوں پر مشتمل ہیں۔

(بچپن میں قائم ٹاکیز کے بالکل سامنےکوئی دس بارہ دکانوں کی ایک لائن تھی جن میں ایسے ہی  شٹر لگے تھے جن میں سے دو میں 1968 میں جب چینی کی راشنگ ہوئی تو یہاں گودام اور آفس تھا ۔ جس سے  ہر ماہ گھریلو افراد  کی تعداد کے حساب سے  راشن کارڈ چینی تقیسم کی جاتی تھی ، مٹھائی کی دُکان کے مالک محلے والوں سے راشن کارڈ جمع کرتے اور بوریوں کے حساب سے چینی اُٹھاتے ، مہاجرزادہ)   
دروازے جب کھلتے ہیں تو دکان کا سائبان بن جاتے ہیں -اور جب بند کیے جاتے ہیں تو دروازہ بند ہوجاتا ہے۔
یہ دکانیں اور ان کے دروازے اب بھی موجود ہیں۔ انہی دروازوں کے اوپر ایک گھر کے آثار بھی ہیں ۔جس کی بیرونی دیوار کے اوپری وسطی حصے پر گھڑیال کا ڈھانچہ موجود ہے۔

وقت کی گرد میں گھڑیال کی اصل صورت غائب ہو گئی ہے -لیکن اس کی باقیات ڈھانچے کی صورت میں موجود ہیں۔گھڑیال کے اب صرف آثار رہ گئے ہیں۔دو تہوں والے دروازے ویسے ہی ہیں جیسےبھان سنگھ نے 70 سے 80 سال قبل لگوائے تھے-جماعتِ اسلامی کے بورڈ کے پیچھے گرودوارے کی تختی موجود ہے ۔جہاں تک گرودوارے کی بات ہے۔
تو وہ تو میرپور خاص میں موجود ہے۔

اس کے اطراف میں دکانیں ہیں وہ تقریباً 50 سے زائد ہیں ۔لیکن ان دکانوں کی ملکیت کے لیے کوئی بھی سکھ دستیاب نہیں۔
ہم نے سوچا کہ گرودوارے کی عمارت کا ایک تصویری خاکہ بنایا جائے، اس لیے ہم میرپور خاص پہنچے۔
جیسے ہی ہم نے گرودوارے کی تصاویر بنانی شروع کی تو آس پاس کے بہت سارے دکاندار ہمارے قریب آگئے اور کہنے لگے ”گرودوارہ کب گرے گا“ ؟
ہم نے انہیں بتایا کہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے  ۔
ہم تو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس شہر میں سکھوں کا  گرودوارہ ،  اب بھی  موجود ہے۔ جس سے انہیں بہت مایوسی ہوئی۔
خیر ہم گرودوارے کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے، مختصر اور تنگ سڑھیاں چڑھتے بالائی منزل پر پہنچ گئے۔
اب بنیادی بات یہ تھی کہ تصویریں کس طرح بنائی جائیں؟
ہم نے دیکھا کہ جماعت اسلامی کے دفتر کے باہر ایک صاحب سو رہے ہیں۔
ہم نے ان کو جگایا اور بتایا کہ ہم گرودوارے کے حوالے سے تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دفتر کا چوکیدار باہر گیا ہے۔
گرودوارے کے باہر جماعت اسلامی کی ایک تختی ویزاں تھی اور تختی کے نیچے ایک اور تختی تھی۔
ہمارے دوست واحد پہلوانی نے اس تختی کی جانب توجہ دلائی۔ لیکن یہ بہت مشکل مرحلہ تھا
کہ جماعت اسلامی کی تختی کو ہٹا کر کس طرح گردوارے کی تختی کی تصویر لی جائے۔
ہم نے دروازے پر موجود ایک صاحب سے پوچھا کہ جماعت اسلامی کی یہ تختی کس طرح ہٹا کر گرودوارے کی تصویر لے سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا ”ڈنڈے“ سے۔
اس کے بعد انہوں نے ایک بانس کا ڈنڈا لیا اور جماعت اسلامی کی تختی کو تھوڑا اوپر کر دیا۔
اس کے بعد گرودوارے کی تختی بالکل نمایاں تھی۔

