میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 23 جون، 2020

أحسن الحديث كتابا متشابها مثاني

روح القدّس نے  مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کو اللہ کا ناقابلِ تبدیل حکم ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ  ، کا نعرہ لگانے والوں کے لئے  ، آيات الكتاب المبين،   میں  کتاب اللہ  سے مثال دیتے ہوئے  بتایا  ، کہأُولِي الْأَلْبَابِ  پر تلاوت کر دو!:
 أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿39:21﴾

 فہم مہاجرزادہ:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً
 کیا تجھے  ( رسول اللہ ) نظر آتا ہے ،   صرف اللَّـهَ  نے، نازل کیا ، السَّمَاءِمیں سے ، مَاءً-
 فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ
 پس اُس میں    ڈالے        اُس کے،         يَنَابِيعَ (جاری رہنے والے  چشمے )،    اُس   الْأَرْضِ  میں،
  ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ
 پھر وہ اخراج کرتا  رہتا ہے ، اِس   (مَاءً) کے ساتھ، زَرْعًا(  زراعت)،         مُّخْتَلِفًا(مختلف)،  أَلْوَانُهُ (اس زراعت کےخصوصی رنگ )
  ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا
  پھر وہ    يَهِيجُ  ( پک  )جاتی رہتی ہے ،پس تو انہیں دیکھتا ہے  ،   مُصْفَرًّا(زرد  کیا گیا )، 
  ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ 
 پھر وہ اسے   قرار دیتا رہتا ہے  ، حُطَامًا  (چورا چورا )،

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
صرف اِس میں ،  وہ        ، ذکر کے لئے ۔   أُولِي الْأَلْبَابِ کے لئے ہے
  نوٹ: اگر ہم اِس آیت پر تدبّر کریں ۔ تو یہ   کائینا ت ( کتاب اللہ )  سے ایسی  مثال ہے جو ہم سب انسانوں  کی ،  آنکھوں کے سامنے  واقع  ہوتی رہتی ہے !پانی ہر جاندار کی بقاء کے لئے ضروری ہے ۔ اگر  پانی نہ ہو تو زمین پر  کو ئی زراعت نہ ہو ،یہاں تک کہ زیر زمین نمکین  رکھنے والی زمینوں پر بھی کچھ نہ کچھ  نباتات اُگتی ہے ۔ سوائےسیم و  تھور زدہ زمینوں کے -  


 أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿39:22﴾ 

 فہم مہاجرزادہ:
 أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ 
 کیا پس جو  ، جس کا، صَدْرَ   ( دماغ )   اللہ نے اسلام کے لئے   شَرَحَ کر دیا ہو ؟
 فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ
پس وہ اپنے رَبّ  میں سےنُورٍ  پر ہے ! 

فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ
پس افسوس ہے ،اُن کی الْقَاسِيَةِ  (خصوصی سختی )  کے لئے ،    اُن کے قُلُوبُ  (ذہنوں )   میں     ہے ، ذِكْرِ اللَّـهِ   میں سے ۔
  أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
 و ہ سب  ضَلَالٍ مُّبِينٍمیں ہیں ۔
نوٹ: اِس آیت کو    اوپر والی آیت   میں دی گئی مثال کے ساتھ  اپنے  ذہن میں تصریف کر کے دونوں کی مطابقت  سمجھیں ۔  تو آپ کو الْأَرْضِ (زمین )   اور صَدْرَ   ( دماغ )    میں مطابقت ملے گی اور   مَاءً (پانی ) اور نُورٍ مِّن رَّبِّهِ       ( ربّ  کی طرف سے نور)   میں مطابقت ملے گی- 
کتاب اللہ - جو ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے  ۔ جس میں کُن سے تخلیق ہونے والی اللہ کی ہر آیت موجود  ہے ، اُس کے مطابق ،      قُلُوبُ  (ذہنوں ) ، صَدْرَ   ( دماغ ) میں ہوتے ہیں - کیوں کہ  حواسِ خمسہ ، دماغ میں ،ذہن کو جنم دیتے ہیں  اور دل کا کام صرف  خون کو جسم میں پہنچانا ہے ۔ دل کا تعلق حیات سے  ہے   ۔


اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّـهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿39:23﴾

 فہم مہاجرزادہ:
 اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ
 اللہ نےأَحْسَنَ الْحَدِيثِ ( خاص حدیث میں  بہتر)   نازل  کی !
كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ 
ایک کتاب ،مُّتَشَابِهًا (تیرے لئے وہ  شبہ کر دی  گئی )    ، مَّثَانِيَ(   جڑواں  کر دی گئی )-
 تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ 
 تُو    قْشَعِرّ(ٹھنڈی-Chill)کر دیتا ہے اُس میں  سے     جُلُودُ(جلدیں )   ۔اُن  لوگوں  (کی)   يَخْشَوْنَ (خشی رہتے ہیں )    اُن کے رَبَّ  سے-

ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ 
پھر   تُو،   لِينُ  (نرم کرتا ہے )  ، اُن کی  جُلُودُ ( جلدیں ) اور اُن  کے  قُلُوبُ (ذہن)  ، ذِكْرِ اللَّـهِ    کی طرف !
 ذَٰلِكَ هُدَى اللَّـهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ 
وہ      (أَحْسَنَ الْحَدِيثِ) هُدَى اللَّـهِ ہے  ، جس کے ساتھ وہ  ھدایت کرتا رہتا ہے  اپنی      شَاءُمیں سے ،
 وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
 اور جو، ضْلِلِ (    گمراہ ) ہوتا رہتا ہے   ، اللہ سے ، پس کوئی      نہیں ، اُس کے لئے  ، هَادٍ    (ھدایت دینے والا)    میں سے ۔

نوٹ : اب آپ  پہلی دونوں آیت کی تصریف  سے تیسری آیا ت کےفہم پر تدبّر کریں ۔ 

پہلی آیت :   میں الارض پر  کتاب اللہ میں ہونے والا عمل وفعل ،  

دوسری آیت: میں ہونے والے انسان کے قلوب   میں کے  ،    مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ کتاب(لکھائی )  ہیں ۔
جو صرف اُس وقت   أَحْسَنَ الْحَدِيثِ بنیں گی -جب اُن کےقلب (ذہن)  پر ذکر اللہ  ، بالارض پر پڑنے والے ، پانی کی طرح اثر کرے گا اور ذہن میں فعلی اور عملی تبدیلی آئے گی ۔

انتباۃ ( وارننگ) :  

 ٭٭٭٭٭

جمعرات، 18 جون، 2020

18 جون 2020 کی ڈائری ، بوڑھے کی آوارہ گردی -

آج بوڑھا بڑھیا کی دوائی لینے فارمیسی (میڈیکل سٹور) کی طرف نکلا - جو گھر سے شارٹ کٹ میں ہزار میٹر دور تھا ۔ کوئی لسٹ خریداری بڑھیا نے نہ تھمائی - بوڑھا سڑکیں ناپتا ۔ اولمپیاء روڈ پر چم چم کے گریک کمیونٹی سکول سے مزید 500 میٹر لمبا چکر لگا کر فارمیسی پہنچا ۔
آگے ماسک لگائے ، خاتون جو انگلش اتنی ہی جانتی تھی- جتنا بوڑھا امھارک جانتا ہے ، وہ تو بھلا ہوا کہ بوڑھے نے دوائی کا بکس اٹھا کر جیب میں ڈال لیا واپسی پر یو ٹرن لینے کے بجائے ، بوڑھا مزید 300 میں آگے جا کر مڑا ، اور اٹالیئن حکمرانوں کی بنائی ہوئی اینٹوں کی سڑک پر آگیا ۔
جہاں ٹھیلے پر ایک نوجوان ناگ پھنی 30 بر فی کلوبیچ رہا تھا ۔ انسر سے سرخ کے بجائے ، پیلی رنگ کی پکی ہوئی میٹھی تھیں -

بوڑھے کا بڑا دل چاھا کہ وہیں کٹوا کر لطف اندوز ہو ، برا ہو کرونا کا ۔ جس نے لذتِ کام و دہن کا بیڑا غرق کردیا ہے ۔
جیول آف انڈیا کے پاس پہنچا ، تو خیال آیا چلو " شیو کمار یادیو"سے ملتے ہیں جو وہاں کا دروغہ مبطخ ہے ۔ الہ باد یوپی کا رہنے والا ہے ۔ 

بہت خوش گفتار اور اچھی شخصیت کا مالک ہے ۔
یوں سمجھو بوڑھے کے لئے سمندر میں جزیرہ ہے ۔ جہاں اردو/ہندی بول کر بوڑھا اطمینان پاتا ہے ۔
جب ملازمہ کی ضرورت تھی تو بوڑھے یادیو کو کہا ، کہ مسلمان ملازمہ چاھئیے-
یادیو ، مٹھائیاں اور نمکین چٹ پٹی اشیاء بنانے کا ماہر ہے ۔



 الہ باد میں بھی شادی بنائی ہے اور یہاں بھی ۔ 
بوڑھا ، جیول آف انڈیا سے نکلا - راستے میں سب دکانداروں کو " سلام نو" ، گڈ آفٹر نون، نمشکار اور سلام علیکم کہتے ۔
گھر واپس آیا -
پھر بوڑھے نے اپنا ظہیرا نہ ترکی سٹائل میں سجا کر کھایا ۔

پاکستان ایکس پیٹ وٹس ایپ گروپ پر ڈالا ۔ واہ واہ وصول کی ۔
دوستوں کے گروپ پر ڈالا ، اُنہوں نے بھی واہ واہ کی ۔
اور فیس بک پر گھنٹہ پہلے ڈالا آپ لوگوں نے تو دیکھ لیا ۔

٭٭٭٭٭

معاشرے کو تیزاب سے غسل کی ضرورت ہے!

