Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 28 اگست، 2021

29 اگست کی ڈائری ۔ دل کی گلیاں اور آوارہ گردی


بوڑھے نے جب اتوار 29 اگست 2021 کو  ڈاکٹر لیفٹننٹ کرنل اظہر  علی چوہدری سے سنا کہ اُس کے دل کی گلیوں  کی کھوج لگائی جائے گی ۔

کہ کہاں یہ  گلیاں شکستہ ہو گئی ہیں ۔کہاں  گلیات بن چکی ہیں اور کہاں  اُنہوں نے راستے ہی  بدل لئے تو بوڑھے کے ذہن میں ایک کوندا  سا  لپکا  ۔

  یوں دِل کی گلیوں میں آوارہ نہ بھٹکتے یارو۔ پاس رہنے کو جو گر اِس شہر کا نقشہ ہوتا۔ 

بوڑھے نے یہ خبر بڑھیا کو سنائی ۔ بڑھیا کی تشویش زدہ آواز آئی۔ 

یہ تو انجائینا والوں کی ہوتی ہے ۔ کہیں خدا نخوستہ کیا آپ کو ۔  ۔  اللہ نہ کرے توبہ توبہ ۔

نعیم ،میرے دل میں ہول اُٹھ رہے ہیں ۔

آپ کے بستر کی طرف دیکھتی، رات خالی دیکھ کر ہول  اُٹھ رہے تھے ۔ میں رات کو نہیں سوئی بس دعائیں مانگتی رہی ۔

بس آپ ڈسچارج لے کر آجائیں میں نے سنا ہے کہ انجیوگرافی بہت خطرناک ہوتی ہے ۔ 

بڑھیا نے ایک سانس میں سوشل میڈیا کی ساری داستانیں سنا دیں۔

وہ جو میں ایک ماہ سے گیسٹ روم میں سو رہا تھا ۔ تب بھی تو بستر خالی تھا ۔ بوڑھے نے شکوہ کیا ۔

وہ تو  ڈولی اور عالی (چم چم)  سوتی ہیں      ۔ 

اچھا ایسا ہے کہ فیمیلیا وٹس ایپ پر ڈولی نے انجیو گرافی کی وڈیو بھجوائی ہے وہ دیکھ لو ۔ تسلی ہو جائے۔ اب انجیوگرافی بہت ایڈوانس ہو گئی ہے فکر کی بات نہیں۔ ڈاکٹر پورے دل کا معائینہ کرکے بتادیں گے ۔

لاہور سے یونٹ آفیسر بریگیڈئر محمد طارق ارشد نے فون کیا۔

 " نعیم پریشان نہ ہونا میری انجیو گرافی 29 سال کی عمر ہوئی تھی۔ اب تو بہت آسان ہوگئی ہے ۔

قاضی فواد پلاٹون میٹ ملنے آیا ۔ 

 خبردار نہ سٹِنٹ ڈلوانا،  نہ بائی پاس کروانا ۔ باقی زندگی آرام سے جینا ۔

بزنس کے نوجوان دوست ۔ اکرم خورشید نے کہا۔

 میجر صاحب میری 36 سال کی عمر میں تین سٹِنٹ ڈلے تھے ۔اور میں 2005 سے زندگی گذار رہا ہوں ۔

76 سالہ عبدالحفیظ بھائی ،میرپورخاص نے کراچی سے پیغام دیا۔

نہ خود کو بوڑھا سمجھو اور نہ بے چاری کو بڑھیا بناؤ ، ابھی تو ہم جوان ہیں اور ہمارے مقابلے میں آپ بچّے ہو ۔

آہ حفیظ بھائی ۔

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے ۔

محمد اقبال سے معذرت کے ساتھ ۔

ہسپتال کے بستر پہ پہنچے تو سب ہی ایک ہوئے ۔

     فیس بُک،  وٹس ایپ اور میسج میں ، اُفق کے پار بسنے والے ،  بوڑھے کی زندگی میں  اپنی خوشبوؤں  ، قہقہوں  اور چٹکلوں کی جلترنگ بجانے والے ، تمام پیارے دوستوں ، پنشنرز ، ملازمین  کے پیغامات آرہے۔
دعائیں ، اچھی باتوں اور دل کے لئے ھربل دواؤں کے پیغامات آرہے تھے ۔ کیوں کہ 

بوڑھے نے اپنی 28 اگست کی ڈائری سوشل میڈیا پر نشر کر دی تھی۔

 اور موبائل بند کر دیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭

28 اگست کی ڈائری ۔ آئی سی یو سے اے ایف آئی سی

 بوڑھے کو آج 14:41 بجے دمہ کا شدید حملہ ہوا ۔

وینٹولین پف۔ نیبولائزر کے استعمال کےباوجود دنیا اندھیر ہونے لگی تو ، خدمت گزار نے سنبھالا کار میں بٹھایا ۔ بیٹی اور بہو ۔سی ایم ایچ ایمرجنسی میں لے کر دوڑیں ۔

بیٹی نے کوئی5 یا 6 سال سے کار نہیں چلائی۔خیر اُس نے ہمت پکڑی ۔ باپ کا معاملہ تھا ۔ بہو کی راہنمائی سے سی ایم ایچ آئی سی یو پہنچی ۔ آہستہ آہتہ چل کر میڈیکل آئی سی یو پہنچے زیادہ رش نہ تھا ۔ فوراً لٹایا ابتدائی طبی امداد شروع ہو گئی ۔   

ایک ہمدرد نوجوان نے بازو کی نس میں ٹیکا لگایا اور کہا ۔ سر دل میں گھبراہٹ تو نہیں ہو رہی ۔
بوڑھے  نے کہا ۔نہیں ۔
نوجوان بولا ۔ یہ ٹیکا لگانے سے ہوتی ہے ۔ تو ہم احتیاط کرتے ہیں ۔
وہ ٹیکا لگا کر چلا گیا ۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔ 

