میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 14 دسمبر، 2019

شگفتگو کی سولہویں محفل

سولھویں نشست، رہائشگاہ قیوم طاہر گلریز ہاوسنگ سوسائٹی، روالپنڈی میں ہوا -

 آن لائن شرکاء: آصف اکبر، چھور، سندھ سے
ڈاکٹر محمد کلیم، لاہور سے
موسم سردی کا شباب دکھانے پر تلا ہوا تھا مگر محفلِ شگفتگو کے شرکاء اپنے قلم کی جولانیاں دکھانے پر مصر تھے، اور جیت آخرکار قلم کی ہوئی۔ سات حاضر اور دو گھوسٹ (اردو لفظ سے کوئی ناراض ہی نہ ہو جائے) مزّاحین کے قہقہہ بار مضامین نے محفل کو گرمائے اور حاضرین کو پھڑکائے رکھا۔ محفل حسبِ معمول تاخیر سے شروع ہوئی، جس پر آصف اکبر نے کہا کہ آپ کے یہاں دیر بھی ہے اور اندھیر بھی۔ 
میزبان محفل کے سلیقے سے سجے دولت کدے میں سارے شریک (شریکے نہیں) لذّتِ سماعت کے ساتھ ساتھ موسم سرما کی خاص سوغاتوں سے بھی مسلسل لطف اندوز ہوتے رہے، بلکہ ہوں کہنا چاہیے مسکراتے چہرے مسلسل میوے ٹھونگتے رہے۔ مگر داد دینے میں کہیں کنجوسی نہ دکھائی گئی اور ہر مضمون کے چست جملوں پر خوب برجستہ داد دی گئی۔ اس بزم کی محافل کا، جن میں نہ کوئی مہمان خصوصی یا صدر گرامی کا تکلف ہے نہ سینیر جونیر کا تفاوت ہے، یہی تو وصف ہے کہ یہاں ہر ناثر یکساں توجہ اور کما حقّہ داد پاتا ہے- 
محفل کا آغاز کرتے ہوئے عاطف مرزا نے اپنے مضمون چمچہ' میں چمچوں کی اقسام اور خصوصیات بیان کیں۔۔ اس مضمون کے کٹیلے فقروں نے خوب داد پائی۔ 

ان کے بعد آصف اکبر نے کراچی سے آن لائین اپنا مضمون بعنوان " مریضانہ آئے ستا کر چلے" پیش کیا، جس میں مریضوں کی متعدد اقسام خوبصورت مزاح کے پیرائے میں بیان کی گئی تھیں۔ ان کو بھی بھرپور داد دی گئی۔ 

اس کے بعد حسب دستور حلقے کی ترتیب کے مطابق قیوم طاہر کی باری تھی۔ بقول ان کے ان کی یہ پہلی شگفتہ نثر تھی مگر ثابت ہوا کہ قلم کے شہسوار کو کہیں جانے کا موقع ملے وہ فتح کے جھنڈے گاڑ کر ہی دم لیتا ہے۔ انہوں نے چاچا ہڑپوی پر لکھا مضحکہ پیش کیا اور سب احباب خوب محفوظ ہوئے۔

اب لاہور سے آن لائن شریک ہوکر ڈاکٹر محمّد کلیم نے 'جام ساقی کی ادائیں' بیان کیں۔ ان کے مختصر شذرے نے کئی غنچے کھلائے اور محفل کو زعفران زار بنایا-ان کے بعد توجہ کا مرکز قرار پائے -


محفل میں پہلی بار شریک ہونے والے مبشّر سلیم نے جنہوں نے بے حد سنجیدگی کے ساتھ مزاح پارہ پیش کیا عنوان تھا 'گڈو کی شادی اور ممتاز الدین خرمانی' ۔ ان کی تحریر نے بھی مسکراہٹیں بکھیریں۔ 
ان کے بعد ڈاکٹر فاخرہ نورین نے ' واہ یوسفی' کے عنوان تلے مشتاق احمد یوسفی سے اپنی عقیدت شگفتہ لہجے میں بیان کی۔ نفاست سے لکھے گئے اس مضمون نے بہت داد سمیٹی۔