ایک شادی پر جانا ہوا،ھال کے ایک کونے پر نظر گئی تو ایک جان پہچان والے شخص پر نظر پڑی،جو اکیلا ھی بیٹھا تھا، اس کے ساتھ جاکر میں بھی بیٹھ گیا-
بڑی گرمجوشی سے ملا -
وہ شخص گاڑیوں کے پرزے اور انجن آئل وغیرہ کا ماہر ہے -
حال احوال پوچھنے کے بعد،وہی عام طور پر کی جانے والی باتیں شروع ہوگئیں- 
یعنی مہنگائی اور کاروباری مندےو کا رنا. 
کہنے لگا-آج کل کام کوئی نہیں چل رہا. ابھی پرسوں کی بات ہے،ایک بندے نے گاڑی کا آئل تبدیل کروایا .-پچیس سو روپے بل بنا، اُس نے پیسے دیئے اور چلا گیا-
بعد میں پتا چلا کہ ایک ہزار کا نوٹ جعلی دے گیا-
اوہ..میرے منہ سے نکلا- تمھارا کو نقصان ہو گیا  ۔  پھر ؟؟؟ 
پھر کیا جی !!بڑی گالیاں نکالی اسے!
پتا نھیں کون دھوکے باز تھا، پہلی بار آیا تھا اور اعتماد ہی توڑ گیا کسٹمر پر ،
وہ تو شکر ھے میں نے آئل بھی" جعلی" ڈالا، 
کیوں کہ شکل سے وہ مشکوک لگ رہا تھا ، ورنہ میں تو مارا جاتا !!! 
اسی دوران “کھانا کھل گیا” کا نعرہ لگا اور پورے ھال میں گویا بھونچال آگیا-
وہ مرغی کے قورمے کا ڈھیر پلیٹ میں لئے فاتحانہ انداز لیے واپس آگیا-
میں سمجھا شاید میرے لئے بھی لے آیا کھانا-کہنے لگا،
بھاجی لے آؤ آپ بھی !بعد میں تو شادی ہال والے خراب کھانا دینا شروع کر دیتے ہیں!
میں اٹھا اور بریانی لے کر واپس آگیا!
 اور اس سے پوچھا، " اس جعلی ہزار کے نوٹ کا کیا کیا تم نے؟؟ "
کرنا کیا ھے جی ۔ دلہے کے والد کو سلامی میں دے دیا !
 اور میز کے نیچے چھپائی، چار بوتلوں سے ایک نکال کر دو گھونٹ میں خالی کر دیاور چھے سیکنڈ دورانیے کا لمبا ڈکار لینے کے بعد دونوں ہاتھ جوڑے-
عقیدت سے آنکھیں بند کیں اور بولا.... شکر الحمداللہ - آج حلال رزق دیا -
 اور میں نے سوچا،دولہا کے والد نے ، تسبیح گھماتے ہوئے جعلی نوٹ دیکھ کر بولا ہوگا،  

شکر ہے مردہ مرغیاں پکوائی تھیں- زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔یہ نوٹ آگے چلا دوں گا --
٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 15 جون، 2020

اسرول یعنی چھوٹی چندن

٭اسرول یعنی چھوٹی چندن (Rauwolfia Serpentina) جنون کی مخصوص دوا: 
یہ جنون کی مخصوص دوا ہے ایسے مریض جو بھاگتے دوڑتے، شور و غل مچاتے، اور گالی گلوچ کرتے ہیں ایسی حالت میں اس کا سفوف 10 رتی سے 15 رتی تک دن میں دو بار دینے سے نہ صرف مریض گہری نیند سویا رھتا ھے بلکہ اس کا ھائ بلڈپریشر بھی کم ھوجاتا ھے اور اس کا چیخنا چلانا، بھاگنا دوڑنا اس قسم کی دیگر علامات جاتی رہتی ہیں ایک ہفتہ میں ہی مریض کو کافی آرام آجاتا ہے -
ابتداء میں یہ دوا تھوڑی مقدار میں شروع کرکے ہمیشہ آہستہ آہستہ بڑھانا چاہیے یعنی چھ رتی فی خوراک استعمال کرائیں اور بتدريج بڑھاتےہوئے فی خوراک ڈیڑھ دو ماشہ تک کرسکتے ھیں۔ ایک بات میں اور بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ چھوٹی چندن جنون کے ان مریضوں کے علاج میں جو بالکل خاموش رہتے ہیں مفید ثابت نہیں ہوتی کیونکہ ایسے مریضوں کا بلڈپریشر پہلے ہی بہت کم ھوتا ھے اس لئے ایسے مریضوں میں اس کا استعمال فائدہ کے بجائے نقصاندہ ثابت ھوتا ھے۔ 
چھوٹی چندن نیند لانے کے لئے بےنظیر دوا ھے - انگریزی ادویات کی طرح نہ تو یہ نشیلی ھے اور نہ ھی دل کو زیادہ کمزور کرتی ہے۔ 
بے خوابی :رات کو سونے سے دو گھنٹے قبل دو رتی کی مقدار میں دینے سے مریض کو نیند آجاتی ھے - اگر مریض کو ایک عرصہ سے بےخوابی کی شکایت ھو ساری رات کروٹیں بدلتے گزر جاتی ھو تو ایک خوراک صبح نہار منہ اور ایک خوراک شام کو استعمال کریں تو مریض رات بھر مزے کی نیند سوتا رہے گا۔ 
ھائی بلڈپریشر : چندن کے مقابلے کی کوئی دوا نہ تو ایلوپیتھک میں ھے اور نہ دیسی طب میں۔ 6 رتی کے حساب سے دن میں تین بار عرقِ گلاب یا سادہ پانی سے استعمال کرائیں بےچینی، گھبراہٹ وغيرہ کی علامات جلد دور ھوجاتی ھیں۔