میر آس پاس بڑی بیٹی۔ چھوٹی بیٹی کا شوہر ۔ چھوٹا بیٹا اور بہو  کھڑی تھی ۔ میں نے سوچا ۔ کچھ دیربعدڈاکٹر مجھے سفید چادر اوڑھائے گا اور کہےگا ۔ بابے کی زندگی کا سفر ختم ہو گیا ۔اب اسے لے جائیں ۔

ای سی جی نے راز کھولا ۔ کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے ۔ بلڈ ٹیسٹ ہوئے بیٹا اور داماد بھی پہنچ گئے۔

بیٹی ، بہو اور خدمت گذار بڑھیا کو سنبھالنے گھر کو واپس ہوئے ۔   

مغرب کے وقت ڈاکٹر نے کہا داماد  کو کہا :انہیں ایمبولینس میں ۔ اے ایف آئی سی لے جائیں ۔ 

اے ایف آئی سی ، بوڑھا کپڑوں کے لحاظ سے ناگفتہ بے حالت میں تھا کیوں  کہ  بوڑھا صبح 4 بجے کا اُٹھاا ہوا تھا۔ حسبِ معمول ایکسرا سائز کیں ۔ پرندوں کو دانہ ڈالا ، مٹھو کو پنجرے سے آزاد کیا اُس کے سامنے  چُوری ڈالی۔ 

خدمت گذار نے ناشتہ دیا ۔بڑھیا بھی اپنا ناشتہ لے کر باہر آگئی ۔ ناشتے کے دوران دو جنگلی طوطوں کا جوڑا ۔ کبوتروں کے پنجرے پر مٹی کی تھالی میں  گندم کھانے آئے۔ اُنہوں نے آواز نکالی مٹھو نے بھی جواب دیا ۔ ناشتے کے بعد بوڑھے نے مٹھو کو کندھے پر بٹھا لیا ۔ 

 برفی بھی 8 بجے دادی ماں ، دادا بابا کی آوزیں لگاتی باہر آگئی ۔ 

پھرفضا میں پتوں کے جلنے سے دھواں پھیلنے لگا  ۔بوڑھے نے مٹھو کو پنجرے میں ڈالا اُس نے شور مچایا۔
بوڑھا بولا ۔ مٹھو جتناشور مچا لو ، تم نہی جانتے کہ یہاں تین خطرناک بلیاں ہیں اور ایک ظالم بلا۔ اُنہوں نے شور بھی نہیں مچانے دینا۔

مٹھو نے سعادت مندی کی ٹیں نکالی اور پنچرے     میں خاموش ہو گیا۔ 

بوڑھے نے غسل کیا ۔ اور لیپ  ٹاپ پر بیٹھ گیا ۔

ساڑھے دس بجے بوڑھےکے سر میں درد ہوا۔ ہوا بوڑھے نے لیپ ٹاپ کاڈھکن بند کیو اور جاکر بستر پر لیٹ گیا ۔ 15 منٹ بعد خدمت گذار آیا ۔ 

سر تُسی سُتّے پیئے ہو ۔ میں چا ءلیاندی ، طبیعت ٹھیک جے ۔ 

جگر چاء رخ دے تے اِس توں بعد ڈسٹرب نہ کرنا ۔تے آنٹی نوں وی دس دے ۔

چائے رکھ ر وہ چلا گیا بوڑھے نے چائے پی ۔اور لیٹ کر نیند کی وادیوں میں چلا گیا ۔

کوئی  پونے بارہ  بجے ،صفائی کرنے والا آیا اُس نے نہایت خاموشی سے وائپر لگایا ، بس ظلم یہ کیا کہ کمرے اور برآمدے کا دروازہ کھول دیا ،اور باہر فضا کا دھواں بلا اجازت کمرے میں گھس  کر کمرے کی فضا کو مسموم کردیا   ۔ بوڑھے کو شدت سے کھانسی ہوئی آ نکھ کھلی۔ تو وجہ معلوم ہوئی۔کوئی گھنٹہ بوڑھا بستر پر لیٹا کھانستا رہا ۔ پھر اُٹھ کر لاؤنج میں آیا اور لیپ ٹاپ پر بیٹھ گیا۔  دھواں یہاں بھی تھالیکن بہت کم طبیت کچھ سنبھل گئی ۔

دو بجے کھانا کھانے لاؤنج میں آیا ۔ یہاں دھواں زیادہ تھا۔ خیر کھانستے کھانستے اور پَف لیتے ہوئے کھانا کھایا ۔ غلطی یہ کہ کہ بوڑھے نے تربوز کو ہلکا سمجھتے اسراف کر لیا ، معد ہ بھرنے کی وجہ سے پھیپھڑوں پر دباؤ پڑا ۔اور پونے تین بجے  کھانسی کا دورہ پڑا ۔

بڑھیا نے کہا ۔ آپ نیبولائزر لے لیں ۔ نیبولائزر کی تلاش شروع ہوئی وہ برتنوں کی الماری سے باز یاب ہوا ۔ انکوائری پر معلوم ہوا ۔ کہ ملازم نے شیکر نما چیزسمجھ کر وہاں رکھدیا۔

نیبولائزیشن سے فرق نہ پڑا۔ دورہ شدید تر ہوتا گیا ۔  بوڑھا کھڑا ہوکرجلدی جلدی پَف لینے لگا ۔ بوڑھے کو یوں لگا کہ سانس کی نالی مکمل بند ہورہی ہے ۔ سر میں دھماکے ہونے شروع ہوئے اور ساتھ ہی آنکھوں میں تارے ناچنے لگے ۔ جسم پسینہ پسنہ ہو گیا ۔ بوڑھاواپس صوفے پرگر گیا۔ اور یوں ،بڑھیا، ڈاکٹر بہو اوربیٹی نے ایمر جنسی مچا دی ۔ بیٹا اور داماد آفس گئے تھے وہ ہسپتال کی جانب دوڑے ۔  

بوڑھا داماد کے ساتھ گھر آیا ۔ نہایا کپڑے دوسرے پہنے اور بیٹے کے ساتھ اے ایف آئی سی ایمرجنسی  آگیا ۔گھنٹہ وہاں گذارا۔