ہم ابھی گرودوارے کی تصاویر بنا ہی رہے تھے ۔کہ اچانک ایک صاحب نے ہمیں آکر کہا
ابے بھائی سکھ تو ہیں نہیں گرودوارہ شہر کے بیچ میں ہے، اب جلدی سے گرودوارہ گراؤ اور دکانیں بناؤ۔
تصویریں تو بن گئیں لیکن ہمارے لیے اسے پڑھنا ناممکن تھا۔
اس کے لیے ہم نے ممتاز نقاد، ادیب اور ترجمہ نگار اجمل کمال کو تصویریں ارسال کیں کہ ہماری مدد فرمائیں۔

انہوں نے یہ تصویریں انڈین پنجاب میں ان کے ایک دوست چرن جیت سنگھ تیجا کو بھیجیں۔ تختی کا ترجمہ انہوں نے یوں کیا: 


تختی کا ترجمہ انہوں نے یوں کیا: ”اک اوں کار گُر پرشاد پنجابی سکھ گرودوارہ میرپور خاص (Ekonkaar Gur Prashad Punjabi Sikh Gurudwara Mirpurkhas).

(    سکھوں کا یہ ایک منترا  ،اونگ کر، ست گُر پرس ہے۔تصویر پر یا منترے کے الفاظ پر کلک کر کے اسے سنیئے  )

ہم جب بھان سنگھ کے گھر کی تلاش میں میرپورخاص کے علاقے ۔بھان سنگھ آباد میں پہنچے تو ہم نے ان کے گھر اور بیٹھک کی تلاش کرلی تھی ۔لیکن ہمارے ذہن میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا کبھی بھان سنگھ دوبارہ لوٹ کر آئے اور اپنے گھر اور بیٹھک کا جائزہ لیا۔

بھان سنگھ کے گھر کی موجودہ حالت ،بالاآخر ہم اس بیٹھک تک پہنچ گئے جہاں وہ رہتے تھے۔
بیٹھک کے باہر ایک صاحب جنہوں نے اپنا نام حاجی رفیق بتایا، موجود تھے۔
ہم نے ان سے کہا کہ بھان سنگھ کا گھر کون سا ہے۔
انہوں نے انگلی کے اشارے سے ایک مکان کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ گھر اب عمر راجپوت صاحب کا ہے اور یہی گھر بھان سنگھ کا تھا۔
ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے بھان سنگھ کو دیکھا ہے۔
جواب میں انہوں نے اقرار میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ہاں۔
1964 میں جب میں سات سال کی عمر کا بچہ تھا تو اچانک علاقے میں شور ہوگیا کہ بھان سنگھ آیا ہے
تو پھر میں نے دیکھا کہ ایک عمر رسیدہ سکھ پگڑی پہنے اس گلی میں آیا، کچھ دیر بعد وہ گھر سے باہر چلا گیا۔ یہ گھر اس وقت علوی ایڈووکیٹ کا تھا۔بعدازاں انہوں نے یہ گھر عمر راجپوت کو فروخت کر دیا تھا۔اب اس گھر میں عمر راجپوت رہتے ہیں۔باقی تفصیل آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔
ہم نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عمر راجپوت باہر تشریف لائے۔ہم نے ان سے درخواست کی کہ ہمیں بھان سنگھ کی بیٹھک دیکھنی ہے جو اب آپ کا گھر ہے۔ انہوں نے کہا بیٹا آؤ۔
ہم گھر میں داخل ہوئے اور تصویریں بنائیں، اور پھر عمر صاحب سے پوچھا کہ کیا کبھی بھان سنگھ یہاں واپس لوٹ کر آئے؟
"ہاں آئے تھے، 2004 کی بات ہے، دن کے کوئی 12 بجے کا وقت ہوگا۔
گھر کے دروازے پر دستک ہوئی، بیٹا اختر تمہیں تو اندازہ ہے یا نہیں لیکن ایک طے شدہ بات ہے کہ میں بڈھا ہو گیا ہوں اور ریٹائرڈ بھی، بچے اور ان کے بچے صبح کو اپنے دفاتر اور اسکولوں کی جانب چلے جاتے ہیں۔ میں اکیلا ہی گھر میں ہوتا ہوں اس لیے دروازے پر دستک ہو تو پہنچتے پہنچتے خاصی دیر لگ جاتی ہے۔
"لیکن جب میں نے دروازہ کھولا تو ایک معمر شخص جو تقریباً نوے کے پیٹے میں تھا، دروازے پر ایک ادھیڑ عمر عورت، جس کا تعارف اس نے اپنی بیٹی کی حیثیت سے کروایا، کھڑا تھا۔
عمر رسیدہ شخص مجھ سے بولا بھان سنگھ کا گھر یہی ہے۔ 