مرکبات و مجربات :- 
حب شفاء :- اجزاء :
٭- کالی مرچ - دو تولہ،
٭- چھوٹی چندن - ایک تولہ. 
ترکیب :- باریک سفوف بنا کر 500mg, والے کیپسول بھرلیں. 
خوراک :- روزانہ ایک کیپسول کھانے کے بعد پانی کے ساتھ.
 فوائد :- ہائی بلڈ پریشر- جنون - ہسٹیریا - صرع - بے خوابی- ۔خارش - ذکاوت حس - اعصابی خلل - ذہنی نامردی - میں مجرب ترین ہے.
 (یہ نسخہ جناب حکیم اجمل خان صاحب کا ترتیب دیا گیا ہے)
 سادھو کا راز :- چھوٹی چندن لےکر باریک سفوف بنالیں ایک ماشہ سفوف صبح شام کھانے کے بعد عرق گازبان یا تازہ پانی کے ساتھ دیں فوائد :- جنون . پاگل پن , اختناق رحم یعنی ہسڑیا , مرگی , ہائی بلڈپریشر جیسی موذی امراض کےلیے بہترین ہے. 
تلاش و انتخاب :- Sanaullah Khan Ahsan
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوستوں کے کمنٹس: 
٭- حکیم جلیس احمد صدیقی: " اس کا سفوف 10 رتی سے 15 رتی تک دن میں دو بار دینے سے نہ صرف مریض گہری نیند سویا رھتا ھے بلکہ اس کا ھائ بلڈپریشر بھی کم ھوجاتا ھے ا" یہ مقدار خوراک بہت زیادہ ہے اس مقدار میں کھانے سے مریض سویا کا سویا ہی رہ جائے گا ۔ اس کی مقدارِ خوراک 4 رتی سے 8 رتی(1 ماشہ) تک ہے۔ میرے بہنوئی صاحب نے اس کی اوور ڈوز لے لی تھی بھاگ کر کارڈئیو جانا پڑ گیا۔ بلڈ پریشر اس درجہ کم ہوگیا تھا-


٭- حسن منصوری: بعض جنونی کیفیات جسے کم علم آسیبی جناتی معاملہ قرار دیتے ہیں، وہاں اس کا شاندار رزلٹ دیکھا ہے.. باؤ گولا، ہسٹیریا وغیرہ میں... ہائی بلڈ پریشر پہ بہت اچھا کام کرتی ہے... یعنی چھوٹی چندن سے ہم نے قریب 14، 15 جن نکالے ہیں-

 Abdul Ahad:-  I have personally used it for hypertension. Very effective in hypertension, insomnia, and highy cholesterol I used it for 3 months then I stopped but more than one year my hypertension is normal without medicine, By the Grace of Almighty Allah Swt
٭٭٭٭٭٭واپس   جائیں ٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 13 جون، 2020

شگفتگو - سیدھی سی بات ہے -عاطف مرزا

زعفرانی بزم شگفتگو کےمزاحیہ مناثرہ کی 21 ویں محفل میں وٹس ایپ کیا گیا ،عاطف مرزا  صاحب  کا مضمون ۔  
٭٭٭٭٭٭
بات چلی تھی تکیہ کلام کی، پہلی بار سن کر ہم حیران ضرور ہوئے اور اپنے طوراِس کے معانی نکالنے لگے، مثلاً یہ وہ کلام ہے جو تکیے پر لکھا جاتا ہے یا تکیے پر رکھ کر لکھا جاتا ہے، کلام لکھ کر تکیے پر رکھا جاتا یا لکھ کر اُس پر تکیہ رکھا جاتا ہے، کلام میں تکیہ ہوتا ہے یا تکیے میں کلام،کلام کا تکیہ ہوتا ہے یا تکیے کا کلام۔
 ذرا سنجیدگی سے غور کیا، کسی سے پوچھا، کہیں پڑھا، کسی سے سنا تو عقدہ کھلا کہ یہ وہ لفظ، مختصر فقرہ، آوازہے جسے اپنے کلام کی کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سنو جی، میرا مطلب ہے، مطلب، اصل میں، جو ہے، اوئے ہوئے،دیکھیں گے وغیرہ جیسے الفاظ و تراکیب اور فقروں کی ایک لمبی فہرست بنے گی۔
 غرضیکہ جتنے  منہ اتنے تکیہ کلام۔
٭٭٭واپس  ٭٭٭