ڈاکٹروں نے ایڈمٹ کر لیا کہ بوڑھادمے کے حملے سے نہیں دل کے حملےسے گذر چکا ہے ۔ چنانچہ بوڑھا مستقبل کے آئیندہ دلی حملات سے بچنے کے لئے ۔ مکمل چیک اَپ و ماہر امراض قلب کی رائے اور مزید احتیاط کے لئے داخل ہو گیا ۔

 ڈاکٹر کی رائے تو صبح ملے گی بڑھیا نے ٹھوس رائے دے دی ناشتے میں انڈا بند ۔ چم چم بوڑھے ناناکواپنے بابا، پھپو ، دادو ۔ چاچو  اور بڑھیا کے ساتھ  دیکھنے  آئی ۔ 

آوا آپ نے میرے پاس روم آنا ہے ۔ 

بوڑھا بولا ۔ نانو کو بلا لینا ۔

  نو وے ۔ چم چم بولی۔

اچھا ماما نے کہا ہے ، آپ  کی مسکراتے ہوئے سیلفی بناؤں اور فیمیلیا پر ڈالوں ۔

 برفی نے دادا بابا کے لئے چاکلیٹ بھجوائی۔ تو پیارے دوستوں ۔ دعاؤں میں یاد رکھیں ۔

اللّهُ لَا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
-

٭٭٭٭٭٭٭٭


 

٭٭٭٭٭٭٭


جمعہ، 27 اگست، 2021

بوڑھے کا پہلا ای چالان


بوڑھے کا  پہلا چالان ۔  جوبوڑھے  نے آن لائن ایزی پیسہ سے ادا کیا۔ شکریہ پنجاب پولیس

   مؤرخہ 26 اگست 2021 ، وقت 10:45 ، بنک روڈ پر چم چم کی کلاس فیلوز کے لئے ، چم چم کے ساتھ تہذیب صدر سے نکلا بنک روڈ پر واپس راؤنڈ اباؤٹ سے تہذیب سے گذر کر حیدر روڈ پر واپس آنے کے لئے آیا ۔

 دائیں طرف دیکھا سڑک خالی اور پانچ یا چھ گاڑیاں کشمیر روڈ پر جاتی نظر آئیں۔

 بوڑھے کو معلوم ہے کہ یہ ون وے ہے ۔

 گاڑیوں کو جاتا دیکھ کر سمجھا کہ شاید قانون تبدیل ہو گیا ہے ۔

 بوڑھے نے بھی گاڑی اُن کے پیچھے ڈال دی ۔وہ  نیشنل بنک  کراس کرکے آگے جا کر دائیں بائیں پارک ہو گئیں ۔ 

بوڑھا جوں ہی کشمیر روڈ میں داخل ہوا چاہتا تھا تو عالم غیب سے ایک چھلاؤہ ٹریفک پولیس کی وردی میں نمودار ہوا ۔اور ہاتھ کا اشارہ کیا

 بوڑھے نے گاڑی روکی ۔شیشہ نیچے کیا ۔

ادب سے بولا :  سر میں آپ کا چالان کروں گا ؟

بوڑھا بولا۔  کردو نوجوان، گردن پھنس گئی کیا کہہ سکتا ہوں ۔ 

سر میں کم سے کم چالان کروں گا ۔ٹریفک اے ایس آئی افضال بولا۔ آپ ڈرائیونگ لائسنس  دے دیں ۔  

نوجوان۔ آپ کا شکریہ ، یہ بتائیں اتنی مہربانی کیوں؟ ۔ بوڑھے نے سوال کیا ۔  "بوہنی" کا پہلا شکار میں ہوں ۔بوڑھے نے ڈرائیونگ لائسنس پکڑاتے ہوئے پوچھا ۔

سر آپ سینیئر سٹیزن ہیں میں لحاظ کرتا ہوں ۔ نوجوان نے جواب دیا 

۔ شکریہ نوجوان۔ وہ جو جونیئر سٹیزن آپ کی گردن،مچان کے پیچھے دیکھ کر ماہر پرندوں  کی طرح   دائیں بائیں ہو گئے وہ بچ گئے ۔ بوڑھے نے پوچھا

نوجوان نے جواب دیا۔  جی سر وہ یہاں سے نہیں گذرے ۔

بوڑھے  نے پوچھا :  اوہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بنک روڈ۔  صرف اِس مچان کے نزدیک ون وے ہے ۔  یہاں سے تھانے تک ڈبل وے ہے ۔ 

سر  تھانے سے ، مری روڈ تک  یہ ون  وے ہے۔ نوجوان چالان بک بھرتے ہوئے بولا۔اور پھر چالان پکڑایا ۔

نوجوان کبھی شام کو بھیس بدل کر یہاں کا شام کو نظارہ دیکھو ۔ بوڑھا بولا۔ 

سر میری ڈیوٹی 12 بجے تک ہوتی ہے ۔ٹریفک اے ایس آئی افضال بولا۔

خیر آپ کی مہربانی یہ بتائیں کہ چالان کس بنک میں جمع کروادوں اور ڈرائیونگ لائسنس کہاں سے لوں ؟

نوجوان بولا :  سر کسی بھی بنک میں جمع کروادیں ۔ سڑک کے آخر میں تھانہ ہے وہیں سے لے لیں ۔

  ابھی جاکر لے سکتا ہوں ؟

 نہیں سر میری ڈیوٹی 12 بجے تک ہے اُس کے بعد لے لیں ۔

 بوڑھا بولا :لیکن میں تو اسلام آباد جا رہا ہوں ۔

سر ضرورجائیں۔ اِس کاغذ کو ڈرائیونگ لائسنس ہی سمجھیں ۔

 

