Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
فراڈ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فراڈ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 23 اگست، 2021

زیر سماعت مقدمے کا مُلزم، جج کا سمدھی

 ‏افتخار چوہدری کے سامنے لاہور کے پراپرٹی ٹائیکون ڈاکٹر امجد کا    دو ارب روپے کا  ای او بی آئی فراڈ کیس آیا۔

ای او بی آئی   کے  پیسے آج تک  واپس نہیں ہوئے۔

 کیس کے دوران ہی افتخار چوہدری کی بیٹی کی شادی ڈاکٹر امجد کے بیٹے سے ہو گئی۔ اُس کے بعد ڈاکٹر امجد نے ایڈن ہاؤسنگ کے نام سے تیرہ ارب روپے عوام سے لُوٹے ‏اور مُلک سے فرار ہو گیا۔
چیئرمین نیب نے ڈاکٹر امجد اور مُرتضٰی امجد (داماد افتخار چوہدری) کے وارنٹ جاری کئے اور انٹرپول نے دُبئی میں مُرتضٰی امجد کو گرفتار کر لیا۔

 لیکن لاہور ہائی کورٹ کے جج شہزاد خان (جسے افتخار چوہدری نے تعینات کیا تھا) نے وارنٹ غیر قانونی قرارداد دے دیے اور انٹرپول نے مُرتضٰی کو رہا کردیا۔ ڈاکٹر امجد اور مُرتضٰی فیملی سمیت کینیڈا چلے گئے۔

 نیب نے ڈاکٹر امجد وغیرہ کو اشتہاری قرارداد دے کر اُس کی پچیس ارب جائیداد کی نیلامی شروع کر دی تو جسٹس قاسم خان نے جسے افتخار چوہدری نے تعینات کیا تھا، یہ نیلامی روک دی، ڈاکٹر امجد واپس آ گیا۔
‏جسٹس قاسم نے گرفتاری سے روک دیا، ڈاکٹر امجد نے تیرہ ارب کی پلی بارگین کی درخواست دی تو نیب نے کہا کہ  ، رقم  پچیس ارب کی ہیں کیونکہ عوام کا تیرہ ارب دس سال استعمال کر کے پچیس ارب کے اثاثے بنائے گئے
‏ابھی یہ معاملہ چل رہا تھا کہ  رات 23 اگست 2021 کو   ڈاکٹر امجد کا انتقال ہو گیا۔

مرتضٰی امجد ابھی مفرور ہے۔

  گیارہ ہزار متاثرین ایڈن دس سال سے تباہ ہو گئے۔ نہ پلاٹ، نہ گھر اور نہ ہی رقم واپس ہوئی۔

چوہدری افتخار کی بیٹی اور داماد کینیڈا، بیٹا ارسلان بھی کروڑ پتی، آدھے جج جیب میں۔

یوں  پنشنرز کے دو ارب اور گیارہ ہزار متاثرین کے پچیس ارب ڈُوب گئے۔

انسانی تاریخ میں کوئی ایسی مثال ہے کہ جب زیر سماعت مقدمے کا مُلزم، جج کا سمدھی بن گیا ہو؟

٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون پڑھنے کے لئے ۔

 ٭٭٭٭واپس ٭٭٭ ٭ 


جمعرات، 24 جون، 2021

فراڈیوں کے ساتھی فراڈی


 

 خبر دار !! کسی جاہل دوست کے پاس سے ایسی معلومات فوراً ڈیلیٹ کردیں 

  

کیا ہم پاکستانی علی بابا کی تخیلاتی کہانیوں سے نکل سکیں گے یا چالیس چوروں میں پھنس کر باقیوں کو بھی پھنسانے کے درپے ہیں ؟؟

اِس لنک 

http://sck.io/iRQuFNd3 

 کی مکمل تفصیل اِس لنک میں ہے ۔

https://who.is/whois/sck.io 

جب آپ اِس لنک پر کلک کریں گے

http://sck.io/iRQuFNd3 

 تو آپ کا ایک نیا لنک کھلے گا ۔
https://m.snackvideo.com/

 یہ ایک جھوٹا لنک ہے ۔ 

جبکہ حقیقی ڈومین نیم ہے۔  https://snackvideo.com/

اُس کے بعد آپ سے کیا ہوگا ؟؟

آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ سے لیٹسٹ ورشن اَپ ڈیٹ کرنے کا کہا جارہا ہے ۔جب کہ آپ نے پہلے کوئی ورشن ڈاؤن لوڈ نہیں کیا ۔
 

  آپ سمجھیں گے کہ آپ کی ایپلیکیشن پرانی ہے آپ ،  پیغام کو کلک کریں گے ( یہ آپ کی دوسری کلک ہوگی )۔ 

یہ پیغام اور دوسری کلک ، ھیکرز کی دنیا میں ،ہانر کوڈ  کہلاتا ہے۔ ( بے ایمان سب سے زیادہ اصولوں پر چلتا ہے ۔ کہتےہیں جو مکھن لگاتا ہے اُسے چونا لگانا بھی آتا ہے )

 جب تک آپ ورشن آپ ڈیٹ نہیں کرتے آپ فائدے میں ہیں  ۔ یہ پیغام رُکا رہے ۔ آپ کی بھیانک ، غلطی ، چارے پر منہ مارنا ہے ، اور اِس میں تمام شکاری بے بس ہوتے ہیں ۔ 