  اس کے بعد راقم الحروف نے 'دیس کے رنگ نرالے'میں سبز، سفید اور کالے رنگوں کی سیاست پر ایک مختصر شذرہ پیش کیا۔ 
محفل میں پہلی بار شرکت کرنے والے اعجاز خاور ، اسلام آباد راولپنڈی کے ادبی حلقوں کی ایک معروف علمی و ادبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے "ایک نابغہء روزگار ادبی ٹرائیکا سے ملاقات" کا احوالِ لطیف بیان کیا۔ چست فقروں میں بہت کچھ کہہ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ گئے اور خوب داد سمیٹی۔ 
اب باری تھی ہر دلعزیز ڈاکٹر فیصل عزیز کی جنہوں نے موٹاپے پر اپنا شگفتہ شگفتہ مشاہدہ بیان یوں کیا-
"سچ کہتے ہیں کہ آپے سے باہر نکلنے کی بھی کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے۔ جب یہ حد، بےحد بڑھ جائے تو بقول شخصے، حد نہیں رہتی، حدود سی بن جاتی ہے-"
انگریزی کا مقولہ ہے کہ تمام اچھی چیزیں اختتام تک آجاتی ہیں، یہی اس محفل کے ساتھ ہوا۔ لیکن خاتمہ اس طرح بالخیر ہوا کہ اختتام پر طاہر قیوم نے عصرانہ کے بجائے عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ 

اگرچہ دوران محفل مسلسل میوہ جات چگنے کے بعد گنجائش کم ہی بچی تھی تاہم میزبان کی دل شکنی کسی کو منظور نہیں تھی اس لیے مزیدار حلیم کو بھی جلد اور سستا انصاف مہیّا کیا گیا۔

اس کے بعد قیوم طاہر صاحب نے اپنا مجموعہء کلام "سلوٹ" حاضرین کو تحفتا پیش کیا ۔۔۔۔ جس کے بعد محفل اختتام پذیر ہوئی ۔
(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

شگفتگو- مریضانہ آئے --- ستا کر چلے




شاید آپ میں سے معدودے بسیارصحتمند لوگ اس بات سے یقیناً اتفاق کریں گے کہ ماحول جیسے عالمانہ ہوتا ہے، فاسقانہ ہوتا ہے، سوقیانہ ہوتا ہے، عاشقانہ ہوتا ہے ، ویسے ہی مریضانہ بھی ہوتا ہے اور اکثر ہوتا ہے۔ 
جہاں انسان بستے ہیں وہاں بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور ان کے چرچے بھی۔ بیماریاں تو چرند پرند کو بھی ہوتی ہیں اور شاید وہ بھی چرچے کرتے ہوں۔ ہو سکتا ہے جسے ہم چڑیوں کی چہچہاہٹ کہتے ہیں وہ بیماریوں کے بارے میں ان کی بات چیت ہو۔ ورنہ اور کون سا موضوع اتنی دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے جس پر صبح ہونے سے پہلے ہی گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔
 