آج  برفی کو سکول سے لینے سے پہلے ، بوڑھا گھر کے پاس عسکری بنک گیا کہ چالان جمع کروادے ، تو اُنہوں نے کہا کہ ہم جمع نہیں کرتے آپ کو نیشنل بنک جانا پڑے گا ۔
بوڑھا واپس مڑا تھا۔ تو ایک مردِ دانا نے بتایا کہ آپ کسی  ایزی پیسہ شاپ سے  بھی جمع کروا سکتے ہیں ۔بوڑھا شکریہ کہہ کر برفی کو سکول لینے چلا گیا واپس آکر ایزی پیسہ سے چالان جمع کروانے کی کوشش کی اور کامیاب ہو گیا ۔ مبارک ہو بوڑھے کو  ۔

اُفق کے   پار ۔پنجاب میں رہنے والے دوستو ۔آپ بھی چالان کروائیں اور گھر بیٹھے ایزی پیسہ سے جمع کروائیں ۔
طریقہ کار :
 ٭۔چالان ٹکٹ ۔


٭۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں  اور سزائیں  ۔
 نوٹ: مہاجرزادہ کے مطابق راولپنڈی کی پولیس چند دن میں اربوں نہیں تو کم از کم کروڑوں روپے چالان کی مد میں حکومت کے خزانے میں جمع کرواسکتی ہے ۔


٭۔چالان کی رقم ادا کرنے کے بعد  ، بوڑھے کا کھاتا ۔    

ای پے پر جانے کے لئے نچلی تصویر پر کلک کریں شکریہ

جب بوڑھا مغرب کے بعد اپنا ڈرائیونگ لائسنس لینے گیا تو معلوم ہوا کہ 9:00تا 17:00  تک آفس کھلا ہوتا ہے ۔ اب شائد بوڑھا کل یعنی بروز ہفتہ  ۔ پولیس سٹیشن میں ٹریفک پولیس کی برانچ میں جائے ۔

 ٭٭٭٭٭ 


پیر، 23 اگست، 2021

زیر سماعت مقدمے کا مُلزم، جج کا سمدھی

 ‏افتخار چوہدری کے سامنے لاہور کے پراپرٹی ٹائیکون ڈاکٹر امجد کا    دو ارب روپے کا  ای او بی آئی فراڈ کیس آیا۔

ای او بی آئی   کے  پیسے آج تک  واپس نہیں ہوئے۔

 کیس کے دوران ہی افتخار چوہدری کی بیٹی کی شادی ڈاکٹر امجد کے بیٹے سے ہو گئی۔ اُس کے بعد ڈاکٹر امجد نے ایڈن ہاؤسنگ کے نام سے تیرہ ارب روپے عوام سے لُوٹے ‏اور مُلک سے فرار ہو گیا۔
چیئرمین نیب نے ڈاکٹر امجد اور مُرتضٰی امجد (داماد افتخار چوہدری) کے وارنٹ جاری کئے اور انٹرپول نے دُبئی میں مُرتضٰی امجد کو گرفتار کر لیا۔

 لیکن لاہور ہائی کورٹ کے جج شہزاد خان (جسے افتخار چوہدری نے تعینات کیا تھا) نے وارنٹ غیر قانونی قرارداد دے دیے اور انٹرپول نے مُرتضٰی کو رہا کردیا۔ ڈاکٹر امجد اور مُرتضٰی فیملی سمیت کینیڈا چلے گئے۔

 نیب نے ڈاکٹر امجد وغیرہ کو اشتہاری قرارداد دے کر اُس کی پچیس ارب جائیداد کی نیلامی شروع کر دی تو جسٹس قاسم خان نے جسے افتخار چوہدری نے تعینات کیا تھا، یہ نیلامی روک دی، ڈاکٹر امجد واپس آ گیا۔
‏جسٹس قاسم نے گرفتاری سے روک دیا، ڈاکٹر امجد نے تیرہ ارب کی پلی بارگین کی درخواست دی تو نیب نے کہا کہ  ، رقم  پچیس ارب کی ہیں کیونکہ عوام کا تیرہ ارب دس سال استعمال کر کے پچیس ارب کے اثاثے بنائے گئے
‏ابھی یہ معاملہ چل رہا تھا کہ  رات 23 اگست 2021 کو   ڈاکٹر امجد کا انتقال ہو گیا۔

مرتضٰی امجد ابھی مفرور ہے۔

  گیارہ ہزار متاثرین ایڈن دس سال سے تباہ ہو گئے۔ نہ پلاٹ، نہ گھر اور نہ ہی رقم واپس ہوئی۔

چوہدری افتخار کی بیٹی اور داماد کینیڈا، بیٹا ارسلان بھی کروڑ پتی، آدھے جج جیب میں۔

یوں  پنشنرز کے دو ارب اور گیارہ ہزار متاثرین کے پچیس ارب ڈُوب گئے۔

انسانی تاریخ میں کوئی ایسی مثال ہے کہ جب زیر سماعت مقدمے کا مُلزم، جج کا سمدھی بن گیا ہو؟

٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون پڑھنے کے لئے ۔

 ٭٭٭٭واپس ٭٭٭ ٭ 


ہفتہ، 14 اگست، 2021

اللہ حافظ، میں تو اپنے جہاز پر جا رہا ہوں۔

٭محمد حنیف کا کالم: جنرل مرزا اسلم بیگ کی مجبوریاں
تحریر : سابقہ پائلٹ آفیسر محمد حنیف
انتخاب : سید رضی الدین احمد، گروپ کیپٹن (ریٹائرڈ)
اشاعت : ویب سائٹ بی بی سی اردو مورخہ ۱۳ اگست ۲۰۲۱
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابتدائیہ اور تعارف :
’’مجھے اگر جنرل ضیا کے جہاز کی مجرمانہ تحقیقات کا انچارج بنایا جاتا تو میں سیدھے سیدھے چار لوگوں کو اندر کرکے آدھے گھنٹے میں سب کچھ اگلوالیتا۔ دو خاکی اسلم بیگ اور محمود درانی اور دو شاہین۔ فاروق فیروز اور حکیم اللہ‘‘۔ یہ الفاظ میرے ضرور ہیں مگر پہلی بار جس کے منہ سے سنے وہ اور میں ۱۹۹۰ میں شورکوٹ کے ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے ایکسپریس ٹرین کا انتطار کررہے تھے۔
المیہ یہ ہے کہ یہ چاروں شخصیات آج بھی زندہ ہیں مگر کہنے والے ظہیر زیدی کو گروپ کیپٹن بن کر بعد از ریٹائرمنٹ انتقال ہوئے کئی برس گزرچکے ہیں۔  پیچیدہ مسائل یا تاریخ کے وہ سوال جن کا جواب تسلی بخش نہ مل سکا ہو انکو کھوجنا۔۔۔میرے پسندیدہ مشاغل رہے ہیں۔ اور جنگ جمل ہو، لیاقت علی خان کا قتل یا جنرل ضیا کے جہاز کا حادثہ۔۔۔سب کچھ کھودا۔  الجبرا کا اچھا طالب علم رہنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر سوال کا حل نہ نکل رہا ہو تو پہلے جواب حاصل کرلو اور جواب سے  واپس سوال کی طرف کا سفر کیا جائے۔ یوں بہت ساری گمشدہ کڑیاں خود بخود مل جاتی ہیں۔
قتل کے وہ مقدمات جن میں ہم آج تک پھنسے ہوئے ہیں انکا حل نکالنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ جواب پہلے ڈھونڈا جائے۔ اور لیاقت علی خان کا قتل ہو یا ضیا کا۔ ان تمام لوگوں کو ڈھونڈا جائے جنکو ان حادثوں سے فائدہ پہنچا یا یوں کہہ لیں کہ حادثے کے بعد کون کہاں پہنچا یا کیا بن گیا۔ ان دونوں حادثات میں البتہ میں کسی غیر ملکی طاقت کا براہ راست ہاتھ ہونا کبھی نہیں مانتا۔ انکو صرف پتہ ضرور ہوتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ باقی الحمداللہ اپنے اس کام کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ اسمیں بے نظیر کا قتل بھی شامل ہے۔‘‘
اتنی تمہید اس لئے باندھی کہ کرنل اشفاق حسین جو خود آئی ایس پی آر سے منسلک رہے اور پروتوکول وغیرہ کی نزاکتوں کو بخوبی جانتے ہیں مگر عرصے سے اسی نرگسیت کا شکار ہیں جسمیں بیگ صاحب بھی مبتلا ہیں، انہوں نے مرزا اسلم بیگ کی سوانح تحریر کرکے مارکیٹ میں پھیلادی۔ کہتے ہیں پوت کے پائوں پالنے میں نظر آجاتے ہیں اور بریانی کی دیگ سے ایک چاول چکھ کر ماہر باورچی پوری دیگ کے بارے میں جان لیتا ہے۔ گویا تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ یہی اس کتاب کا سرورق دیکھ کر سمجھ آگیا جب کرنل اشفاق نے دھڑلے سے اپنے نام کیساتھ (ریٹائرڈ) لکھنے کا کوئی تکلف یا کھڑاک ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ اندازہ ہوگیا اندر سچ کا کتنا خیال رکھا گیا ہوگا۔
ہمارے پاکستان میں ایک صحافی ہیں ۔ ہمالیہ کی چوٹی پر ہمالیہ رکھ دیں تب بھی انکی بقلم خود صحافتی عظمت کو نہ چھو سکے انکی ایک بڑی زبردست خوبی ہے۔ کسی بھی مشہور شخص کے مرنے کے بعد اس سے اپنی کسی ایسی ماضی کی ملاقات کا تذکرہ لکھ ڈالیں گے اور اسمیں ایسے ایسے انکشافات ہونگے کہ سنتا جا شرماتا جا۔ میر تقی میر اور میر درد سے زیادہ میر جعفر سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔ ۔۔۔  اسلم بیگ صاحب کی سوانح میں یہ کرتب بارہا دیکھنے کو ملا۔ ہر وہ شخص جو دنیا سے جاچکا (یا لگ بھگ جانے والا ہی سمجھیں)۔ بیگ صاحب نے اسے ضرور کوئی مشورہ دیا اور اسنے اس پر عمل نہ کرکے گھاٹے کا سودا کیا۔ واہ واہ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیانے بتاتے ہیں کہ بیگ صاحب نے ضیا کی جگہ لینے کیلئے زور تو بہت لگایا مگر انکا جادو چل نہ پایا۔ اور وہ آج تک اقتدار کے ان۔۔۔ ان چکھے انگوروں کو کھٹا گردانتے ہیں۔
بہرحال کتاب کیا ہے۔ آدھے سچوں کا یک طرفہ ملغوبہ اور خود نمائی کیساتھ محض جھوٹ اور خود ساختہ دعووں کا مجموعہ۔۔ اشاعت کے بعد میرا جو بھی تبصرہ تھا وہ مجھ تک ہی موقوف تھا لیکن اب اس کتاب پر پھٹتے آموں والے محمد حنیف نے کالم لکھ کر سارے تبصروں پر سیاہی پھیر دی۔ حضرت خود بھی پاک فضائیہ میں پائلٹ نہ سہی مگر پائلٹ آفیسر ضرور رہے۔ اور ضیا کے حادثے کے بعد استعفی دے کر اس وقت کونے کونے نکل لئے جب خاکسار فلائنگ آفیسر کا یونیفارم پہن رہا تھا۔
محمد حنیف کا یہ کالم یا کتاب پر تبصرہ ۔۔۔کاپی پیسٹ ہے۔ ابتدائیہ اسلئے لکھا تاکہ اس تحریر سے لطف اٹھایا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنرل اسلم بیگ کی کتاب کا نام سن کر تھوڑی حیرت ہوئی۔ کتاب کا عنوان ہے ’اقتدار کی مجبوریاں‘۔ حیرت اس لے کہ اسلم بیگ کی وجہ شہرت تو ہے ہی یہی کہ وہ باوجود ایک سنہری موقع ملنے کے اقتدار میں نہیں آئے۔
بلکہ جس لمحے انھوں نے اپنے چیف جنرل ضیاالحق کو بہاولپور میں خدا حافظ کہا اور یہ کہہ کر جائے وقوعہ سے نکل لیے کہ میرے پاس تو اپنا جہاز ہے۔ وہ قوم کو مسلسل یہی بتاتے رہے ہیں کہ دیکھو میں مارشل لا لگا سکتا تھا لیکن میں نے نہیں لگایا۔ میں اقتدار سنبھال سکتا تھا لیکن نہیں سنبھالا۔