کیوں کہ شکار خود کہتا ہے ۔ " آ بیل مجھے مار "

اگر آپ یہی لنک لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر کھولیں تو یہ پیغام آئے گا ۔

کیوں کہ آپ کے لیپ ٹاپ یاکمپیوٹر میں گوگل پلے سٹور نہیں ۔ جبکہ اِس کے لئے گوگل پلے سٹور کی ضرورت نہیں یہ ایک چھوٹی سے ایپلیکیشن ہے جو آپ کے موبائل میں آپ کے سسٹم کو بائی پاس کرتی ہوئی اُس ہیکر کے ھیکنگ ٹول سے لنک ہو جائے گی ، جس کے بعد آپ کو اپنے موبائل کو فیکٹری سیٹنگ پر سیٹ کرنا پڑے گا ۔ 

ورنہ آپ کے موبائل میں موجود تمام ڈیٹا کاپی ہوجائے گا اور نیا ڈیٹا بھی  ہیکنگ  جھیل میں ڈوبتا جائے گا۔


 

٭ بچنے کا واحد اور زود اثر طریقہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    ٭-   اپنے اصلی نام سے ، دو ای میل اکاونٹ بنائیں ۔

 ایک جی میل پر اور دوسرا یاہو(متبادل) پر ۔ اُن پر اپنے تمام دوستوں   کے نام نمبر محفوظ کریں ۔

٭- اگر آپ اپنے وٹس ایپ کے پیغامات کو محفوظ رکھنا چاھتے ہیں تو اُسے  کلاوڈ یا جی میل سے لنک کریں ۔

٭-جی میل سے فیس بُک اکاونٹ بنانے سے پہلے گوگل اکاونٹ بھی اسی سے بنائیں ، جس سے گوگل کی تمام اپلیکیشنز اسی سے لنک کریں ۔ 

اور فیس بک اکاونٹ بنائیں ۔ اگر پہلے نہیں کیا تو اب کر لیں ۔

  پاسورڈ کی تمام تبدیلی کی اطلاعات اپنے موبائل پر منگوائیں ۔ 

اب اگر آپ اپنا موبائل فیکٹری سیٹنگ پر کریں تو ڈڑنے کی کوئی بات نہیں ۔


یہ بھی پڑھئیے
٭- آپ کا قیمتی انگوٹھا  
٭-موبائل پر فراڈ

٭ -  انٹرنیٹ فراڈ   -
 ٭- ھیکرز - 

 

پیر، 21 دسمبر، 2020

یونیورسٹیوں کی درجہ بندی ۔ دھوکا اور فراڈ

اچھی شہرت‘کی حامل، یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرنے والے ایسے نصف درجن سے زائد عالمی ادارے موجود ہیں جو سالانہ ایک فہرست جاری کرتے ہیں۔

اس فہرست میں بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی کون سی یونیورسٹی یا یونیورسٹی کا ڈیپارٹمنٹ نہ صرف اپنے ملک کی

یونیورسٹیوں کے مقابلے پر بلکہ عالمی سطح پر بہتر ہے۔ آپ اس زہر کو امرت سمجھ کر پینا چاہتے ہیں تو نفع نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ یہ عیار لوگ البتہ سادہ لوح لوگوں کو خوب بیوقوف بناتے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی فہرستوں بارے یہی کہا جا سکتا ہے کہ عام طور پر یہ انتہائی متنازعہ ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر یہ فہرستیں حماقت کا نمونہ اور جھوٹے اعداد و شمار کا پلندہ ہوتی ہیں۔

ذرا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیے: شنگھائی اکیڈیمک رینکنگ آف ورلڈ یونیورسٹیز ہر سال دنیا بھر کی ہزاروں یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرتی ہے۔ 2017ء میں اس ادارے کی ویب سائٹ پر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کو 76 تا 100 کے خانے میں رکھا گیا۔ اس درجہ بندی میں یہ ڈیپارٹمنٹ ٹوکیو یونیورسٹی سے تھوڑا نیچے مگر مانچسٹر یونیورسٹی سے اوپر تھا۔
اس کے بعد تو کمال ہی ہو گیا۔
ہر سال قائد اعظم یونیورسٹی کی درجہ بندی بہتر ہوتی گئی تا آنکہ سال 2020ء میں یہ یونیورسٹی 51 تا 75 والے زمرے میں آ گئی۔ اس درجہ بندی کے لحاظ سے اب قائد اعظم یونیورسٹی میک گل یونیورسٹی سے تھوڑا نیچے مگر آکسفورڈ یونیورسٹی سے بہتر مقام پر فائز تھی۔ قارئین چاہئیں تو گوگل کی مدد سے ایسی دیگر حیران کن نتائج پر مبنی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
آکسفورڈ سے بھی بہتر؟ میں نے زندگی کا بیشتر حصہ قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہوئے گزارا ہے۔ مجھے تو خوشی سے ناچنا چاہئے تھا مگر افسوس اس بات کاہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئرنگ کا شعبہ ہی نہیں ہے۔
مکینیکل انجینئرنگ ایک طرف رہی، قائد اعظم یونیورسٹی میں سرے سے انجینئرنگ پڑھائی ہی نہیں جاتی نہ ہی انجینئرنگ کی درس و تدریس کا کوئی منصوبہ زیر ِغور ہے۔
ایک آدھ بار اس طرح کی غلطی تو سمجھ میں آ سکتی ہے۔ اسے کسی کلرک کی غلطی سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر ایسا کون سا سافٹ ویئر تھا جو سالہا سال قائد اعظم کے اُس شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کی درجہ بندی کرتا رہا جس کا کوئی وجود ہی نہیں؟

