Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
شگفتگو محفل مزاحیہ مناثرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شگفتگو محفل مزاحیہ مناثرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 12 ستمبر، 2020

شگفتگو- کی 25 ویں ماہانہ محفل مناثرہ

کرونا کی وبا کے شروع ہونے کے بعد ، انیسویں ، بزمِ شگفتہ گوئی ، نے ارشد مرشد صاحب کے ہاں قہقہے بکھیرے ، اُس کے بعد تمام شگفتہ گو اپنے اپنے گھروں میں مقید ہو گئے ۔
جوں جوں بیسویں بزمِ شگفتہ گوئی کی محفل تقریب کی تاریخ قریب آرہی تھی ، شگفتگویاؤں میں بے چینی بھی ڑھتی جارہی تھی ۔
کافی سوچ و بچار کے بعد طے پایا کہ اپنے اپنے مضامین وٹس ایپ کے ذریعے ، ایک دوسرے کو پڑھائے جائیں اور داد بصورت کمنٹس وصول کی جائے -

یوں 20 ویں ، 21 ویں ، 22 ویں اور 23 ویں محفل وٹس ایپ کی زینت بنی ، راقم بمع بڑھیا اور چم چم 13 جولائی کو بذریعہ خلائی سفر اسلام آباد پہنچا، 15 جولائی کا ڈاکٹر عزیز فیصل مرزا کو فون آیا ۔ کہ کیوں نہ 24 ویں محفل حاضرہ و ناظرہ برپا کی جائے ۔ 
مہاجر زاہ ، پی سی میں پہلے 4 دن خود ساختہ قرنطینہ میں تھا، آصف اکبر صاحب چھور میں لالہ ءِ صحرائی بنے ہوئے تھے ۔ قرنطینہ کی مدت بڑھنے کا بھی خدشہ تھا- 
لہذا ڈاکٹر صاحب کو انتظار فرمائیے کا مژدہ سنایا ۔
اور مہاجرزادہ ، مہاجر بنا ہوا تھا سوچا کہ 24 ویں محفل اپنے ہاں برپا کرائی جائے ۔ 14 دن بعد بیٹے کے گھر شفٹ ہوا ۔ جہاں بیٹی اور بہو کے حکم کے مطابق مزید  ہفتہ گذارنے تھے ، کیوں کہ بوڑھا استھیما کی وجہ سے ، ساون کے اندھے کی بجائے ، سخت قسم کی کھانسی میں مبتلاء ہو چکا تھا - انہیلر، دوائیاں اور نیبولائزر کا استعمال بڑھ چکا تھا ، لہذا چوبیسویں شگفتہ گوئی کی بزم بھی وٹس ایپ پر برپا کی گئی۔  
25 ویں نشت نہایت اہم تھی ، کیوں کہ دوسری سالگرہ ہونے جا رہی تھی ، لہذا آصف اکبر صاحب نے ہمت پکڑی اور اپنے گھر میں ، شگفتہ گوئی کی بزم منعقد کر ڈالی ۔ 
یوں 7 ستمبر کی شب رات 10:23 پر ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب کا پیغام آیا ،
" بارہ ستمبر 2020 بروز ہفتہ شام چار بجے ، انشا اللہ کرونا کے اختتام پر پہلی بالمشافہ نشست ہوگی۔ جناب آصف اکبر صاحب نے میزبانی کے لیے اپنے گھر  کی آفر کی جو شکریہ کے ساتھ قبول کر لی گئی
احباب اپنی آمد سے مطلع فرمائیں۔"

شاذیہ مُفتی صاحبہ نے 11:16 پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  لکھا ۔
 ہمیں ویڈیو کال پر سن لیجےء گا
 انشاء اللہ نومبر کے آخری ہفتہ میں اسلام آباد اونگی پھر سب احباب سے ملاقات ہوگی-
 عاطف مرزا نے پھلجڑی چھوڑی ،
 سائنسی ایجادات کے اس دور میں ویڈیو کانفرنس نامی پونی ملاقات طے ہو سکتی ہے، ماہرِ کمپیوٹریات جناب آصف اکبر سے آئندہ ملاقات میں اس طریقہء ملاقات پر رہ نمائی لی جائے گی، تاکہ ایک دوسرے کے 9ضرب4 کے چوکھٹوں کی زیارت بھی نصیب ہو،
 ڈاکٹرعزیز فیصل نے منادی کروائی ۔
تقریباً پانچ ماہ بعد آن لائن نشست کی بجائے آف لائن یا نارمل مناثرہ نشست برپا ہونے جا رہی ہے۔ شہر سے باہر کے تمام احباب ہمیں آن لائن جائن کریں گے۔ ڈاکٹر شاہد اشرف، ڈاکٹر کلیم، شازیہ مفتی اور عابد علی عابد سے التماس ہے کہ اپنے نثر پارے تیار رکھیں اور وٹس ایپ یا کسی اور آن لائن رابطے کے ذریعے نشست میں حصہ لیجیے۔

یوں 12 ستمبر کو عسکری-14 سے گاڑی دوڑاتا مہاجرزادہ ٹھیک 4:00 آصف صاحب کے گھر پہنچا ، جہاں سے  3:47 پر ایک نقشہ اور اعلانِ فتح مندی ، عاطف مرزا وٹس ایپ پر چھاپ چکے تھے- اب نقار خانے میں طوطی کی بھلا کوئی سنتا ہے ؟  
السلام عليكم معزز شگفتگین
میں اس وقت آصف اکبر صاحب کے درِ دولت کے باہر پہنچ چکا ہوں-
سر خالد، سر ارشد مرشد، سر ارشد محمود، ڈاکٹر فیصل، فردوس عالم صاحبان
حبیبہ، ڈاکٹر فاخرہ آپ لوگ کب پہنچ رہے ہیں؟


 جس کا جواب 4:11 پر ڈاکٹر فیصل مرزا نے سطحی طور پر ، سوشل میڈیا  کی پرلطف سطحی پوسٹیں " لگا کر دیا ۔
 جبکہ عاطف مرزا سٹینڈ پر کیمرہ لگا کر ، محفل کا آن لائن حشر و نشر کرنے کی تیاری کر چکے تھے :
 ڈاکٹر عزیز فیصل نے ہمیشہ کی طرح تلاوت سے محفل کا آغاز کیا اب چونکہ کیمرے بلکہ موبائل کی آنکھ کی زد میں تھے -
لہذا اپنے موبائل سے ، اپنی حد سے زیادہ مزاحیہ تحریر