اگر یادداشت صحیح ساتھ دیتی ہے تو اقتدار نہ سنبھالنے پر انھیں اور ان کے ساتھ پوری افواج پاکستان کو بے نظیر بھٹو نے تمغہ جمہوریت بھی دیا تھا۔

تب بھی کسی نے کہا تھا کہ بی بی پتا نہیں ان کو تمغہ لگا رہی ہے یا جُگت۔
لیکن کتاب کے شروع میں ہی اسلم بیگ نے وضاحت کر دی ہے کہ اقتدار کی مجبوریاں دراصل جنرل ضیا الحق کے الفاظ ہیں جو انھوں نے اس وقت کہے جب جنرل بیگ انھیں قائل کر رہے تھے کہ وہ مارشل لا اٹھا کر جمہوریت بحال کر دیں۔ جنرل ضیا نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا مجھے پھانسی لگواؤ گے، جنرل ضیا اسلم بیگ کی بات نہیں مانے اور وہ یہ سنہرے الفاظ کہہ کر چل دیے کہ میں تو اپنے جہاز میں جا رہا ہوں۔ جنرل ضیا کا انجام سب کے سامنے ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اسلم بیگ کی کتاب کا دو لائنوں میں خلاصہ کر دیں تو وہ یہی ہو گا کہ جس نے بھی جنرل اسلم بیگ کی بات نہیں مانی اس کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ اس میں بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، سپریم کورٹ کے کئی جج، اصغر خان، روس اور امریکہ بھی شامل ہیں اور جنرل مشرف بھی جنھوں نے ایک میٹنگ میں جب جنرل بیگ کا خطاب سُنا تو ایسی گھگھی بندھی کہ آج تک بندھی ہوئی ہے۔

کتاب ہے تو جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح حیات لیکن یہ خودنوشت نہیں ہے۔ فوج کے مشہور مزاحیہ اور سنجیدہ ادیب کرنل اشفاق حسین نے لکھی ہے۔ بقول ان کے وہ جنرل بیگ سے پی ایم اے کاکول میں گزارے دنوں کی کچھ باتیں پوچھنے گئے تھے لیکن گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا گیا اور یہ کتاب بن گئی۔
یہ وہی بات ہے کہ ایک سڑک پر کسی راہگیر سے منزل کا راستہ پوچھیں اور وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ جائے اور کہے کہ چلیں آپ کو گھر ہی چھوڑ آتا ہوں۔

جنرل اسلم بیگ نے اقتدار نہ سنبھالنے کے بعد ہماری قوم کو سٹریٹیجک ڈیپتھ (جس کا اُردو ترجمہ تزویراتی گہرائی ہے اور یہ ایک ایسی اصطلاح ہے کہ کسی زبان میں ترجمہ ہو کر سمجھ نہیں آتی) کا تحفہ دیا تھا۔
دفاعی تجزیہ نگاروں نے سمجھایا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انڈیا ہم پر حملہ آور ہو گا تو چونکہ افغانستان ہمارا بھائی ہے تو ہم ان کی سرزمین کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کریں گے۔ یعنی اپنا اسلحہ بارود جنگی جہاز افغانستان میں پہنچا دیں گے اور پھر وہاں سے دشمن کا مقابلہ کریں گے۔
اس کتاب میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آخر ان کا نظریہ سچ ثابت ہوا ہے اور جس طرح سے انھوں نے ثابت کیا ہے لگتا ہے کہ وہ صرف ہمارے عسکری اثاثوں کو نہیں پوری قوم کو دھکیل کر افغانستان پہنچا دیں گے۔
پھر پاکستان میں ان کے فور سٹار ساتھیوں کی کہکشاں گالف کھیلے گی اور پوری دنیا مانے گی کہ چرچل کے بعد کوئی بندہ آیا تھا تو بیگ تھا۔ جنرل اسلم بیگ میں چرچل کی خصوصیات کرنل اشفاق صاحب نے نہیں ڈھونڈیں، بیگ صاحب نے خود ہی بتائی ہیں۔

یہ کتاب اپنے منھ میاں مٹھو بننے اور خود ترحمی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ایک صفحے پر وہ فرماتے ہیں کہ روس کی شکست و ریخت میں اس ناچیز کا بھی حصہ ہے۔ تھوڑا آگے چل کر شکایت کرتے ہیں کہ حکومت نے میری سیاسی سرگرمیوں سے گھبرا کر میرا سرکاری باورچی مجھ سے چھین لیا۔
اقتدار نہ سنبھالنے، الیکشن میں دھاندلی نہ کروانے کے بعد اپنی مرضی سے ریٹائر ہونے کے بعد جنرل بیگ نے ایک غیرسرکاری تنظیم بنائی تھی ’فرینڈز‘ کے نام سے لیکن جنرل مشرف اُن کی مقبولیت سے اتنا گھبرا گئے کہ اس کی فنڈنگ بند کروا دی اور سب دوست فرینڈز کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
آپ کو شاید نہ پتا ہو کہ اس کے بعد انھوں نے عوامی قیادت پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی جس کی بینظیر بھٹو کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمینٹ بھی ہو گئی تھی۔ (جنرل بیگ کی پارٹی کو قومی اسمبلی میں سات نشستیں ملنی تھیں۔)

لیکن جیالے ہی نہیں مانے۔ دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی اتحاد بنے لیکن جب وہ اجلاس میں اپنے نظریات بیان کرتے تو باقی سیاسی رہنما سیاست کی بات کرنے لگتے۔ ملک کے سیاستدانوں سے مایوس ہو کر انھوں نے اخبارات میں مضمون لکھنے شروع کیے، مشرف پھر گھبرا گیا تو وہ بھی بند کروا دیے۔

