Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏بوڑھے کی ڈائری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بوڑھے کی ڈائری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 26 اگست، 2026

23 دن میں 20 کلوگرام وزن کم

٭23دن میں 20 کلوگرام جسم کی چربی پگھلائیں ۔ 

نہ کوئی دوا ، نہ کوئی مشقت میں ڈالنے والی ایکساسائز ۔یا ۔تائی چن کا ڈرامہ 

 بس صرف اپنے اشتہائے خوراک پر قابو۔

چم اور اُس کی ماں اٹلی سے گرمیوں کی چھٹیاں گذارنے آئیں ۔ جب جولائی میں واپس جانے لگیں ۔ سوٹ کیس میں 20 کلو گرام تک سامان  رکھنے کی ذمہ داری  چم چم کی پھپو کو ملی ۔ ھلا شیری کا کام  ۔ بڑی پھپو نے سنبھالا  ۔ دادی، خالہ دادی ۔بڑھیا (چم چم کی نانو) اور بوڑھا    ناظرین میں شامل ہوئے ۔ چم چم کے بابا نے   بھی اپنی رائے دینے کا کام سنبھالا  ۔ کیوں کے بابا اور  پھپو کئی بار اٹلی کا چکر لگا چکے ہیں ۔ لہذا ماہرین میں شامل ہیں  ۔  پلنگ  کے نیچے سے وزن ماپنے کی مشین نکالی گئی  ۔ 
اب سوٹ کیس بڑے جو مشین کی کھڑکی کو چھپا لیتے ۔ چم چم نے حل نکالا کہ پہلے  اپنا وزن کیا  پھر سوٹ کیس اٹھا کر وزن کرتی ۔ پھپو بیٹھ کر مشین کی کھڑکی سے وزن دیکھتی  ۔ 25 کلو ہو گیا ۔ اب پانچ کلو نکالنا پڑے گا ۔ پانچ کلو اندازا نکال کر دوبارہ  ۔ چم چم اٹھا کر وزن کرتی ۔ اب 18 کلو گرام ہے  ۔ 20 کلو گرام پورا کرنا پڑے گا ۔

 تو ناظرین  پانچ سوٹ کیس جن میں    70 کلو گرام پورا کرنا تھا ایک کلو گرام کم نہ زیادہ  ، ورنہ مسافروں کو ہینڈ کیری گھسیٹنا پڑتا ۔سب سے اہم پاکستان سے جانے والے مصالحے تھے ۔

بوڑھا دیکھتا تھا اور انجوائے کرتا رہا ۔ بڑھیا بولی ۔ آپ کیا بیٹھ کر انجوائے کر رہے ہیں بچیوں کی مدد کر دیں۔ بوڑھے کے لئے یہ دائیں ہاتھ کا کام تھا ۔

پانچ ایک کے اندر ایک پھنس کر ڈیکو ریشن کے لئے پڑے ہوئی تپائیوں سے چھوٹی نکالی اور اُسے  وزن کرنے والی مشین پر الٹا رکھا دیا اور اُس کے اوپر سوٹ کیس نمبر 1۔رکھا ۔چم بولی 25 کلو گرام بوڑھے نے سوٹ نکالے ۔ چم  چم بولی 17کلو گرام۔

بوڑھے نے  پرچون دکان دار کی طرح ۔ سلے سوٹ ۔ سوٹ کیس پر رکھتا گیا ۔ جب 20 کلو گرام ہوا ، تو سٹاپ کا آرڈر ملا اور یوں تھوڑی دیر میں بوڑھے نے 20 کلوگرام کے چار سوٹ کیس تیا ر کر دئیے ۔اور ہر سوٹ کیس پر پیلےکپڑے کی چندی لگا دی تاکہ سامان کی بیلٹ پر پڑے سوٹ کیس دور سے پہچان لئے جائیں ۔ یہ بھی چم چم کی اختراع ہے۔ کیوں کہ جب چھوٹی تھی تو  2018 میں پہلی دفعہ ایسٹ ٹمورجاتے وقت اُسے پریشانی ہوئی تھی تو  چانگی(سنگا پور) ائرپورٹ پر  اُس نے اپنا گلابی ربن نانو کی شوگر سٹرپ کاٹنے والی قینچی جو واحد چیز تھی جس کی اجازت ائر پورٹ والوں نے دی ۔ سے کاٹ کردو کیبن کیری  بیگز پر لگائے ۔ اور دور سے اپنے بیگ دیکھ لیتی ۔اور ایسٹ ٹمور سے واپسی پر پیلی چندی ہمارے بیگ کا ٹریڈ مارک بن گئی ۔

چم نے اپناوزن بتایا اور بولی۔ آغا جان ۔ آپ اپنا وزن کریں ۔

بوڑھے نے کہا پیاری چم چم کئی سالوں سے یہ 90 سے 92 کلو گرام  کے درمیان پُھدکتارہتا ہے ۔
کمر مجال ہے کہ تین ملی میٹر سے کم ہوئی ہو۔بوڑھاجتنا مرضی کمر کو گھما کر ایکسرسائز کر لے۔ 

تو دوستو بوڑھے نے 28 جولائی 2026 کو رات 11 بجے وزن کیا          ٹھیک 90 کلو گرام نکلا ۔

بوڑھا بولا کاش ۔ انسان کی پیٹ بھی سوٹ کیس کی طرح  ہوتا ۔ جس میں سے اپنا وزن بی ایم آئی کے مطابق  کر سکتا ۔

چم چم کی ماما بولی ۔پپا صرف اُبلی سبزیاں کھائیں اور رات کو چاربوٹیا ںگوشت یا ایک چکن کا لیگ پیس یا دو کباب کھائیں۔ پھر دیکھیں وزن کیسے کم ہوتا ہے ؟
بوڑھا بولا ۔  پپا کی پرنسز  ۔درست ،  بوڑھا  کوشش کرے گا۔

