Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 8 فروری، 2024

الیکشن 2024 ، بوڑھا اور الیکشن کمیشن

  اُفق کے پار بسنے والے دوستو  !۔

 بوڑھے نے اپنےموبائل پر الیکشن کمیشن کو شناختی کارڈ کا نمبر بھیجا وہاں سے پیغام آیا کہ آپ اب قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 46کےبجائے ،حلقہ نمبر 55 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ 15 میں ووٹ ڈالیں گے۔کیوں کے آپ اب اسلام آباد ، جی نائین ون کے  بجائے،     راولپنڈی  میں ہجرت کر کے سکونت اختیار کر چکے ہیں ۔ بوڑھے نے پہلے یہ ہجرت  2013 کے انتخابات کےبعد ،جون 2014 میں ڈی ایچ اے ون اسلام آبادمیں کی تھی اور  2018  کے انتخابات بوڑھے اور بڑھیا نے ، اسلام آباد میں زبردستی شامل کئے مورگاہ۔1 سے جاکر ، جی نائین ون سابقہ رہائش سے 100 گز دور گرلز مڈل سکول میں ڈالے     ۔جہاں 2008 کے انتخاب میں پہلی بار بوڑھے اور بڑھیا نے ووٹ ڈالا تھا۔

پھر بوڑھا 2020 میں برفی کے بابا کےہاں شفٹ ھو گیا ۔ 2023 میں الیکشن کمیشن سرگرم ہوا اُس کے نمائیندے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اٹھائے گھر گھر جانا شروع ہوگئے ۔ بوڑھے کا شناختی کارڈ ڈالا اور بتایا کہ کیا آپ اپنا حلقہءِ انتخاب   پرانا رکھیں گے یا تبدیل کریں گے کیوں کہ شناختی کارڈ کے مطابق آپ کا عارضی ایڈریس ڈی ایچ اے ون یعنی مورگاہ 1 کا ہے ۔ لیکن آپ کی رہائش یہاں یعنی طارق آباد کی ہے اور یہ قومی اسمبلی کے حلقہ  55میں آتا ہے ۔ بوڑھےنے سوچا ، چلو اب حلقہ 46 کے بجائے حقلہ 55 میں ووٹ ڈالتے ہیں ۔

آج صبح جب بوڑھا ، الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے عسکری 14 سے نکلا ،  تو اڈیالہ روڈ پر موجود پولنگایجنٹ سے جاکر پوچھے کہ اُس کا پولنگ سٹیشن کسِ علاقے میں ہے تاکہ وہاں جا کر بڑھیا کے ساتھ جاکر ووٹ ڈالا جائے ۔

وہاں ایک نوجوان نے پوچھا کہ کیا آپ نے 8300 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ڈال  کر وہاں سے چیک کیا ہے ۔ 

بوڑھے  نے اپنے موبائل سے الیکشن کمیشن سے آیا ہوا ایس ایم ایس دکھایا ۔

شماریاتی بلاک کوڈ: 111030301
سلسلہ نمبر: 349
گھرانہ نمبر: 218
قومی اسمبلی حلقہ نمبر: 55 - راولپنڈی
صوبائی اسمبلی حلقہ نمبر: 15 - راولپنڈی
انتخابی علاقہ: راجہ اکرم روڈ ریس کورس    حاجی روڈ      اکبر روڈ      عسکری14     ٹریفک کالونی،تحصیل راولپنڈی کینٹ،ضلع راولپنڈی۔

 وہ انتخابی علاقہ دیکھ کرپریشان ہو گیا    ۔ بولا  حلقہ نمبر 55 لال کرتی کا علاقہ ہے ۔ آپ وہاں جاکر معلوم کریں بوڑھا ، بھٹہ چوک پر پہنچا وہاں سینٹ کیتھرین گرلز سکول کے سامنے پولنگ ایجنٹ بیٹھے   تھے اُنہوں نے بڑی کوشش کی لیکن   پولنگ سٹیشن کا معلوم نہیں ہورہا تھا ۔ خیر ایک نوجوان نے بتایا کہ لال کرتی بازار کے شروع میں لیپ ٹاپ سے پرنٹ لے کر آئیں ، بوڑھا وہاں پہنچا ، اُس نے بتایا کہ آپ کا پولنگ سٹیشن ایف جی بوائز سیکنڈری  سکول    محفوظ شہید روڈ پر ہے ۔جو جیٹی روڈ سے  ملٹری ہسپتال کے سامنے ریلوے سٹیشن کو جاتی ہے ۔ 