، سوشل میڈیا  کی پرلطف سطحی پوسٹیں " سنانا شروع کردیا ۔


 عزیز فیصل ڈاکٹر-     وڈیو لنک :

 اور یوں قہقہوں کی محفل سج گئے۔ جِس نے کرونا کے بے ثباتیاں بھلا دیں ۔ اب چونکہ یہ سب لائیو ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا ۔ مہاجر زادہ نے گھر آکر سنا، تو اندر کا ایڈیٹر اور پروڈیوسر بیدار ہو گیا ۔ کانٹ چھانٹ کر صوت کو بڑھا کر بغیر سازیوں کے اِس یو ٹیوب کے حوالے کر دیا ،
یوں ۔ 6 وڈیوز کےساتھ مہاجرزادہ کی یو ٹیوب پلے لسٹ میں شگفتگو کا اضافہ ہو ا۔ 

 عاطف مرزا نے موبائل کا رُخ اپنی طرف گھما کر ، اپنے مختصریئے المعروف  نثریئے سنانا شروع کر دیئے ۔ 
 
کہا جاتا ہے ، کہ قائد اعظم اور اردو صرف اتنی آتی تھی ، جتنی مہاجر زادہ اور امھارک (ایتھوپیئن زُبان) ۔ اُن کے ایک تقریر میں بولے جانے والے لفظ کام ، کام اور کام کو عاطف مرزا نے پاکستانی غلط فہمی کے تناظر میں پیش کیا -
Calm, Calm aur Calm
  عاطف مرزا- شگفتگو- وڈیو لنک

بڑے بڑے قدآور شگفتہ گویوں کے درمیان مہاجرزادہ طفلِ مکتب ہے ، جو خود کے ساتھ ہونے والی  گفتگو یا واقعہ کو اپنی انداز میں بیان کرتا ہے ، جس میں نمک بھر مزاح بھی ڈل جاتا ہے ۔ دوست قہقہے کم اور دل رکھنے کو مسکرا دیتے ہیں سوائے آصف اکبر صاحب کے ، چنانچہ چم چم (نواسی) سے ہونے والی عدیس ابابا میں گفتگو کو مہاجر زادہ نے بیان کیا ۔
https://www.youtube.com/watch?v=OIXayQL0OCM&list=PLzcKFFkG4lWMunvQ3Y0egUKZRB24D9cD4&index=2

خالد مہاجر زادہ- شگفتگو- خرّاٹے اور غرّاٹے

  وڈیو لنک :
حبیبہ طلعت ایک کہنہ مشق لکھاری بن چکی ہیں، دو سال سے وہ شگفتگویاؤں کی محفل میں قہقہے بکھیر رہی ہیں ۔ بالکل عمومی اندازِ میں مزاح کی پھلجڑیاں چھوڑتی ہیں ، کہ سننے والا قہقہوں کے ساتھ واہ کا دادِتحسین بھی بلند کرتا ہے-
 شگفتگو- پریشانی سے پریشانی کا علاج
  وڈیو لنک : 

آصف اکبر مزاحیہ تحریریں لکھنے میں کمال رکھتے ہیں اور اِس کے ساتھ دوسروں کے مزاح پر اُن کے جاندار قہقہے ، محفل کی رونق کو دوبالا کردیتے ہیں ، جن سے شگفتہ گو حضرات کرونا کی وجہ سے اور خانگی مصروفیات کی بنا پر سردیاں ، گرمائی میدانوں میں گذارتے ہیں ۔ 
چھور ایسی جگہ جہاں مہاجرزادہ نے 1977 اور 1989 میں اپنی فوجی زندگی کا لڑکپن اور جوانی گذاری ہے ، جہاں کے سانپ راتوں کو سپیروں کی تلاش میں نکلتے اور ہمیں خوفزدہ کرکے سانپوں سے بچنے کے لئے کھودی گئی ریتلی خندق میں تڑپ کر چھلانگ لگاتے ۔ 
وہاں بیٹھ کر بھی آصف صاحب کے حسِ مزاح میں خوف کاشائبہ تک نہ پایا ، یا شائد موبائل کی آواز کی لرزش نے بھرم رکھ لیا ہو ۔ 
ویسے بھی بھرم رکھنے میں اُنہیں یدِ طولا حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ اِس یدطولا نے آنہیں بجٹ کے بہانے مزاحیہ غبار بیٹے سے بہانہ شروع کیا اور حکومتی بجٹ سے علمِ نجوم کی یونیورسٹی پر لا ٹہرایا ۔

 https://www.youtube.com/watch?v=A-f_ppxuDfQ&list=PLzcKFFkG4lWMunvQ3Y0egUKZRB24D9cD4&index=4&t=253s
 شگفتگو- بجٹ اور علمِ نجوم 
 وڈیو لنک :

شاذیہ مفتی، کا اضافہ شگفتہ گویاؤں کی محفل میں20 ویں وٹس ایپ محفل میں ہوا ۔ اُن کی پہلی تحریرحیلے رزق بہانے موت - پڑھ کر یوں لگا جیسے زمانہ ماضی بعید کی کوئی تحریر ہے ۔  مرزا رجب علی بیگ کا اندازِ تحریر یا رضیہ بٹ کے ناولوں سے لئے گئے الفاظ ۔ پھر چھاپہ پڑ گیا اور کرونا میں مٹر گشت کے بعد اپنی آواز میں پڑھی جانے والی  شگفتگو- یوں بھی ہوتا ہے کئی بار
موبائل کے گلہ خراب ہونے کے باوجود لطف دیا کیوں کہ اپنے گھر میں ہونے والی مغلئی دعوتِ طعام کا پورا حال سنا دیا ۔ 


 وڈیو لنک :

  ڈاکٹر شاہد اشرف ، خود تو نہ آسکے لیکن ایک غزل گو عاشق نامراد کا حال  رشتہ دارکی سرگزشت میں بیان کر دیا ۔ جِس کی حتمی منزل محبوبہ کے عقد میں گواہ بننا تھی ۔


ارشد مرشد اور اُن کے دوست اقبال جان بھی تشریف لائے ، جنہوں نے سننے اور قہقہے لگانے پر اکتفا کیا - 
 
یوں آصف اکبر کے گھر دوسالہ شاندار محفلِ مناثرہ ، شگفتہ گویاؤں کی قہقہہ سے بھرپور شام ایک پُر تکلف شام کی چائے ، حلیم کے مزے ، چٹخارے دارچنا چاٹ ، سینڈوچز دو اقسام کے کیک اور گرم گرم کافی کے ساتھ اختتام کو پہنچی - 