خیر بیٹی اور چم چم کو جہاز پر چھوڑنے  سے پہلے 28 جولائی کی شام کو بوڑھے نے ، سزبیاں کھانے کا پروگرام بنانا ۔ بڑھیا سے جھگڑا ہوا ۔ کم زور ہو جائیں گے ۔ کھانا کھائیں ۔ لیکن بوڑھے نے اپنے روزمرہ کی عادات کو جاری رکھا۔ مثلاً:۔

صبح فجر کی آذان پر اُٹھنا ،ٹھیک پانچ بجے ۔موٹے کپڑے  (سوتی پینٹ ، ٹریک سوٹ کا اَپر) پہن کرفلیٹ سے نکلنا والک کرتے ہوئے اوپن ائر جم میں جانا۔20 منٹ ایکسرسائز کرنا ۔ہفتے میں تین دن گالف کھیلنا /پریکٹس کرنا۔بوڑھے کا جولائی 2023 سے یہ عمل جاری تھا ۔ جو رمضان میں موقوف رھتا۔ لہذا 90 سے 92 تک وزن چلے جانا لازم تھا ، گویا ایکسرسائز سے آپ کا  2 کلو گرام وزن کنٹرول رہتا۔ 

         بوڑھے کا روازنہ کھانا ۔
صبح سات بجے ناشتہ ۔ دو ابلے ہوئے انڈے ،  چار براؤن  رسک اور بغیر چینی کے چائے ۔
ٹی بریک ساڑھے دس بجے ۔
 دوبراؤن  رسک اور بغیر چینی کے چائے ۔

دوپہر کا کھانا: اُبلی ہوئی کوئی بھی بڑھیا کی بنائی ہوئی سبزی ۔پاؤ دہی ۔ جس میں ذائقے کے لئے   اچار۔اور فروٹ میں  ایک آم۔

شام کی چائے :      دو براؤن  رسک اور بغیر چینی کے چائے ۔

شام کا کھانا: آٹھ بجے۔ دوپہر کی ابلی ہوئی سبزی ۔پاؤ دہی ۔جس میں ذائقے کے لئے  اچار۔

بیس اگست کو بڑھیا نے کہا  ذرا اپنا وزن کریں۔
 بوڑھے نے کہا کیوں ؟  

 بڑھیا نے کہا   : ڈائیٹنگ کی وجہ سے  مجھے آپ کا وزن کم لگتا ہے 

بوڑھے نے وزن کی مشین پر کھڑا ہوکر عینک کے بغیروزن کیا۔پڑھا نہ  جانے پر بڑھیا نے پڑھا 70 کے جی ۔

شاید غلط پڑھا ہے بوڑھے نے کہا  اور  عینک پہن کر وزن کیا اور بولا، شاید مشین خراب ہو گئی ہے ۔
آپ اپنا وزن کرو۔ 

بڑھیا نے وزن کیا۔ بولی میرا تو ٹھیک ہے ۔

بوڑھا بولا۔ 23 دن میں 20 کلوزن کم ہونا۔ ناممکن ۔وہی توند ۔تو پھر یہ 20 کلو گرام کھانے کا تو نہیں ہو سکتا، کیوں کہ بوڑھا تو پہلے بھی ۔ ایک روٹی  دوپر اور ایک روٹی شام کے ساتھ صرف ایک کلو گرام اندازاً روزانہ کھانا کھاتا تھا۔
بوڑھے نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا۔

٭-یہ بتائیں کہ روزانہ سبزیاں کھانے سے جسم کی کون سی چربی پہلے گھلتی ہے ؟
٭-سبزیاں خود کسی خاص جگہ کی چربی کو پہلے نہیں گھلاتیں۔ جسم یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ پہلے پیٹ، کمر یا ران کی چربی کم ہو۔ جب آپ کی مجموعی کیلوریز ضرورت سے کم ہوتی ہیں تو جسم مختلف حصوں سے ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرتا ہے، اور اس کی ترتیب ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے۔ آپ کے معاملے میں ایک اہم نکتہ ہے: آپ نے 23 دن میں تقریباً 20 کلو وزن کم کیا ہے۔ اس میں صرف چربی نہیں بلکہ پانی ۔، glycogen اور ممکنہ طور پر پٹھوں کی کمی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف سبزیاں کھا کر مزید تیزی سے وزن کم کرنا مناسب نہیں۔

  ٭-آپ پروٹین کم نہ کریں۔ ہر دن انڈے، مچھلی، چکن، دال، دہی وغیرہ میں سے مناسب مقدار رکھیں۔ 73 سال کی عمر میں پٹھوں کو برقرار رکھنا بہت اہم ہے۔ روٹی مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ ایک چھوٹی روٹی، خاص طور پر ورزش یا گالف والے دن، متوازن غذا کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اور چونکہ آپ بلڈ پریشر کی دوا لیتے ہیں اور طویل عرصے سے سانس کی بیماری بھی ہے، کمر کم کرنے کے لیے مزید انتہائی کم کیلوری والی غذا نہ اپنائیں۔
٭- میرا قد  163 سینٹی میٹر ،عمر 73سال اور اب وزن 70 کلو گرام ہے ۔ میرا بی ایم آئی کیا ہونا چاھیئے ؟ 

آپ کا بی ایم آئی ۔70 ÷ (1.63 × 1.63) = تقریباً 26.4   بنتا ہے ۔ اگر آپ کا وزن 66 کلو گرام ہو تو آپ کے وزن کے مطابق ۔24.8  ہونا چاھئیے ۔لیکن میرے مشورے کے مطابق ۔73 سال کی عمر میں تیزی سے وزن کم کرنامناسب نہیں ورنہ آپ کے پٹھوں اور طاقت میں کمی آسکتی ہے۔اچھا یہ بتائیں کہ آپ کی توند کا سائز ناف پر کتنا ہے ؟

٭۔بوڑھے نے بڑھیا کی سلائی مشین سے انچ ٹیپ نکالی ، توند کا سائز نکالا جو 117 سنٹی میٹر نکلا ۔

٭آپ بلڈ پریشر کی دوا لیتے ہیں، اس لیے نمک کم رکھیں اور دوا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق جاری رکھیں۔ ورزش کے دوران اگر سینے میں درد، چکر، بے ہوشی، غیرمعمولی سانس پھولنا، یا دل کی دھڑکن میں غیرمعمولی تبدیلی محسوس ہو تو ورزش روک کر طبی مدد لیں۔ 

