Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏پاکستانیت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏پاکستانیت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 6 جنوری، 2026

قائدِاعظم اور ایک سنتری


قانون، وقار اور اعتماد کی ایک لازوال مثال

یہ منفرد اور تاریخی تصویر 1948ء کے ایک ایسے واقعے کی یادگار ہے جو قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے قانون کی بالادستی، عسکری نظم و ضبط اور اخلاقی عظمت کو بے مثال انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب شہر میں کرفیو نافذ تھا۔ قائدِاعظم کا قافلہ ایک لنک روڈ کے ذریعے سفر کر رہا تھا جو کینٹونمنٹ کے علاقے سے گزرتی تھی۔ یہ راستہ عام طور پر قائدِاعظم استعمال نہیں کیا کرتے تھے، مگر کرفیو کی وجہ سے اسی سڑک سے گزرنا ضروری ہو گیا۔
راستے میں ایک پاک فوج کے سنتری نے قافلے کو روک لیا اور بیرئیر کھولنے سے انکار کر دیا۔ سنتری کو علم تھا کہ گاڑی میں خود بانیٔ پاکستان موجود ہیں، مگر قائد سے بے پناہ محبت اور احترام کے باوجود اس نے ڈیوٹی اور قانون کو فوقیت دی۔
سنتری نے قائدِاعظم کو سلیوٹ کیا اور نہایت ادب سے سوال کیا:۔
  "سر! کیا آپ کے پاس کرفیو کے دوران سفر کی اجازت ہے؟"
یہ سوال سن کر قائدِاعظم لمحہ بھر کے لیے حیران ہوئے، پھر ایک شفیق باپ کی طرح مسکراتے ہوئے فرمایا:۔
 "نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
یہ جواب سنتے ہی سنتری نے خوش دلی سے قائدِاعظم کو ایک معاہدہ  پیش کیا کہ اگر وہ ان کی یونٹ کا دورہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو انہیں راستہ دے دیا جائے گا۔
قائدِاعظم نے اس پیشکش کو فوراً قبول کر لیا۔
وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ تھی، جو آج 5 لائٹ   (سام) رجمنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
فوجی قیادت کی آمد اور قائد کا اصولی فیصلہ

کینٹونمنٹ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اعلیٰ فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچے تاکہ قائدِاعظم کو اس "صورتِ حال" سے نکالا جا سکے۔
جب پریشان حال بریگیڈیئر کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے مؤدبانہ درخواست کی کہ قائدِاعظم اپنا سفر جاری رکھیں۔
قائدِاعظم نے مسکراتے ہوئے سنتری کی طرف دیکھا اور فرمایا:۔
 "نہیں، ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔"
یہ الفاظ دراصل اس بات کا اعلان تھے کہ:۔
 پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں—حتیٰ کہ بانیٔ پاکستان بھی نہیں۔
تاریخی دورہ: ۔ یوں 21 فروری 1948ء کو قائدِاعظم نے 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ کا دورہ کیا۔ اسی موقع پر وہ تاریخی تصویر لی گئی جس میں:۔
دائیں جانب بریگیڈیئر اکبر کھڑے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی موجود ہیں۔رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِاعظم کو اینٹی ایئر کرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا فوجی یونٹ تھا جسے قائدِاعظم نے باضابطہ طور پر وزٹ کیا۔

ایک منفرد اعزاز اسی منفرد اعزاز کی بنا پر 5 لائٹ SAM رجمنٹ پاکستان آرمی کی وہ واحد یونٹ ہےجس کا ریویو سلام فنگ (Salaam Fung) پوزیشن میں لیا جاتا ہےنہ کہ بازو فنگ (Bazu Fung) میں، جیسا کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی دیگر تمام یونٹس میں ہوتا ہےیہ روایت آج بھی اس یونٹ کے لیے قائدِاعظم کی یاد اور اعتماد کی علامت ہے۔


---

ایک زندہ گواہ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ:

وہ نوجوان کیپٹن (جو بعد میں کرنل بنے)

جنہوں نے ملیر بیس پر قائدِاعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا

اور پریڈ کی قیادت کی

وہ آج بھی حیات ہیں، تقریباً سو برس کی عمر میں، مکمل ہوش و حواس، پورے دانت اور سر پر بالوں کے ساتھ—گویا تاریخ خود سانس لے رہی ہو۔


(بشکریہ: لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالباسط)

قائد اور فوج: محبت اور اعتماد کا رشتہ

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قائدِاعظم ۔پاکستان کے کمانڈر ان چیف تھے۔مگر خود کو ایک قانون پسند شہری سمجھتے تھےاور پاک فوج:۔
نظم و ضبط
آئین کی پاسداری
اور فرض شناسی
کی عملی مثال تھی۔
یہ رشتہ خوف کا نہیں، اعتماد کا تھا
یہ اطاعت اندھی نہیں، اصولی تھی
اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔

---

اختتامی کلمات

یہ محض ایک تصویر نہیں،
یہ ایک نظریہ ہے
یہ ایک ریاستی اصول ہے
اور یہ ایک سبق ہے:

> قانون اگر سنتری کے ہاتھ میں بھی ہو
اور سربراہِ مملکت بھی اس کے سامنے سر جھکا دے
تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوتی

یہی قائدِاعظم کا پاکستان تھا—
اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 24 مئی، 2025

پاکستان میں خاموش ماہرین کا سائنسی انقلاب

 1998 میں پاکستان نے امریکی کروز میزائل کو صحیح سلامت زمین پر اُتارا تھا، یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب تھا۔ ایک ایسا واقعہ کہ جس نے امریکی انٹیلیجنس کو بھی حیران کر کے رکھ دیا۔ اُس وقت امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے درجنوں "ٹوماہاک کروز میزائل" فائر کیے، جن میں سے چند پاکستان کی فضائی حدود سے گزرے۔ 

پاکستانی ایئر ڈیفنس سسٹم نے فوری ردعمل دیا اور ایک میزائل کو بغیر کسی تباہی کے زمین پر اُتار لیا۔ یہ میزائل اپنی مکمل ساخت میں تھا، جس نے پاکستان کو پہلی بار دنیا کی جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کے قریب لا کھڑا کیا۔ ماہرین نے اس میزائل کو تفصیل سے سمجھا، اس کی ساخت، نیویگیشن سسٹم، وار ہیڈ اور ایندھن کی اقسام کا مطالعہ کیا، اور یہی بنیاد بنی پاکستان کے اپنے "بابر کروز میزائل" کی۔

 آج اگر پاکستان دنیا کے چند بہترین کروز میزائل بنانے والے ممالک میں شامل ہے، تو اس کی بنیاد اسی لمحے میں رکھی گئی تھی ۔
دوسری بار جب امریکہ نے پاکستان کے سارے ریڈار سسٹم کو جام کرکے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا جسکا دوران آپریشن پاکستان کو پتہ بھی نہیں چل سکا اور آپریشن کے بعد امریکہ نے پاکستان کو اس کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔

لیکن دوران آپریشن قدرت ایک بار پھر پاکستان پر مہربان ہوئی امریکہ کا ایک جدید ترین ہیلی کاپٹر دیوار سے ٹکرا کر کریش ہوگیا اور امریکی فوجی اسے بم سے اڑا کر چلے گئے لیکن پاکستان کے سائینس دان اس تباہ شدہ ہیلی کاپٹرکے ملبے سے اس جدید ٹیکنالوجی کی کھوج لگانےمیں کامیاب گئے اور ملنے والے کچھ شواہد نے پاکستان اور چائینہ کو ملکر جدید ترین ریڈار جامع کرنے کی صلاحیت بنانے کے قابل بنا دیا جسکی بدولت پاکستان نے آج دنیا کی سب سے جدید ٹیکنالوجی کی لڑائی میں ایسی عظیم فتح حاصل کی کہ دنیا کے ہوش اڑ گئے۔

پاکستان پر حملہ کرنے والے انڈیا نے دنیا کے 900 سو کے قریب جدید ترین اسرائیلی ساختہ ڈروان سے پاکستان پر یلغار کردی جو پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہی ہیک کر لئے گئے اور انڈین فوج کے کنٹرول سے نکل گئے اور آسمان میں کٹی پتنگ کی طرح آزاد اڑنے لگے جس کی ڈور ٹوٹ جاتی ہے اور 6 گھنٹے کی بیٹری ختم ہوتے ہی زندہ سلامت پاکستان کی زمین پر جگہ جگہ گرنے لگے بعض ڈروان اڑتے اڑتے افغانستان اور ایران بھی پہنچ گئے تھے۔

 انڈیا کا مقصد تھا پاکستان ان ڈروان کو گرانے کے لئے میزائل استعمال کرے گا جس سے پاکستان کے میزائل سسٹم کہاں کہاں موجود ہے اسکا پتہ چل جائیگا لیکن پاکستان نے اس جدید ٹینکنالوجی کی بدولت ان کے اس حربے کو بھی ناکام کیا تمام ڈروان کو بھی بحفاظت اتار لیا گیا اور جواب میں اپنے ڈروان انڈیا پر چھوڑ دئیے انڈیا نے میزائلوں کی بارش کرکے وہ گرائے جس سے پاکستان کو اسکے تمام میزائل سسٹم کے اڈوں کا پتہ چل گیا جسکو بعد میں پاکستان نے میزائل حملہ اور طیاروں کے زریعے بمباری کرکے تباہ کردیا اب جب کہ اسرائیلی ساختہ ہارپون  جدید ڈرونز    پاکستانی حدود میں اتارے گئے ہیں۔

 تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ ان شاء اللہ، ان سے حاصل ہونے والا تکنیکی علم ایک اور دفاعی سنگ میل ثابت ہو گا۔

٭٭٭٭٭٭٭




اتوار، 21 جولائی، 2024

وزیر اعلیٰ پنجاب سے سوالات؟

 ٭71 سالہ مہاجرزادہ کے وزیر اعلیٰ پنجاب سے سوالات۔

 ٭- کیا پنجاب کے ہر صوبہ میں بی ایس سی (آنرز) زراعت موجود ہیں ؟ 

٭-کیا یہ پروگرام ۔ میٹرک پاس بچوں کے لئے نہیں شروع کیا جاسکتا ، تاکہ وہ معاشی ترقی میں ریڑھ کے مہرے بن جائیں؟
تجویز:۔
٭-اگر پنجاب کو دوبارہ پاکستان کا زراعتی صوبہ بنانا ہے ، تو پیٹ بھرنے کی فصلیں زیادہ کی جائیں اور تجوریاں بھرنے کی فصلیں کم ۔ 

٭-ہر صوبے میں قبضہ جاتی ۔ شاملاتی اور حکومتی ایک ایکٹر زرعی زمین ، اِن انٹرن شپ پروگرام میں شامل ہر چار بچوں کو دو سال کے لئے دی جائیں ۔ 

٭- یہ عملی نصابی پروگرام ہو اور انہیں ماہرین کے ساتھ شامل کرکے ۔ ایف ایس سی (زراعت تھیوری اور پریکٹیکل) کی سند دی جائے ۔ 
٭-اِن میں سے فی ایکڑ دو بچوں کو اینیمل ہسبینڈری کی تعلیم دی جائے۔ 
٭- اِن بچوں کو مزید ۔ بی ایس سی (آنرز) زراعت میں شامل کیا جائے ۔ 

٭- اِس کے لئے رقوم مالداروں کی پنجاب کی بنکوں کی برانچوں میں سیونگ سے خمس (ویلتھ ٹیکس) سے حاصل کی جائے ۔
٭۔زرعی اوزار بنانے  کی صنعت کو ترویج دی جاۓ اور اس کو کاٹیج انڈسٹری کا درجہ دیا جائے۔ 

(خالد مہاجرزادہ)


٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 8 فروری، 2024

الیکشن 2024 ، بوڑھا اور الیکشن کمیشن

  اُفق کے پار بسنے والے دوستو  !۔

 بوڑھے نے اپنےموبائل پر الیکشن کمیشن کو شناختی کارڈ کا نمبر بھیجا وہاں سے پیغام آیا کہ آپ اب قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 46کےبجائے ،حلقہ نمبر 55 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ 15 میں ووٹ ڈالیں گے۔کیوں کے آپ اب اسلام آباد ، جی نائین ون کے  بجائے،     راولپنڈی  میں ہجرت کر کے سکونت اختیار کر چکے ہیں ۔ بوڑھے نے پہلے یہ ہجرت  2013 کے انتخابات کےبعد ،جون 2014 میں ڈی ایچ اے ون اسلام آبادمیں کی تھی اور  2018  کے انتخابات بوڑھے اور بڑھیا نے ، اسلام آباد میں زبردستی شامل کئے مورگاہ۔1 سے جاکر ، جی نائین ون سابقہ رہائش سے 100 گز دور گرلز مڈل سکول میں ڈالے     ۔جہاں 2008 کے انتخاب میں پہلی بار بوڑھے اور بڑھیا نے ووٹ ڈالا تھا۔

پھر بوڑھا 2020 میں برفی کے بابا کےہاں شفٹ ھو گیا ۔ 2023 میں الیکشن کمیشن سرگرم ہوا اُس کے نمائیندے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اٹھائے گھر گھر جانا شروع ہوگئے ۔ بوڑھے کا شناختی کارڈ ڈالا اور بتایا کہ کیا آپ اپنا حلقہءِ انتخاب   پرانا رکھیں گے یا تبدیل کریں گے کیوں کہ شناختی کارڈ کے مطابق آپ کا عارضی ایڈریس ڈی ایچ اے ون یعنی مورگاہ 1 کا ہے ۔ لیکن آپ کی رہائش یہاں یعنی طارق آباد کی ہے اور یہ قومی اسمبلی کے حلقہ  55میں آتا ہے ۔ بوڑھےنے سوچا ، چلو اب حلقہ 46 کے بجائے حقلہ 55 میں ووٹ ڈالتے ہیں ۔