٭٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭





ہفتہ، 8 اگست، 2020

شگفتگو- کا چوبیسواں ماہانہ مناثرہ

 ترتیب مناثرہ


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عاطف مرزا : 10 منٹ
03:00 – 03:10
شگفتگو- خبریئے

عزیز فیصل ڈاکٹر : 10 منٹ
03:15 – 03:25
 شگفتگو- مزاحیہ قطعہ


  حبیبہ طلعت : 10 منٹ
03:30 – 03:40

 شگفتگو- تصویر اور کیمرا


افتخار حیدر : 10 منٹ
03:45 – 03:50
 شگفتگو- الراسخون

شاذیہ مفتی : 10 منٹ
04:00 –
04:10
 شگفتگو- کرونا میں مٹر گشت


شاہد اشرف ڈاکٹر : 10 منٹ
04:15 – 04:25

 شگفتگو- کلینک میں
 
 آصف اکبر : 20 منٹ
04:30 – 04:40

شگفتگو- گھوڑا، گھڑا ، گھڑی اور گھڑیال -  


ڈاکٹر محمد کلیم  : 10 منٹ
04:50 –
05:00
 شگفتگو- انسانی تاریخ کے ادوار


خالد نعیم الدین -  : 10 منٹ05:42 - 05:50
 شگفتگو- نمّو اور بولنے والا پراٹھا

  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


منگل، 14 جولائی، 2020

شگفتگو- کا تیئسواں ماہانہ مناثرہ

٭ترتیب مناثرہ٭

آصف اکبر : 20 منٹ
03:10 – 03:30
شگفتگو- حسّاس شاعر کے نام خط

عاطف مرزا : 10 منٹ
03:30 – 03:40
شگفتگو- انشائیہ سیاحت

عزیز فیصل ڈاکٹر : 10 منٹ
03:40 – 03:50
 شگفتگو- جی میل اور ہاٹ میل 
  نسیمِ سحر : 10 منٹ
03:50 – 04:00

 شگفتگو- سرفراز شاہد کا ایک بے سروپا، سروپائی خاکہ

  حسیب الرحمٰن اسیر : 10 منٹ
04:00 – 04:10

 شگفتگو-  وضو کر لیجیئے -

  حبیبہ طلعت : 10 منٹ
04:10 – 04:20

 شگفتگو- تصویر اور کیمرا

  شاہد اشرف ڈاکٹر : 10 منٹ
04:20 – 04:30
شاذیہ مفتی : 10 منٹ
04:30 – 

 شگفتگو- حیلے رزق بہانے موت


خالد نعیم الدین - مورخہ 13 جولائی -

 : 10 منٹ
20:49 – 

 شگفتگو- عوامی میلہ یا میل

ہفتہ، 13 جون، 2020

شگفتگو- کا بائیسواں ماہانہ مناثرہ

❤ شگفتگو کا بائیسواں ماہانہ مناثرہ❤️

تاریخ :2020_06_13
نظامت :عاطف مرزا
روداد نویس :حسیب اسیر

یہ نصف صدی کا قصہ نہیں دو چار دن پہلے کی بات ہے _جب ضلع گوگل کی تحصیل فیس بک کے  ایک معروف قصبے وٹس ایپ میں واقع زعفرانی ڈیرے "شگفتگو" میں مزاح نگاروں کا مناثرہ ہوا - 

جس میں دور قریب کے مناثرین نے اتنی بھرپور شرکت کی کہ بات تحصیل تک پہنچ گئی ہے -سو تحصیل والوں سنو-
جاتے سال کے جون کی تیرہ تھی، رواں ہفتے کا ہفتہ تھا، جب سہ پہر چار بجے پیارے عزیزی عزیز فیصل نے عاطف مرزا کی درخواست پر محبت سے لبریز لہجے میں تلاوتِ کلام پاک فرما کر مناثرے کا آغاز کیا -
أَعُوذُ   بِاللَّـهِ   مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّ‌جِيمِ
 بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم (1/1) 

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿27 ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿28
  فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿29 وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿30سورة الفجر

 اس سے پہلے کہ شمع دان کسی کے سامنے دھرا جاتا-
 فردوس عالم بھری پیری میں جھٹ سے شمع دان کے سامنے آ کھڑے ہوئے - ان کے ہاتھوں میں "ہماری نگارشات" نامی مضمون لہرا رہا تھا- جس میں آپ نے دعویٰ کیا کہ "رسید بک" جیسی عالمی شہرت یافتہ کتاب انہی کے قلم کا کارنامہ ہے _جسے تجارتی حلقوں میں مقبولیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے - اس کے سوا فردوس صاحب نے اپنی خطوط نویسی اور سہرا نگاری کو بھی چہک چہک کر بیان کیا -
ابھی داد و تحسین جاری ہی تھی کہ  عاطف مرزا نے شمع کو حسیب اسیر دکھا دیا-
 شمع کو قریب پاتے ہی ادبی اسیر نے خاکہ نگاری کی اولین کاوش "باوا جی" انتہائی شرافت سے پیش کر دی-
وہ تو خوش قسمتی کے تیر نشانے لگا اور جوان کو حوصلہ افزائی سے نوازا گیا -
حسیب ابھی شکریہ ادا کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہے حبیبہ طلعت شمع کو اٹھا لے گئی ہیں -


آپ "ک سےکوفتہ... ف سے فالودہ" کو موضوع بنا کر انشائیہ لکھ لائیں تھیں -
جو اتنا مزیدار تھا کہ سب مناثرین حسبِ ذائقہ متاثر ہوئے -
انشائیے میں آپ کی کوفتہ پروری عروج پر رہی ،کیا خبر یہ عروج مہتاب کو چھو لیتا کہ جناب آصف اکبر نے اپنے مضمون "چاند ہمارا ہے" سے توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی-