بوڑھا حیدر روڈ سے  بتائی ہوئی جگہ پہنچا ۔ پولنگ سٹیشن میں داخل ہوااور    11:30 پرپولنگ بوتھ 301 سے سامنے جاکر لائن میں کھڑا ہو گیا ۔12:00 بجے ووٹ ڈالا ، جس نوجوان نے پولنگ سٹیشن میں ھاتھ پر سیاہی کا نشان لگایا اُس کو بتایا کہ اب وہ عسکری 14 سے اپنی بڑھیا کو لے کر آئے گا۔ لیکن بہتر یہ ہوتا کہ  طارق آبادکے علاقے میں پولنگ بوتھ دیا جاتا ۔
اُس نوجوان نے مشورہ دیا کہ کئی لوگوں کا ووٹ درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے دور کے پولنگ سٹیشن کا انتخاب کر دیا گیا لیکن حلقہ وہی ہے آپ باہر چیک کر لیں ۔ 

بوڑھا، ایک سنسان پولنگ کیمپ کے پاس پہنچا ۔ جس کی جماعت کو بڑھیا کا ووٹ ڈالنے کا پکا ارادہ ہے ، ویسے بھی   بڑھیا گذشتہ ، تین انتخابات میں اپنا ووٹ اِس سنسان  ، جماعت کے سربراہ کو ڈال کر ضائع کر چکی ہے ۔ خیر ۔ وہاں ایجنٹ نے کاپیاں کھنگالیں     ، جو نام، اُن میں بڑھیا کا نام نہیں ۔ بوڑھا واپس لاکرتی پہنچا لیپ ٹاپ والے نوجوان کو شناختی کارڈ نمبر بتایا ، اُس نے کہا کہ یہ پی پی 10 کا حلقہ میں پولنگ بوتھ ہے ۔ لیکن یہ کہاں ہے ؟
بولا شائد اسلام آباد ۔

لیکن وہاں تو پی پی نہیں صرف این اے ہے ۔

معلوم نہیں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ نوجوان بولا ۔بوڑھا اداس گھر آگیا کہ بڑھیا اپنا ووٹ پھر ضائع نہ کر سکی ۔ 

بوڑھے نے نیٹ سروس بحال ہونے کے بعد ، گوگل آنٹی سے پوچھا کہ یہ پی پی 10 کہاں ہے اُس  نے ٹھک سے جواب دیا ۔ راولپنڈی۔IV۔
آہ، بوڑھے نے مزید چیک کیا تو معلوم ہوا کی 1 سے لیکر 7تک ضلع راولپنڈی سے  کل 13 ایم این اے منتخب ہوں گے ، یعنی 51، 52، 53، 54  ،55، 56 اور 57  ۔ گویا پی پی -10 حلقہ 53 یا 54 میں ہو سکتی ہے ۔یوں پی پی 5 سے پی پی 19 تک پنجاب اسمبلیوں26 ایم پی اے راولپنڈی ڈویژن سے منتخب ہوں گے ۔
بیلٹ پیپر کا سفر پولنگ سٹیشن  سے ، فارم 45 سے فارم 47  الیکشن کمیشن حتمی نتیجہ تک
 

الیکشن کی سرگرمیوں کی معلومات کے لئے ڈویژنل کمیٹی۔
الیکشن میں  ووٹ ڈلوانے کی پولنگ بوتھ کے اندر کلّی ذمہ داری ، پولنگ بوتھ میں موجود الیکشن کے عملے کی ہوتی ہے  ۔ جو  ڈارفٹ فارم 45  اپنے بوتھ کا  پریزائیڈنگ آفیسر کو بھیجتا ہے ۔ اِن ڈرافٹ فارم 45 کی مدد سے پریذائیڈنگ آفیسر ، صرف ایک فارم 45 بناتا ہے جو ریٹرننگ آفیسر کو بھجوادیا جاتا ہے  ۔
الیکشن میں دھاندلی کئے جانے والے پولنگ بوتھ کو پریزائیڈنگ آفیسر کی شکایت پر ڈپٹی کمشنر یعنی آر او کی مدد سے، امن ہونے تک روکا یا بند کروایا جا سکتا ہے ۔ کمشنر کا پورے الیکشن کے نظام میں کوئی کردار نہیں ہوتا، سوائے اِس کے کہ وہ ڈپٹی کمشنر سے معلومات لے ۔ تمام ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر یعنی ریٹرنگ آفیسر کی ہوتی ہے ۔ 
آزاد امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن کے حتمی رزلٹ اناونسمنٹ کے بعد 72 گھنٹوں تک آزاد رہنے کا حق ہے پھر وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
اب صورت حال یہ ہے ، کہ  کہ 20 دنوں تک یعنی 29 فروری  کو یا اِس سے پہلے ، صدر پاکستان کے حکم کے مطابق،  سابقہ سپیکر ،قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے گا۔ممبران قومی اسمبلی حلف لیں گے ۔  سابقہ سپیکرتمام ممبروں سے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا کہے گا ، اُس کے بعد نیا سپیکر ممبران قومی اسمبلی سے قائد حزبِ اقتدار منتخب کرنے کا کہے گا ، اُس کے قائدِ حزب مخالف کا انتخاب ہوگا ۔ پھر نئے صدر کا انتخاب ہوگا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