اور ایک اہم بات: آپ کی 26 سالہ سانس کی بیماری اور سابقہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے اگر حالیہ عرصے میں سانس کی کیفیت میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو اپنے پلمونری/معالج سے باقاعدہ جائزہ کروانا خاص طور پر اہم ہے۔ میری نظر میں آپ کا بہترین ہدف 70 کلو گرام  وزن کو برقرار رکھتے ہوئے کمر 117 سنٹی میٹرسے بتدریج نیچے لانا، طاقت اور گالف/ورزش کی صلاحیت برقرار رکھنا۔

٭- آپ بلڈ پریشر کی دوا لیتے ہیں اور طویل عرصے سے سانس کی بیماری بھی ہے، کمر کم کرنے کے لیے مزید انتہائی کم کیلوری والی غذا نہ اپنائیں۔  

دوستو ! چیٹ جی پی ٹی کے رائے کا احترام ۔ لیکن بوڑھااپنے وزن کو   66 کلوگرام کا کرتے ہوئے اپنے بی ایم آئی کو  24.8پر لائے گا ۔  

اور کمر کو  117 سنٹی میٹرکمرے سے 105 سنٹی میٹر  کی جھگی تک لانا ہے ۔کیسے ؟
یہ جھگی بننے پربتاؤں گا ۔
     

٭٭٭٭

بدھ، 8 جولائی، 2026

ٹوکن ٹیکس رام پیاری کا

  بوڑھے کی ٹویوٹا  گاڑی بہت پرانی ہے ۔1989 ماڈل ہے اور نام  کرینہ   ۔

آپ پریشان نہ ہوں ۔  اس کا کپور فیملی سے کوئی تعلق  نہیں ۔

۔  2000  میں پھیلنے والی مہلک بیماری  کرونا   کی بھاری بھرکم چھوٹی  بہن  ہے۔سیلون  کار ہے۔ لہذا ایک لیٹر میں 5 کلومیٹر  چلتی  ہے   ۔کیوں کہ 1498  ہارس پاور کی طاقت رکھتی ہے۔

۔  2005  میں دوست اکبر (مرحوم)    سے میرے پاس آئی  ۔اور لقب رام پیاری پایا  اِس سے پہلے بلیلہ لقب کی مزدا  626 تھی ۔ جس پر میرے چاروں بچوں نے ڈرائیونگ سیکھی ۔اور  میری کمپنی  کے تمام دوست  بشمول  ابو سعید  اُس  کی ڈیزلانہ رفتار کے مزے اٹھاتے ۔  کیوں کہ سندھ سے ساتھ لایا تھا ۔ لہذا ٹوکن ٹیکس بھی سندھ  ہی بھجواتا تھا ۔

 رام پیاری کا     کارینا  کا ٹوکن ٹیکس ہر سال  بڑھتے بڑھتے یکم جولائی  2023 میں ۔  4000 روپے سالانہ تک جا پہنچا۔

پچھلے سال  اکتوبر 2005  میں یاد آیا ۔

او ہو  ۔ بوڑھا کرینہ عرف رام پیاری  کا     2024  کا  ٹوکن ٹیکس تو جمع کروانا بھول گیا  ۔ 

ابوسعید  کو وٹس ایپ کیا  کہ کل  جب  سیشن کورٹ جائیں گے تو وہاں ایچ 9۔نائین    اسلام آباد  میں واقع    ایکسائز  سنٹر میں جا کر یہ کام   بقلم خود  کر دیں گے۔

 ابو سعید نے   جواب دیا ۔ وہاں جانے کی کیا  ضرورت ۔ اسلام آباد کا ٹوکن ٹیکس  گھر بیٹھے ایزی پیسہ سے آن لائن بھی ادا کیا جا سکتا ہے ۔

اچھا یہ بوڑھے کے علم میں نہیں تھا۔

 وہ بے چارہ تو ہر سال پوسٹ آفس جا کے یہ کام چلچلاتی دھوپ یا خون منجمند کرنے والی اسلام آباد کی سردیوں میں خود ہرسال جولائی میں  کرواتا تھا-  

ابو سعید نے گاڑی کا نمبر  مانگا ۔ جو ؤٹس ایپ کردیا  ۔

 اُس نے  12اکتوبر کو بتایا کہ ۔ جناب آپ کا پچھلا دو سال کا  ٹوکن ٹیکس ادا نہیں ہوا۔
کیسے ممکن کے  جولائی 2025 میں   فارن آفس   کے پوسٹ آفس جاکر   جہاں پارکنگ حاصل کرنا ، پہاڑ پر چڑھنے سے  بہتر ہو تا     ۔ خود ادا کر دیا تھا ۔

ممکن ہے کہ اُنہوں نے  ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن میں نہ بھجوایا ہو ۔ابو سعید  کا وٹس ایپ  آیا  اور ساتھ ہی ۔ پی ایس آئی ڈی نمبر بھی   
خیر اُسی دن بوڑھے نے  ایزی پیسہ سے مبلغ-/ 12،010 روپے ۔ایزی پیسہ سے جمع کروایا ۔جو حسنین حیدر ۔ آئی سی ٹی وہیکل ٹوکن ٹیکس کے خزانچی نے وصول کر لیا ۔

ایزی پیسہ بھی کیا کام کی چیز ہے ۔ لیکن بوڑھے کے ساتھ بھی پچھلے رمضان میں  دس ہزار روپوں کا فراڈ ہو گیا تھا ۔ بوڑھا سائبر کرائم آفس راولپنڈی کے چکر  اب بھی لگاتا ہے ۔  

 خیر بوڑھے  نے رسید سنبھال کر  سکون کا سانس لیا ۔

 

 اوربوڑھے  نے رسید سنبھال کر  سکون کا سانس لیا ۔

کیونکہ پچھلے سال کا تجربہ تھا تو  3 جولائی سے  اسلام آباد ایکسائز   گورنمنٹ آف پاکستان میں گھسنے کی کوشش کی ۔وہاں سے ٹوکن ٹیکس کا لنک دبایا ۔ صفحہ کھلا اور ناٹ فاونڈ کا  صفحہ  منہ چڑا رہا تھا۔