 یہ مضمون ایک اکھاڑا ثابت ہوا جس میں مفتی اور چوہدری دنگل کرتے دکھائی دیئے-
آپ نے اتنی خوبصورتی سے اس تماشے کو پیش کیا کہ حاضرین عش عش کر اٹھے-
لیکن جیسے ہی عزیز فیصل نے "مداح کا خوبصورت اینکر کو جزباتی خط" احباب کے ہاتھوں میں تھمایا - 
 اور خود رومان میں مبتلاء ہو کر سوچ کے سمندر میں کھو گئے- یہ خط ایک ایسے عاشق کی حسرتوں کا مجموعہ تھا -
جو ایک عدد بدتمیز بیوی کا شوہر اور چھ بچوں کا باپ ہے ، مگر آنسو بہا کر سو جانے کے بجائے بہتر سے بہتر کی جستجو پر یقین رکھتا ہے۔
عزیز صاحب نے تحریر میں ایسے حقیقی رنگ بھرے کہ ہر مظلوم شوہر کو اپنی ہی داستان معلوم ہوئی- 
 یہ رومانوی رونا سنتے ہی متحرم نعیم الدین خالد نے مضمون "گورکھے اکیڈمی میں" پیش کر کے وصل کے ماروں کو یاد دلایا کہ،  دکھ اور بھی ہیں زندگی میں محبت کے سوا-
یہ ان دنوں کی روداد تھی جب آپ فوجی آفسر بننے کی چاہ میں کاکول اکیڈمی کی سر زمین پر وقت بے وقت ستائے جا رہے تھے -
آپ نے اپنی ابتدائی دوڑ دھوپ کو انتہائی شگفتگی سے بیان کیا -

 اس بیان کا اثر تھا کہ آپ کے بعد شاہد اشرف صاحب نے بھی اپنی استادی کے دوراوائل کو "پہلی جاب اور حلقہ اربابِ ذوق" کی صورت یاد کیا آپ نے مزاح کے مورچے سے ادبی تنقیدی رویوں پر کامیاب حملے کیے -
پھر کمال یہ کہ کمال استادی سے مذکورہ مسئلے کو مزاح کے کوزے میں بند کر دیا -
سب اس کوزہ گری کی تعریف میں مصروف تھے کہ "چھاپہ پڑ گیا" _یہ محترمہ شازیہ مفتی کا  مضمون تھا-


جس میں آپ نے صاحبزادے دارے میاں کی کرشمہ سازیوں کو رقم کر رکھا تھا -دراصل آپ نے یہ تحریر افواہ سازی کی روک تھام کے لیے لکھی تھی-جس کی اراکین نے بھرپور تائید کی -
 تائید سے فارغ ہونے کے بعد "سیدھی سی بات ہے"عاطف مرزا نے اپنے اس فکاہیہ نثریے سے اقتباس پیش کیا-


یہ تکیہ کلام پر جامع تحقیق تھی-ایک بار تو محفل  میں تکیہ تکیہ ہو گئی کچھ دیر بعد جب عاطف صاحب اپنی اس توصیف پر پھولے سما گئے تو ساڑھے پانچ بجے ہنسی خوشی شگفتگو کا بائیسویں ماہانہ مناثرہ اپنے اختتام کو پہنچا -

🌹شرکائے مناثرہ 🌹
بلحاظ ترتیب اظہار

جناب فردوس عالم
جناب حسیب اسیر
محترمہ حبیبہ طلعت
جناب آصف اکبر
جناب عزیز فیصل
جناب نعیم الدین خالد
جناب شاہد اشرف
محترمہ شازیہ مفتی
جناب عاطف مرزا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(مبصّر -حسیب اسیر)
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 9 مئی، 2020

شگفتگو کی اکیسویں وٹس ایپ محفل - فرام ہوم

زعفرانی بزم شگفتگو کےمزاحیہ مناثرہ کی 21 ویں محفل
تاریخ: 9 مئی 2020
وقت: 2:00 بجے دوپہر سے 4:30 دوپہر
نوعیت: آن لائن- واٹس ایپ کے شگفتگو گروپ میں باری باری مضامین کی چسپیدگی، اور پھر ان کو پڑھنے کے بعد، شرکاء کے تحریری تبصرے۔
نظامت: عاطف مرزا
روداد نویس: حبیبہ طلعت
شرکاء: (بلحاظ ترتیبِ اظہار)
آصف اکبر (پرسنل مرزا)
عاطف مرزا (الٰہ دین کا چراغ )
حبیبہ طلعت (میاں، بیوی اور رسّہ)
حسیب الرحمن اسیر (کورونا آیا ہے)
شازیہ مفتی (اطلاع عام)
عزیز فیصل، ڈاکٹر (نثرانچے)
کلیم محمد ، ڈاکٹر (جام ساقی کی سوزوکی)
نعیم الدین خالد ( ایتھوپیائی نائی کرونائی ماحول میں)


خوف اور دہشت سے لطف اٹھانا، انسان کی جبلت میں شامل ہے۔سنا ہے پیرس میں ایک خاص تھیٹر دہشت انگیز کھیل دکھانے کے لیے وقف تھا۔ پھر ہماری قوم تو خدا کے فضل و کرم سے ڈھیٹ بھی واقع ہوئی ہے۔ اسے خود ہیبت ناک واقعات گھڑنے میں کمال حاصل ہے جبکہ دہشتناک حالات سے گذرنے کا تجربہ مستزاد ۔۔۔ بقول کسے، اس قوم کو کارساز میں پھرنے والی چڑیل کا تو یقین آسکتا ہے مگر کورونا ایک وبا ہے اس پر یقین کرکے سنجیدہ لینے والی نہیں ہے۔ پھر بزم زعفرانی کے ارکان کیوں سہمے رہتے، جو ماحول میں مسکراہٹوں سے رونق بڑھانے کی ٹھان چکے ہیں۔
محفل تھی مواصلاتی رابطے پر، سو پچھلی محفل کے تجربات کی روشنی میں نیم مارشل لائی ضابطوں پر ہی استوار ہوئی ۔۔ سب سے پہلے عاطف مرزا نے اصول و ضوابط کا خاکہ سامنے ٹانگ دیا اور تمام ممبران کو نظام الاوقات تھما دیا گیا، 



جس کے مطابق آصف اکبر نے بسم اللہ کی۔۔ حیران نہ ہوں، یہ محض ایک سوچا سمجھا اتفاق رہا کہ ان کو اس عمر میں بسم اللہ کرنا پڑی۔ انہوں نے اپنا مضمون "پرسنل مرزا" کے نام سے پیش کیا، جو معروف مزاح نگاروں کے مقبول کردار "مرزا" کی مناسبت سے لکھا گیا تھا۔ ان کےچلبلے فقروں نے حاضرین کو بہت ہنسایا۔۔ ڈاکٹر عزیز فیصل کا بھرپور تبصرہ تھا " آصف صاحب کا گھمن گھیریاں دیتا، اپنی حسرتوں کا پر مزاح اظہار اور خوبیوں کا مزاحیہ محاسبہ کرتا مضمون روانی اور شگفتگی کے تسلسل کے ساتھ بہت خوب رہا۔
ابھی مسکراہٹیں تھمیں تک نہیں تھیں کہ اپنی باری کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سچ مچ عاطف مرزا کی آمد ہوئی۔