بہرحال ہماری دلچسپی تو انسانوں میں زیادہ ہے کیونکہ ہمیں انہی میں سے کچھ کی زبان سمجھ میں آتی ہے، اس لیے بات کریں گے انسان مریضوں کی۔
واضح رہے کہ قدرت نے انسان تین قسم کے بنائے ہیں، مریض، معالج اور مظلوم۔ سب سے پہلے تیسری قسم کی وضاحت کرتے چلیں کہ وہ انسان جو نہ مریض ہوں نہ معالج وہ بیچارے مظلوم ہی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ مریضوں کی تیمارداری کرنے، ان کے لیے دواؤں اور پرہیزی غذاؤں کا بند و بست کرنے، اگر مریض اسپتال میں ہوں تو اسپتال کے پھیرے لگانے اور سب سے بڑھ کر ان کا حال سننے اور سچّی یا جھوٹی تسلیّاں دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
معالج وہ ہوتے ہیں جو پہلی قسم کے ہوم گراونڈ پر قدرت کے ساتھ دوستانہ میچ کھیلنے کا شوق کرتے ہیں۔ جس مریض کو ملک الموت اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئے ہوئے ہوں یہ اسے کیچ کر کے وینٹی لیٹر پر لگا دیتے ہیں تاکہ میچ کی رفتار آہستہ ہو جائے۔ اور جو مریض ملک الموت کی ویٹنگ لسٹ پر ہوں یہ انہیں بڑی مہارت سے عالم بالا اسمگل کر دیتے ہیں۔
لیکن ہم بات شروع کریں گے مریضوں سے کیونکہ وہی تمام امراض کی جڑ ہیں۔ اگر مریض نہ ہوتے تو ---- نہ کوئی معالج بنتا نہ تیماردار ہوتا۔
مریضوں کو یوں تو دائمی اور عارضی مریضوں میں تقسیم کرنے کا رواج عام ہے مگر ہم ان کو مندرجہ ذیل گروہوں میں رکھیں گے۔
 پیشہ ور مریض:
یہ وہ مریض ہیں جو ہر وقت کسی نہ کسی حقیقی یا فرضی مرض میں مبتلا رہتے ہیں۔ اور بسا اوقات بیک وقت ایک سے زائد امراض کی نمائندگی کرتے ہیں۔ الف سے یائے طویل تک سے شروع ہونے والے جتنے امراض پائے جاتے ہیں یہ یا تو ان میں مبتلا ہوتے ہیں یا مبتلا ہونے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو دعوتوں میں سنٹر فارورڈ کے فرائض نبھاتے ہیں اور محفلوں میں دوسروں کو بولنے کا موقع نہیں دیتے ، لیکن اگر کوئی ان کے مریض ہونے پر شک کرے تو انتہائی برہم ہوتے ہیں اور محفل کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ شوگر کے مریض ہوں تو میٹھا اس طرح چھپ کر کھاتے ہیں کہ لوگ انہیں کھاتے ہوئے دیکھ بھی سکیں اور ٹوک بھی سکیں۔ کئی کئی دنوں تک شوگر چیک نہ بھی کریں تو بھی آخری بلند ترین اور پست ترین ریڈنگ دن میں کئی کئی بار لوگوں کو بتاتے ہیں۔ ان کی گفتگو حاذق طبیبوں، مشہور ڈاکٹروں، عطائیوں کے تیر بہدف نسخوں، پیر صاحب کی دعاؤں، صاحب قبر کی کرامتوں، کوئی پرہیز نہ کر کے بھی جینے والے مریضوں اور حال ہی میں پرہیز کر نے کے باوجود ملک الموت کے ہمسفر بن جانے والوں کے گرد گھومتی ہے۔ دواؤں کے نام ان کو ازبر ہوتے ہیں۔ ملاقاتیوں کو بیمار نظروں سے دیکھتے ہیں لیکن ملاقاتنوں کو دیکھ کر چونچال ہو جاتے ہیں، اور وائس ورسا۔
 انکاری مریض:
