Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 6 نومبر، 2021

اندرونی اور بیرونی دنیا کی کشمکش۔5

تو اُفق کے پاربسنے والے پیارے دوستو!    ۔ 
اندرونی دنیا کا بیرونی دنیا سے رابطے پر آپ کا مکمل صوابدیدی اختیار ہے ۔ کہ مثبت راہ چنی جائے یا منفی ۔ بس آپ نے اپنے سر میں موجود دماغ (ہارڈڈسک) کے نیچے واقع ،مڈ برین  میں موجود ،  چپ سیٹس کوخود  ایڈجسٹ کرنا یا کسی ماہر  سے  ایڈجسٹ کروانا  ہے ۔ جو اتنا آسان تو نہیں لیکن وقت کے ساتھ ہوجاتا ہے ۔کیوں  کہ آپ کا دماغ آپ کے ذہن کے تابع ہے۔ خواہ یہ اجتماعی شعور ،سےتبدیل ہو یا آپ کے ذاتی شعور سے اپنی سمت تبدیل  کرے۔ اجتماعی شعور کے لئے آپ کو ایسی محفلیں چننا پڑیں گی جن میں مقرر یا عالم مثبت آفاقی سوچ کا درس دیں ۔آفاقی سوچ سب انسانوں کے لئے ایک ہوتی ہے ۔ لیکن مذاہب اُن میں تفریق کر دیتے ہیں ۔   

  انسان کو تخلیق کرنے سے پہلے انسان کے خالق نے   مکمل انسانی پلاننگ کرلی تھی ۔ انسانی دماغ کا گرے میٹر اور وھائیٹ میٹر  اِن کے اور  حرام مغز  ( سپائنل کارڈ) کے درمیان چھوٹے چھوٹے  اجسام  جو مکمل  خودکار اور اپنے اندر بہترین انتظام کے ساتھ  وسطی دماغ  کے ساتھ جس میں پونز اور میڈولاجیسے منتظم لئے ہوتی ہے۔جس کی حفاظت کا انتظام جسم کے مکمل صحتمند ہونے پر منحصر ہے ۔ جس کے منتظم آپ ہیں۔
   بہت سے دوستوں نے فیس بُک اور وٹس ایپ پر پرسنل میسج میں پوچھا کہ اِن دماغی وضاحت کا مقصد کیا ہے ؟ اتنا تو ہم کو بھی معلوم ہے ۔
میں نے سوال کیا کہ آپ گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہیں کیا آپ کو کاربوریٹر کا پورا فنکشن معلوم ہے ؟
گاڑی کے انجن کی سپیڈ اُس کی صحت کا انحصار کاربوریٹر پر ہے ۔ کیوں کہ کاربوریٹر میں دو چیزیں نہایت اہم ہیں ۔ ایک پیٹرول اور دوسرا اُس کے اندر جانے والی ہوا ۔یہ دونوں صاف ہونا چاھئیں ۔تو انجن کو لمبے عرصے تک اوور ھال کروانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور انجن کی غذا ( انجن آئیل) ۔اگر آپ اِن پر توجہ دیں گے تو آپ فخر سے کہیں گے کہ میری گاڑی  اتنے لاکھ کلومیٹر چل چکی ہے اور اب تک اوور ھال نہیں ہوئی ۔
      ہسپتال اوور ھالنگ کے لئے انسانی گاڑیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کیوں ؟
تمام انسانی بیماریاں حواسِ خمسہ سے انسانی انجن میں جاتی ہیں ۔    حواسِ خمسہ پر اپنا مکمل کنٹرول رکھیں، تو  بیماریوں کو راستہ نہیں ملے گا ۔انشاء اللہ
اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کے درمیان، آفاقی سچائیوں  کا  ایک فلٹر لگا لیں ۔ تو ہر قسم کے خوف سے بے نیاز ہو کر امن کی زندگی گذاریں گے ۔
یاد رکھیں !۔
انسان ایک آدم کی اولاد ہیں ۔ اُن میں تمام  اچھائیاں اورکمزوریاں ۔ آدم کی تخلیق کے وقت سے موجود ہیں ۔اور یہی بنی آدم  کو وراثت میں ملی ہیں ۔ ہر انسان اپنے فعل کو اچھا اور دوسرے کے فعل کو برا اسمجھتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو ورق الجنۃ سے ڈھانپتا ہے ۔     جن میں ناشکرا پن، تکبّر ، ضد ،    ضعیف ۔ عجلت پسند۔ جلد باز ۔اپنے لئے بھلائی اور دوسرے کے لئے برائی ۔ظالم۔ فسادی ۔ فاسق۔بھلکڑ ۔جھگڑالو۔عزم کی کمی  ۔یاسیت پسندی ۔کنجوس۔ بخیل۔ہر راحت اپنے لئے ۔
ساری عمر ساتھ رہنے کے باوجود کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ دوسرے انسان کو 100 فیصد پہچانتا ہے ۔ دوسرے انسان کا 100 فیصد اُس کے وہ افعال ہیں جو اُس نے ظاہر کئے ہیں جو پہلے شخص نے  دیکھے ہیں  اور جو اُس نے نہیں ظاہر کئے وہ وہی کمزوریاں ہیں جن کا اوپر ذکر کیا ہے ۔ ایک شعر ہے ۔
گو شیخ صاحب خلافِ شرع تھوکتے نہیں ۔
لیکن کبھی کبھی رات کو،  وہ چُوکتے نہیں ۔
   اِسے الکتاب کے الفاظ میں انسانی قول و فعل کا تضاد کہتے ہیں جو تکبّر کی نشانی ہے ۔
ایک بچے  کی اندرونی دنیاجسے ہم معصوم کہتے ہیں وہ بیرونی دنیا سے رابطے کے بعدمعصوم نہیں رہتی۔ اُسے معصوم رکھنے کے لئے۔ اُس کے سامنے سے  ماں باپ ، دادا/ دادی یا نانا/ نانی  کے ذاتی قول و فعل کے تضاد کو لازمی  روکنا  ہوگا، خواہ یہ  تضاد مذاق میں ہوں یا  فطرتاً ۔

٭ ٭٭٭٭جاری ہے ۔٭٭٭٭٭

٭٭٭٭مزیدمضامین  پڑھنے کے لئے  فہرست پر واپس  جائیں ۔ شکریہ ٭٭٭٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