گویا اب عسکری 14  سے وایا ڈیفنس روڈ۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس    اسلام آباد  جانا پڑے گا ۔ 

صبح  سات بجے گھر سے نواسی کے ساتھ نکلا ، اُسے دادا کے گھر ای الیون  چھوڑا اور واپسی پر  شامی روڈ سے ایچ  نائن  آگیا ۔

 ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کے  سامنے   ، سروس روڈ پر گاڑی پارک کی تو دو ایجنٹ لپک کر آئے ۔

ایک بولا۔ سر جی ٹوکن بنوانا ہے

  دوسرے نے کہا گاڑی ٹرانسفر کروانی ہے ۔ 
اُن سے معذرت کرکے ۔

ایکسائز آفس میں داخل ہونے سے پہلے بھول  بھلیوں سے گذرتا   کمپاونڈ میں داخل ہوا ۔ ٹوکن ٹیکس جمع کروانے والوں کی بھیڑ سے گذرتا ہوا   ، تاروں  سے گھِرے ایک باڑے میں پہنچا ۔جہاں  پسینے کی بو میں لوگوں کا ہجوم تھا ۔   کاونٹر کی  کھڑکیا ں بند تھیں ۔کیوں کہ  آفس نہیں کھلےتھے۔

ٹوکن ٹیکس  جمع کروانے والے  جلدی آگئے کہ  سورج چڑھنے سے پہلے ٹوکن ٹیکس جمع کروا کر اپنے اپنے کاموں پر چلے جائیں ۔

وہاں کھڑے ہوئے ایک نوجوان سے پوچھا ۔ ٹوکن ٹیکس جمع کروانے کا نیا طریقہ کیا ہے؟
اُس نے دور کی بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا آپ وہاں چلے جائیں ۔  

  بوڑھے نے باڑے سے نکل کر تازہ  فضا میں سانس لیا ، ہاھ میں پکڑی بوتل سے پانی کا گھونٹ بھرا اور بلڈنگ کی طرف چل پڑا ۔

وہاں بھی تینوں کھڑکیوں پر  10 سے 15 افراد کھڑے تھے ۔ ایک کھڑکی خالی تھی۔ بوڑھے نے پڑھا۔ خواتین و سینیئر سٹیزن  ٹوکن ٹیکس کاؤنٹر ۔     



سینیئر سٹیزن و خواتین کی کھڑکی خالی تھی ۔وہاں اپنی گاڑی کا سمارٹ کارڈ دکھایا۔

 نوجوان نے کہا : آپ ساتھ والی بلڈنگ کی پہلی منزل پر ابراھیم صاحب سے ملیں وہ آپ کو گاڑی کی اوریجنل قیمت لکھ کر دیں گے تو آپ سے ہم اُس کے مطابق ٹیکس لیں گے ۔

لیکن پچھلے سالوں میں تو انجن  کے مطابق ٹیکس لیا تھا۔ یعنی 1600  سی سی کار  کا  ٹوکن ٹیکس  مبلغ 4000 ہزار  روپے سالانہ ۔ہے نا دکھ کی بات ۔ 

نوجوان بولا ۔"جناب اب گاڑی کی اوریجنل  قیمت خرید کے مطابق ٹوکن ٹیکس لیا جائے گا  ۔ اِسی لئے اب آن لائن  سسٹم بند کر دیا گیا ہے"۔ ،
بوڑھا پریشان ہو گیا کہ 2004 کی پرانی رجسٹر گاڑی کا تو ٹیکس معاف ہو جانا چاھئیے ۔ معلوم نہیں حکومت وقت  اب  خزانہ بھرنے کے لئے کون سی دو دھاری تلوار بنائے گی  ؟

خیر بوڑھا ۔ بتائی گئی  دوسری بلڈنگ کی طرف بڑھا ۔بلڈنگ کے نزدیک پہنچا ۔گراؤنڈ فلور تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں نظر آئیں  


  سیڑھیاں چڑھ کر بلڈنگ  کے گراونڈ فلور پر پہنچا     اور لوہے کے کھلے ہوئے  گیٹ سے اندر  داخل ہوا ۔

چلتا چلتا  کوریڈور کے آخر تک گیا جہاں بائیں طرف  مزید سیڑھیاں  اوپر جا رہی تھیں  ، آہستہ آہستہ ریلنگ کو پکڑتا  بوڑھا  پہلی منزل پہنچا ۔

جہاں سامنے  بائیں طرف مزید سیڑھیاں تھیں۔  لہذا دائیں طرف گیلری کی طرف مڑا۔ اور دائیں طرف تالا بند دروازے   دیکھتا    اور قدم بڑھاتا  آخری دروازے ۔ جو صاحب   کا تھا ۔وہاں پہنچا  وہ بھی بند تھا ۔ اُس کے ساتھ پی اے کا دروازے پر تالا نہیں تھا  ۔ اُسے کھولا   ۔ خالی کمرہ تھا ۔  صبح 9  بجنے میں دو منٹ باقی تھے   ۔لہذا ابھی ڈیوٹی شروع نہیں ہوئی  ۔کہاں بوڑھا جو اپنے آفس کے وقت سے  پانچ منٹ پہنچنے کا عادی تھا ۔     واپس ہوا۔ سامنے 6 سیڑھیاں اوپرجا رہی تھیں ۔ 3 افراد کھڑے تھے ۔ بوڑھا بھی اوپر گیا اور بائیں طرف کے دروازے کو کھولا ۔

 سلام علیکم "کہا اور پوچھا" ابراہیم صاحب          تشریف رکھتے ہیں " ۔ 

مزید کچھ پوچے بغیر جواب ملا ۔ اگر آپ کی گاڑی کا نمبر،  آئی ڈی کے ہے تو اسی کمرے کے پیچھے جائیے  وہاں ابراہیم  صاحب مل جائیں گے "۔