یہ مریض پیشہ ور مریضوں کے مخالف کیمپ میں ہوتے ہیں۔ بیماریوں کی ہر طرح کی علامات ساتھ لیے پھرنے کے باوجود خود کو بیمار سمجھنے سے ہٹ دھرمی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ یہی کہتے ہیں کہ میں بالکل ٹھیک ہوں، بس ذرا سی تھکن ہو گئی یا نیند نہ آنے کی وجہ سے سر درد ہو گیا ہے، چاہے نیند خود سر درد کی وجہ سے نہ آتی ہو۔ گھر والے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کو کہیں تو کنّی کتراتے ہیں۔ پرہیز کرنے کو کفرانِ نعمت بلکہ کفر سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی ڈاکٹر /طبیب خود گھر آجائے تو اس سے حتی الامکان بچتے ہیں۔ اگر گھِر جائیں اور کوئی معالج دوائیں لکھ ہی دے تو دوائیں لے کر نہیں آتے اور اگر کوئی دوسرا دوائیں لے آئے تو یا تو کھاتے نہیں یا چپکے سے کہیں پھینک دیتے ہیں۔
 امکانی مریض:
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مریض نہ ہونے کے باوجود ہر مرض سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ہر قسم کی صحتمند سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔ سردی کے موسم میں باہر نکلنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ انفلوئنزا (یعنی فلو) نہ ہو جائے، اورنہانے سے اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ نمونیہ نہ ہو جائے۔ گرمیوں کے موسم میں باہر اس لیے نہیں نکلتے کہ سن اسٹروک نہ ہو جائے اور آم اس لیے نہیں کھاتے کہ بدن میں گرمی نہ ہوجائے۔ میٹھا کھانے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ شوگر نہ ہو جائے اور نمک سے اس لیے بچتے ہیں کہ بی پی ہائی نہ ہو جائے۔ کولڈ ڈرنک اس لیے نہیں پیتے کہ یہ ہزار بیماریوں کی جڑ ہے اور چائے/کافی سے اس لیے دور رہتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ گائے کے گوشت سے پرہیز کرتے ہیں کہ یہ ثقیل ہوتا ہے، مچھلی سے بچتے ہیں کہ یہ گرم ہوتی ہے۔ ذرا سی طبیعت نڈھال ہو تو ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب میں بچنے والا نہیں۔ فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور اگر ڈاکٹر کہہ دے کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں تو ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ جلد ہی کسی اور ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں جو یہ جان کر کہ پہلے ڈاکٹر نے ان کوصحتمند قرار دیا تھا، ان کو کوئی نہ کوئی مرض بتا دیتے ہیں، اور ان کی من پسند دواؤں میں سے چند بے ضرر دوائیں دے دیتے ہیں۔
 پرہیزی مریض:
