Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 3 جون، 2020

3 جون 2020 کی ڈائری - ایتھوپئین چنبیلی

 بوڑھا آج صبح 7 بجے جلدی اٹھا ، امیگریش آفس جانا تھا، جو ویزے نہیں لگے اُنہیں لگوانا تھا ، وہاں سے ہلٹن امارات کے آفس جانا تھا کہ 15 جون واپسی کا شیڈول کنفرم کروایا جائے ۔ 
آن لائن بوڑھے نے ، بڑھیا ، چم چم اور اپنے ٹکٹ کا سٹیٹس دیکھا ، غائب ! فون کیا تو معلوم ہوا ، کہ تمام بکنگ ریفرنس مٹا دئے گئے ہیں ۔ اب جب جانا ہو تو بتائیں یا پھر ہماری ای میل کا انتظار کریں کہ عدیس ابابا سے دبئی امارات کی فلائیٹس کب کھلتی ہیں ۔
 یہاں سے کوئی جہاز نہ پاکستان جا رہا ہے اور نہ ہی دبئی ، صرف چارٹر فلائیٹس اپنے اپنے ملک چلا رہے ہیں ، عید سے ایک دن پہلے پاکستان کے لئے جبوتی ائر کی چارٹرڈ فلائیٹ پاکستانیوں کو لے کر گئی ہے ۔
 بوڑھا اپنے بیٹھنے کی سیٹنگ تبدیل ہونے پر لاونج کی کھڑکی کے سامنے بیٹا دور ہائی رائزبلڈنگز  دیکھ رہا ، جو اکتوبر سے تعمیر کے مراحل میں گذر رہی ہیں ۔ اب سب رُک چکی ہیں ۔
 جس پرائیوٹ ٹیکسی ڈرائیور ، مسٹر فیکاڈو   کو ہم اپنے سفر کے لئے بلاتے ہیں ، اُس کے پاس 7 کار ہیں ۔ اب صرف دو چلتی ہیں ۔
 عدیس ابابا میں کرونا کے 1099 مریض ہیں 231 صحت یاب ہو چکے ہیں - 14 اِس دنیا سے جا چکے ہیں ۔
 یہاں جاپان مارکیٹ میں ایک ایتھوپیئن لڑکی ہے-
 امھارک میں اُس کا نام تو کچھ اور ہے لیکن وہ چنبیلی کے نام سے مشہور ہے ، جو ہندوستانیوں کو سودا دے دے کر ، اچھی اردو سیکھ گئی ہے اور   بول لیتی ہے ، بڑھیا بہت خوش ہوتی ہے ، کہ زبان کے بل درست ہو جاتے ہیں اردو بولنے سے ۔
 کل بوڑھا وہاں گیا ۔
 کرنل باسمتی چاول، املی ، شکر ، گڑ ، سفید چینی ، خشک ثابت دھنیا لینے ۔ مگر نہ ملا، چنبیلی سے پوچھا ، جواب ملا ،
 " بابا انڈیا سے جہاز نہیں آریا ۔ آپ یہ ہمارا دھنیا لے جاؤ بہت اچھا ہے "
 " چنبیلی ، بڑھیا مجھے مارے گی "  بوڑھا بولا ۔
" بابا ، آپ باہر بھاگ جایا کرو میرے بابا کی طرح" ۔چنبیلی نے رائے دی ۔
" بابا کام نئیں کرتا " ۔ پیچھے سے اُس کی ماں چلائی ۔" سوتا ہے "

بوڑھے نے 15 دن کا سامان، سبزیاں اور پھل خریدے ، بازار میں میڈیکل سٹاف دکانداروں اور سیلز مین کے درجہ حرارت چیک کر رہا تھا ، بوڑھے کا بھی چیک کیا ۔ ریڈنگ 36   ڈگری سنٹی گریڈ (97 ڈگری فارن ھائیٹ ) تھی ۔
 ٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