  شکریہ ادا کر کےواپس نکلا اور اِسی فلور پر دائیں طرف پتلی گلی میں مڑا دیکھا تو کوئی کمرا نہیں تھا ۔ لیکن بائیں طرف  نیچے کی طرف جانے والی سیڑھیوں    کے خاتمے پر ایک کنٹینر نماکمرہ تھا  ۔اُسے  اتر کر کھولا۔مزید اندر تین سیڑھاں تھیں ۔ بوڑھے کو اپنا  نو جوانی میں      نیلم ویلی کا  مٹی اور پتھروں  کا بنکر یاد آگیا جو دھنی میں تھا ۔اور نوجوان سیکنڈ لفٹین کا نشیمن تھا ۔  

 سلام کرکے پوچھا ۔" ابراہیم صاحب ہیں" ۔
جواب ملا "ابراہیم صاحب تو نہیں آپ اندر اتر آئیں"۔
  اتر کر اندر گیا  اورخالی کرسی پر بیٹھا کراپنے ہاتھ میں پکڑی پانی کی  بوتل  سے پیاس بجھائی ۔  
اور گویا ہوا  : گاڑی کا ٹوکن ٹیکس بھرنا ہے ، نیچے سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہوں۔ کہ آئی ڈی کے۔8021  سیریل نمبر کی  گاڑی کی قیمت خرید لکھوا کر لائیں۔ 
ایک نوجوان اندرگیا اور گاڑی کی فائل نکال کر لایا۔بوسیدہ   کاغذات   الٹے ۔ بولا ۔جناب اِس میں قیمت خرید نہیں لکھی ۔
معلومات دیں  : یو این  گاڑی   نمبر ۔یو این ۔ 67 ۔ 924 تھی ۔ نیلامی میں دوست نے خریدی تھی ۔آپ  نیلامی کے کاغذات میں دیکھیں ۔چالان فارم 32 اے        ضرور لگا ہوگا ۔

نوجوان نے دوبارہ کاغذات الٹے ۔  چالان فارم  32 اے  ۔ سے گاڑی کی قیمت دیکھی اور ایک کاغذ پر رقم ۔  28281  روپے لکھ کر دے دی  ۔

 کہا : یہ جمع کروادیں ۔

لکھا ہو کاغذ لے کر واپس نیچے گیا ۔ کھڑکی سے کاغذ اور گاڑی کا سمارٹ کارڈ   نوجوان کو دیا ، اُس نے کمپیوٹر پر نمبر ڈالے  اور کہا :۔ 

جناب 640 روپے دے دیں ؟ 
وہ کس لئے:  بوڑھے نے پوچھا ؟۔ 
جی ٹوکن ٹیکس ہے ۔ جواب ملا ۔ 
بوڑھے نے 640 روپے بڑھائے اُس نے رسید اور سمارٹ کارڈ تھما دیا 

بوڑھے نے پوچھا ۔ اب کہاں جاؤں ؟
جی اپنے گھرجایئے ۔ وہ خوش دلی سے بولا۔اب یہی ٹوکن ٹیکس ہو گا  
 بوڑھا بولا ۔ پاکستان زندہ باد اور موجودہ حکومت پائندہ باد۔ 

٭٭٭٭

اتوار، 18 فروری، 2024

سلائی مشینوں کی خریداری

 
چار سلائی مشینیں  لے کر وقار کھنہ پل  پہنچ گیا ،اسرار  نے مشینوں کو چیک کیا اور اوکے رپورٹ دی ، چنانچہ بوڑھے نے 47 ہزار روپے وقار کے بھائی شیراز کو ایزی پیسہ کردئے ۔ یہ مائکروفنانس بینکنگ میں  ٹیلینور والوں نے اپنا سکہ بٹھالیا ہے ۔ اب بنکوں  نے بھی راست کے نام سے ایزی پیسہ بینکنگ کو سپورٹ کیا ہے ۔
پہلا پراجیکٹ۔کھنّہ پل کے پاس بلال ٹاؤن میں شروع کردیا ہے ۔جس میں چار سلائی مشینیں  پراجیکٹ ڈائریکٹر علی ابراہیم  کو مہیا کر دی ہیں  ، جن میں دو نئی قیمت فی سلائی مشین مبلغ 16 ہزار روپے ۔(10 سال فری سروس ) دو ری فربش فی سلائی مشین   مبلغ 9ہزار روپے۔
 اگر مشینوں کے صرف خراب پارٹس تبدیل کئے جائیں اور رنگ نہ کروایا جائے ، تو قیمت  فی مشین  مبلغ 6 ہزار روپے میں ملتی ہے ۔
دوسرا  پراجیکٹ ۔ میرپوخاص  (سندھ)میں۔ 
تیسرا پراجیکٹ ۔شجاع آباد  ۔
چوتھا پراجیکٹ :اڈیالہ روڈ راولپنڈی ۔
 پانچواں  پراجیکٹ: تربت (بلوچستان) اور 
چھٹا  پراجیکٹ :گوادر میں  عنقریب ترتیب وار شروع کرنے کا پروگرام ہے ۔دعا کریں کے بے وسائل خواتین کا روزگار شروع ہو جائے ۔

کیا اِس پراجیکٹ میں  بے وسیلہ خواتین اور بچوں کو اتنا منافع ہوگا کہ وہ گھر بیٹھے  اپنا روزانہ کے اخراجات  کو سہارا دے  سکیں  ؟

 ٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

ماضی کے دیو قامت انسان!