یہ وہ مریض ہوتے ہیں جو معمول کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر زور شور سے کچھ معالج کے بتائے ہوئے اور کچھ خود تجویز کردہ پرہیز کرتے ہیں۔ لوگوں کے گھروں میں بڑے شوق سے جاتے ہیں اور پھر میزبان کو اپنے پرہیز کی جزئیات سے آگاہ کر کے من پسند کھانے بنواتے ہیں۔ لیکن دسترخوان پر موجود غیر پرہیزی کھانوں کو بھی بلا اصرار اور بلا ترغیب چکھتے بھی اور تعریفیں بھی کرتے ہیں۔ ان کا پرہیز عموماً چکنائی، کھٹاس، بادی اشیاء ، گائے کے گوشت سمیت تقریباً ہر خوش ذائقہ خوراک پر محیط ہوتا ہے۔ دعوتوں میں یہ پرہیز سے تقیّہ کر لیتے ہیں لیکن گھر میں اس کا اہتمام انتہائی تقویٰ سے کرتے ہیں۔
 عادی مریض:
یہ بے ضرر سے لوگ ہوتے ہیں۔ بیماری عام ہو یا وی آئی پی، بیچارے ابتدا میں تھوڑا بہت علاج بھی کرتے ہیں، اور پرہیز بھی۔ مگر جلد ہی مرض کے عادی ہو جاتے ہیں۔ گاہے بگاہے کھانستے، چھینکتے، کھنکھارتے اور کراہتے نظر آتے ہیں۔ مرض یا امراض سے ایک خاموش سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ نہ شور شرابا کرتے ہیں نہ خون خرابا۔ جو مل جائے کھا لیتے ہیں۔ دوا مل جائے تو فبہا ورنہ اللہ اللہ خیر صلّا۔ یہ بے ضرر لوگ اپنی بیماری کو دوسروں کے لیے بھی بے ضرر سمجھ لیتے ہیں اور لوگوں سے بڑے تپاک سے گلے ملتے ہیں، بچوں کو چومتے ہیں، عام لوگوں کے برتن استعمال کرتے ہیں، اس بات کی پروا کیے بغیر کہ ان کا مرض کسی اور کو بھی لگ سکتا ہے۔
 شوقین مریض:
ایسے مریض دواؤں کے، انجکشن کے، ٹیسٹ کروانے کے، بی پی چیک کروانے کے، بخار چیک کرنے یا کروانے کے، فزیو تھیراپی کروانے کے، اسپتال میں داخل ہونے کے،ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ کروانے کے اور نت نئے ڈاکٹروں کو دکھانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے ان کو کوئی ایسا مرض ہو جائے جو زیادہ تکلیف دہ بھی نہ ہو اور آسانی سے ٹھیک بھی نہ ہو تو ان کی بن آتی ہے۔ گولیاں اور دیگر دوائیں تھوک میں خریدتے ہیں اور خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ طاقت کی دوائیں اور وٹامن بھی پابندی سے استعمال کرتے ہیں۔ ہلکی سی چھینک بھی آجائے تو بستر پر لیٹ کر منہ ڈھانپ لیتے ہیں اور ہائے ہائے کرتے رہتے ہیں۔ ان کو عیادت کروانے کا بھی شوق ہوتا ہے۔ توقع کرتے ہیں کہ ان کی بیماری کا سن کر عزیز رشتے دار اور اہلِ محلّہ جوق در جوق ان کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔ گھر والوں پر تو یہ ایک قسم کا کرفیو نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی شور نہ کرے، ہنسے نہیں، بولے نہیں، فون آئے تو سنے نہیں۔ کوئی ان سے بات کرے تو بے رخی سے جواب دیتے ہیں، اور نہ کرے تو شکوہ کرتے ہیں کہ میں یہاں پڑا مر رہا ہوں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
تو صاحبو یہ تھی ایک مختصر تفصیل اس گروہ زحمت شعار کی۔ امید ہے کہ بانظر احباب اس کلاسی فیکیشن میں حسبِ استطاعت اضافہ فرمائیں گے۔