آپ کو ہنسی تو آ رہی ہو گی مگر اس سے بھی بڑا لطیفہ ابھی باقی ہے:۔

 ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کو پاکستان کی سب سے بہترین یونیورسٹی قرار دے ڈالا۔
یہ یونیورسٹی نہ تو تحقیق کے لئے مشہور ہے نہ درس و تدریس کے لئے۔ اگر کسی کام میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان نمبر ون ہے تو وہ ہے پرُ تشدد عدم برداشت۔ اپریل 2017ء میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں لاٹھیوں، اینٹوں اور آخر میں گولیوں کی بوچھاڑ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ ننگ دھڑنگ مشال خان کو پورے کیمپس میں گھسیٹا گیا۔ تماشہ دیکھنے والے سینکڑوں طالب علم تالیاں پیٹ رہے تھے، اس واقعہ کی سمارٹ فونز پر ویڈیو بنا رہے تھے اور بعد میں یہ ویڈیوز فیس بک پر پوسٹ کی گئیں۔
ٹھیک ایک ہفتے بعد کیو ایس کی فہرست سامنے آ گئی۔ اس فہرست میں اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کو پاکستان کی سب سے اچھی یونیورسٹی قرار دے دیا گیا اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پس منظر میں چلی گئی۔
ایسی من گھڑت درجے بندیوں کی عجیب و غریب داستانیں جا بجا ملیں گی۔ درجہ بندی کرنے والے یہ تجارتی ادارے اپنی فہرستوں کی تیاری کے لئے معائنہ کرنے کے لئے متعلقہ یونیورسٹیوں میں اپنے کوئی انسپکٹر نہیں بھیجتے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو فارم بھیج دئیے جاتے ہیں۔ انتظامیہ جو جی میں آئے لکھ کر فارم واپس بھیج دیتے ہیں۔ درجہ بندی کے لئے ایسے معیار قائم کئے جاتے ہیں جس سے گاہک خوش ہو جائے۔ یوں سب فائدے میں رہتے ہیں۔ ماسوائے طلبہ کے۔
رینکنگ کرنے والے دنیا بھر کے اداروں بارے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ان کے طریقہ کار میں تسلسل نہیں ہے، درجہ بندی کا معیار بدلتا رہتا ہے جبکہ اہم نوعیت کی معلومات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ 

چالباز پروفیسر حضرات بھی اس کھیل کو سمجھتے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ یہ کھیل کیسے کھیلنا ہے۔ یوں ان کی ترقی جلدی جلدی ہونے لگتی ہے اور ترقی کا مطلب ہے مالی فائدہ۔ ایسے ممالک جہاں اکیڈیمک اخلاقیات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہاں تو ایسی درجے بندیوں سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ۔

مگر پاکستان میں جہاں 2002ء کے بعد سے اکیڈیمک اخلاقیات پستی میں گرتی جا رہی ہیں، یونیورسٹی رینکنگ کے نام پر خوب فائدہ اٹھایا گیا ہے۔
ذرا ملاحظہ کیجئے:

 تین ہفتے پہلے ملک بھر کے اخبارات میں یہ اچھی خبر نمایاں کی گئی کہ دنیا بھر کے 159,683 سائنس دانوں میں سے 81 پاکستانی سائنس دانوں کو ان کی پبلی کیشنز اور حوالہ جات کی وجہ سے منتخب کیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق سٹینفورڈ یونیورسٹی نے ان 81 شخصیات کو دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنس دانوں میں شامل کیا ہے۔
یہ سراسر جھوٹ ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی نے ایسی کسی فہرست کی توثیق نہیں کی۔ اس فہرست کے چار میں سے ایک مدوّن، جان پی اے آئیونیڈس، کا تعلق سٹینفورڈ یونیورسٹی سے ہے۔ وہ میڈیکل سٹیٹسٹکس کے پروفیسر ہیں جبکہ باقی تین کا تعلق نجی شعبے سے ہے۔ ان کی تیار کی گئی فہرست اس بنیاد پر بنائی گئی ہے کہ ایک ڈیٹا بیس میں موجود شائع شدہ مقالوں کی تعداد کو کمپیوٹر میں ڈال کر فہرست تیار کر دی جائے۔
یہ فہرست پاکستان کی حد تک تو بے معنی ہے۔ کسی شائع شدہ مقالے کا تحقیقی معیار یا سائنسی معیار کیا تھا، اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بغیر تحقیق کئے اور بغیر سائنس کی شُد بد کے، سائنسی مقالے لکھنانہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی دھوکے باز پروفیسروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
اشاعت کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ مقالوں کو شائع کس طرح کرانا ہے۔ چالاک پروفیسر حضرات کے پاس اس کام کے لئے بھی درجنوں گُر موجود ہیں۔
تیسرا اور ذرا مشکل مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ان مقالوں کو دیگر محقیقین اپنے مقالوں میں بطور حوالہ استعمال کریں تا کہ حوالہ جات کی مد میں بھی کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اس مرحلے میں دھوکے باز پروفیسر اپنے دھوکے باز دوستوں کا سہارا لیتے ہیں۔ انڈیا، چین، جنوبی افریقہ اور بعض دیگر ممالک میں ایسے دوست وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
تعلقات پر مبنی اس نیٹ ورک کو حوالہ جات مافیا (Citation Cartel) کہا جاتا ہے۔ یہ مافیا ہر سال بے شمار مقالے شائع کرتا ہے مگر ان کی شائع کی ہوئی مطبوعات پر مبنی بے معنی ڈھیر اصل سائنس دانوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