 عاطف مرزا نے "الہ دین کا چراغ" تلے، بقول ارشد محمود، پوری سیاسی تاریخ اور میڈیائی ابتری پر کاری وار کیا گیا ہے۔ عاطف مرزا نے الہ دین کا چراغ رگڑنے سے دھماکہ ہونے اور نتیجے میں الٰہ دین اور جن کی ہلاکت پر خبروں کے دلچسپ ٹکر چلائے۔۔ مثلاً جن کے گروہ کو پکڑنے کے لیے کریک ڈاؤن۔ چراغ کوہ قاف سے غیر قانونی طور پر سمگل کیا گیا تھا۔ کوہ قاف سے آنے والی فلائٹ کے مسافر کے سامان کی ایکسرے فوٹیج ہمارے چینل نے حاصل کر لی، وغیرہ۔ مختصر تحریر کو غیر مختصر داد ملتی ہی چلی گئی۔
اب باری ارشد محمود کی تھی مگر انہوں نے محض سامعین اور ناظرین میں شامل رہنے پر اکتفا کیا، یوں ہم ایک گھنٹے قبل ہی وارد ہوگئے ۔

ہمارا مضمون "میاں بیوی اور رسّہ" تھا جس میں روایتی بندھن پر لاک ڈاون کے حوالے سے مسلسل قید کے دوران رسّہ کشی پر روشنی ڈالی گئی تھی۔۔ موضوع کی بنیاد پر حاضرین نے پسند کیا۔

اب شمع، حسیب الرحمن اسیر کے سامنے دھر دی گئی۔ انہوں نے "کرونا آیا ہے" کی ایک بار پھر اطلاع بہم پہنچائی اور مختصر مگر پر لطف کے مصداق خوب داد سمیٹی۔۔ لکھتے ہیں کہ "کرونا کی آمد سے قبل ہر اینٹ کے نیچے اہل حکمت سکونت پذیر تھے اب ایک ایک اوپر بھی براجمان ہوگیے ہیں"۔ اس مضمون پر سب سے بلیغ داد آصف اکبر کی رہی کہ ابھی تو دم درود سہہ رہا ہے، لیکن تاجدار ( کورونا) دم ہی نہ دے جائے۔


اب باری تھی شازیہ مفتی کے " اطلاع عام" کی۔ جس دلچسپ پیرائے میں انہوں نے ایک حادثے کی کھلکھلاتی روداد بیان کی، لکھتی ہیں کہ " نہ جانے کتنی دیر بعد آنکھ کھلی تو یاد تو فورا آگیا سب لیکن چونکہ اداکاری کا شوق بچپن سے تھا تو جی آنکھیں پٹپٹا کر ایک ہوکا بھرا اور سوال کیا " میں کہاں ہوں ؟
ابھی یہ پوچھنا تھا
" میں کون ہوں؟ میاں صاحب تمام حالات خبرنامے کی طرح سنا کرپھر سے اپنے خول میں کچھوے کی طرح پناہ گزین ہوگے ۔"
اس پر سب سے اعلی تبصرہ حسیب اسیر کا رہا۔ کہتے ہیں کہ حادثے عمر کو تجربے کے سوا کیا دیتے ہیں۔ عزیز فیصل نے کہا کہ ایک حادثے کی روداد سے گوناکوں بہلو نکال کر معاشرت، رواداری، بدتہذیبی اور خدمت گزاری کے اوصاف اجاگر کیے۔


اب شمع دان عزیز فیصل کے سامنے تھا۔ ان کی آمد پر آصف اکبر نے کہا کہ عزیز فیصل وہ ٹونٹی ہیں جس کو جتنا بھی کس کر بند کیا جائے، اس میں سے مزاح ٹپکتا ہی رہتا ہے۔ ہلکے پھلکے نثرانچوں نے ہمیشہ کی طرح عجب بہار دی۔ ایک نثرانچے میں کہا گیا تھا کہ وہ اتنی موٹی ہے کہ کسی کے ساتھ ایک پیج پر آ ہی نہیں سکتی۔ اس پرشاعری کی قطعا مناہی کے باوجود آصف اکبر نے کہا اگر عزیز فیصل اجازت دیں تو اس حوالے سے ایک فلمی نغمے پر مشتمل ٹانگ توڑ تبصرہ کروں:
ایک کرسی میں تو آتا ہی نہیں ---
میرا محبوب کتنا زیادہ ہے۔۔۔۔۔


ان کے بعد ڈاکٹر محمد کلیم نے اپنےمخصوص انداز میں جام ساقی کی سوزوکی کی ادائیں دکھائیں، جس نے شبیر مستری سے اپنا یارانہ خوب گانٹھا تھا۔ لکھتے ہیں کہ " ایک دن ایک ساتھی طالب علم نے آپ سے استفسار کیا کہ کیا آپ فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر کام کرتے ہیں، انہوں نے جب انکار کیا تو وہ بولے پھر آپ کے ہاتھ کالے کیوں رہتے ہیں؟" ڈاکٹر عزیز فیصل کا بھرپور تبصرہ رہا کہ ڈاکٹر صاحب بات سے بات نکالنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ صورت حال سے مزاح کشید کرنا اور شخصیت کی کجی سے دلچسپ نکتے نکالنا آپ کی ہر تحریر کی جان ہے۔
دو دن بعد پردیس سے نعیم الدین خالد نے صبح اپنا مضمون اس معذرت کے ساتھ پیش کیا کہ عین وقت پر نیند آجانے کے سبب وہ شریک نہیں ہو سکے تھے۔ انہوں نے بعنوان"ایتھوپیا کا نائی کرونائی ماحول میں" دلچسپ داستان پیش کی۔

چار شرکاء ایسے بھی تھے جو پراسرار طریقے پر روپوش ہو گئے۔ لاک ڈاؤن کے سبب نہ مسجد سے اعلان کرایا جا سکا نہ کنوؤں میں بانس ڈالے جا سکے۔ نتیجتاً بر وقت شروع ہونے والی محفل کو بروقت ختم کرنا پڑا۔
یوں یہ قہقہاتی محفل اختتام پذیر ہوئی۔
تمام ساتھیوں کی طرف سے ان تمام ساتھیوں کا بہت شکریہ جو اس محفل میں شگفتگی کا احساس دلاتے رہے۔۔۔