شگفتگو - پہلی جاب اور حلقہ اربابِ ذوق - شاہد اشرف

زعفرانی بزم شگفتگو کےمزاحیہ مناثرہ کی 21 ویں محفل میں وٹس ایپ کیا گیا ،شاہد اشرف  صاحب  کا مضمون ۔  
٭٭٭٭٭٭٭
ایم اے اردو کے بعد ہر ڈگری ہولڈر خود کو صاحب الرائے سمجھنے لگتا ہے اور سوچتا ہے کہ جلد ہی تنقیدی, تحقیقی اور تجزیاتی مطالعے میں ذکر خیر ہو گا مجھے بھی اپنے بارے میں یہی گمان ہونے لگا تھا. حلقہ ارباب ذوق کی تنقیدی نشستیں اس جذبے کو مہمیز لگا دیتی ہیں. صاحب تخلیق بہ امر مجبوری خاموش رہتا ہے اس لیے اپنی قابلیت دکھانے کا موقع مل جاتا ہے. ایسے ہی ایک اجلاس میں ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے اپنی غزل تنقید کے لیے پیش کی. ہمیں کیا, اب ہم خود بھی جلد ہی پروفیسر بننے والے ہیں. اپنے ضمیر کے مطابق رائے دیں گے. آغاز میں ہی صاحب صدارت کو اشارے سے متوجہ کر کے اذن گویائی کا موقع حاصل کر لیا. صاحب صدارت! فنی جائزے سے قطع نظر غزل کے مضامین ایک صدی پہلے باندھے جا چکے ہیں. موصوف لمحۂ موجود کے شعری رجحانات سے نا آشنا ہیں. جدید و قدیم میں خط امتیاز قائم رکھنا چاہیے. تصوف ہمارا مسئلہ نہیں ہے. ہجر و فراق کے قصے پارینہ ہو گئے ہیں. اور یہ دیکھیے! ایک متحرک حرف کو ساکن باندھا گیا ہے. مقطع میں تعلی سے اپنے منھ میاں مٹھو کا گماں ہوتا ہے. موجودہ دور میں کلاسیکی لب و لہجہ پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے.
میری گفتگو کے بعد ہر ناقد میری رائے کو حوالہ بنا کر میرے گلے میں ہار ڈالتا رہا اور اجلاس کے اختتام تک میں پھولوں سے لد گیا. صاحب غزل کا چہرہ بگڑتا رہا اور اجلاس کے اختتام پر وہ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی تصویر بن گیا.
چند ہفتے بعد ایک پرائیویٹ کالج میں لیکچرار کے انٹرویو کے لیے گیا. میرا نام پکارا گیا اور میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا. ایک دم آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا. وہ پرنسپل کے ساتھ صدر شعبہ کی حیثیت سے براجمان تھے. لڑکھڑانے سے پہلے ہی ہاتھ کرسی پر پڑ گیا اور وہ گویا ہوئے, اگر کرسی کو پکڑ ہی لیا ہے تو بیٹھ جاؤ . میں نے شکریہ کہا تھا مگر مجھے یقین ہے کہ میری آواز کسی نے نہیں سنی ہو گی.
شاعری سے شغف ہے ؟
جی, جی کی ی غیر معمولی طور پر لمبی ہو گئی.
ایک صدی پہلے کی غزل کے بارے میں کیا رائے ہے ؟
اب میرے ہوش و حواس بحال ہو چکے تھے. سنبھل کر بولا. اعلی شعری معیارات کی حامل غزل ہے. فنی و فکری سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے. جدید شعرا کے لیے زبان و بیان کا قرینہ فراہم کرتی ہے. اسلوب, تکنیک اور ڈکشن کے اعتبار سے کوئی ثانی نہیں ہے.
ان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی.
جدید و قدیم میں خط امتیاز کیسے قائم ہوتا ہے ؟
ذہن میں پہلے سے کہیں موجود تھا کہ آئین, آئین ہوتا ہے اور قانون, قانون ہوتا ہے. بے ساختہ منھ سے نکل گیا, جدید, جدید ہوتا ہے اور قدیم, قدیم ہوتا ہے.
 اچھااااااااا   ,   اچھا کا الف اتنا لمبا کھینچا گیا کہ دیر تک میرے کانوں میں آ آ کی صدا گونجتی رہی.
تصوف کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
جی, ہماری روحانی زندگی کا ارفع تصور ہے. صوفیا کے دم قدم سے دنیا آباد ہے. انسانی خواہشات کی آلودگی سے پاک ہو کر اللہ کا قرب حاصل کرنا ہر مسلمان کا مقصد حیات ہے. میں بھی راہ سلوک کا ادنی مسافر ہوں اور آپ کے ماتھے پر بنے محراب سے پھوٹتی شعاعوں سے مجھے راہنمائی حاصل کرنے کی تمنا ہے.
 اوہ ہ ہ ہ , ہ کا دائرہ مجھے آنکھوں میں گھومتا محسوس ہونے لگا.
شاعری میں ہجر و فراق کا موضوع کیسا لگتا ہے ؟
میری سانس پھولنے لگی, جی! میں نے ابھی عشق نہیں کیا ہے, اس لیے زیادہ نہیں جانتا.
کیا تو ہو گا, مانتا کوئی کوئی ہے. انھوں نے سہیل وڑاءچ کے لہجے میں بات کی.
اچھا, یہ بتاؤ ساکن اور متحرک حروف میں کیا فرق ہوتا ہے ؟
زبان خاموش, آنکھیں ساکت, جسم مجسمہ بن گیا اور میرا سر گھومنے لگا.
مجھے خاموش دیکھ کر کہنے لگے, چلیں ایک آسان سوال پوچھ لیتے ہیں.
اپنے منھ میاں مٹھو کا مفہوم کیا ہے ؟
میں اپنی ساری جسمانی, روحانی اور نفسانی قوتیں جمع کرنے لگا اور آخر بولنے کے قابل ہو گیا.
سر! میں اپنے منھ میاں مٹھو ہوں. مجھے اپنا طوطا بنا کر پنجرے میں رکھ لیں. سدا آپ کے گیت گاؤں گا. جو سکھا دیا جائے گا ہمیشہ دہراتا رہوں گا. ایک بار بس ایک بار, ایک موقع دے دیجیے.
وہ پرنسپل کی طرف دیکھ کر بولے, آدمی ذہین ہے, سلیکٹ کر لیتے ہیں, ہم دونوں شاعر ہیں, خوب گزرے گی, رات ہی میں نے ایک تازہ غزل کہی ہے, سوچتا ہوں کہ حلقہ ارباب ذوق کے کسی آئندہ اجلاس میں پڑھ دوں.
٭٭٭٭٭٭٭٭