آج صبح جب بوڑھا ، الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے عسکری 14 سے نکلا ،  تو اڈیالہ روڈ پر موجود پولنگایجنٹ سے جاکر پوچھے کہ اُس کا پولنگ سٹیشن کسِ علاقے میں ہے تاکہ وہاں جا کر بڑھیا کے ساتھ جاکر ووٹ ڈالا جائے ۔

وہاں ایک نوجوان نے پوچھا کہ کیا آپ نے 8300 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ڈال  کر وہاں سے چیک کیا ہے ۔ 

بوڑھے  نے اپنے موبائل سے الیکشن کمیشن سے آیا ہوا ایس ایم ایس دکھایا ۔

شماریاتی بلاک کوڈ: 111030301
سلسلہ نمبر: 349
گھرانہ نمبر: 218
قومی اسمبلی حلقہ نمبر: 55 - راولپنڈی
صوبائی اسمبلی حلقہ نمبر: 15 - راولپنڈی
انتخابی علاقہ: راجہ اکرم روڈ ریس کورس    حاجی روڈ      اکبر روڈ      عسکری14     ٹریفک کالونی،تحصیل راولپنڈی کینٹ،ضلع راولپنڈی۔

 وہ انتخابی علاقہ دیکھ کرپریشان ہو گیا    ۔ بولا  حلقہ نمبر 55 لال کرتی کا علاقہ ہے ۔ آپ وہاں جاکر معلوم کریں بوڑھا ، بھٹہ چوک پر پہنچا وہاں سینٹ کیتھرین گرلز سکول کے سامنے پولنگ ایجنٹ بیٹھے   تھے اُنہوں نے بڑی کوشش کی لیکن   پولنگ سٹیشن کا معلوم نہیں ہورہا تھا ۔ خیر ایک نوجوان نے بتایا کہ لال کرتی بازار کے شروع میں لیپ ٹاپ سے پرنٹ لے کر آئیں ، بوڑھا وہاں پہنچا ، اُس نے بتایا کہ آپ کا پولنگ سٹیشن ایف جی بوائز سیکنڈری  سکول    محفوظ شہید روڈ پر ہے ۔جو جیٹی روڈ سے  ملٹری ہسپتال کے سامنے ریلوے سٹیشن کو جاتی ہے ۔ 

بوڑھا حیدر روڈ سے  بتائی ہوئی جگہ پہنچا ۔ پولنگ سٹیشن میں داخل ہوااور    11:30 پرپولنگ بوتھ 301 سے سامنے جاکر لائن میں کھڑا ہو گیا ۔12:00 بجے ووٹ ڈالا ، جس نوجوان نے پولنگ سٹیشن میں ھاتھ پر سیاہی کا نشان لگایا اُس کو بتایا کہ اب وہ عسکری 14 سے اپنی بڑھیا کو لے کر آئے گا۔ لیکن بہتر یہ ہوتا کہ  طارق آبادکے علاقے میں پولنگ بوتھ دیا جاتا ۔
اُس نوجوان نے مشورہ دیا کہ کئی لوگوں کا ووٹ درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے دور کے پولنگ سٹیشن کا انتخاب کر دیا گیا لیکن حلقہ وہی ہے آپ باہر چیک کر لیں ۔ 

بوڑھا، ایک سنسان پولنگ کیمپ کے پاس پہنچا ۔ جس کی جماعت کو بڑھیا کا ووٹ ڈالنے کا پکا ارادہ ہے ، ویسے بھی   بڑھیا گذشتہ ، تین انتخابات میں اپنا ووٹ اِس سنسان  ، جماعت کے سربراہ کو ڈال کر ضائع کر چکی ہے ۔ خیر ۔ وہاں ایجنٹ نے کاپیاں کھنگالیں     ، جو نام، اُن میں بڑھیا کا نام نہیں ۔ بوڑھا واپس لاکرتی پہنچا لیپ ٹاپ والے نوجوان کو شناختی کارڈ نمبر بتایا ، اُس نے کہا کہ یہ پی پی 10 کا حلقہ میں پولنگ بوتھ ہے ۔ لیکن یہ کہاں ہے ؟
بولا شائد اسلام آباد ۔

لیکن وہاں تو پی پی نہیں صرف این اے ہے ۔

معلوم نہیں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ نوجوان بولا ۔بوڑھا اداس گھر آگیا کہ بڑھیا اپنا ووٹ پھر ضائع نہ کر سکی ۔ 