  کیا انسان پہلے بندر تھا ؟

ڈارون کی تھیوری نے ۔ افریقہ کی لوسی کو جنم دیا جس سے بوڑھے کی ملاقات عدیس ابابا (ایتھوپیا) کے نیشنل میوزیم میں ہوئی ، بوڑھے نے اپنی محدود معلومات کے مطابق مسجد ذوالقبلتین کی طرح اِسے  بھی مسترد کردیا ۔  کیوں کہ جھوٹ پھیلانے سے کئی سوالات اُٹھتے ہیں ۔کیوں حق کا ایک گھونسہ جھوٹ کے اُس بُت کو پاش پاش کردیتا ، جو جاہل اپنے سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں ۔

بوڑھے کو بچپن سے ماضی کے قرستان میں جھانکنے کا بہت شوق تھا ۔ سب سے پہلے بوڑھے نے ، نڑیا میں اپنے سکول کے پیچھے جھانکا ۔ جہاں  قبروں پر کتبےایستادہ تھے۔ لیکن اُسے سب سے اچھا قبرستان۔ایف ایف سنٹر کے ساتھ برٹش سپاہیوں اور افسروں کا ہے اُس کے نزدیک ایف ایف کے گورکھا سپاہیوں /افسروں کے لئے ایک ٹمپل بھی ہے۔ اِس قبرستان میں ایک سگنل آفیسر کی قبر بھی تھی ۔ جس کے اوپر سگنل بیج  کا مجسمہ آویزاں تھا۔

تو اُفق کے پار بسنے والے بوڑھے کے ذہین دوستو: انٹر نیٹ پر تاریخ کا قبراستا ڈھونڈھتے ہوئے بوڑھے کو ایک عجیب تصویرملی ۔ پہلے تو بوڑھا یہ سمجھا کہ یہ فوٹو شاپ کا کرشمہ ہے لیکن بھر کئی تصاویر ڈھونڈھنے کے بعد ۔احسن الخالقین کی تخلیق کے بعد  ڈارون کی تھیوری فرسودہ لگی ۔

 زمین میں کھدائی سے نکلنے والی ایک کھوپڑی ، جس کا اندازً قد کم و بیش 400 انچ یا 133 گز ہو سکتا ہے ۔
کیا ڈارون کی تھیوری کے مطابق:۔
اِس سے پہلے کےبندر کیا ، اِس سے بھی قد میں بڑے تھے ؟
 کیا 133 گز قد کے انسان کے لئے ، اہرام مصر کے پتھر اٹھانا مشکل ہو سکتا تھا؟ 
سامنے تصویر میں بنایا گئے مصنوعی مجسمے کا قد ، اُس کے پاس کھڑے ہوئے انسانوں کے مقابلے  میں اندازاً  کم از کم 40 گز ہوسکتا ہے ۔ اِ قدہ کے انسان کے سامنے ، اہرام مصر کی چٹانیں ، سیمنٹ کی بلاک کی طرح ہو سکتے ہیں ۔ اور ہاں یہ صرف ایک کھوپڑی نہیں ۔ 
ماہر آثار قدیمہ نے زمین کے مختلف علاقوں سے کئی کھوپڑیاں  نکالی ہیں ۔ جو وہاں کے کسانوں نے کھدائی کے دوران اتفاقاً دریافت کیں ۔ 
 
کسی نے گلیور ٹریول بچپن میں پڑھی ہے ؟؟
 
٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

جمعرات، 8 فروری، 2024

الیکشن 2024 ، بوڑھا اور الیکشن کمیشن

  اُفق کے پار بسنے والے دوستو  !۔

 بوڑھے نے اپنےموبائل پر الیکشن کمیشن کو شناختی کارڈ کا نمبر بھیجا وہاں سے پیغام آیا کہ آپ اب قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 46کےبجائے ،حلقہ نمبر 55 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ 15 میں ووٹ ڈالیں گے۔کیوں کے آپ اب اسلام آباد ، جی نائین ون کے  بجائے،     راولپنڈی  میں ہجرت کر کے سکونت اختیار کر چکے ہیں ۔ بوڑھے نے پہلے یہ ہجرت  2013 کے انتخابات کےبعد ،جون 2014 میں ڈی ایچ اے ون اسلام آبادمیں کی تھی اور  2018  کے انتخابات بوڑھے اور بڑھیا نے ، اسلام آباد میں زبردستی شامل کئے مورگاہ۔1 سے جاکر ، جی نائین ون سابقہ رہائش سے 100 گز دور گرلز مڈل سکول میں ڈالے     ۔جہاں 2008 کے انتخاب میں پہلی بار بوڑھے اور بڑھیا نے ووٹ ڈالا تھا۔

پھر بوڑھا 2020 میں برفی کے بابا کےہاں شفٹ ھو گیا ۔ 2023 میں الیکشن کمیشن سرگرم ہوا اُس کے نمائیندے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اٹھائے گھر گھر جانا شروع ہوگئے ۔ بوڑھے کا شناختی کارڈ ڈالا اور بتایا کہ کیا آپ اپنا حلقہءِ انتخاب   پرانا رکھیں گے یا تبدیل کریں گے کیوں کہ شناختی کارڈ کے مطابق آپ کا عارضی ایڈریس ڈی ایچ اے ون یعنی مورگاہ 1 کا ہے ۔ لیکن آپ کی رہائش یہاں یعنی طارق آباد کی ہے اور یہ قومی اسمبلی کے حلقہ  55میں آتا ہے ۔ بوڑھےنے سوچا ، چلو اب حلقہ 46 کے بجائے حقلہ 55 میں ووٹ ڈالتے ہیں ۔

آج صبح جب بوڑھا ، الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے عسکری 14 سے نکلا ،  تو اڈیالہ روڈ پر موجود پولنگایجنٹ سے جاکر پوچھے کہ اُس کا پولنگ سٹیشن کسِ علاقے میں ہے تاکہ وہاں جا کر بڑھیا کے ساتھ جاکر ووٹ ڈالا جائے ۔

وہاں ایک نوجوان نے پوچھا کہ کیا آپ نے 8300 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ڈال  کر وہاں سے چیک کیا ہے ۔ 

بوڑھے  نے اپنے موبائل سے الیکشن کمیشن سے آیا ہوا ایس ایم ایس دکھایا ۔

شماریاتی بلاک کوڈ: 111030301
سلسلہ نمبر: 349
گھرانہ نمبر: 218
قومی اسمبلی حلقہ نمبر: 55 - راولپنڈی
صوبائی اسمبلی حلقہ نمبر: 15 - راولپنڈی
انتخابی علاقہ: راجہ اکرم روڈ ریس کورس    حاجی روڈ      اکبر روڈ      عسکری14     ٹریفک کالونی،تحصیل راولپنڈی کینٹ،ضلع راولپنڈی۔