میں نے کہا ہاں۔ آپ کو کس سے ملنا ہے۔ 

تو وہ بولے میں بھان سنگھ ہوں۔ کیا میں اپنا گھر دیکھ سکتا ہوں تو میں نے کہا کیوں نہیں، اور میں انھیں گھر کے اندر لے آیا۔
"میں نے اپنے باورچی سے کہا کہ چائے وغیرہ کا بندوبست کرے گھر کے مالک آئے ہیں۔
باورچی گھر کے اندورنی حصے کی طرف چلا گیا،
اس کے بعد فقط اتنا ہوا کہ دو سے لے کر پانچ منٹ تک بھان سنگھ اور وہ ادھیڑ عمر لڑکی گھر کے در و دیوار پر ہاتھ پھیرتے رہے، چومتے رہے اور اس دوران روتے رہے۔
میں نے کہا ،آپ بیٹھیں میں چائے لے کر آتا ہوں ۔
لیکن جب میں واپس آیا تو نہ بھان سنگھ تھا اور نہ اس کی بیٹی۔
میں دوڑتا ہوا گلی میں آیا اور بھان سنگھ بھان سنگھ پکارتا رہا، لیکن گلی میں خاموشی اور سناٹا تھا۔
"ہاں ! ایک بات اور۔ بھان سنگھ آباد کا سرکاری نام اب اورنگ آباد ہے۔
لیکن لوگ اب بھی اس علاقے کو بھان سنگھ آباد پکارتے اور لکھتے ہیں۔"

(اختر بلوچ) 

تصاویر بشکریہ عمران شیخ

٭٭٭٭٭٭٭

مہاجر زادہ ۔1964 میں اپنی   والدہ   اوربہن بھائیوں کے ساتھ میرپور خاص آیا۔لیکن اِس سے پہلے وہ دو دفعہ دادی کی زندگی میں آیا۔ جس کی کچھ کچھ جھلکیاں ذہن میں موجود تھیں۔ ریلوے سٹیشن سے خالہ زاد بہن ور بھائی کے ساتھ تانگے میں آتے ہوئے ، امی اور خالہ زاد بھائی کی باتیں سُن رہا تھا ۔ تو معلوم ہوا کہ کھڈی مل کے بعد سیٹلائیٹ ٹاون تک سڑک کے کنارے بھان سنگھ کی زمین پر مہاجروں نے گھر اور دکانیں بنا لی ہیں ۔ جو کچی تھیں اور واحد سرخ اینٹوں کی منقش حویلی  بھان سنگھ کی تھی ، جس کے سامنے دکانیں ، پیچھے تالاب ، کنواں اور کھڈی مل تھی جو کپاس سے دھاگا اور سوتی کپڑا بنایا کرتی ، بڑی مل شہر میں تھی ، مول چند کا باغ جہاں، راجپوتانہ ،  مہاراشٹرا اور دیگر علاقوں سے مہاجر آئے ، ان کے لئے یہاں پہلا کیمپ لگا ۔ پھر سیٹلائیٹ ٹاون کا سروے ہوا اور 150 گز کے کوارٹر بنے ۔اور مہاجروں کو الاٹ کئے گئے،  بلاک 29 کا کوارٹر نمبر 396 چچا اکرام الدین کو الاٹ ہوا ۔ جو سیٹلائیٹ ٹاؤن کی پلاننگ کرنے والی کمپنی میں سروئیر تھے ۔

