فیض احمد فیض کو اور اس کی شاعری کو جاننے کے لئے ، اُس کی فیملی والد ، والدہ ، بھائیوں اور بہنوں کے بارے میں
کچھ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ جو کہ لوگوں کے لئے یقیناًحیرت انگیز ہو گی ۔
ضلع
سیالکوٹ میں نارووال سے تقریبا آٹھ میل دور کالا قادر کا گاؤں تھا اور
اب بھی ہے ۔ یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے ۔ یہاں تھوڑی سی زمین کی ملکیت
رکھنے والی جاٹ
کسانوں کی آبادی تھی
۔وہ سب اپنے آپ کو چوہدری کہلواتے تھے ، اُن میں ایک چودھری سلطان
احمد بھی تھے، جن کے کئی بھائی تھے ۔ لیکن سلطان احمد اپنے دیگر بھائیوں
سے مختلف تھے کیوں کہ وہ ہر روز ناروال کے گورنمنٹ اسکول میں پڑھنے
کے لئے پیدل جاتا ، سکول کے بعد ضلعی عدالتوں میں کام کرتا یوں اِس نے
ھائی سکول کا امتحان پاس کرکے ، گاؤں میں چوہدری کے ’پڑھے لکھے‘
بیٹے کے طور پر اپنا نام منوایا ۔ یہ فیض احمد چوہدری کے والد ماجد تھے ۔
سلطان
احمد کے بھائیوں کے درمیان زمین کے تنازعے پر اختلاف ہو گیا ، یہ بیٹوں
کے جوان ہونے پر ایک معمولی بات سمجھی جاتی تھی ، لیکن اِس اختلاف نے
سلطان احمد کو مشتعل کردیا اور وہ گھر سے بغیر کچھ کسی کو بتائے غائب ہو
گیا ۔ پولیس اور دیہاتیوں نے
اس کو بہت ڈھونڈا لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ کہ کالا قادر کے
چودھری کا یہ، ذہین اور پڑھا لکھا بیٹا کہاں غائب ہوگیا تھا؟
ہمیں
بعد میں یہ معلوم ہوا کہ سلطان احمد ، گھر سے نکل کر افغانستان پہنچ
گیا ، جہاں وہ افغانستان کے
نئے امیر ، امیر عبد الرحمٰن ،( جو انگریز کے ذریعہ تسلیم شدہ حکمران
تھا) کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اُس کے دربار میں ملازم ہو گیا ، اپنی محنت
اور قابلیت کے بل بوتے وہ ترقی کرتا کرتا میر منشی
یعنی چیف سیکرٹری - افغانستان کے عہدے تک پہنچ گیا ۔
اپنی ملامت کے دوران سلطان احمد نے کئی افغا ن عورتوں سے شادیاں کیں ، جن سے اس کی متعدد بیٹیاں تھیں ،
لیکن کوئی بیٹا نہیں تھا۔اس نے کابل کے پوش علاقے میں ایک خوبصورت
مکان بھی بنوایا ۔ پھر ایک دن افواہ اُڑی کہ چوہدری سلطان احمد ، میر منشی
، ایک برطانوی جاسوس تھا۔ اس نے انکار کیا ، لیکن امیر کے شبہات
بڑھتے گئے۔
اس
سے پہلے کہ امیر کے سپاہی اُسے گرفتار کرتے ، چوہدری سلطان احمد کابل سے
فرار ہوگئے اور مولوی کا بھیس بدل کر ، وہ ڈیورنڈ لائن کے پار پہنچ گیا ،
جہاں اُس نے امیر کا نمائندہ بن کر انگریزوں سے مذاکرات کئے ۔انگریزوں
اور امیر کابل کے درمیان بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو کم کیا ۔
سلطان احمد اپنے گاؤں جانے کے بجائے
سیدھے بمبئی کی طرف روانہ ہوا ، جہاں سے اس نے انگلینڈ جانے والے بحری جہاز
پر بیٹھا ، کابل کے چیف سیکریٹری کا خوشدلانہ استقبال کیا گیا اور جلد
ہی اُس نے برطانوی شاہی کے ساتھ
دوستانہ تعلقات بنا لئے ، سلطان احمد نے اردو ، پنجابی ، فارسی ، عربی ،
انگریزی ، پشتو اور
روسی زبان میں عبور حاصل کیا۔ انگلینڈ میں اُس نے کیمبرج یونیورسٹی میں
داخلہ لیا اور انگلش ادب میں ایم اے پاس کیا۔ اس کے بعد اس نے قانون کا
امتحان پاس کیا اور اُسے بار میں بلایا گیا۔
اس
طرح کالا قادر کے چودھری سلطان احمد برطانوی اشرافیہ میں جا پہنچے ۔ کالاقادر
کے گاؤں میں رہنے والے سلطان احمد کے اہل خانہ کے پاس اب بھی اس کی
برطانوی رائل خاندان کے ساتھ متعدد تصاویر موجود ہیں ، جو اُن کے لئے ایک
اعزاز ہے ۔
ملکہ برطانیہ نے سلطان احمد کو خان بہادر کا خطاب دیا اور اُسے سرگودھا میں کئی مربع اراضی مختص کی
گئیں۔
سلطان احمد نے سیالکوٹ میں قانونی پریکٹس شروع اور علامہ اقبال سمیت
متعدد بااثر دوست بنائے۔ اس دور میں اُس نے نے افغانستان کے امیر عبد الرحمن
کی سوانح عمری لکھی جو آج تک کلاسیکی ہے۔جس کاپی شاید اب بھی کہیں بھی
اچھی بُک شاپ میں مل سکتی ہے۔
سلطان