شگفتگو -گورکھے اکیڈمی میں - مہاجرزادہ

زعفرانی بزم شگفتگو کےمزاحیہ مناثرہ کی 21 ویں محفل میں وٹس ایپ کیا گیا ،مہاجرزادہ   کا مضمون ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭
 سہیل ہم چاروں میں سب سے چھوٹا تھا، ایف ایس سی کرتے ہی فوج میں آفسر بننے چلا آیا۔ امجد زمان ملٹری کالج کا فارغ التحصیل تھا اور اپنے کلاس فیلوز سے ایک سال بعد آیا تھا۔ فاروق عرف گھگو کا بھی یہی حال تھا اور ہمارے ساتھ کے  ہم سے ڈیڑھ سال سینئر تھے۔ آپ سمجھ گئے نا۔ نہیں سمجھے  اچھی بات ہے۔ دل جلے  فارسی میں کہتے تھے،
خدایا سگ باش برادر خورد مباش  (خدا کتا بنادے چھوٹا بھائی نہ بنائے)
اور پی ایم اے میں ،"خدا  بے شک جونئیر بنائے مگر جونئیر کلاس فیلوز کا جونئیر نہ بنائے"۔
ہمارے کمرے سے  تیس گز کے فاصلے پر، جنٹل مین کیڈٹ آفس المعروف جی سی آفس، سیکنڈ پاکستان بٹالین تھا جہاں آٹھ بجے رات، منتخب کیڈٹس کے اخلاق و اطوار کی تصحیح کی جاتی تھی۔ اِن کیڈٹس نے ہمارے کمرے کو سومنات کا مندر سمجھا ہوا تھا اور یہ سب ملٹری کالج کے تھے۔ اور امجد زمان کی محبت میں ہمارے کمرے میں گھسے چلے آتے۔ گورکھا نام سنا ہے آپ نے؟ نہیں آ پ کیسے سن سکتے ہیں بلکہ ایک کیڈٹ کو گورکھا پوزیشن صرف دیکھا جا سکتا ہے۔


 
تو قارئین،  اخلاق و اطوار کی درستگی کے لئے آنے والے کیڈٹس ہمارے کمرے میں آتے ہی ہمیں، گورکھا پوزیشن میں جانے کا غیر قانونی حکم دے دیتے۔ اتوار کا دن تھا ہم نے بابے کو کیفِ ٹیریا بھجوا کے جلیبیاں اور سموسے منگوانے کا حکم دیا تا کہ فُل ٹائم عیاشی کی جاسکے۔ کوئی تین چار کمرے پہلے کے سامنے سے ایک آواز گونجی،
”امجد زمان کا کمرہ کون سا ہے؟“
ہمارا خون لمحے کے لئے خشک ہو گیا، عیاشی کا محل دھڑام سے زمیں بوس ہوگیا۔ سہیل نے تجویز دی، الماریوں میں چھپ جاتے ہیں۔سہیل اور فاروق ایک الماری میں، امجد اور میں دوسری الماری میں غڑاپ سے چھپ گئے۔ کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا، کمرے کا دروازہ کھلنے کے انداز سے معلوم ہو جاتا کہ کون آیا ہے۔ آنے والے سیکنڈ ٹرم کے بپھرے ہوئے شیر تھے اور اِس امید پر کودے کہ شکار اندر موجود ہے۔ لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ کہ کمرہ خالی تھا۔ وہ کمرے میں چکر لگانے لگے ایک نے باتھ روم ا دروازہ کھٹکھٹایا، شاید شکار اندر ہو مگر  وہ بھی خالی،
”میرا خیال ہے یہ لوگ میس گئے ہوں“۔
یہ کہہ کر وہ جانے کے لئے پلٹے کہ ٹھک کی آواز  اور فاروق کا سر الماری کے پٹ سے ٹکرایا اور الماری کھل گئی۔  ہوا یوں کہ گھگھو جس کی ہر جگہ سونے کی عادت تھی، یہاں تک کہ فال اِن میں کھڑا کھڑا سوجاتا۔ وہ الماری کی گرم فضا میں جونہی غتر بُود ہوا اُس کا سر الماری کے پٹ سے ٹکرا گیا۔
 دوسری الماری کھولی گئی،اُس کے بعد۔
”عجب تھا جہاں کا منظر“  کہیں مسجود تھے سہیل و فاروق۔کہیں پھِرکی تھے نعیم اور امجد۔ 