بشکریہ آصف اکبر :
 رنگِ مزاح، دسمبر 2019


٭٭٭٭٭٭
 (یہ مزاحیہ مضمون 14 دسمبر 2019 کو شگُفتہ  نثر  کی چوتھی  محفل  اسلام آباد کی مزاحیہ محفل میں آن لائن پڑھا گیا۔)
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

بدھ، 11 دسمبر، 2019

کھلی کھڑکی کا رومانس

پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ، گریجوئشن کرتے ہوئے ، انگلش کے مضامین میں ایک مضمون  نثر (prose) کابھی تھا ۔ جِس میں رومانس کا  ایک مضمون  کھلی کھڑکی  (“The Open Window) بھی تھا  ۔اور مجھے یاد اِس لئے ہے کہ ہمارے انگلش کے  استاد میجر تصدّق  نے پڑھنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ۔   آپ بھی یہ   کہانی پڑھیں،  میں نے انگلش سے اپنے الفاظ میں ترجمہ کیا ہے اور پھر آخر میں وڈیو دیکھیں ۔ شکریہ
 ٭٭٭٭٭٭
 " مسٹر نٹل ، میرا نام ویرا  ہے ، میری خالہ اس وقت نیچے ہوں گی ، اِس دوران آپ کو کمپنی دیتی ہوں۔" پندرہ سالہ ویرا  نے گھر آئے ہوئے مہمان   فریمٹن نٹل سے کہا ۔
    فریمٹن نٹل ، نے سوچا کہ اُس کی بہن نے اُسے  اپنی  ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لئے اِس دوردراز علاقے میں بھیجا اور یہاں رہنے والوں کے لئے تعارفی خطوط بھی دے کر بھیجے تھے ، تاکہ اُس کے  بھائی کا وہاں کے رہنے والوں سے تعارف ہوجائے ۔ جو اُس کی صحت کی بحالی کے لئے یقیناً اچھا ہوا ۔  چنانچہ جب تک  تم وہاں رہو گے  تو  ممکن ہے کہ تم کسی زندہ روح سے قطعی زیادہ بات نہیں کرسکو گے ، تاکہ اِس دور افتادہ دیہاتی علاقے میں تمھاری  صحت ٹھیک ہو جائے  ، ویسے بھی وہاں کے  رہنے والے اجنبیوں سے اتنی جلدی گھلتے  ملتے نہیں ، جب تک کہ اُن کا آپ سے تعارف نہ ہو اور وہ بھی سلام دُعا تک ہوتا ہے ۔بہن کے تعارفی خط کے ساتھ  وہ سب سے پہلے مسز سیپلٹن کے ہاں آیا ۔  چلو جب تک    ویرا  کی آنٹی نہیں آتی، تو اِس سے تھوڑی گپ شپ لگا لینے میں کوئی حرج نہیں ۔(کافی دیر سکوت کے بعد)۔
 " کیا آپ یہاں رہنے والے لوگوں کو جانتے ہیں ؟ " ویرا   نے سوال کیا
" شائد کسی کو بھی نہیں" فریمٹن نے جواب دیا "  میری بہن یہاں چارسال پہلے ایک ولا میں رہی تھی ، اُس نے مجھے کچھ لوگوں کے نام تعارفی خطوط دے کر بھیجا ہے "
 " پھرتو آپ میری آنٹی کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتے ہوں گے "ویرا  نے سوال کیا

" صرف نام اور ایڈریس کی حد تک " فریمٹن نے جواب دیا ، وہ سوچ رہا تھا کہ اُسے تو یہ بھی نہیں معلوم ، کہ  مسز سیپلٹن شادی شدہ ہے یا بیوہ ، لیکن گھر میں رکھی ہوئی مردانہ چیزوں سے محسوس ہوتا ہے ، شائد کوئی مرد بھی  یہاں رہتا ہے ۔

آپ کی  بہن  کے جانے کے بعد ، آنٹی کے ساتھ ایک بہت بڑا سانحہ ہوا تھا  "  ویرا    بولی ۔

" سانحہ ؟؟ " فریمٹن نے چونک کر کہا ، " اِس پر سکون جگہ پر  سانحہ ، کچھ عجیب بات نہیں ؟"

" آپ کو حیرت نہیں ہوئی کہ اکتوبر کی سرد دوپہر کو یہ  کھڑکی  بالکل کھلی ہوئی ہے "  ویرا   نے ایک فرنچ سٹائیل بڑی کھڑکی طرف دیکھ کر کہا ، جو لان کی طرف کھلی ہوئی تھے اور دور لکڑی کی باونڈری کے دوسرے طرف    دھند چھائی ہوئی تھی  اور دریا کا خاموش پانی بہہ رہا تھا ۔

