میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جولائی، 2020

شگفتگو- چار آنے کے پانچ سگریٹ - شاہد اشرف ڈاکٹر

میرا خیال تھا کہ ایمبیسی کا ذائقہ بہتر ہے جب کہ میرے کزن کو , کے ٹو کا ذائقہ اچھا لگا. ہم نے پہلی بار چار آنے کے پانچ سگریٹ خریدے . تین ایمبیسی اور دو کے ٹو. اُن دنوں قصبے میں میلا لگا ہوا تھا. کچّی ٹاکی میں "بنارسی ٹھگ " دن دیہاڑے پکّے پیریں دیکھ کر بستے کندھے پر لٹکائے اور منور ظریف کے مکالمے یاد کرتے گھر آ گئے. ایک دن میں دو معرکے انجام دیے. یعنی فلم اور سگریٹ ایک ساتھ , گویا ایک ہی جست میں دو زینے طے کر لیے. ویسے یہ ہمارے ریلنگ پکڑ کر زینے چڑھنے کا زمانہ تھا. اس موقع پر مجھے ایک مسلمان حکمران یاد آ گیا ہے. 
چھٹی جماعت میں سکول سے میلا دیکھنے کے لیے پہلے پیریڈ کے بعد آنکھ بچا کر نکلے اور چُھّی ہونے تک میلے کے سارے رنگ دیکھ لیے. میلا کئی دن تک رہا. اس کے بعد میں نے دیگر طلبا کو سکول سے بھگانے میں سہولت کار کے فرائض انجام دیے. نئی نسل صرف گمان کر سکتی ہے کہ ہم سکول کے بعد آوارہ گردی کرتے, نہر میں نہاتے, کھیتوں میں خربوزے توڑتے, درختوں پر چڑھتے اور بھینس کی سواری کا لطف اٹھاتے تھے.
چند دن بعد میلا تو ختم ہو گیا مگر ہمارے دل ٹھگ کر سگریٹ کی نشانی دے گیا. سگریٹ کے شعلے اور منھ سے دھواں اگلنے پر کارخانے کا گماں ہوتا تھا. ایک دن سکول میں پڑھتے ہوئے سر چکرانے لگا. آدھی چھٹی کے بعد گھر آ گیا. والد صاحب ایک بزرگ دوست حکیم کے پاس لے گئے. انھوں نے کلائی پکڑی, نبض چیک کی , چند لمحے مجھے غور سے دیکھا اور ایک پڑیا دے بولے, صبح دہی کے ساتھ کھا لینا.
اگلے دن سکول میں چھٹی تھی. سارا دن آوارہ گردی اور سگریٹ نوشی ہوتی رہی. اب یہ یاد نہیں کہ آوارہ گردی زیادہ کی یا سگریٹ نوشی زیادہ. ایک صاحب کو سگریٹ لعاب سے گیلا کر کے سلگاتے ہوئے دیکھا تو اس نقل کی کوشش میں سگریٹ اور لعاب دونوں ضائع ہو گئے.
دن ڈھلے گھر پنہچے تو سر چکرانے لگا. والد صاحب دوبارہ حکیم صاحب کے پاس لے گئے. انھوں نے معمول کے مطابق نبض دیکھی. پڑیا دی اور دہی کے ساتھ کھانے کی تاکید کی. اگلا دن سکول سے آنے کے بعد ملکی حالات کی طرح کسی تبدیلی خارج از امکان کے مطابق گزر گیا. سگریٹ کے کش لگائے, دھویں سے دائرے بنانے کی کوشش کی, موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے کا تصور باندھا , ہینڈل چھوڑ کر ہاتھ بلند کیے, دھواں منھ سے نکل کر دائرے بناتا ہوا میں تحلیل ہو گیا. کئی دنوں کی مشقت کے بعد اس کامیابی نے سرشار کر دیا. اچانک سر چکرانے لگا . گھر لوٹتے ہوئے کئی بار ایسا لگا کہ جیسے دادا جان کی عینک لگائی ہوئی ہے. زمین پر جگہ جگہ نشیب و فراز کی وجہ سے پاؤں رکھتے ہوئے دقت ہو رہی تھی. گھر پہنچے اور پھر حکیم صاحب کے مطب پر حاضری دی. والد صاحب کی تشویش اور حکیم صاحب کا تفکر  چہروں سے صاف دکھائی دے رہے تھے. حکیم صاحب نے پڑیا بنائی, میرے پاس آئے, چند لمحے مجھے دیکھتے رہے , پھر میری قمیص کی جیب میں پڑیا رکھتے ہوئے آہستہ سے بولے "اگر تم نے اب سگریٹ پیا تو میں تیرے والد کو بتا دوں گا "

(شاہد اشرف ڈاکٹر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