بوڑھے نے نیٹ سروس بحال ہونے کے بعد ، گوگل آنٹی سے پوچھا کہ یہ پی پی 10 کہاں ہے اُس  نے ٹھک سے جواب دیا ۔ راولپنڈی۔IV۔
آہ، بوڑھے نے مزید چیک کیا تو معلوم ہوا کی 1 سے لیکر 7تک ضلع راولپنڈی سے  کل 13 ایم این اے منتخب ہوں گے ، یعنی 51، 52، 53، 54  ،55، 56 اور 57  ۔ گویا پی پی -10 حلقہ 53 یا 54 میں ہو سکتی ہے ۔یوں پی پی 5 سے پی پی 19 تک پنجاب اسمبلیوں26 ایم پی اے راولپنڈی ڈویژن سے منتخب ہوں گے ۔
بیلٹ پیپر کا سفر پولنگ سٹیشن  سے ، فارم 45 سے فارم 47  الیکشن کمیشن حتمی نتیجہ تک
 

الیکشن کی سرگرمیوں کی معلومات کے لئے ڈویژنل کمیٹی۔
الیکشن میں  ووٹ ڈلوانے کی پولنگ بوتھ کے اندر کلّی ذمہ داری ، پولنگ بوتھ میں موجود الیکشن کے عملے کی ہوتی ہے  ۔ جو  ڈارفٹ فارم 45  اپنے بوتھ کا  پریزائیڈنگ آفیسر کو بھیجتا ہے ۔ اِن ڈرافٹ فارم 45 کی مدد سے پریذائیڈنگ آفیسر ، صرف ایک فارم 45 بناتا ہے جو ریٹرننگ آفیسر کو بھجوادیا جاتا ہے  ۔
الیکشن میں دھاندلی کئے جانے والے پولنگ بوتھ کو پریزائیڈنگ آفیسر کی شکایت پر ڈپٹی کمشنر یعنی آر او کی مدد سے، امن ہونے تک روکا یا بند کروایا جا سکتا ہے ۔ کمشنر کا پورے الیکشن کے نظام میں کوئی کردار نہیں ہوتا، سوائے اِس کے کہ وہ ڈپٹی کمشنر سے معلومات لے ۔ تمام ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر یعنی ریٹرنگ آفیسر کی ہوتی ہے ۔ 
آزاد امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن کے حتمی رزلٹ اناونسمنٹ کے بعد 72 گھنٹوں تک آزاد رہنے کا حق ہے پھر وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
اب صورت حال یہ ہے ، کہ  کہ 20 دنوں تک یعنی 29 فروری  کو یا اِس سے پہلے ، صدر پاکستان کے حکم کے مطابق،  سابقہ سپیکر ،قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے گا۔ممبران قومی اسمبلی حلف لیں گے ۔  سابقہ سپیکرتمام ممبروں سے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا کہے گا ، اُس کے بعد نیا سپیکر ممبران قومی اسمبلی سے قائد حزبِ اقتدار منتخب کرنے کا کہے گا ، اُس کے قائدِ حزب مخالف کا انتخاب ہوگا ۔ پھر نئے صدر کا انتخاب ہوگا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  