 وہ انتخابی علاقہ دیکھ کرپریشان ہو گیا    ۔ بولا  حلقہ نمبر 55 لال کرتی کا علاقہ ہے ۔ آپ وہاں جاکر معلوم کریں بوڑھا ، بھٹہ چوک پر پہنچا وہاں سینٹ کیتھرین گرلز سکول کے سامنے پولنگ ایجنٹ بیٹھے   تھے اُنہوں نے بڑی کوشش کی لیکن   پولنگ سٹیشن کا معلوم نہیں ہورہا تھا ۔ خیر ایک نوجوان نے بتایا کہ لال کرتی بازار کے شروع میں لیپ ٹاپ سے پرنٹ لے کر آئیں ، بوڑھا وہاں پہنچا ، اُس نے بتایا کہ آپ کا پولنگ سٹیشن ایف جی بوائز سیکنڈری  سکول    محفوظ شہید روڈ پر ہے ۔جو جیٹی روڈ سے  ملٹری ہسپتال کے سامنے ریلوے سٹیشن کو جاتی ہے ۔ 

بوڑھا حیدر روڈ سے  بتائی ہوئی جگہ پہنچا ۔ پولنگ سٹیشن میں داخل ہوااور    11:30 پرپولنگ بوتھ 301 سے سامنے جاکر لائن میں کھڑا ہو گیا ۔12:00 بجے ووٹ ڈالا ، جس نوجوان نے پولنگ سٹیشن میں ھاتھ پر سیاہی کا نشان لگایا اُس کو بتایا کہ اب وہ عسکری 14 سے اپنی بڑھیا کو لے کر آئے گا۔ لیکن بہتر یہ ہوتا کہ  طارق آبادکے علاقے میں پولنگ بوتھ دیا جاتا ۔
اُس نوجوان نے مشورہ دیا کہ کئی لوگوں کا ووٹ درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے دور کے پولنگ سٹیشن کا انتخاب کر دیا گیا لیکن حلقہ وہی ہے آپ باہر چیک کر لیں ۔ 

بوڑھا، ایک سنسان پولنگ کیمپ کے پاس پہنچا ۔ جس کی جماعت کو بڑھیا کا ووٹ ڈالنے کا پکا ارادہ ہے ، ویسے بھی   بڑھیا گذشتہ ، تین انتخابات میں اپنا ووٹ اِس سنسان  ، جماعت کے سربراہ کو ڈال کر ضائع کر چکی ہے ۔ خیر ۔ وہاں ایجنٹ نے کاپیاں کھنگالیں     ، جو نام، اُن میں بڑھیا کا نام نہیں ۔ بوڑھا واپس لاکرتی پہنچا لیپ ٹاپ والے نوجوان کو شناختی کارڈ نمبر بتایا ، اُس نے کہا کہ یہ پی پی 10 کا حلقہ میں پولنگ بوتھ ہے ۔ لیکن یہ کہاں ہے ؟
بولا شائد اسلام آباد ۔

لیکن وہاں تو پی پی نہیں صرف این اے ہے ۔

معلوم نہیں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ نوجوان بولا ۔بوڑھا اداس گھر آگیا کہ بڑھیا اپنا ووٹ پھر ضائع نہ کر سکی ۔ 

بوڑھے نے نیٹ سروس بحال ہونے کے بعد ، گوگل آنٹی سے پوچھا کہ یہ پی پی 10 کہاں ہے اُس  نے ٹھک سے جواب دیا ۔ راولپنڈی۔IV۔
آہ، بوڑھے نے مزید چیک کیا تو معلوم ہوا کی 1 سے لیکر 7تک ضلع راولپنڈی سے  کل 13 ایم این اے منتخب ہوں گے ، یعنی 51، 52، 53، 54  ،55، 56 اور 57  ۔ گویا پی پی -10 حلقہ 53 یا 54 میں ہو سکتی ہے ۔یوں پی پی 5 سے پی پی 19 تک پنجاب اسمبلیوں26 ایم پی اے راولپنڈی ڈویژن سے منتخب ہوں گے ۔
بیلٹ پیپر کا سفر پولنگ سٹیشن  سے ، فارم 45 سے فارم 47  الیکشن کمیشن حتمی نتیجہ تک
 

الیکشن کی سرگرمیوں کی معلومات کے لئے ڈویژنل کمیٹی۔
الیکشن میں  ووٹ ڈلوانے کی پولنگ بوتھ کے اندر کلّی ذمہ داری ، پولنگ بوتھ میں موجود الیکشن کے عملے کی ہوتی ہے  ۔ جو  ڈارفٹ فارم 45  اپنے بوتھ کا  پریزائیڈنگ آفیسر کو بھیجتا ہے ۔ اِن ڈرافٹ فارم 45 کی مدد سے پریذائیڈنگ آفیسر ، صرف ایک فارم 45 بناتا ہے جو ریٹرننگ آفیسر کو بھجوادیا جاتا ہے  ۔
الیکشن میں دھاندلی کئے جانے والے پولنگ بوتھ کو پریزائیڈنگ آفیسر کی شکایت پر ڈپٹی کمشنر یعنی آر او کی مدد سے، امن ہونے تک روکا یا بند کروایا جا سکتا ہے ۔ کمشنر کا پورے الیکشن کے نظام میں کوئی کردار نہیں ہوتا، سوائے اِس کے کہ وہ ڈپٹی کمشنر سے معلومات لے ۔ تمام ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر یعنی ریٹرنگ آفیسر کی ہوتی ہے ۔ 
آزاد امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن کے حتمی رزلٹ اناونسمنٹ کے بعد 72 گھنٹوں تک آزاد رہنے کا حق ہے پھر وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
اب صورت حال یہ ہے ، کہ  کہ 20 دنوں تک یعنی 29 فروری  کو یا اِس سے پہلے ، صدر پاکستان کے حکم کے مطابق،  سابقہ سپیکر ،قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے گا۔ممبران قومی اسمبلی حلف لیں گے ۔  سابقہ سپیکرتمام ممبروں سے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا کہے گا ، اُس کے بعد نیا سپیکر ممبران قومی اسمبلی سے قائد حزبِ اقتدار منتخب کرنے کا کہے گا ، اُس کے قائدِ حزب مخالف کا انتخاب ہوگا ۔ پھر نئے صدر کا انتخاب ہوگا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  