چچا کے گھر سے دروازوں میں سے گذرتے بڑے آرام سے خالہ کے گھر پہنچ جاتے جو دادی کے گھر سے شارٹ کٹ 250 گز تھا اور سڑک پر سے 300 گز دور تھا ۔اور بھان سنگھ کی حویلی ایک میل دور شہر کی طرف تھی اور سول ہسپتال ہمارے گھر سے کوئی سوا میل دور تھا ۔ سول ہسپتال کے پاس ریلوے پھاٹک عبور کرتے  ہی مولچند کا باغ شروع ہو جاتا جو لمبائی میں  جوہڑوں تک تھا اورچوڑائی میں 12 ووٹ والے ،  پاور سٹیشن تک تھا۔ بھانسنگھ کی زمین کوئی آدھا میل تک تھی اور چوڑائی میں جہاں جوہڑ ختم ہوتے تھے اُس سے تھوڑا آگے تھی ۔ یہاں فصل بھی ہوتی اور آم اور دیگر پھلوں ، کھرنی ، املی ، جنگل جلیبی اور دیگر درخت بشمول کیکر بھی ہوتے تھے ۔ اُس کے بعد نہر تک کیکر اور شیشم کے درخت تھے ۔ زمین کی زرخیزی کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف درختوں کی بہتات تھی ، کیوں کہ زمین میرواہ سے نکلنے والی جرواری شاخ سے سیراب ہوتی ۔ ہمارے گھر سے تالاب کی طرف ایک بڑ کا بہت بڑا درخت تھا اور اُس سے آگے شمشان تھا ۔ جہاں ہندو اپنے مردے جلاتے ۔یہ علاقہ آسیب زدہ مشہور تھا ۔ تالابوں کی کھدائی کے بعد بھی کئی لوگوں کو رات کو چلانے کی آوازیں جو میرے خیال میں ہم جیسے شریر بچے رات کو کھیلتے وقت یا اُس سڑک سے گذرتے وقت آوازیں نکالتے، سب گھروں کی مین اور پچھلی گلی میں کھلنے والے دروازوں پر زنجیر والہ کنڈی ہوتی ، رات کو کالا دھاگا باندھ کردور جا کر کھینچے اور گھر والوں کو ڈراتے۔ 

سیٹلائیٹ ٹاؤن کا یہ نقشہ مہاجر زادہ نے اپنی یاداشت سے بنایا ہے ۔


 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭                   

جمعرات، 28 جنوری، 2021

اسلام آباد کے گاؤں جو ختم ہوگئے۔

 اسلام آباد میں 85 دیہات شامل تھا جو اسلام آباد کی تعمیر سے متاثر ہوئے۔ 

جن میں تقریباً 50 ہزار افراد آباد تھے۔ شکر پڑیاں بھی ان میں سے ایک گاؤں تھا یہاں دو سو سے زائد گھر تھے جو بالکل اس جگہ پر تھے جہاں آج لوک ورثہ موجود ہے۔ لوک ورثہ کے پیچھے پہاڑی پر اس گاؤں کے آثار آج بھی جنگل میں بکھرے پڑے ہیں۔

 85 دیہات کی 45 ہزار ایکٹر زمین جب سی ڈی اے نے حاصل کی تو متاثرین میں اس وقت 16 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جبکہ انہیں ملتان، ساہیوال، وہاڑی، جھنگ اور سندھ کے گدو بیراج میں کاشت کے لیے 90 ہزار ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی جس کے لیے 36 ہزار پرمٹ جاری کیے گئے۔
ان میں جو بڑے گاؤں تھے ان میں کٹاریاں بھی شامل تھا جو موجودہ شاہراہ ِ دستور اور وزارت خارجہ کی جگہ آباد تھا۔
 شکر پڑیاں لوک ورثہ کی جگہ،
 بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کے عقب میں سنبل کورک
مری روڈ پر سی ڈی اے فارم ہاؤسز کی جگہ گھج ریوٹ،
 جی سکس میں بیچو
ای سیون میں ڈھوک جیون
 ایف سکس میں بانیاں
 جناح سپر میں روپڑاں
جی 10 میں ٹھٹھہ گوجراں
آئی ایٹ میں سنبل جاوہ نڑالہ  اور نڑالہ کلاں
  ایچ ایٹ میں جابو
زیرو پوائنٹ میں پتن  
میریٹ ہوٹل کی جگہ پہالاں
 ایچ ٹین میں بھیگا سیداں
 کنونشن سینٹر کی جگہ بھانگڑی
 آبپارہ کی جگہ باغ کلاں
اسی طرح راول ڈیم کی جگہ راول، پھگڑیل، شکراہ، کماگری، کھڑ پن اور مچھریالاں  نامی گاؤں بستے تھے۔
فیصل مسجد کی جگہ ٹیمبا  اور اس کے پیچھے پہاڑی پر کلنجر  نام کی بستی تھی۔
شکر پڑیاں میں گکھڑوں کی بگیال شاخ کے لوگ آباد تھے جنہیں ملک بوگا کی اولاد بتایا جاتا ہے۔ گکھڑوں نے پوٹھوہار پر ساڑھے سات سو سال حکمرانی کی ہے۔

 راولپنڈی کے گزٹیئر 1884 کے مطابق ضلع راولپنڈی کے 109 دیہات کے مالک گوجر اور 62 گکھڑوں کی ملکیت تھے-


 

٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 24 جنوری، 2021

سپینوزا کا خدا - یاسر پیرزادہ

روزنامہ جنگ میں یاسر پیرزادہ کا مضمون چھپا ۔ 

یہ وہ آفاقی سچ ہے جو کتاب اللہ (کائینات ) کا رمز ہے ۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ منصور نہیں ، بلکہ پردے میں خدا بول رہا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

آئن سٹائن سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں ؟
وقت کا دھارا بدلنے والے سائنس دان نے جوا ب دیا

 ’’میں سپینوزا کے خدا کو مانتا ہوں۔‘‘

مرا د یہ تھی کہ میں ایسے غیر شخصی خدا کو مانتا ہوں جوکائنات کا خالق تو ہوسکتا ہے مگر انسانوں کی زندگیو ں میں دخیل نہیں ہے،دنیاوی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا ، معجزے تخلیق نہیں کرتااوردعاؤں کی مدد سے اُس کے فیصلے تبدیل نہیں کیے جا سکتے1۔ ایسا خدا ہم انسانوں کے کسی عمل کا محتاج ہے اور نہ منتظر۔ 

سپینوزا کا تصور خدا کا فلسفہ خاصا عجیب ہے ، ایک سطر میں اگر اسے بیان کیا جائے تو

سپینوزا کا خدا کسی انسان کا سرپرست اعلیٰ یا نجات دہندہ نہیں اور نہ ہی یہ خدا انسانوں کی داد رسی کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا غیر شخصی ’جوہر ‘ ہے جو کائنات کو کڑے او ر ناقابل تغیر قوانین کے تحت چلاتا ہے، اِن قوانین کے آگے کسی دعا اور اپیل کی کوئی گنجائش نہیں، یہ قوانین ہر جگہ اٹل ہیں اور کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔

 ظاہر ہے کہ یہ تصور خدا بائبل یا دیگر مذاہب کے تصور سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا تھا ۔

اور پادریوں کے لیے تو بالکل ناقابل قبول تھا جو لوگو ں سے پیسے بٹور کر انہیں جنت کا پروانہ جاری کرتے تھے، وہ کیسے سپینوزا کے خداکو مان لیتے؟

تاہم کچھ مغربی مصنفین کا خیال ہے کہ سپینوزا نے خدا کا اچھوتا تصور پیش کرکے ایک طرح سے مذہب پر اٹھائے جانے والے عقلی اعتراضات کا ٹھوس اور شافی جواب دیا ۔

 گو کہ اُس زمانے میں سائنس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی مگر اِس کے باوجود مذہب کے باب میں سوال اٹھنا شروع ہو گئے تھے جن کے جواب کے لیے ایک نئے علم الکلام کی ضرورت تھی، یہ ضرورت سپینوزا نے پوری کی ۔سپینوزا کا تصور خدا بظاہر مودبانہ انداز میں خدا کے وجود کا انکار ہے مگر حقیقت میں سپینوزا خدا کے وجود کاقائل تھا۔ 

سپینوزا کا ایک ’’مقالہ مذہب اور ریاست‘‘ پر بھی ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ

 سب صحیفے بنیادی طور پر انسانوں اور تمام نسل انسانی کے لیے لکھے گئے ہیں لہٰذا اِن کا مواد ایسا ہونا چاہیے تھا جسے عوامی طور پر سمجھنا مشکل نہ ہو2،

 اِن صحیفوں میں عّلت و معلول کے کلیے کے تحت معاملات کی تشریح نہیں کی گئی بلکہ انہیں اِس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا جا سکے۔ اس کا مقصد انسانی عقل کو ابھار کر قائل کرنا نہیں بلکہ انسانی تخیل کو جھنجھوڑنا ہے، اسی وجہ سے ہمیں اِن میں جا بجا معجزوں کی باتیں اور خدا کا شخصی وجود مصروف عمل نظر آتا ہے۔ 

’’داستان فلسفہ‘‘ میں ول ڈیورنٹ لکھتا ہیں کہ سپینوزا کے مطابق اگر اِس اصول پر بائبل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں اُس میں کوئی تضاد نظر نہیں آئے گالیکن اگر ہم لفظی تشریح کرنے بیٹھیں گے تو پھر معاملہ الجھ جائے گا۔۔۔