(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 11 اپریل، 2020

شگفتگو کی بیسویں وٹس ایپ محفل - فرام ہوم

ہوا کچھ یوں کہ کرونا آگیا، ہر طرف لاک ڈاؤن کی وبا پھیل گئی۔ دن رات چلنے والے چھوٹے بڑے دفتروں میں چھٹی کے جراثیم ایسے پھیلے کہ عمارتیں کی عمارتیں خالی ہو گئیں۔ کھانا اور نماز تک سے غافل لوگ گھروں میں ایسے قید ہوئے کہ اب سوشل میڈیا پر دوسروں کو روزے نماز کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔ پیسے پیسے کا وظیفہ کرنے والے ہر ایرے غیرے کو وظیفوں والی پوسٹیں بھیجتے پائے گئے۔
اِس وبائیہ ماحول میں ڈرتے ڈرتے ہم نے بیسویں مناثرے کا پروگرام بنانے کا سوچا۔ 
ابھی یہ سوچ مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر عزیز فیصل کی جانب سے کال آئی۔ خاصے فکر مند لگ رہے تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اِس بار کے مناثرے کے بارے میں پریشان ہیں۔ پوچھنے لگے، "اِس بار مناثرے کا کیا ہوگا؟"
میں نے فوراً جواب دیا،"مناثرہ فرام ہوم ہو گا اور ہو گا بھی وٹس ایپ پر شگفتگو کے گروپ میں!"
 پوچھنے لگے،"کیسے؟"
 اِس بار میں نے تین تجاویز پیش کیں، جن میں تحریر ٹائپ یا وائس ریکارڈنگ کی صورت میں پیش کرنے کا آپشن رکھا گیا، ویڈیو ریکارنگ یا ویڈیو کال کے آپشن بھی زیرِ غور آئے مگر یہ دونوں محدود ارکان کی نا رسائی کے سبب چھوڑ دیے گئے۔ خیر تمام معزز ارکان سے مشورے کے بعد تحریری صورت پر اتفاق ہوا۔
 11 اپریل 2010 بہ روز ہفتہ اور بہ وقت 3 بجے "مناثرہ فرام ہوم" ہونا طے پایا۔
اور پھر یوں ہوا کہ 11اپریل 2020 کو آخر تین بجے سب اپنے اپنے قرنطینائی ماحول میں لفظوں کے تیر و تفنگ تیار کر کے شگفتگو کے پہلے مناثرہ فرام ہوم کے لیے شگفتگو کے وٹس ایپ گروپ میں میں حاضر ہو گئے۔
 ڈاکٹر عزیز فیصل نے خوش آمدید کہا اور ایک دھڑلے دار خاکہ پیش کر دیا، خاکہ جناب سلمان باسط کا تھا۔ احباب نے داد و تحسین کے ساتھ تحریر، صاحبِ تحریر اور صاحبِ خاکہ کے بارے میں شگفتگو کی۔ 


کچھ ہی دیر میں حبیبہ طلعت نے اپنا وبائی انشائیہ"کیا کیا مچی ہیں یارو، اوہام کی بہاریں" پیش کیا ۔ اس پر بھی خاصی جملے بازی ہوئی۔

ابھی اِس تحریر کا خمار باقی تھا کہ حسیب اسیر نے "کورونا سے ڈرا کاکو" کے نام سے اپنے رفیقِ کار محمد سہیل کا خاکہ ارسال کیا۔ خاکے میں اُنہوں نے سہیل کی فنکاریوں کا تذکرہ بڑی فنکاری سے کیا۔
 یہاں سے مناثرے کی نظامت مجھ غریب مسافر یعنی عاطف مرزا کو سونپی گئی ۔ میں مطالبہء خاتونِ خانہ و بچگان کے" زیرِ کنٹرول" اچانک سر زمینِ سسرائیلی میں جا وارد ہواتھااور مناثرہ فرام سسرائیل کا عالمی ریکارڈ قائم کر رہا تھا ۔مجھے آتے ہی اختصار کی روایت کا اعلان کرنا پڑ گیا جس کے لیے فرہنگِ عاطفیہ سے چند اکھڑے اکھڑے اقتباسات شرارتی نثریوں کے عنوان سے صاحبانِ شگفتگو کے سامنے رکھے۔ ان جملوں پر یاروں نے تاک تاک کے جملے مارے ۔ جملوں کی چاند ماری جاری تھی کہ ویلا مُک گیا۔

اُس کے بعد سلمان باسط صاحب کی جانب سے شاہین کاظمی کے خاکے سے مقتبس تحریر "کاہنہ"احباب کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کی گئی۔خاکے میں دو شخصیات کے بارے میں قلم آرائی کے منتظر صاحبان کو پورے خاکے میں ایک شخصیت محترمہ شاہین کاظمی ہی نظر آئی جبکہ کسی کاہنہ نام کی خاتون کا کوئی تذکرہ نہیں آیا۔ قلتِ وقت کے سبب کسی نے سلمان صاحب سے پوچھا ہی نہیں کہ یہ کاہنہ کون تھی، خیر یہ سوال کورونا کے سبب اگلی نشست میں پوچھنےکے لیے چھوڑ دیا گیا۔


اِس تعارفی تحریر کے فوراً بعدشگفتگو کے نئی رکن محترمہ شاذیہ مفتی نے انتہائی ڈرامائی انداز سے ایک ڈرامائی عشق کا حال لکھ بھیجا۔ بھیجا فرائی ہو جاتا اگر اختتامیے میں عشق کا کھِدو نہ کھولا جاتا۔ محترمہ کی اِس تحریر سے متاثر ہو کر یار لوگوں نے ڈرامہ "دیوانگی" کا پوسٹر ضرور دیکھا ہو گا، اور خواتین ارکان نے یو ٹیوب پر ڈرامہ "دیوانگی" کھولا ضرور ہو گا۔

