Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 18 فروری، 2024

ماضی کے دیو قامت انسان!

  کیا انسان پہلے بندر تھا ؟

ڈارون کی تھیوری نے ۔ افریقہ کی لوسی کو جنم دیا جس سے بوڑھے کی ملاقات عدیس ابابا (ایتھوپیا) کے نیشنل میوزیم میں ہوئی ، بوڑھے نے اپنی محدود معلومات کے مطابق مسجد ذوالقبلتین کی طرح اِسے  بھی مسترد کردیا ۔  کیوں کہ جھوٹ پھیلانے سے کئی سوالات اُٹھتے ہیں ۔کیوں حق کا ایک گھونسہ جھوٹ کے اُس بُت کو پاش پاش کردیتا ، جو جاہل اپنے سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں ۔

بوڑھے کو بچپن سے ماضی کے قرستان میں جھانکنے کا بہت شوق تھا ۔ سب سے پہلے بوڑھے نے ، نڑیا میں اپنے سکول کے پیچھے جھانکا ۔ جہاں  قبروں پر کتبےایستادہ تھے۔ لیکن اُسے سب سے اچھا قبرستان۔ایف ایف سنٹر کے ساتھ برٹش سپاہیوں اور افسروں کا ہے اُس کے نزدیک ایف ایف کے گورکھا سپاہیوں /افسروں کے لئے ایک ٹمپل بھی ہے۔ اِس قبرستان میں ایک سگنل آفیسر کی قبر بھی تھی ۔ جس کے اوپر سگنل بیج  کا مجسمہ آویزاں تھا۔

تو اُفق کے پار بسنے والے بوڑھے کے ذہین دوستو: انٹر نیٹ پر تاریخ کا قبراستا ڈھونڈھتے ہوئے بوڑھے کو ایک عجیب تصویرملی ۔ پہلے تو بوڑھا یہ سمجھا کہ یہ فوٹو شاپ کا کرشمہ ہے لیکن بھر کئی تصاویر ڈھونڈھنے کے بعد ۔احسن الخالقین کی تخلیق کے بعد  ڈارون کی تھیوری فرسودہ لگی ۔

 زمین میں کھدائی سے نکلنے والی ایک کھوپڑی ، جس کا اندازً قد کم و بیش 400 انچ یا 133 گز ہو سکتا ہے ۔
کیا ڈارون کی تھیوری کے مطابق:۔
اِس سے پہلے کےبندر کیا ، اِس سے بھی قد میں بڑے تھے ؟
 کیا 133 گز قد کے انسان کے لئے ، اہرام مصر کے پتھر اٹھانا مشکل ہو سکتا تھا؟ 
سامنے تصویر میں بنایا گئے مصنوعی مجسمے کا قد ، اُس کے پاس کھڑے ہوئے انسانوں کے مقابلے  میں اندازاً  کم از کم 40 گز ہوسکتا ہے ۔ اِ قدہ کے انسان کے سامنے ، اہرام مصر کی چٹانیں ، سیمنٹ کی بلاک کی طرح ہو سکتے ہیں ۔ اور ہاں یہ صرف ایک کھوپڑی نہیں ۔ 
ماہر آثار قدیمہ نے زمین کے مختلف علاقوں سے کئی کھوپڑیاں  نکالی ہیں ۔ جو وہاں کے کسانوں نے کھدائی کے دوران اتفاقاً دریافت کیں ۔ 
 
کسی نے گلیور ٹریول بچپن میں پڑھی ہے ؟؟
 
٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