جنرل بیگ کو اپنی ذات، اپنے ملک، اپنے ادارے اور اپنی تزویراتی گہرائی سے زیادہ اگر کسی سے محبت ہے تو وہ افغان طالبان ہیں۔ وہ ان کو اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور دنیا میں مسلمانوں کے عروج کا نقطہ آغاز دیکھتے ہیں۔ اگرچہ ان میں چرچل والی خصوصیات ہیں لیکن ان کا خواب ملا عمر بننا ہے۔ (اگر ملا عمر کو گالف کھیلنے کا اور اپنا جہاز رکھنے کا شوق ہوتا تو شاید وہ جنرل اسلم بیگ بننا چاہتے۔)

افغان طالبان سے اتنی عقیدت کے باوجود وہ پوری کتاب میں وہ ’افغانی‘ اور ’افغانیوں‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جسے افغان اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں لیکن شاید یہ چرچل جیسی خوبیوں والے ناچیز مسیحا کو اجازت ہے کہ وہ جیسی چاہے زبان استعمال کرے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل بیگ کی زندگی کا سب سے شاندار لمحہ وہ تھا (یا اللہ تیرا شکر تو نے مجھے اتنی عزت دی) جب رچرڈ آرمیٹاج ان سے ملنے ان کے گھر آئے۔ یہ وہی آرمیٹاج تھے جنھوں نے مشرف کو دھمکی دی تھی کہ پاکستان پر بمباری کر کے پتھر کے زمانے میں پہنچا دوں گا۔ (رچرڈ سے پہلے ایک اور مشہور آدمی بھی جنرل بیگ کے گھر آیا تھا وہ الطاف حسین تھے لیکن ان کے ٹیبل مینرز جنرل صاحب کی اہلیہ کو پسند نہیں آئے تھے جنرل بیگ نے اپنے سیاسی کریئر میں ایک دفعہ ایم کیو ایم کے عظیم طارق کے ساتھ مل کر بھی تنظیم بنانے کا سوچا لیکن عظیم طارق نے تھوڑا ٹرخا دیا۔ کیا ہوا انجام عظیم طارق کا۔)

بہرحال رچرڈ آرمٹیاج دست بستہ حاضر ہوئے کہ ہمارے طالبان سے مذاکرات شروع کروا دو۔ جنرل بیگ نے آئی ایس آئی والے مشہور کرنل امام کو گھر بلا کر رچرڈ بھائی سے ملوا دیا۔ لیکن کرنل امام کو اکیلے میں یہ مشورہ بھی دیا کہ یہ بندہ بھی خطرناک ہے اور ہمارے سرحدی علاقوں میں بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

لیکن کرنل امام چل پڑے مذاکرات کروانے اور کبھی واپس نہ آئے۔ مجھے شاید آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا کہ جس نے جنرل اسلم بیگ کی بات نہیں مانی اس کا انجام کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا۔

کرنل اشفاق جنٹلمین بسم اللہ، جنٹلمین الحمداللہ اور کئی مشہور کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا انداز شگفتہ ہے اور وہ فوجی زندگی کے بارے میں اس اسلوب میں لکھتے ہیں کہ سویلین قاری بغیر ڈرے ہوئے کھل کر ہنس لیتا ہے۔ لیکن اقتدار کی مجبوریاں پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کرنل صاحب کو شاید اس کتاب کا نام جنٹلمین استغفراللہ رکھنا چاہیے تھا لیکن کتب کی پشت پر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ اس نام سے پہلے ہی ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔

اگر کسی مجبوری کے تحت آپ کو اقتدار کی مجبوریاں پڑھنی پڑھ جائے تو میری طرح شاید آپ کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہو کہ اللہ وہ دن ہم سب پر لائے جب ہم اپنے باس کو کہہ سکیں اللہ حافظ، میں تو اپنے جہاز پر جا رہا ہوں۔


 

٭٭٭٭٭٭٭٭۔

پڑھیں :
٭۔ اقتدار کی مجبوریاں 

جمعہ، 6 اگست، 2021

الیگزنڈر فلیمنگ، پنسلین اور رائلٹی

جب الیگزنڈر فلیمنگ نے پنسلین کی ایجاد کی تو دوا ساز کمپنیوں نے اُسے 10 فیصد رائلٹی کی پیشکش کی جو اُس نے کم سمجھ کر قبول نہ کی اُس کا خیال تھا کہ سارا کام تو اُس نے کیا جبکہ کمپنی اُسے فقط 10 فیصد پر ٹرخا نے کی کوشش کر رہی تھی تاہم جب الیگزنڈر فلیمنگ نے 10 فیصد رائلٹی کا تخمینہ لگوایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ لاکھوں پاؤنڈ ماہانہ بنتے تھے ۔ اُس نے سوچا کہ اتنی رقم کو وہ کہاں سنبھال کر رکھے گا ۔ اس سلسہ میں اپنی نااہلی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس نے پنسلین کا نسخہ ایک فیصد رائلٹی کے عوض دوا ساز کمپنی کو اس شرط پر دینے کا فیصلہ کیا کہ معاہدے کی تمام شِقیں الیگزنڈر فلیمنگ کی منشا کے مطابق ہوں گی ۔کمپنی نے یہ بات مان لی
تاہم جب الیگزینڈر فلیمنگ شرطیں ٹائپ کرنے کے لئے بیٹھا تو اُسے لگا کہ ایک فیصد رائلٹی بھی اتنی زیادہ بن رہی تھی کہ وہ ساری عمر ختم نہ ہوتی جبکہ اس کی خواہش سوائے سیر و سیاحت اور تحقیق کے اور کچھ نہیں تھی ۔ یہ سوچ کر الیگزنڈر فلیمنگ نے آدھی رات کے وقت ایک معاہدہ ٹائپ کیا اور لکھا
”میری یہ دریافت میری ذاتی ملکیت نہیں ۔ یہ ایک عطیہ ہے جو مجھے امانت
کے طور پر ملا ہے ۔ اس دریافت کا عطا کنندہ خدا ہے اور اس کی ملکیت پوری خدائی ہے ۔ میں اس دریافت اور اس انکشاف کو نیچے دیئے گئے فارمولے کے مطابق عام کرتا ہوں اور اس بات کی قانونی ،شخصی،جذباتی اور ملکیتی اجازت دیتا ہوں کہ دنیا کا کوئی ملک ،کوئی شہر،کوئی انسان ، معاشرہ جہاں بھی اسے بنائے ، وہ اس کا انسانی اور قانونی حق ہوگا اور میرا اس پر کوئی اجارہ نہ ہوگا“۔
الیگزنڈر فلیمنگ سے پوچھا گیا کہ ”وہ کس بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ پنسلین کی ایجاد خدا کی طرف سے انہیں ودیعت کی گئی تھی؟“
الیگزنڈر فلیمنگ نے اس بات کا تاریخی جواب دیا
”میں اسے دنیا تک پہنچانے کا ایک ذریعہ یا ایک آلہ ضرور تھا لیکن میں اس کا مُوجد یا مُخترع نہیں تھا۔ صرف اس کا انکشاف کرنے والا تھا اور یہ انکشاف بھی میری محنت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خداوند کا کرم اور اس کی عنایت تھی ۔ اصل میں جتنے بھی انکشافات اور دریافتیں ہوتی ہیں وہ خدا کے حُکم سے اور خدا کے فضل سے ہوتے ہیں ۔ خدا جب مناسب خیال کرتا ہے اس علم کو دنیائے انسان کو عطا کر دیتا ہے ۔ نہ پہلے نہ بعد میں ، ٹھیک وقت مقررہ پر ، اپنے حکم کی ساعت کے مطابق ۔ 

