میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 9 مارچ، 2019

شگفتگو - شگُفتہ نثر کی ساتویں محفل

روداد: ساتویں بزم مناثرین
مورخہ: ۰۹ مارچ ۲۰۱۹
بمقام؛ ڈی ایچ اے، اسلام اباد

ابھی بیرونی سرحدوں پر واچ پارٹی نے خوب جنگ کی رونق جمائی تھی کہ حنا کے رنگوں اور چوڑیوں کی کھنکھناہٹ لیے ہوئے خواتین کا عالمی دن آگیا۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں جانب سے شدت پسندی کی دونوں انتہاوں کے بیچ شگفتہ مزاج قلم کے مجازی خداؤں نے اپنی رونق جمائی۔ محترم آصف اکبر کوئٹہ /کراچی سے چار ماہ بعد واپس تشریف لائے اور بچھڑے ہوئے بزم مناثرین کے شرکا کو اپنے گھر مدعو کیا۔ پہاڑی کے دامن میں ان کی خواب صورت رہائشگاہ میں بزم کی ساتویں محفل پورے تزک و احتشام سے سجائی گئی۔ اس بار بھی کئی نامی گرامی معزز مہمان تشریف لائے جنہوں نے تبصروں کی شگفتگی اور برجستگی کے ساتھ مزاح کے خوب رنگ بکھیرے۔ دو گھنٹے کی اس نشست میں کل وقتی بنیاد پرمسکراہٹوں، تبسم، داد و تحسین، قہقہوں اور خاص خاص جملوں کو مکرّر پڑھنے کی فرمائشوں کے دوران ہمارے ذہن پر مشتاق یوسفی کی 'آبِ گم' کا ایک ذیلی عنوان 'وہ کمرہ بات کرتا تھا' مستقل سایہ فگن رہا اور ہم یہی سوچتے رہے کہ اگر وہ اس کمرے میں ہوتے جہاں چھ ماہ میں دوسری مرتبہ یہ محفل منعقد ہوئی ہے تو وہ یقیناً یہی کہتے کہ "یہ کمرہ قہقہاتا ہے"۔
بزم مناثرہ حسب معمول اپنے منفرد انداز میں بغیر کسی کی صدارت، بغیر کسی مہمانِ خصوصی اور بغیر کسی کہنہ مشق اور نوآموز کے امتیاز کے، مہینے کے دوسرے سنیچر کی شام چار آغاز ہوئی اور سات بجے کے لگ بھگ پر تکلف چائے پر ختم ہوئی۔
شرکائے مناثرہ کے نام حسب ذیل ہیں
آصف اکبر ، میزبان محفل

عزیز فیصل، ناظم 

سلمان باسط


رحمان حفیظ


سلیم مرزا

محمد عارف

عاطف مرزا

صْیاء الرحمن
ارشد محمود
اور حبیبہ طلعت

ہم مستقل اراکین میں سے میجر(ر ) نعیم الدین خالد ناسازیء طبع کے باعث حاضر نہ ہو سکے جبکہ ناہید اختر جی بھی تشریف نہ لاسکیں۔ 

دیگر مہمانوں میں صْیاء الرحمن صاحب سامع تھے رحمان حفیظ صاحب کے بھائی ہیں اور ناشر ہیں۔ سلمان باسط صاحب سے کون واقف نہیں, امریکہ سے آئے ہوئے ہیں. استاد, شاعر, نثر نگار ہیں جبکہ سلیم مرزا صاحب گوجرانوالہ سے تشریف لائے تھے اور فکاہیہ نثر لکھتے ہیں۔ محمد عارف واہ کینٹ سے تشریف لائے فکاہیہ نگار اور شگفتہ کلام بھی کہتے ہیں۔ اور لبّ لباب یہ کہ مسکراہٹوں اور قہقہوں سے لبریز، جاتی سردیوں کی یہ حسین شام یادگار رہی ۔۔۔
نوے کی دہائی میں جب بھارتی حیدرآباد میں پہلی عالمی مزاح کانفرنس منعقد کی گئی تو مظفر بخاری نے اپنے کالم میں، بھارتی لوک سبھا کے ان دنوں سپیکر تری رام پھاکڑا کا دلچسپ مقولہ بیان کیا کہ "مزاح ایک ایسی بیماری ہے جو انسانیت کے لیے باعث رحمت ہے چنانچہ اسے چھوت کی بیماری کی طرح پھیلنا چاہیے۔ لیکن افسوس یہ بیماری پھیلنے کے بجائے ختم ہوتی جا رہی ہے اور بسا اوقات مزاح کے نام پر جو لکھاجاتا ہے اسے پڑھ کر سر پیٹنے کا دل چاہتا ہے۔ سو مزاح نویسوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ان وجوہ کا پتا چلائیں جن کی بنا پہ اتنی کارآمد یہ بے مثال بیماری از خود صفحہء ہستی سے ناپید ہوتی جا رہی ہے"۔ وجوہ تو شاید اظہر من الشمس ہیں، ضرورت عملی اقدام کی تھی۔ تو ممکن ہے کہ یہ مرض سرحد پار تو شائد نامساعد حالات میں جانبر نہ ہو پائے لیکن یہاں ہم سے آشفتہ سروں کے ہوتے، جنہوں نے باقاعدگی سے شگفتہ مزاجی کی روایت بہت دھوم دھڑکے سے تابندہ کی ہوئی ہے، مزاح نگاری کا مستقبل تابناک ہی لگ رہا ہے۔۔۔۔۔

(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