پاکستان میں البتہ اس کام سے کئی فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ آپ چیئرمین سے ہوتے ہوئے ڈین، وائس چانسلر یا ایک با اثر کل پرزہ بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ پھر کسی حقیقی اکیڈیمک کا کام بھی سامنے نہیں آنے دیتے تاکہ ان کا اپنا پول نہ کھل جائے۔
’سٹینفورڈ فہرست‘ میں جگہ پانے والے چند سائنس دانوں کو تو میں جانتا ہوں۔ ان سائنس دانوں کی حالت یہ ہے کہ سٹینفورڈ یونیورسٹی جیسی کسی ڈھنگ کی یونیورسٹی میں بطور انڈر گریجویٹ داخلے کے لئے اس یونیورسٹی کا داخلہ ٹیسٹ بھی پاس نہ کر سکیں۔ باقیوں بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہو سکتا ہے وہ واقعی اچھے سائنس دان ہوں۔ سپیشلائزیشن کے اس دور میں ایک سائنس دان یہ کیسے طے کرے کہ مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے دیگر سائنس دانوں کے کام کا معیار کیا ہے؟
پاکستان میں حقیقی پروفیسروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے اس لئے یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے جو موجودہ مہتمم ہیں، ان سے تو کوئی توقع نہ رکھی جائے کیونکہ ان کا تو دھندا ہی فراڈ کی مدد سے چل رہا ہے۔
ہزار میں سے سو حقیقی پروفیسر تلاش کرنا بھی مشکل ہو گا۔ پاکستان میں یونیورسٹی کا نظام شائد اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں بہتری کی گنجائش باقی نہیں رہ چکی۔

 فرض کیجئے آپ اس قدر مایوسی کا شکار نہیں ہیں۔ ایسے میں اچھے بُرے کی تمیز کیسے کی جائے؟
آسان سا حل ہے: ہر یونیورسٹی اور ہائر ایجوکشن کمیشن یہ شرط رکھ دے کہ،  جو اکیڈیمک بھی سائنسی مقالے پیش کرنے کا دعویٰ کرے، اُسے کہا جائے کہ وہ ماہرین کے سامنے اپنا مقالہ پیش کرے۔ یہ ماہرین اس سے سوال جواب کریں۔ اچھی ساکھ رکھنے والے غیر ملکی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ ٹیکنالوجی (زوم، سکائپ، ایبیکس وغیرہ) کے ہوتے ہوئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس سارے عمل کی ویڈیو بھی بنائی جائے تا کہ آئندہ بھی لوگ اس عمل کو دیکھ سکیں۔ مقالہ نگار سے پوچھا جائے کہ متعلقہ مقالے نے ہمارے علم میں کیا اضافہ کیا ہے؟۔
یہ عمل بھی بہت جامع عمل نہیں ہے۔ شفافیت ہر مرض کا علاج نہیں۔ 

پھر بھی اس عمل کے نتیجے میں سٹینفورڈ کی تیار کردہ فہرست میں 80 سے100 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔

 خود نمائی اور سرکاری پالیسیوں نے، جن کی وجہ سے بد دیانتی کا کلچر فروغ پاتا ہے، پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جب تک سخت اقدامات نہیں کئے جاتے، اس زوال پذیری کو روکنا ممکن نہیں۔ ہمیں اب اس کام کا آغاز کر دینا چاہئے۔

(تحریر: ڈاکٹر امیر علی ہود بھائی)
 دسمبر 14۔2020 

٭٭٭٭٭٭

 (نوٹ: یہ تحریر محض علمی مقاصد کیلئے شیئر کی گئی ہے۔)