میں نے اس اصول کو لندن کے ایک مقامی اسکول میں بچوں کی آسانی کے لئے یوں سمجھایا تھا کہ خدا کے آستانے پر ایک لمبی سلاخ کے ساتھ علم کی بے شمار پوٹلیاں لٹک رہی ہیں ۔ وہ جب چاہتا ہے اور جب مناسب خیال فرماتا ہے ۔ قینچی سے ایک پوٹلی کا دھاگا کاٹ کر حُکم دیتا ہے کہ سنبھالو عِلم آ رہا ہے ۔ ہم سائنسدان جو دنیا کی ساری لیبارٹریوں میں عرصے سے جھولیاں پھیلا کر اس علم کی آرزو میں سرگرداں ہوتے ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کی جھولی میں یہ پوٹلی گر جاتی ہے اور وہ خوش نصیب ترین انسان گردانا جاتا ہے“ ۔
آج  6 اگست ، دنیا کی پہلی اینٹی بائیوٹک بنانے والے الیگزینڈر فلیمنگ کی سالگرہ ہے ۔

لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک غریب کسان کو بیٹے کو دنیا کا مشہور آدمی بنانے میں کس کا حال ہے۔

  سکاٹ لینڈ کا  ایک غریب کسان کی جو ایک روز کھیتوں کی طرف جا رہا تھا تب رستے میں اس نے ایک جانب سے کسی کے چیخنے کی آواز سنی ۔وہ فوراً اس جانب گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے کسان نے اسے تسلی دی اور پرسکون کیا پھر درخت کی ایک شاخ توڑ کر بچے سے کہا یہ پکڑ لو میں تمہیں کھینچ لیتا ہوں کچھ دیر کی کوشش کے بعد بچہ باہر نکل آیا ۔

کسان نے بچے سے کہا میرے گھر چلو میں تمہارے کپڑے صاف کرا دیتا ہوں لیکن بچے نے کہا میرے والد صاحب انتظار کر رہے ہوں گے اور یہ کہ کر وہ بھاگ گیا ۔ اگلی ہی صبح کسان اٹھا تو اس نے دیکھا گھر کے باہر ایک خوبصورت بگھی کھڑی ہے پھر اس بگھی میں سے ایک رعب دار شخص نمودار ہوا۔ 

اس نے کسان کا شکریہ ادا کیا اور کہا ! میں آپکو اسکا کیا صلہ دوں ؟ کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کی جان بچائی۔

 غریب کسان نے کہا ! آپ کا شکریہ جناب میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ یہی کرتا مجھے کسی صلے کی ضرورت نہیں۔

 اُس رئیس نے بہت اصرار کیا لیکن کسان نے قبول نا کیا تو جاتے جاتے اسکی نظر کسان کے بیٹے پر پڑی کہنے لگا! کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ 

کسان نے محبت سے بیٹے کا سر سہلاتے ہوئے کہا جی جناب یہ میرا ہی بیٹا ہے۔

 رئیس بولا ! چلو ایک کام کرتے ہیں میں اسکو اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں اسے پڑھاتا ہوں ۔ بیٹے کی محبت میں کسان نے وہ پیشکش قبول کر لی ۔

 اسکا بیٹا لندن چلا گیا پڑھنے لگا اور اتنا پڑھا کہ دنیا بھر میں مشہور ہو گیا ۔  دنیا اسے” الیگزینڈر فلیمنگ“ کے نام سے جانتی ہے ۔ 

جی ہاں وہ فلیمنگ جس نے پینسلین ایجاد کی۔ وہ پینسلین جس نے کروڑوں لوگوں کی جان بچائی ۔ اور وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے دلدل سے نکالا تھا ۔

وہی بیٹا جنگِ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا پھر دوبارہ فلیمنگ کی پینسلین سے اسکی زندگی بچائی گئی ۔

 اور وہ رئیس روڈولف چرچل تھے اور انکا بیٹا ونسٹن چرچل تھا وہ چرچل جو جنگ عظیم میں برطانیہ کا وزیراعظم تھا۔

 بظاہر کسان کی طرف سے کی گئی وہ چھوٹی سی بھلائی تھی لیکن سوچیں اس سے کتنا فائدہ ہوا ۔

٭٭٭٭٭٭۔

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