 کوئی ڈیڑھ گھنٹے  کے بعد خلاصی ہوئی، کمرے میں گرم گرم جلیبیوں،سموسے  اور چائے کا جو مزہ آیا وہ بیان سے باہر۔
فرسٹ ٹرم کے خاتمے پر دوڑ دوڑ کر ہماری ٹانگیں بگلے کی طرح ہوگئی تھیں اور پیٹ کمر کی آخری  ہڈی کو چھوتا تھا۔ بیلٹ ٹائیٹ کرنے کے آخری سوراخ بھی فیل ہو جاتے اور سٹاف ہماری بیلٹ میں ایک انگلی پھنسا کر اُس میں سے پوری بٹالین کے گذرنے کا دعویٰ کرتا۔ یا حکمیہ انداز  میں طربیہ سوز کی لے پر چلاتا،
”نعیم صاحب۔ پی ایم اے روڈ پر ایسے مت چلیں جیسے آپ ولیمہ کی دعوت سے واپس آرہے ہیں  یا
آواز شیر کی طرح نکالیں میمنے کی طرح نہیں"
 نعیم صاحب، زمیں پر ایڑیاں اتنی زور سے لگیں کہ پانی نکل آئے“ وغیرہ وغیرہ
اگر آپ نے کرنل محمد خان کی کتابیں نہیں پڑھیں تو آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا، کہ اُن کے زمانے میں ڈرل سکوئر میں پالی جانے والی شرارتی مکھی  اپنی اولادکو کیڈٹس کی ناک  کے پارک میں تفریح کا لطف اُن کی سرشت میں نفوذ کروا گئی۔ جونہی سٹاف،”ہوشیار باش“ کرواتا یہ ”بھن بھن“ کا نعرہ  مار کر ناکوں کی چونچ پر آبیٹھتی ۔ اور کیڈٹس کو سلیوٹنگ ٹیسٹ میں، پریڈ گراونڈ میں سلیوٹنگ ٹیسٹ میں ناک کو آزادنہ کھجانے پر فیل کروا دیتیں۔ جس کے لئے وہ پچھلے آٹھ ہفتوں سے ایڑیاں مار مار کر اپنی تمام عقل بقولِ سویلیئن، زمین میں پہنچا دیتا تھا اور اُس کی اوپر کی منزل خالی ہوجاتی۔ اُس کے بعد کیڈٹ کو سو گز دور ایک چارمربع فٹ  کے ٹارگٹ کے عین درمیان میں اپنی تما م توجہات مرکوز کرتے ہوئے، مقصد کے حصول کو اپنا نصب العین بنانے کی تربیت دی جاتی۔ جو کیڈٹ جتنا زیادہ اپنے نصب العین کے قریب بغیر کسی شک و شبہ ہوتا وہ اتنا ہی فوجی زندگی کا کامیاب فرد کہلاتا۔ عملی زندگی میں یہ ٹارگٹ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔جو سینئیر کے حکم ”گو“ سے شروع ہوتا ہے اور ٹارگٹ کے حصول پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ لیکن اِ س کے درمیان وہ تمام قوانین آتے ہیں جو فوجی کتابوں میں لکھے ہوتے ہیں جن کا انحراف ٹارگٹ کے حصول کے بعد سزا پر ختم ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭

٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭ 

٭۔  رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭

 آئی ایس ایس بی یاترا


شگفتگو - مداح کا خوبصورت اینکر کو جذباتی خط

بہت ہی خوبصورت 'مس  تصویر'
جب سے آپ کو ٹی وی سکرین پر دیکھا ہے، فوراً ہی دل دے بیٹھا ہوں۔ گو کہ میں آپ سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہوں لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ مس ارم کے فلیٹ سے بھی زیادہ میرے دل کے نزدیک رہتی ہیں( مس ارم میری پڑوسن ہیں اور ہم ایک دوسرے کو مدت سے بوجوہ پسند نہیں کرتے)۔ نہ جانے عشق کے طبی اور کیمیائی اثرات کیا ہوتے ہیں لیکن آپ پر  فدا ہونے کے بعدحالت یہ ہے کہ آپ سے جدائی کا خیال آتے ہی دن میں چار چار مرتبہ کھانا کھاتا ہوں۔ اس امید پہ بار بار سو جاتا ہوں کہ گہری نیند کے دوران آپ خواب میں ملنے آئیں گی۔ آغاز محبت کے قدیمی ایس او پی کے تحت میں نے نزدیکی حکیم سے معدے کی جلن، دل کے دورے، پتے کی پتھری اور بلڈ پریشر والی دوائیں گھر میں سٹور کرلی ہیں تاکہ ممکنہ ہجر کے دوران  طبیعت کی ناسازی سے بچا جا سکے۔  کھانسی کا شربت،  انسولین اور درد قولنج کے انجیکشن تو ویسے ہی ہر چھوٹے موٹے عاشق کی روٹین کی دوائیں ہیں، سو ان کا تذکرہ کیا کرنا۔   شیزو فینائی غلبے کے تحت کبھی کبھار بے ربط باتیں کر کے اپنا کتھارسز کرتا رہتا ہوں۔
میری جان! یہ بات چھپانا محبت کی توہین ہوگی کہ میں ایک عدد بدتمیز بیوی کا شوہر ہوں۔ چھ بچوں کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ کبھی جھگڑے میں پہل تو کجا، دوم بھی نہیں کی۔ ہمیشہ معافی مانگنے اور پیروں پڑنے کو اپنی مردانگی گردانا اور کبھی کبھار عائلی جھڑپ میں زخمی ہونے پر واویلا نہیں کیا۔بھلا ہو حکیم صاحب کا جنھوں نے میرے لیے فرسٹ ایڈ باکس، بطور خاص، رکھا ہوا ہے اور میری سفید پوشی کا بھرم ہر مرتبہ رکھنے میں مناسب فیس لے کر  تعاون فرماتےہیں۔ میری بیوی حد سے زیادہ شکی مزاج ہیں۔ ہروقت میرے گردا گرد سنتھے کی باڑ بن کر منڈلاتی رہتی ہیں۔ ان کی نظر بچا کر کبھی کبھار کسی دستیاب سہیلی سے وٹس ایپ وڈیو کال پر دوچار باتیں کر لیتا ہوں یا کسی  دکھیاری  کلاس  فیلن سے اس کے میاں کا گھر پر آنے کا شیڈول ڈسکس کرلیتا ہوں تو آخر میں بھی تو انسان ہوں۔ کیا  گپ شپ لگانے کو میرا من نہیں کرتا؟
میں سخت معذرت خواہ ہوں کہ حال دل کہنے کے موقع پر  غیرضروری حالات آپ کے سامنے رکھنے پڑے۔ یقین مانیں گھریلو ٹینشن کے سبب ایسا ہوا ہے وگرنہ آپ سے  قبل میری تمام دوستوں نے میرے حال دل کےتحریری سٹائل کو بہت پذیرائی بخشی ہے۔ چونکہ تمام عمر شاعروں ادیبوں میں اٹھنا بیٹھنا رہا ہے، سو جذباتی نزاکتوں کے بیان میں فطری سوز  بلاارادہ ہی در آتا ہے۔عشقیہ گفتگو کے انھی سوزو گداز کے سبب کم از کم تین ایسے مواقع میری زندگی میں آ چکے ہیں جب  حال دل کے جواب میں اپنی تین دوستوں کی سسکیوں کے ساونڈ کلپس موصول ہوئے ہیں۔ بس اتنی گزارش ہے کہ جب آپ گاجری کلر کی شارٹ فراک    یا پیپلم کے ساتھ گہرے نارنجی کلر کا ہئر بینڈ استعمال کرتی ہیں، تو مجھے بالکل مس روبی کی طرح زہر لگتی ہیں۔  اس کنٹراسٹ کو مس حنا کی طرح کر لیں تو مزا آ جائے۔ اگر آپ ٹی وی پر آتے ہوئے ایسا دوپٹا استعمال کریں جس کے بٹن لگے ہوئے ہوں تو آپ اس نئے فیشن کی بانی کہلا سکتی ہیں۔ میک اپ میں استعمال  ہونے والے رنگوں کا تناسب بہت ہی بھلا لگتا ہے اور آپ بہت پیاری دکھتی ہیں۔ میری ایک اور جاننے والی کی طرح آپ کی مسکراہٹ بہت ہی دلکش ہے۔
درج بالا تمام گفتگو کو مجھ ایسے وفا شعار عاشق  کی مست اور بےخود خطا سمجھ کر قبول کریں۔ میں روزانہ "عشق پارک" کے بنچ نمبر 112 پر رات ساڑھے دس سے ساڑھے گیارہ تک ملنے والیوں کا انتطار کرتا ہوں، ہوسکے تو مقررہ وقت پر دیدار کرا کے فقیر کی دعائیں لیں۔
فقط آپ کی  محبت پر مجبورمداح۔۔۔ سعد

( ،ڈاکٹر عزیز فیصل)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
زعفرانی بزم شگفتگو کےمزاحیہ مناثرہ کی 22 ویں محفل میں وٹس ایپ کیا گیا ،ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب    کا مضمون ۔  
٭٭٭٭واپس ٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