بدھ، 27 نومبر، 2019

بیرون ممالک ڈاکٹری کریں اور لاکھوں کمائیں

اس وقت پاکستان میں گورنمنٹ میڈیکل کالجز کے داخلے مکمل ہو چکے ہیں ۔پرائیویٹ میڈیکل کالجز بھی ایک ہفتے تک یہ سارا عمل مکمل کر لیں گے۔ اس کے بعد ڈاکٹر بننے والے "خوش نصیبوں" کی قسمت کا فیصلہ مکمل ہو جائے گا ۔لیکن وہ نوجوان جنہوں نے اپنے یا اپنے والدین کے خوابوں کی تکمیل کے لئے ڈاکٹر بننے کا  ہر قیمت پہ ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا ہوا ہے یا تو ایف ایس سی  Repeat کریں گے یا پھر   دوسرے مضامین لے کر گریجوئشن کرنے کی کوشش کریں گے ۔
نوجوان دوستو ! ہمت مت ہاریں ! آپ کے ڈاکٹر بننے کا بہترین  مشورہ ہمارے پاس ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان بچے اپنا مستقبل اپنی پسند کی فیلڈ میں بنائیں 
۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر آپ کا پاکستان کے کسی میڈیکل  کالج میں داخلہ نہیں ہوا تو کیا ہوا ، بیرونِ ملک MBBS کرنے کے بہت سے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں ، جہاں بے شمار میڈیکل کالج آپ کو داخلہ دینے میں بالک نہیں ہچکچائیں گے ۔ 
 بیرونِ ملک  سے MBBS  کرنا ،  پاکستان کی نسبت    MBBS کرنے سے بہت آسان ہے  اور پاکستان سے خرچہ بھی بہت کم آتا ہے، بس پاکستان میں آکر ایک چھوٹا سا امتحان PMDC  کا پاس کرنا ہوتا ہے ، اِس امتحان کیا پاکستان کے ہر امتحان کے لئے  " سفارش" چلتی ہے ، بس پھر پاکستان میں لاکھوں روپیہ مہینہ کمائیں  ۔
پاکستانی سٹوڈنٹس کے لئے خرچ تعلیم کے لحاظ سے ، تائیوان ، ہنگری ، پولینڈ ، ملائشیاء ، جرمنی ، ارجنٹینا ،  چین اور میکسیکو  ہیں ۔ اگر آپ وہاں محنت کریں تو آپ کی فیس بھی کم ہوجاتی ہے ۔ 
آپ ہمارے سٹڈی ایجنٹ سے رابطہ کریں وہ آپ کو  فارم بھرنے ، سٹوڈنٹ ویزہ کے لئے ایپلائی کرنے ، میڈیکل کالج کی فیس جمع کروانے تک  مکمل معلوما ت نہ صرف فراہم کرے گا بلکہ آپ کو میڈیکل کالج میں پہنچنے تک پورا ساتھ دے گا ۔ 
ہمارے سٹڈی ایجنٹ کا موبائل نمبر 923XXXXXX+ ہے آپ بس ایس ایم ایس کریں وہ آپ سے خود رابطہ کرے گا ۔ 
میں چونکہ خود ایک فارن میڈیکل گریجوایٹ ہوں لہذا اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں ایسے لوگوں کو کچھ حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ 
یہ راستہ اتنا آسان نہیں جتنا عام طور پہ 19,18 سال کی جذباتی عمر میں دکھائی دیتا ہے۔اِس راستے میں آپ کو پہلا ہمدرد جو ملے گا وہ  "سٹڈی ایجنٹ" کہلاتا ہے ۔
یہ  آپ کے ڈاکٹر بننے کے لیے واحد امید ہوتا ہے ، یوں سمجھیں کہ گہرے تاریک سمندر  میں روشنی کا مینار ہوتا ہے۔
لہذا یہ آپ کو اپنے والدین سے بھی زیادہ خیر خواہ محسوس ہونے لگتا ہے، یہ آپ کو ہر قسم کے جھوٹے خواب دکھاتا ہے. یونیورسٹی کی غلط معلومات دیتا ہے اور انتہائی کم فیس بتاتا ہے. یہ بندہ آپ کو آپ کے علم کے مطابق انفارمیشن دیتا ہے۔
 یہ آپ کو بتاتا ہے کہ پاکستان واپس آ کر PMDC کا ایک معمولی سا ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے جو تھوڑے بہت پیسے دے کر ہو جاتا ہے اور میرے پاس اندر تک ذرائع موجود ہیں اور میں آپ کا یہ کام بھی کروا دوں گا۔
 مگر یاد رکھیں! یہ تمام باتیں جھوٹ اور فراڈ پہ مبنی ہیں. ان کا مقصد صرف آپ کو شیشے میں اتارکر اور  آپ کو داخلہ دلوا کر اپنا کمیشن کھرا کرنا ہے ۔
 پاکستان واپسی پر مختلف وقفے سے PMDC کے تین امتحان لیے جاتے ہیں، جو کافی مشکل ہوتے ہیں اور وہاں پیسے دے کر پاس ہونا ناممکن بات ہے۔
میرے بہت سے کلاس فیلوز اور سینیئرز کئی مرتبہ امتحان میں ناکام ہو کر ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا چھوڑ چکے ہیں اور واپس اپنے آبائی پیشے سے منسلک ہو کر  مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
 PMDC کا  امتحان پاس نہ ہونے کی وجہ سے اِن لوگوں کے پانچ سال اور والدین کے لاکھوں روپے ضائع ہو چکے ہیں۔ڈاکٹری کے لحاظ سے ، ان کا مستقبل مکمل تاریک ہے۔جب تک  PMDC کا امتحان پاس نہ ہوں ، یہ پریکٹس بھی نہیں کر سکتے ۔
یہی وجہ ہے کہ اِن میں بہت سے لوگ نقسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو کر خود ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ کبھی کبھار خودکشی کی خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں۔
موجودہ ڈالر کے ریٹ کی وجہ سے ۔  ٹیوشن فیس چین کے لئے  4500 ڈالر سالانہ  (70 لاکھ روپے ) بنتی ہے اور  4000 ڈالر سالانہ  (62 لاکھ روپے ) بنتی ہے۔ وہاں کی رہائش  دیگر اخراجات اور ہوائی سفر کا ٹکٹ ، ایجنٹ کی فیس  شامل نہیں ۔ 
ممکن ہے بہت سے والدین بیٹے کے شوق کے سامنے ہتھیار ڈال دیں ۔اور کہیں نہ کہیں  سے  قرض لے کر بیٹے کو باہر بھیج دیں ۔ 
یہ بھی ممکن ہے کہ بیٹا اپنی خواہشات کے مطابق اپنی روش تبدیل کرکے بہت محنت کرے ، لیکن اِس کے لئے اُس کو اپنا رات دن پڑھائی کے لئے ایک کرنا ہوگا ۔ جس کے 10 سے 20 فیصد چانس ہوسکتے ، 80 سے 90 فیصد طلباء والدین کا پیسہ ضائع کرکے واپس آجاتے ہیں ۔ 
تصویر  دوسرا رخ، جو "سٹڈی ایجنٹ" آپ کو کبھی نہیں بتائے گا۔
آپ کو بغیر تنخواہ ہاؤس جاب اور ہر میرٹ پہ مقابلے کے لیے دوسروں سے زیادہ محنت کرنا ہو گی۔  آپ سرکاری نوکری سے ساری زندگی وہ خرچ پورا نہیں کر سکیں گے جو آپ کی تعلیم پہ ہو چکا ہو گا۔ 