احمد کی والدہ نے، ان سے پنجابی لڑکی سے شادی کرنے کو کہا ، چنانچہ
پنجابی بیوی فاطمہ سلطان سے ، اس کے چار بیٹے تھے اور کوئی بیٹی نہیں۔ سب
سے بڑا چوہدری طفیل احمد تھا ، جس نے علی گڑھ سے طبیعیات میں ایم ایس سی
کیا ، دوسرے بیٹے چوہدری فیض احمد ، تیسرے نمبر پر چوہدری عنایت احمد ، ایک
بیرسٹر ، اور سب سے چھوٹے چوہدری بشیر احمد تھے۔
اس
وقت تک افغانستان کے امیر کو یہ احساس ہوچکا تھا کہ اس نے اپنے میر منشی
سلطان احمدکے ساتھ زیادتی کر دی تھی جو اس وقت تک خان بہادر چوہدری سلطان احمد بن
چکا تھا۔لہذا اُس نے سلطان احمد کی افغان بیویوں اور بیٹیوں کو اُس کے پاس لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس
طرح افغانستان سے آنے والا ، پورا خاندان ان کے فیروز پور روڈ کے گھر پر اترا۔
سلطان احمد کی پنجابی بیوی فاطمہ
سلطان جسے ان کے بیٹے ’بی بی جی‘ کہتے تھے کو یہ کریڈٹ جاتا ہے ، جس نے اپنے شوہر سلطان احمد کے افغانی خاندان کی دیکھ بھا ل کی ۔
خان بہادر سلطان احمد کی موت کے بعد ، فاطمہ
سلطان اس خاندان کی برائے نام
سربراہ ہوگئیں۔ وہ ایک غیر معمولی عورت تھی۔ اس نے اپنے شوہر کی افغان
بیویوں سے فارسی بولنے والی بیٹیوں کو تعلیم دی۔ وہ پورے کنبے کی دیکھ بھا ل اور تعلیم کے سلسلے میں سرگودھا میں زمینیں
بیچتی رہی ۔
فیض احمد نے سکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور یہاں میٹرک تک تعلیم
حاصل کی۔ میٹرک کے امتحانات کے بعد فیض نے ایف اے کا امتحان مرے کالج
سیالکوٹ سے پاس کیا۔ فیض کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق ( جو علامہ اقبال
کے بھی استاد تھے) بھی شامل تھے۔
بی اے فیض نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے انگریزی
میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں ایم اے کیا۔
تیسرے ماسٹر فلسفہ کے دوران ، فیض احمد کو پرنسپل ، ایم اے او کالج امرتسر ، ایم ڈی تاثیر نے کالج میں عربی لیکچرر کی نوکری دی۔
جس
گھر میں فیض پروان چڑھا تھا ، وہاں اس کی سوتیلی بڑی بہنیں فصیح فارسی
بولتی تھیں اور وہ اُن سے فارسی میں بات کرتا تھا ۔ یہ بات بہت سے
لوگوں کو حیرت کی بات ہوگی کہ اس کے والد سلطان احمد نے، گاؤں کالا قادر میں ایک چھوٹی سی لیکن بہت خوبصورت ، مسجد بنائی۔ جب فیض بیروت میں جلاوطنی
پر تھے ، انہوں نے کلاسیکی فارسی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی تعریف میں ایک ’نعت‘ بھیجی ، جسے بہت سے لوگ ان کی عمدہ نظم سمجھتے
ہیں۔ وہ نظم سنگ مرمر کی تختی پر کندہ کروا کر اُسے مسجد کے دروازے پر لگایا گیا تھا۔
اپنی وفات سے قبل ، فیض احمد فیض اپنے آبائی گاؤں کالا قادر گئے ، کھیتوں میں گھومتے پھرے گاؤں کے تمام بوڑھے لوگوں سے ملاقات کی۔ وہ کافی دیر تک مسجد کے سامنے
بیٹھے رہے ، دروازے پر لگی تختی کو بے یقینی سے دیکھا اور سر ہلایا۔
ایک ممتاز اِشتراکیت سٹالنسٹ فکر کا کمیونسٹ ،جو زندگی میں ایک
لمبا فاصلہ طے کرچکا تھا لیکن پھر بھی اس کی جڑیں مضبوطی سے اسی مٹی میں
تھیں جہاں سے اس نے جنم لیا تھا۔
شاید اس کے لئے یہ ایک صوفیانہ لمحہ
تھا۔ ساری زندگی وہ بہت پر سکون آدمی رہا۔ اب بھی وہ پرسکون تھا۔ وہ لاہور واپس
آیا اور دو دن بعد وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا ۔
فیض احمد فیض کی پہلی نظم جو 1929 میں لکھی گئی ۔
میرے معصوم قاتل
ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
اداسی میں ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں
محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے
سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں
مچلتی ہیں سینے میں لاکھ آرزوئیں
تڑپتی ہیں آنکھوں میں لاکھ التجائیں
تغافل کی آغوش میں سو رہے ہیں
تمہارے ستم اور میری وفائیں
مگر پھر بھی اے میرے معصوم قاتل
تمہیں پیار کرتی ہیں میری دعائیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