فریمٹن بولا ، " سال کے اِس حصے میں موسم اچھا گرم ہے " پھر پوچھا ،" لیکن کیا کھلی کھڑکی سے ، اُس سانحہ کا کوئی تعلق ہے ؟ "
" بہت گہرا تعلق ہے " 
ویرا    بولی ،  " چار سال پہلے ایک دن ،  خالو  اپنے کے دو بھائیوں کے ہمراہ شکار کھیلنے   ، اِسی کھڑکی سے باہر گئے   لیکن واپس نہیں آئے ۔ وہ دریا کے اُتھلے حصے سے   مرغابیوں کا شکار کرنے اپنے کتے کے ساتھ گئے ، آپ کو تو معلوم ہوگا کہ سال کے اِس مہینے میں دریا سکون سے بہتا ہے ، لیکن اُس دن بغیر کسی اطلاع کے دریا بپھر گیا ۔ اُن کے اجسام پھر کبھی نہی بازیاب ہوئے " یہ بولتے ہوئے  ویرا  کی آواز بھرا گئی  بولی ،" بے چاری خالہ اب بھی یہی سمجھتی ہیں  ، وہ تینوں اور اُن کا بھورا  سپنیئل نسل کا کتا  بھی اُن کے ساتھ اِسی کھڑکی  کے ساتھ ،حسبِ عادت داخل ہوگا، یہی وجہ ہے کہ خالہ یہ کھڑکی شام تک کھلی رکھتی ہیں ، بے چاری خالہ  کئی دفعہ مجھے بتا چکی ہیں ، کہ اُس دن تمھارے خالونے  جب وہ شکار پر گئے تو انہوں نے اپنی سفید رنگ کی برساتی   اپنے بائیں بازو پر ڈالی ہوئی تھی اور دائیں ہاتھ میں دونالی بندوق پکڑی ہوئی تھی ۔ 
خالو کا چھوٹا بھائی  رونی گنگنارہا تھا ،  برٹی تم مجھے کیوں روکتی ہو ؟  خالہ یہ سناتے ہوئے اُداس ہو جاتی ہے ۔ یہ قصہ وہ اپنے  اعصاب پر اتنا سوار کر لیتی ہیں ، کہ یہ واقعہ ابھی کا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے واقعی ایسا ہی ہوگا ، اُس یہ کہتے ہوئے میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی اُتر  آتی ہے اور جسم میں سرد سی سنسناہٹ پیدا ہو جاتی ہے ، کہ شاید وہ ابھی  کھڑکی سے اندر داخل ہو ں گے "
ویرا   اپنے کندھوں  جھٹکتے ہوئے  بولی ،  فریمٹن بھی  عجیب سا محسوس کرنے لگا تھا لیکن اُسے اطمینان ہوا ، جب مسز سیپلٹن کمرے میں دیرسے آنے پر معافی مانگتے ہوئے داخل ہوئی  بولی ،  " مجھے امید ہے کہ ویرا  نے تمھیں بوریت محسوس نہیں ہونے دی ہوگی " 
" جی ویرا نے کافی دلچسپ گفتگو کی ہے "فریمٹن  بولا  اور بہن کا خط   مسز سیپلٹن کو دیا جو اُس نے کھول کر پڑھا ۔
 " تمھیں اِس کھڑکی کے کھلا  رہنے پر اُلجھن تو نہیں ہورہی ؟"  مسز سیپلٹن بولی، اِس سے پہلے وہ کچھ کہتا  "میرا شوہر اور اُس کے بھائی مرغابیوں کے شکار کے بعد سیدھے اِس کھڑکی سے  دلدل میں بھرے پیر لئے داخل ہوتے ہیں" ۔ 

ویرا نے  فریمنٹن کی طرف دیکھا ، یوں لگتا تھا کہ وہ ٹرانس کی حالت میں خالہ کے سامنے کھلی کھڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔ اور سوچ رہا تھا کہ وہ اِ س سانحے کی برسی کے دن  وہ یہاں کیوں آیا؟  
اُس نے کہا ،
" ڈاکٹر نے اُسے کسی ہیجان یاجذباتیت سے منع کیا ہے یا کسی ایسی جسمانی مشقت سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے ، جس سے اُس کے اعصاب پر برا اثر پڑے "  
اتنے میں ملازمہ چائے اور لوازمات سے بھری ایک ٹرے لائی جو کم و بیش  چھ افراد کے لئے تھی ۔