اِس ڈرامے سے نکلے ی تھے کہ ڈاکٹر فاخرہ نورین نے اختصار کے قلعے پر ایک طویل تحریر کا میزائل دے مارا۔یہ تحریر تھی اُن کے تازہ ترین معرکےپر، جس کا عنوان انہوں نے "عملوں بس کریں او یار" لکھا۔اِس تمام معرکے میں انہوں نے بھینس کو سوکن کا مقام دینےکی بھرپور کوشش کی اور جگ ہنسائی کی پروا کیے بغیر اپنے سرتاج زبیر صاحب کوبھینس دوہنے جیسے سوفیسٹی کیٹڈ کام سے روک دیا۔ قبلہ زبیرصاحب اِس ڈاکٹرانہ بھینس دشمنی پر آج تک تحیر کا شکار ہیں۔
 قارئینِ کرام ابھی معاشقہء بھینس کے احوال سے نکلے ہی تھے کہ محترم فردوس عالم نے ڈیجیٹل تحریر سے نواز دیا، ایک نمبری اور دونمبری کے ذکر پر صاحبانِ ذوق نے داد بھی ڈیجیٹل انداز میں پیش کی۔
  داد و تحسین کے پیغامات کی ڈیجیلائزیشن جاری ہی تھی کہ ارشد محمود اپنے ننھے سے بیٹے کو دل سے لگائے آن وارد ہوئے اور آتے ہی غیر متوقع طور "اینٹی کلائمیکس " پیش کر کے سارے کلائمیکس کو کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔ سب مبہوت ہو کر موت کا منظر پڑھ رہے تھےکہ اچانک ایک چوہا آن ٹپکا خوام مخواہ۔ یار لوگوں کے ذوقِ مطالعہ کی خبر اُن کے تبصروں سے ہوئی۔
 ابھی ارشد محمود صاحب کی تحریر پر اُنہیں اچھے نثر زدگان کی فہرست میں اول نمبر پر پہنچانے کی تحریک چل ہی رہی تھی کہ ہمارے بہت ہی سنجیدہ ہنس منکھ دوست محمد عارف کے قلم سے اُن کے بزرگ دوست کی تحسین پر مبنی خاکے سے ایک اہم پیرا گراف سرزد ہوا۔ ایک اعلیٰ ہستی کا ادب کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شستہ مزاح میں احاطہ کرنا اِس تحریر سے سیکھا جا سکتا ہے۔عارف کے قلم نے الفاظ پینٹ کیے تو جناب طالب انصاری کا چہرہ سامنے آیا، تحریر سے آگے بڑھنے کے لیے قارئین پورے خاکے کا مطالبہ کر بیٹھے، جو اگلی کسی نشست کے لیے اٹھا رکھا گیا ۔
 ڈاکٹر شاہد اشرف کچن سے براہِ راست فی البدیہہ مزاح لے کر مناثرے میں شریک ہوئے۔آخر میں اُنہوں نے اعلان بھی کیا کہ وہ کچھ نہیں بنا رہے تھے، حالانکہ وہ سب کو بنا رہے تھے کہ انجانے میں روایاتِ زن مریدی نبھاتے پکڑے گئے تھے۔یہاں اُن پر عاطف مرزا کا ایک شرارتی نثریہ بھی صادق آئی کہ دنیا کے 50 فی صد شادی شدہ مرد زن مرید ہوتے ہیں......اور باقی اِقرار نہیں کرتے۔

ابھی داستانِ شاہد اشرف پر لوگوں کے دھڑا دھڑ تبصرے چلنے ہی لگے تھے کہ ڈاکٹر کلیم اپنی الف لیلوی تمثیل کے کردارجام ساقی کے اپنی نوعیت کے واحد دوست بھٹہ صاحب کے بَھول پن اور بُھول پن کی کہانی لے کر میدان میں اترے ۔ بھلکڑ انہ شخصیت کی اعلیٰ صفات کے تذکرے کو انتہائی ہنسوڑ سلیقے سے قلم بند ککرتی یہ تحریر حاضرین کی توجہ میں جم کر رہ گئی کیونکہ یہی مناثرے کی آخری تحریر ثابت ہوئی۔
 وجہ یہ سامنے آئی کہ آصف اکبر صاحب کو انٹرنیٹ کی شرارت نے مناثرے سے اچانک صیغہ واحد غائب میں تبدیل کر دیا۔ البتہ مناثرے کے اختتام سے 24 گھنٹے کے بعد آصف اکبر صاحب نے خود نوشت پیش کر ہی ڈالی ، جس میں انہوں نے بہ اندازِ عارفانہ اپنا ہی خاکہ لکھ ڈالا۔ اِس خاکے میں اُنہوں نے ہمیں آصف اکبر مایوس سے ملوایا ۔ اتنی تاخیر سے پیش کیے جانے کے باوجود اِس تحریر نے ہمیں مایوس کے رتبے پر فائز نہیں کیا۔
احباب نے اِس دوران اپنی تازہ تصاویر پیش کر کے ایک دوسرے کو ہنسایا۔ سب زیادہ ہنسوڑ تصویروں میں بھینسوں سے رقابت رکھنے والی ڈاکٹر سرِ فہرست ہے۔ نقصِ امن کے خطرے کے پیشِ نظر کچھ احباب نے اپنی تصویر پیش کرنے سے احتراز کیا۔ شگفتگو کے ارکان پر اُن کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ٹیکنیکل طور پر ڈاکٹر محمد کلیم کی تحریر کے بعد مناثرے کے اختتام کا اعلان ہوا۔ غیر رسمی اِجلاس کے دوران رُوداد تحریر کرنے کی ذمہ داری حبیبہ طلعت کی لگائی گئی مگراز راہِ ہم دردی میں نے اِسے خواہ مخواہ نبھا یا۔ اب میرا یہ احسان مزاحیہ ادب میں یاد رکھا جائے گا یا نہیں، اِس کی ذمہ داری خالصتاً قارئین کی ہو گی۔رُوداد میں سب کو رگیدنے کے لیے سب کی تحریروں کو تفصیل سے پڑھنے کی ضرورت پیش آئی جس کے سبب رُوداد نویس کویعنی مجھے قہقہوں کے بے شمار شدید جھٹکے بھی لگے۔اللہ تعالیٰ نے خصوصی حوصلہ عطا کیا تو یہ روداد مکمل ہو گئی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*شرکائےمناثرہ*
آصف اکبر
فردوس عالم
سلمان باسط
ڈاکٹر عزیز فیصل
ڈاکٹر شاہد اشرف
رحمٰن حفیظ
ارشد محمود
محمد عارف
ڈاکٹر محمد کلیم
شاذیہ مفتی
ڈاکٹر فاخرہ نورین
حبیبہ طلعت
حسیب الرحمٰن اسیر
عاطف مرزا
٭٭٭٭٭
(مبصّر -  عاطف مرزا )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 14 مارچ، 2020

