میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 30 ستمبر، 2018

شگفتگو ممبر - آصف اکبر

آصف اکبر  ، ایک دلکش قہقہہ لگاتی شخصیت  جو اپنی تحریروں پر خود قہقہہ لگاتے ہیں بلکہ دوسروں کے  پیٹ میں بھی بل ڈلوا دیتے ہیں ۔
شگفتہ نثر کی اس نشست کا خاکہ تبسم کدہ میں جناب آصف اکبر کا ایک مزاحیہ مضمون سننے کے بعد ، ڈاکٹر عزیز فیصل کے ذہن میں آیا۔ انہوں نے آصف اکبر صاحب کومیسیج کیا کہ آپ شگفتہ نثر کی ایک خدمت کر سکتے ہیں کہ ایک فورم مزاحیہ نثر کا بنائیں۔چنانچہ آقائے من،  آصف اکبر  صاحب نے اپنے جیالوجسٹ ہونے کا ثبوت اِس طرح نکالا کہ خاک کے پردوں سے ، شگفتہ نثر لکھنے والوں کو کھوج نکالا -اوریوں   30 ستمبر2018 کو     ،شگُفتہ نثر کی پہلی محفل مزاح نگارانِ قہقہہ آور  ، آصف اکبر صاحب کے  گھر میں طرزِ نو پر وجود  میں آئی -(مہاجرزادہ)

آصف اکبر  صاحب ،  کےمحفل مزاح نگارانِ قہقہہ آور میں پڑھے گئے مضامین -
 ٭٭سال 2018 ٭٭
نشت ماہ مضمون
1 9 اعتراض کیجئے
2 10
3 11
4 12 مریضانہ آئے - ستا کر چلے

 ٭٭سال 2019 ٭٭
نشت ماہ مضمون
5 1
6 2
7 3
8 4
9 5
10 6
11 7 ڈاکٹر ژواگو اور دادی دعا گو
12 8 استاد بقلم خود
13 9 سماجی حیثیت سے محروم مویشیوں کا مطالعہ
14 10
15 11
16 12

 ٭٭سال 2020 ٭٭
نشت ماہ مضمون
17 1 مونگ کی دال
18 2
19 3
20 4 آصف اکبر مایوس
21 5 پرسنل مرزا
22 6 چاند ہمارا ہے
23 7
24 8
25 9
26 10
27 11
28 12


٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭


2 تبصرے:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