 کیا یہ عورت واقعی اعصابی شاک میں ہے ؟ جو اپنے سال پہلے اپنے مرے ہوئے شوہر اور اُس کے بھائیوں کا انتظار کر رہی ہے ؟
 " نہیں " مسز سیپلٹن بولی۔" پریشان  مت ہو ایسا نہیں ہوگا" 
اچانک اُس کے چہرے پر شادبی دور گئی اور وہ  بولی " سنو ، سنو ، تمھیں گنگنانے کی آوازرہی ہے ، ویرا  ، وہ عین چائے کی وقت آررہے ہیں یقیناً وہ ہاتھ میں مرغابیاں لٹکائے اور آنکھوں تک کیچڑ سے بھرے ہوئے ، کوئی بات نہیں ملازمہ سے کہو کہ اُن کے سلیپر لے آئے تاکہ وہ اپنے بوٹ  کمرے سے باہر اتاریں " 
 فریمٹن نے کپکپاتے جسم کے ساتھ ، خوفزدہ آنکھوں سے  ویرا کی طرف دیکھا ، اُس کی آنکھوں میں اپنی خالہ کے لئے ہمدردی تھی ۔ اور وہ کھڑکی کی باہر گھور رہی تھی  اچانک اُس کی آنکھوں میں خوف نمودار ہوا ، فریمٹن نے گھوم کر اُس کی نظروں کی تعاقب میں دیکھا ۔ 
 شام کے دھندلکے میں اُس نے تین قدآور سایوں کولان کی طرف سے  کھلی کھڑکی کی جانب آتے دیکھا ۔ تینوں نے دو نالی بارہ بور کی بندوقیں اُٹھائی ہوئی تھیں اور ایک نے اپنی سفید برساتی اپنے کندھوں  پر ڈالی ہوئی تھی۔
  اور اُن کے پاؤں کے پاس ایک بھورا کتا اچھل اچھل کر چل رہا تھا ۔ اچانک سکوت کو گنگنانے کی واضح آواز نے توڑ ا۔
میں نے کہا ،   برٹی تم مجھے کیوں روکتی ہو ؟
 فریمنٹن ، جلدی سے اٹھا ، اپنا ہیٹ اور چھڑی لیتا ہوا ، کمرے سے تیزی سے نکلا ، ہال کے دورازے سے گذرا اور گھر کے  بجری والے راستے پر ایک سائیکل والے سے ٹکراتا ہو ابچ کر تقریباً دوڑتا ہوا کمپاونڈ سے نکل گیا ۔
 کھڑکی  سے داخل ہونے والے شخص نے جس کے بازو پر سفید برساتی تھی   ، اُس نے پوچھا ،" ہم پہنچ گئے ڈیئر ، لیکن یہ بدحواسی میں بھاگنے والا نوجوان کون تھا ؟"
" ایک عجیب آدمی ، جس کو اپنی صحت کی فکر تھی اور اسی کے بارے میں بتا رہا تھا  " مسز سیپلٹن بولی۔جب اُس نے تمھیں دیکھا تو بغیر   خدا حافظ کہے ایسا بھاگا کہ جیسے اُس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو " 
" نہیں میرا خیال ہے ، یہ سب کتے کی وجہ سے ہوا ہے "  ویرا بولی " اُس نے مجھے اپنے  ایک واقعہ  کے بارے میں بتایا ، جو دریائے گنگا کے کنارے پر ایک قبرستان میں اُس کے ساتھ پیش آیا  ، چند آوارہ کتوں سے بچ کر وہ بھاگا اور ایک تازہ کھدی ہوئی قبر میں جاگرا ، اُس کے سر پر کتے غرا رہے تھے اور وہ قبر میں  کتوں کے خوف سے ساری رات لیٹا رہا ، جِس کی وجہ سے اُس کے اعصاب جواب دے گئے "
"رومانس ایک لمحے میں پیدا کرنا اُس کی خاصیت ہے "


٭٭٭٭
دیکھیں : کھلی کھڑکی (وڈیو)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