جمعرات، 9 نومبر، 2023

بوڑھے کا ایک اور سوشل ورک

بوڑھا ، بڑھیا کے ساتھ گھر سے فلیٹ میں شفٹ ہوا ،  گھریلو ملازم ، تنخواہ ، کھانا ،  رہائش  ،صابن تولیہ ، ٹوتھ برش و پیسٹ مُفت    ہر مہینے تین دن کی چھٹی ، کی  وجہ سے سکون سے رہنے لگا ۔ 6 اگست تا 11 اگست گوادر میں گذارنے کے بعد  بوڑھا واپس آیا ۔ کیوں کہ بیٹے کے اگلے رینک میں پروموشن کو یادگار بنانے کے لئے 8 اگست 2013 کی تاریخ منتخب کی جو اُس کی ماما یعنی بڑھیا کی پیدائش کا دن تھا ۔
تو بڑھیا نے بتایا کہ ملازم  تنخواہ کی کمی  کی وجہ   کڑکڑانا   شروع ہو گیا ہے۔
 جس کی مہینے میں تین دن چھٹیوں اور مزید اضافے کی وجہ سے بڑھیا اور بوڑھے کو کچن کا اضافی  کام کرنا پڑتا ۔ یہاں تک کہ تیسرے ماہ  یعنی ستمبر میں بڑھیا کے علیل ہوجانے کے بعد  کام کا بوجھ مکمل بوڑھے کے کندھوں پر پڑ گیا ۔ تو بوڑھے کو سنت یاد آئی مگر اب پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا ، فرض نبھانا مشکل لگتا تھا ۔تو بوڑھے   کو خیال آیا اور یہ خیال اپنے کورس میٹ قاضی فواد کے گھر آیا ،جہاں امریکہ پلٹ میاں اور بیوی ڈالروں سے گلچھرے اُڑانے کے باوجود ،  گھر میں ملازم افورڈ نہیں کرسکتے ، وجہ اُس کی تنخواہ نہیں بلکہ  خواہ مخواہ  دو افراد کے لئے  ماھانہ اضافی اخراجات جو  بلا مبالغہ 35 ہزار روپے سے زیادہ بن جاتے ہیں ۔
بوڑھے  نے حساب لگایا تو احساس ہوا کہ بوڑھا اور بڑھیا دن کا کھانا کھائیں یا نہ کھائیں ۔ ہر دو دن بعد کھانا بنانا پڑتا ہے ۔ مہمان آئیں تو سیور ، فاسٹ فوڈ یا گاف کلب سے کھانا ۔  ملازم جب چھٹی جاتا تو دو دن کے بجائے کھانا  تین سے چار دن چلتا کیوں کی دو مہینے  بعد، ایک سے تین دن لیٹ آنا ، نوجوان نے اپنی طرفسے والد کی فالج کی بیماری کی وجہ سے کر لیا ۔ یہاں تک کہ اکتوبر میں اُس نے پورا ایک ہفتہ اپنے علیل والد کی خدمت میں گذارا، یو ں بوڑھا اور بڑھیا گھر میں کھانے سے بے نیاز ہوگئے ۔ فروٹ چاٹ ، جسے دیگر  چیزوں    پر توجہ دی اور سب سے بہتر کہ روزانہ گھر کی صفائی کے لئے آنے والی ملازمہ کو اضافی رقم دے کر بڑھیا نے کچن کا اضافی کام جیسے پیاز، لہسن ، سبزی وغیرہ کاٹنے پر رکھ لیا ۔ نوجوان جب واپس آیا تو اُس نے اپنی مجبوری کی وجہ سے معذرت کر لی ، کیوں کہ اُس کا والد مزید علیل ہو چکا تھا ۔ تو بوڑھے نے شکریہ  کے ساتھ نصف تنخواہ دے کر اُسے رخصت کر دیا ۔
اب کیا کیا جائے ، بڑھیا کا خیا ل تھا ، کہ اُسے ملازم کی ضرورت نہیں ، دونوں بیٹیوں کا خیال تھا کہ ملازم لازمی رکھیں ۔ بوڑھے نے سوچا کیوں نہ عمران جو بوڑھے  کے پاس 2017 میں 17 سال کا آیا تھا اور بہترین گھریلو ملازم بن کر 2019 میں فوج میں بطور  این سی بی ملازم ہو گیا ۔
لیکن بڑھیا نے صاف انکار کر دیا کہ اُس میں ہمت نہیں کہ وہ ملازم کو کھانے پکانے کی تربیت دے ۔ چنانچہ بوڑھے نے اک نئے سوشل ورک کی طرف سوچنا شروع کر دیا ۔ 
 جس کے لئے گوادر کے ایک استاد  قاری حنیف  سے رابطہ کیا جو اُس نے  منظور کر دیا وہ یہ کہ گوادر کے  ایک یتیم بچے کو بوڑھا ، اپنے گھر میں رکھ کر اُسے تربیت دے  ۔ جس کے لئے بڑھیا کی یہ شرط تھی کہ وہ  حفاظ ہو ہا کم از کم ناظرہ القرآن پڑھ چکا ہو ۔ 
لیکن قاری صاحب کی تلاش بسیار کے باوجود کو ئی بلوچی  یتیم بچہ گوادر  تا  تربت  نہ ملا ۔ 
چنانچہ اِس پروگرام میں مزید وسعت دینے کے لئے ۔ ملت ابراھیم حنیف پراجیکٹس کا آغاز کیا ۔
بوڑھے کو یہاں بھی ناکامی ہوئی ۔لہذا اِس پراجیکٹ کو دوسری سمت لے جانے کی کوشش  کرنے کا  پروگرام بنایا ۔
٭٭٭٭واپس ٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