دونوں قسم کی تشریحات کا اپنا مقام اور مقصد ہے، لوگوں کو ہمیشہ ایک ایسا مذہب چاہیے ہوگا جس میں کسی مافوق الفطرت وجود کا تصور ہو، اگر ایسے کسی مذہب کا تصور ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی تو لوگ نیا مذہب تخلیق کر لیں گے۔تاہم ایک فلسفی کو یہ علم ہونا چاہیے کہ خدا اور قدرت ایک ہی ہیں جو غیر متغیر قانون کے تحت کام کرتے ہیں (صفحہ 210)۔ 

مشہور مسلم مفکر ابن سینا کا بھی خدا کے بارے میں کسی حد تک یہی غیر شخصی تصور تھا جس پر بعد میں امام غزالی نے سخت تنقید کی۔

 سپینوزا کے تصور خدا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کائنات بلا مقصد ہے اور اپنے اِس بیان کی حمایت میں سپینوزا کی دلیل خاصی دلچسپ ہے کہ ’’اگر خدا کسی مقصد کوحاصل کرنے کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ اُس مقصد کے حصول سے پہلے خدا کے ہاں کسی قسم کی کوئی کمی ہے لیکن چونکہ خدا کامل اور خود کفیل ہے لہٰذا کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔3‘‘ 

انسان کے علم کو سپینوزا ناقص قرار دیتا اور کہتا ہے کہ ،

عّلت و معلول کا سلسلہ ہم سے چھپا ہوا ہے اس لیے ہم واقعات کی حقیقت جان نہیں پاتے اوریوں انہیں دوسرے واقعات کے ساتھ غلط انداز میں نتھی کرکے دیکھتے ہیں۔4

 سپینوزا کی اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے ول ڈیورنٹ لکھتا ہے کہ،

 فلسفے میں پہاڑ ایسی غلطیوں کی جڑ اِس بات میں پوشیدہ ہے کہ انسان اپنے مقاصد، میعارات اور ترجیحات کو ایک ایسی کائنات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے جو کسی مقصد کے تحت تخلیق کی گئی ہے لہٰذا یہیں سے برائی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور ہم انسان اپنی زندگی کی برائیوں اور خامیوں کو خدا کی اچھائی کے ساتھ تطبیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو لا حاصل ہے۔

 اسپینوزا کے الفاظ میں :’’جب بھی کارخانہ قدرت میں ہمیں کوئی بات مضحکہ خیز،بے معنی یا بد لگتی ہے تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اشیا کا نا مکمل علم ہوتا ہے اور ہم کائنات کے نظم اور قدرت کی ہم آہنگی سے آشنا نہیں ہوتے اور چاہتے ہیں کہ ہر چیز اُس طرح سے ترتیب میں ہو جیسے ہماری عقل کہتی ہے۔جبکہ ہماری عقل جسے بُرا سمجھتی ہے (ضروری نہیں کہ ) وہ کائناتی نظم اور آفاقی قوانین کے تحت بھی بُری ہو،(عین ممکن ہے کہ) وہ ہمارے اختراع کیے گئے قوانین کے تحت ہی برائی سمجھی جاتی ہو۔5۔۔۔کوئی بھی بات بیک وقت اچھی ، بری اور غیر متعلق بھی ہو سکتی ہے ، مثال کے طور پر اداسی کے موڈ میں موسیقی خوشگوار اثر ڈال سکتی ہے مگر کسی ماتمی موقع پر اسے برا سمجھا جائے گا اور مردہ لوگوں کے لیے یہ بالکل غیر متعلق چیز ہے ۔‘‘ 

سپینوزا دراصل انسانوں کو اِس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اِس کائنات کے رموز و اسرار اور قوانین کو سمجھیں او ر اِن کے مطابق اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ انسانوں کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات، ان دیکھے عوامل کا نتیجہ ہوتے ہیں جنہیں کلی طور پر جاننا انسان کے بس میں نہیں لہٰذا ایسے کسی نا گہانی واقعے سے نمٹنے کے وقت جذبات سے نہیں عقل سے کام لینا چاہیے ، اِس لمحے کو سپینوزا ’Bondage‘ کا نام دیتا ہے6، جہاں جذبات کا ریلہ عقل کو بہا کر لے جاتا ہے۔ اِس لمحے کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینا ہی کامیابی ہے۔ 

(یاسر پیرزادہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭

1۔ 

اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا  [35:43]

2۔ 

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ  (54/17 )    

3۔ 

اللَّـهُ الصَّمَدُ  (112/2 )

4۔ 

فَلاَ تَضْرِبُواْ لِلّهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ  (16/74 )

5۔ 

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ  (2/216 )

6۔ 

أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا  (4/82 )

 

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