شگفتگو کی انیسویں محفل

شگفتگو کی 19واں مناثرہ
14 مارچ 2020
بمقام: درِ مرشد، بحریہ 8، اسلام آباد
شرکاء:
جناب ارشد علی مرشد (میزبان)
جناب ڈاکٹرعزیز فیصل
جناب قیوم طاہر
عاطف مرزا (روداو اور نظامت)
  ***********************
غلغلے بلند تھے کسی کورونا نامی وائرس کی آمد آمد کے، انہی دنوں مارچ بھی ساتھ ہی آ پہنچا۔ اس مہینے میں زندگی میں ویسے ہی اچھل کود لگ جاتی ہے۔ مناثرہ بھی ہر مہینے کے دوسرے ہفتے کی خصوصی ڈش ہے۔ 
فروری کے مناثرے کے دوران کرنل ارشد علی مرشد نے مارچ کے مناثرے کی دعوت دراز کی تھی۔ 
دوسرا ہفتہ پہنچنے سے چند روز پہلے ہی ڈاکٹرعزیز فیصل نے بانی ارکان پر مناثرہ لازمی قرار دیا۔ لے دے کے دو چار ہی اسلام آباد میں قابو آئے ہوئے تھے سو حکم عدولی کی گنجائش تھی نہ دل۔
14 مارچ بروز ہفتہ شِکر دوپہرے میں نے اپنی ہنڈا سوک کا انجن گرم کیا اور درِ مرشد کی طرف دُڑکی لگا دی۔ وقت کا گھنٹہ ہونے کے قریب تھا کہ میں بحریہ فیز 8 کے باہر پہنچ گیا، رستے میں ڈاکٹر عزیز فیصل نے ناکہ لگایا ہوا تھا، انہیں وہاں سے اٹھا لیا تاکہ عوام الناس اتنے سخت ناکے پر پریشان نہ ہوں۔
مرشد کے بتائے رستے پر چلتے چلتے، گوگل آنٹی کی مدد سے ہم جا وارد ہوئے درِ مرشد پر۔ مرشد چونکہ فون پر بھی رستہ گیری کر رہے تھے لہٰذا خود باہر استقبال کے لیے موجود تھے۔ (جملے میں رستے کا ت سائیلنٹ نہ کیا جائے)۔ ہمیں وصول کر کے گھر کے تہ خانے تک لے گئے، ایسے مزاح کا مال، انہوں نے زمین کے نیچے پہنچا دیا۔ کچھ دیر میں اعلیٰ حضرت جناب قیوم طاہر بھی پہنچ گئے۔
پیر و مرشد حضرت ارشد علی مرشد نے پہلے پانی سے تواضع کی اور مناثرے کے دوران یا بعد میں چائے کا جھانسہ دے کر کچھ دیر کے لیے غائب ہو گئے۔

 ڈاکٹر عزیز فیصل نے غیر صدریہ انداز میں مجھے نظامت کو حکم دے ڈالا۔ مرشد واپس پہنچے تو ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب نے تلاوت کی سعادت حاصل کر کے نشست کا اغاز کیا۔

رواج کے مطابق میں نے نظامت کا ذمہ لیتے ہوئے فکاہیہ تحریر "پانچواں روپ" پیش کی۔ جس میں خواتین کے چار روپ گنوانے کے بعد پانچویں روپ کی آن، بان، شان اور مختلف اثرات و کیفیات سے لبریز جملے پیش ہوئے۔
حاضرین نے ہمارے اس مضمون میں اپنی محبوباؤں کے عکس دیکھنے کی کوشش کی ، مگر دھندلاتی ہوئی یادوں میں کچھ نظر نہ آیا۔ البتہ مضمون کے تناظر میں سب نے بہت سی یادیں تازہ کر لیں۔
 دوسرے مقرر جناب ارشد علی مرشد صاحب نے اپنا مضمون پیش کیا جس میں انہوں نے انسان کے وفادار دوست یعنی کتے کی شان میں انتہائی اہم معلومات پیش کیں۔ دورانِ تبصرہ ٹائم چاروں شرکاء نے اپنے تجربات و مشاہدات میں کتوں کے کردار پر خاطر خواہ روشنی ڈالی۔
 تیسرے نمبر پر ڈاکٹر عزیز فیصل نے اپنے شرارتی نثرانچے کے خوانچے حاضرین کےسامنے رکھ دیے۔ سچ کہوں تو چیدہ چیدہ معاملات کو پیچیدہ انداز میں پیش کر کے رنجیدہ لوگوں کی سنجیدہ بیماریوں کا جہاں دیدہ احوال کہا۔ اس پر تبصرے اور تحسین کے دوران قہقہہ آور گفتگو ہوئی جس سے چاروں شرکا دیر تک محظوظ ہوتے رہے۔
 محفل کے آخر میں جناب قیوم طاہراِس بار ذرا وکھرے انداز میں سامنے آئے اور چند نامی گرامی گمنام کرداروں کو متعارف کرانے پر مامور ہو گئے۔ جس پر ہم سب حاضرین نے اُن کی بات ماننے میں ہی عافیت سمجھی۔
نشست کے اختتام پر چائے، سموسے، فروٹ چاٹ، دہی بھلےہمراہ اچار چٹنیوں کے لائے گئے تو معلوم ہوا کہ مرشد کے لنگر خانے پر انتظام کم از کم ایک درجن ارکان کے لیے تھا، مگر خوفِ کرونا نےکے سبب نہ آنے والوں کا نصیب صرف چار "مساکرین" پر ہی کھولا گیا۔ رج کے کھا پی کر ہم سب نے نے رب کا شکر ادا کیا۔
اجازتوں کے مراحل طے کرتے کراتے جب ہم درِ مرشد سے باہر پہنچے تو تصویریں بنانا یاد آ گئیں۔ دورانِ نشست یہ فریضہ قضا ہوگیا تھا۔ خیر اس کےبعد قیوم طاہر صاحب کی کار کا تعاقب کرتے میں اور ڈاکٹر عزیز فیصل بحریہ ٹاؤن کی حدود سے باہر آئے۔ ڈاکٹر صاحب کو ہمک ٹاؤن کے داخلی راستے کے قریب جی ٹی روڈ پر خدا حافظ کہا۔ یوں یہ 19واں مناثرہ انجوائے کر کے ہم خوش خوش اپنے گھروں کو آ گئے۔
 
٭٭٭٭٭واپس ٭٭٭٭٭٭











خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