اگر آپ  میڈیکل کالج میں داخلہ کم  میرٹ کی بنیاد پر نہیں لے سکے  اور آپ  اپنے خاندان کا سہارا بننا چاہتے ہیں  ، تو کسی اور شعبے میں اپنی قسمت آزمائیں ۔
اپنے ایجوکیشنل Apptitude سے ہم آہنگ  کوئی دوسری ڈگری حاصل کریں یا بزنس  کے طرف توجہ دیں ۔ 
پانچ سے چھ سال بعد جب آپ کا کوئی دوست واپس آ کر PMDC کے امتحان میں خوار ہو رہا ہوگا ۔ تب تک آپ اپنا کاروبار establish کر چکے ہوں گے۔
 کوئی بھی قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں۔ کیونکہ اپنے کسی بھی فیصلے کے ذمہ دار صرف آپ خود ہوں گے۔  کوئی "سٹڈی ایجنٹ" آپ کی ناکامی پر ذمہ داری قبول نہیں  کرے گا۔
 (ڈاکٹر مصعب فرقان گوجرانوالہ DHQ ۔ )
٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر صاحب سے معذرت ، کہ تحریر کی بلاگ کے لئے کچھ تبدیلی اور اضافہ کیا ہے ۔مہاجرزادہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 14 اگست، 2019

وارننگ ۔ آپ کا قیمتی انگوٹھا ۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی انگلیاں کے نشانات کتنے اہم ہیں ؟
1- یہ آپ کی شناخت ہیں !
 اب تمام دنیا میں ۔ انگلیوں کے نشانات اور آنکھ کی پُتلی سے آپ یک دم شناخت کئے جاسکتے ہیں ۔  2-آ پ کا شناختی کارڈ ، پاسپورٹ ، بنک اکاونٹ   ، انگلیوں کے نشانات سے لنک کئے جاچکے ہیں ۔

یہ تو سب کو معلوم ہے ، کہ ہر انسان کے انگلیوں کے نشانات اور آنکھ کی پتلیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔
آپ کا بنک اکاونٹ ، اُسے صرف ، اپنے دستخطوں سے آپ ہی آپریٹ کر سکتے تھے ۔ 
جب دستخطوں کی ہوبہو نقل کرکے بنکوں سے کسی دوسرے کے اکاونٹ سے نکالے جانے لگے ۔ تو مزید حفاظت کے لئے  ڈیجیٹل کریڈٹ کارڈز بنائے گئے ۔


لیکن کیا ہوا ؟
بنک والوں کی تمام تر احتیاط  کے باوجود ، آپ کی مرضی سے  ، ڈیجیٹل کریڈٹ کارڈز  کی مدد سے آپ کی مرضی سے آپ ہی کے بنک اکاونٹ میں ڈیجیٹل ڈکیتی ہونے لگی  !
بنک والوں نے مزید حفاظتی تدابیر اختیار کیں  اور انگلیوں کے نشانات کی مدد اے اے ٹی ایم مشین سے   کارڈ کے ذریعے رقم نکلانے کا طریقہ متعارف کروایا ۔
لیکن ڈیجیٹل چوروں نے اُس کو بھی  قابو کر لیا ۔لیکن کیسے ؟
یہ تو آپ کو معلوم ہے ، کہ انٹر نیٹ  کے ذریعے آپ ڈیجیٹل چوروں کو  اپنے موبائل ، کمپیوٹر ،لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ   میں گھسنے کا موقع خود دیتے ہیں  ۔ 

لالچ ہرا نسان کے ساتھ پیوست ہے ۔ اور لالچ کے کئی روپ ہیں ۔ 
پیغام  انسان کو لالچ پر اُکساتا ہے ۔ جیسے پہلے کروڑپتی افریقی بیوہ کی طرف سے پیغام آیا کرتے تھے ۔ رقم ، محبت ، خوبصورت تصویر ، خزانے کا کھوج یا اِس طرح کے کئی لالچ سے  انسانی تاریخ بھری پڑی ہے ۔اور میں نے بھی مضمون لکھیں ہیں جو سب سے نیچے درج ہیں ۔
آپ کو یاد ہوگا ، کہ چند مہینوں پہلے ، ذہین نوجوان نے وٹس ایپ اپلیکیشن پر انسانی بھلائی کے لئے کام کیا ، جو دیکھتے ہیں دیکھتے دنیا بھر کے نوجوانوں میں مقبول ہوگئی ۔
پھر چھوٹی چھوٹی مزاح کی ایپلیکیشن آنے لگیں ۔ جس کو آپ کلک کرتے تو کوئی پھول ، ڈبہ یا کارڈ کھلتا اور آپ حیرانی سے دیکھتے رہتے ۔ اورخوش ہوتے دوسروں کو شئیر کرواتے ۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا ۔
پھر وہ نوجوان  ،جن کے بنک اکاونٹ تھے اُنہوں نے اپنے موبائل اور سمارٹ فون ، رقم کی منتقلی کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ تو ڈیجیٹل چوروں کی چاندی ہونے لگی ،
اور بنکوں کو گالیاں پڑنے لگیں ، کہ میرے اکاونٹ سے رقم کِس نے نکلوائی؟
بنک کا سادہ جواب  ہوتا۔ " آپ نے "
جب  بائیومیٹرک شناخت کادور شروع ہوا  تو موبائل سے اکاونٹ آپریٹ کرنے والوں نے سکون کا سانس  لیا ۔ 

لیکن پھر  بنکوں کو گالیاں پڑنے لگیں ، کہ  میری بائیو میٹک آئیڈنٹی ٹی  ، کس نے استعمال کرکے میرے اکاونٹ سے رقم  نکلوائی ؟
بنک کا سادہ جواب  ہوتا۔ " آپ نے "
" میں نے " آپ دھاڑتے " ناممکن ہے ، آپ کا کوئی کارندہ ہوگا "
" جناب ، ناممکن ہے ہمارا کوئی نمائندہ آپ سے وٹس ایپ پر بات نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کے انگوٹھےکا نشان مانگتا ہے ۔  آپ نے ضرور کسی کو اپنے انگوٹھے کا نشان دیا ہوگا "
اب آپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں ، کہ میں نے کب کسی کو اپنے انگوٹھے کا نشان دیا تھا ؟
آج 14 اگست ہے ، آپ نے مہاجر زادہ کی طرف سے فارورڈ کی ہوئی  ایک پوسٹ کھولی ۔ جس کو کھولتے ہیں  آپ کی سکرین پر قوس و قزاح بکھر گئے ۔ اور آزادی مبارک سے سکرین روشن ہوگئی ۔ جب یہ چھوٹی سی ایپلیکشن   ختم ہوئی تو پیغام ابھرا ،
" آپ بھی   یہ خوبصور ت  ایپلیکیشن اپنے دوستوں کو پوسٹ کرنا چاہیں تو سکرین پر اوکے دبائیں ۔
آپ نے اوکے دبایا ، تو پیغام آئے گا ۔



 آپ کو فوراً یاد آجائے گا ، کہ ایسا ہی پیغام چھوٹی عید پر بھی آیا تھا ؟؟؟؟
 تو کیا میرے اکاونٹ سے رقم اُڑانے کے لئے ،  انگوٹھے کا نشان اِس طرح کاپی کیا گیا !
اوہ میرے خدا !
آپ فوراً   ، اپنے بنک کو فون کریں گے ، کہ انگوٹھے کے نشان سے میری رقم نکلوانے کی سہولت ختم کردیں ۔ 

تو کیوں نہ یہ موقع آنے سے پہلے ہوشیار ہوجائیں !


 ٭٭٭٭  ٭فراڈیوں کی خلاف مہاجر زادہ کا جہاد ۔ ٭٭٭٭٭

جمعہ، 28 ستمبر، 2018

پاکستانی ٹھگ

 مگر ایسا نہیں تھا، حالات ناسازگار و نامساعد پاکر ٹھگوں کے بچے کچے افراد نے اپنے آپ کو نئے روپ میں ڈھالا اور جو بظاہر جس بھی مذہب کا پیروکار تھا اسی کے مطابق ایک نارمل زندگی گزارنے لگا اور یہ سب کے سب مناسب موقع کے انتظار میں چپ چاپ خاموشی سے شرافت کی زندگی گزارتے رہے مگر اپنی اولادوں کو ٹھگی کی تربیت اور سارے طور طریقوں کی وراثت دے کر جاتے رہے، یہ برادری اس انتظار میں رہی کہ کب انہیں دوبارہ پنپنے کا موقع ملتا ہے کیونکہ یہ ان کے بنیادی عقائد میں سے ایک بڑا اہم عقیدہ ہے کہ ایسا تو ہوسکتا ہے کہ دنیا سے کبھی نیکی اور اچھائی بالکل ختم ہوجائیں لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے کہ برائی اور گندگی بالکل ختم ہوجائے۔ 
ٹھگوں کی آئندہ نسلوں نے اپنے بنیادی عقائد کو خفیہ رکھتے ہوئے اور بظاہر ہندو، مسلم یا عیسائی مذہب کے پیروکار رہتے ہوئے خود کو دنیا سے ہم اہنگ کرنے کے لئے جدید تعلیم اور اصول و آداپ برائے حال و مستقبل سے اگاہی بھی حاصل کی اور خود کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب بھی رہے۔
٭-  کیا اب اس دور جدید میں پاک وطن میں بھی  ٹھگ موجودہیں یا نہیں؟
٭- اور اگر موجود بھی  ہیں  تو کیا سرگرم عمل ہے یا نہیں؟
٭- اُن کا انسانوں کو ٹھگنے کا طریق کار کیا ہے ؟


 اس بارے میں کوئی یقینی شہادت تو ابھی تک نہیں سامنے آئی البتہ کچھ طبقات و افرادجو تحقیق سے علاقہ رکھنے کے دعوے دار ہیں اور اسی طرح کی تحقیقات میں اپنا وقت گویا ضائع ہی کرتے رہتے ہیں وہ اپنے پیش کردہ قرائن و شواہد کی بنیاد پر لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ یہ گروہ، یہ قبیلہ، یہ برادری نہ صرف موجود ہے بلکہ ترقی یافتہ شکل میں پوری طرح سے سرگرم عمل بھی ہے، بس اس قبیلے نے اپنا نام اور طریقہ واردات ذرا تبدیل کردیا ہے۔ یہ اب کسی مرکزی نظام کے تابع نہیں ہیں، بلکہ اپنی اپنی انفرادی سطح پر کام کررہے ہیں۔ ہمارے محققین ان کے بارے میں چند نشانیاں، جو ان کی شناخت میں کسی حد تک معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ، کچھ یہ بیان کرتے ہیں کہ، ٹھگ ہمیشہ خوش پوش اور خوش باش حلئے میں ہوتا ہے، یہ خوش گفتار اور باتیں مٹھارنے کا ماہر ہوتا ہے، یہ پیسے کے حصول کے لئے کوئی بھی حد عبور کرنے کے لئے نہ صرف تیار بلکہ اگر بے چین کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، رہتا ہے۔ یہ اپنے زیر دست لوگوں کے سامنے شیر اور بالا دست افراد کے آگے ڈھیر ہوتا ہے، یعنی زبر دست کے سامنے گڑگڑاتا اور زیر دست کے سامنے غراتا ہے، یہ عام طور پر اپنی گفتگو میں بلند و بالا باتیں کرنے، اعلی اخلاقی اصولوں کا پر چار کرنے اوراپنے اپنے مذہب کے مذہبی حوالے دینے میں بڑا ماہر ہوتا ہے۔ نرمی، انکساری، لجاجت سے پیش آنا اور بڑی سی بڑی توہین آمیز بات پر بھی غصے نہ ہونا اور ٹھنڈا رہنا اور ٹھنڈا کر کے کھانا ان کا خاص وصف ہے، گر اسے وصف کہا جاسکے تو! 
خوشامد میں اگر ڈگری دی جا سکتی ہوتی تو ہر ہر ٹھگ خوشامد میں پی ایج ڈی کے معیار کا حامل ہوتا ہے، یعنی بلا کا خوشامدی اور بانس پر چڑھانے کا ماہر ہوتا ہے۔ ایہ اپنے مقصد کے حصول اور شکار کو ٹھگنے کے لئے بڑے صبر سے انتظار کرنے میں ماہر ہوتے ہیں، یہ عام طور سے پانچ برس یا اس سے بھی زیادہ انتظار کر سکتے ہیں۔ ویسے معیاری دورانیہ پانچ برس ہی عموما ہوتا ہے۔
 یہ برادری اب عام لوگوں میں اسی طرح گھل مل کر رہتی ہے جس طرح  عقلمند اور ہوشیار فنون لطیفہ سے منسلک اس بازار کی مستند خواتین نے کافی پہلے ہی ہوا کا رخ بھانپ کراور اپنی نئی نسل کی خواتین کی جدید خطوط پرتعلیم و تربیت دےکر اور انہیں ماڈرن طور طریقے سکھا کر عام آبادیوں میں رہائش اختیار کرلی ہے اور اس جدید ماڈرن اور فیشن ایبل ماحول، اور فنون لطیفہ و انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں ان کی شناخت کرنا اب بہت مشکل سا ہوگیا ہے ،کہ کون اس بازار سے تشریف لائی ہیں اور کون نہیں ؟
 ٹھگ جھوٹ بولنے کے بڑے ماہر ہوتے ہیں اور اس صفائی سے بڑا حساب کتاب کر کے اور اعداد و شمار کا استعمال کرکے جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کا جھوٹ پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ قریب بہ محال ہوتا ہے۔
 آخر میں ٹھگوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ اپنی ٹھگی کو باوزن بنانے کے لئے بات بات پر قسم کھانے اور حلف اٹھانے کو فورا ہی تیار ہوجاتے ہیں۔ امید ہے کہ ٹھگوں کی ان مبہم سی نشانیوں سے عوام الناس کوانہیں پہچاننے میں کچھ نہ کچھ مدد تو ضرورملے گی کہ
 عقلمند را اشارہ کافی است۔
(بشکریہ : خرم علی عمران) 



  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