جمعہ، 5 مئی، 2023

کورنگی مہاجروں کی ایک بستی

کورنگی کی مختصر تعریف سب سے پہلے کچھ ذکر کورنگی کے نام کا۔۔ کورنگی کے معنی ہندی زبان میں الائچی کے ہیں۔ اس نام کی مناسبت سے دو مفروضے قائم کیے جاسکتے ہیں. ایک تو یہ کہ کورنگی کی بندرگاہ سے کسی زمانے میں الائچی کا کاروبار ہوتا ہوگا یا پھر یہاں الائچی کی کاشت ہوتی ہوگی۔ مگر یہ دونوں باتیں یہاں کے طبعی حالات کے پیش نظر ناممکن ہیں ۔
تیسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ یہ کسی لفظ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ’کارنجا‘ یا ’کرنجا‘ نام کی برصغیر میں 9 بستیوں کا ذکر ملتا ہے ’کارنجا‘ کے معنی تالاب یا پانی کی نالی یا کھاڑی کے دہانے کے ہیں۔ اس کے علاوہ کورنگی ’کارنج‘ کی ایک بگڑی ہوئی شکل بھی ہو سکتی ہے.
 ’کارنج‘ کے نام سے برصغیر میں 6 بستیاں آباد ہیں۔ جبکہ ’کارنگ‘ کے نام سے برصغیر میں 5 بستیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح سے ’کارنگا‘ کے نام سے بھی برصغیر میں 3 بستیوں کا ذکر ملتا ہے. جبکہ ’کورنگ‘ کے نام سے بھی 2 بستیاں موجود ہیں۔ 
’کورنگ‘ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس سے مراد لال رنگ کا گھوڑا اور افواج کی مشق کا میدان ہے۔ اسی طرح سے ’کورنگا‘ بھی فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی گھوڑوں کی خلیج یا گھوڑوں کا میدان ہے۔ کورنگی ’رنگھوں‘ کی بگڑی ہوئی شکل بھی ہوسکتی ہے، جس کے معنی زمینی راستہ یا خرگوش کے رہنے کی جگہ کے ہیں۔
 ان سب کے علاوہ کورنگی "کورگی” سے بھی بہت قریب ترین معلوم ہوتا ہے جبکہ ’کورگی‘ نام کی ایک قوم پرانے زمانے میں کراچی اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھی اور اس قوم کا پیشہ سمندری قزاقی تھا۔ 
یہ حقیقت ہے کہ سندھ میں گھوڑوں کو پال کر ان کا کاروبار کیا جاتا تھا۔ کراچی کے ساحل سمندر سے گزرنے والے جہازوں کو لوٹا جاتا تھا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ ملیر گڈاپ سے تعلق رکھنے والے شاعر اور ادیب پروفیسر امر گل کے نزدیک بلوچی میں ندی کو ’کور‘ کہتے ہیں اور ’ونگی‘ کا مطلب ہے ندی کے پانی کے بہاؤ کے ایک حصے کو زمین کی طرف موڑنا، تاکہ وہ آس پاس کی زمینوں کو سیراب کر سکے۔ چونکہ ندی کا پانی زرخیزی کے لیے بہترین ہے، اس لیے ماضی میں ایسی ’ونگیاں‘ بنائی جاتی تھیں۔ کور ونگی، ندی کا وہ حصہ تھا، جہاں یہ ونگی بنائی گئی تھی، اس لیے یہ علاقہ کور ونگی کہلاتا تھا، جو اختصاراً کورنگی بن گیا۔
 کورنگی ملیر ندی کے دوسرے کنارے پر آباد ہے اس لحاظ سے خلیج کورنگی فوجی لحاظ سے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران یہاں ایک ہوائی اڈہ بھی تعمیر کیا گیا تھا، جو برطانوی افواج کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوا تھا۔ یہ ہوائی اڈا اب کورنگی کریک کا ہوائی اڈا کہلاتا ہے۔
قیامِ پاکستان سے قبل کورنگی کا علاقہ کئی گوٹھوں پر مشتمل تھا، مگر یہ ایک دوسرے سے بہت دور دور تھے اور آبادی انتہائی کم تھی۔ 
موجودہ کورنگی کی تعمیر قیامِ پاکستان کے بعد 1956ع میں مہاجرین کو کورنگی K ایریا میں سب سے پہلے لا کر آباد کیا گیا۔ یوں کورنگی میں مہاجرین کی سب سے پہلی آبادی K ایریا میں قائم ہوئی۔ 
 
1958 میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد فوجی حکومت نے تقسیم کے وقت ہندوستان سے آنے والے مہاجرین پر خصوصی توجہ دی۔ اس مقصد کے لئے لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان کو آباد کاری کے مرکزی وزیر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جو پہلے ہی سے مہاجرین کی آبادکاری پر کام کر رہے تھے. انہیں ہنگامی بنیادوں پر مہاجرین کی مزید آباد کاری کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ اعظم خان صاحب نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اس سلسلے میں ایک بڑا کارنامہ انجام دیا، جو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ آپ نے کورنگی کے مقام پر آٹھ ماہ کے اندر 15 ہزار مکانات تعمیر کرائے۔
 5 دسمبر 1958ء کو صدر پاکستان ایوب خان نے اس کا سنگِ بنیاد رکھا تھا اور یکم اگست 1959ء کو ٹھیک 8 مہینے بعد اس بستی کا افتتاح کیا۔ آپ نے افتتاح کے وقت کورنگی کی اس نئی آبادی کے پہلے مکین جناب حاجی عظمت اللہ کو ان کے مکان کا الاٹمنٹ آرڈر اور راشن کارڈ عطا کیا۔
 کورنگی کا علاقہ 3000 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کی تعمیر میں اُس وقت بارہ کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ اس کا نقشہ یونان کے مشہور ماہرِ تعمیر نے تیار کیا تھا. یہ وہی ماہرِ تعمیر تھا، جس نے نارتھ ناظم آباد کا نقشہ بنایا تھا۔ اس ماہرِ تعمیر نے اپنے تمام تر تجربے کو بروئے کار لا کر کورنگی کا نقشہ بنایا تھا اور بڑی پلاننگ سے آبادکاری کی گئی تھی۔ ہر سیکٹر میں مارکیٹ، اسکول، پارک، کھیلوں کے میدان، لائبریریز اور کمیونٹی سینٹر کے لیے باقاعدہ جگہ مختص کی گئی تھی. اس کے علاوہ کشادہ ڈبل روڈز اور ان کے ساتھ ساتھ سروس روڈز بھی موجود تھیں۔
 کورنگی میں 80، 120 اور 128 گز کے کوارٹرز بنائے گئے تھے۔ 128 گز کے کوارٹرز کی لین میں گندی گلیاں نہیں تھیں، جب کہ کواٹرز بھی دو طرح سے بنائے گئے تھے۔ ایک 1/2 روم جس میں ایک کمرہ اور ایک برآمدہ شامل تھا، جبکہ دوسرا ڈبل روم کا تھا جس میں 2 کمرے اور ایک برآمدہ شامل تھا۔
 120 گز کے کوارٹر کی لائن میں گندی گلیاں دی گئی تھیں۔ ہر مکان میں ایک کمرہ اور ایک برآمدہ دیا گیا تھا. 80 گز میں سنگل کمرہ ہوا کرتا تھا یعنی برآمدہ بھی نہیں ہوتا تھا. تینوں قسم کے کوارٹرز میں ایک باورچی خانہ، ایک غسل خانہ اور ایک واش روم شامل تھا۔ باورچی خانے میں ایک چمنی بھی دی گئی تھی تاکہ دھواں اوپر کی جانب نکل جائے جو کہ چھت پر باقاعدہ اونچا کر کے بنائی گئی تھی جیسے ٹھنڈے علاقوں میں گھروں پر بنتی ہے۔
 کورنگی کہ رہائشی علاقے کو 6 بڑے حصوں میں بانٹا گیا جسے 1 نمبر سے 6 نمبر تک کا نام دیا گیا۔ پھر اس کو مزید بلاکس میں تقسیم کیا گیا، جو A ایریا سے شروع ہو کر Y ایریا تک ہیں۔ اس میں کچھ جگہ پر ایکسٹینشن بھی ہوا، جیسے J ایریا کا ایکسٹینشن ہوا تو اسے جے ون ایریا کا نام دیا۔
 کراچی شہر کا سب سے بڑا صنعتی علاقہ کورنگی میں ہی ہے، جہاں سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹی اور بڑی فیکٹریاں موجود ہیں۔
 صنعتی علاقے کی وجہ سے مختص کیے گئے رفاعی پلاٹس پر کچی آبادیاں وجود میں آنا شروع ہو گئیں، جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اب پکے مکانات بن گئے ہیں۔
 کورنگی بحیثیت ایک ضلع کورنگی ہمیشہ سے ضلع شرقی کا حصہ تھا مگر اگست 2000ء میں بلدیاتی نظام کے تحت جب کراچی کے اضلاع کا خاتمہ کر کے کراچی کو 18 ٹاؤن میں تقسیم کر دیا گیا تو کورنگی کو بھی ایک ٹاؤن بنا دیا گیا۔ 
جب سندھ حکومت نے دوبارہ ضلعی نظام کو بحال کیا تو نومبر 2013ء میں کورنگی کو کراچی کا چھٹا ضلع بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا. یوں اب کورنگی ایک باقاعدہ ضلع ہے اور اس کی چار تحصیلوں میں کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل اور ماڈل کالونی (اربن ملیر) شامل ہیں۔ ضلع کورنگی میں موجود خود کورنگی کا علاقہ جو کہ کورنگی ٹاؤن کہلاتا ہے، اس کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ یہ خود اپنے آپ میں ایک شہر کے برابر ہے۔ ہمارے ملک کے بہت سے شہروں سے زیادہ اس کورنگی ٹاؤن کی آبادی ہے۔
 کورنگی میں مہاجرین کی آباد کاری قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان سے آنے والے مہاجرین زیادہ تر تین راستوں سے پاکستان میں داخل ہوتے تھے۔ ایک راستہ لاہور کا تھا، دوسرا راستہ کھوکھراپار، میرپور خاص کا تھا اور تیسرا راستہ بہ ذریعہ سمندر بحری جہاز کا تھا۔ 
کیونکہ سب بغیر کسی آسرے و سہارے  کے پاکستان آگئے تھے۔ تو جو لوگ لاہور اور میر پور خاص کی سرحد سے ٹرین کے ذریعے آتے تھے۔ ہفتوں اسٹیشن پر ہی بیٹھے رہے  کیونکہ اسٹیشن کے سوا ،ان کے پاس کوئی رہائش کی جگہ نہیں تھی۔
 اسی طرح سے جو لوگ بحری جہاز وں سے کراچی کی بندرگاہ کیماڑی پر آئے ،  وہ بھی رہائش نہ ہونے کی وجہ سے کیماڑی کے آس پاس ہی نہایت تکلیف دہ حالت میں رہنے پر مجبور تھے۔ بس ان حالات میں حکومت کی طرف سے روزانہ پاؤ بھر ڈبہ چاول اور دال کا ملتا۔

 مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا کیونکہ نہ تو پکانے کے لیے آگ میسر تھی اور نہ ہی برتن۔ آگ جلانے کے لیے پورٹ کے قریبی علاقے سے لکڑیوں کو چن چن کر جمع کیا جاتا اور پھر آگ لگا کر کھانا بنایا جاتا۔ 
جیسے جیسے سرکار کو جگہ ملتی جاتی ان لوگوں کو خیمہ بستیوں میں منتقل کر دیا جاتا۔ کراچی میں موجود بڑی خیمہ بستیوں میں سے ایک قائدآباد کی خیمہ بستی بھی تھی، جہاں اب قائد اعظم کا مزار ہے۔ 
1959ء میں جب کورنگی آباد ہونے لگا تو جھونپڑیوں میں قیام پذیر مہاجرین کو محض صرف راشنکارڈ اور جاری کردہ رسید، جس کی قیمت 47 روپے ہوتی تھی۔ دیکھ کر کوارٹرز کی الاٹمنٹ شروع ہو گئی، جبکہ بقیہ رقم ماہانہ 27 روپے کے حساب سے ادا کرنی تھی۔ 
روز قائد آباد اور دیگر خیمہ بستیوں میں ٹرک آتے اور ایک ٹرک میں چار خاندانوں کو ان کے سامان سمیت سوار کیا جاتا اور ان کی جھونپڑیوں کو مسمار کر دیا جاتا اور ان لوگوں کو کورنگی کے مختلف علاقوں میں بنائے گئے کوارٹرز میں منتقل کر دیا جاتا۔
 چونکہ یہ لوگ کافی عرصے سے مختلف خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر تھے اس لئے خاص شہر اور برادری کے لوگ ایک ساتھ پوری پوری گلیوں میں آباد ہو گئے۔ جن میں خاص طور پر الہ آباد، آگرہ، جونپور، امروہہ، سہارن پور، مظفر نگر، دہلی اور لکھنو وغیرہ کے لوگ شامل تھے۔
 1958ء میں جنرل اعظم خان کے کورنگی میں بڑے پیمانے پر کواٹرز تعمیر کرانے سے پہلے ہی پورے کورنگی میں K ایریا ہی واحد علاقہ تھا، جس میں پہلے ہی مہاجرین کو چھوٹے پیمانے پر لا کر بسایا جا چکا تھا۔ K ایریا کے کچھ کوارٹرز، پارک اور مارکیٹ کی تعمیر لانڈھی کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی اور 57 -1956 میں رہائش بھی ہو گئی تھی، تاہم 1960ء کے لگ بھگ K ایریا میں مزید بڑے پیمانے پر کوارٹرز بنے جو 120 اور 128 گز کے تھے اور ان میں مہاجرین کو لا کر آباد کیا جانے لگا۔ 
زیادہ تر لوگ لیاقت بستی اور فارور لائن کی خیمہ بستیوں سے تھے۔جبکہ شروع کے لوگوں کا تعلق مزارِ قائد پر موجود خیمہ بستیوں سے تھا۔ کے K ایریا میں ہی پاکستان کا نابینا بچوں کا پہلا اسکول قائم کیا گیا تھا۔ اسی طرح جب پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کو شروع کیا تھا تو کورنگی میں K ایریا کے پارک میں پہلی مرتبہ ٹی وی لگا کر نشریات دکھائی گئی تھی اور بہت بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھنے آئے تھے۔ اس کے علاوہ K ایریا کی ایک عظمت یہ بھی ہے کے صہبا اختر جیسے عظیم شاعر کا تعلق بھی K ایریا سے تھا۔
 
 بشکریہ جناب سید علی عمران صاحب٭

اتوار، 12 مارچ، 2023

توشہ خانہ، سرکاری خزانہ اور بندر بانٹ


 ۔٭وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پرپاکستان میں پہلی بار توشہ خانہ کا ریکارڈ 2002 تا 2023 اپلوڈ کردیا۔

 تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

وزرائے اعظم کے علاوہ وفاقی وزرا، اعلی حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔ کم مالیت کے بیشترتحائف وصول کنندگان نے قانون کے مطابق بغیر ادائیگی کے ہی رکھ  لیے ۔ کیونکہ 2022ء میں دس ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا۔

علاوہ ازیں دس ہزار سے چارلاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فیصد رقم کی ادائیگی کے ساتھ رکھنے کی اجازت تھی ۔ جبکہ چارلاکھ سے زائد مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کیا اجازت تھی۔

٭٭٭٭٭٭

جنرل (ر) پرویز مشرف

ریکارڈ کے مطابق۔  جنرل (ر) پرویزمشرف کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 2634387 روپے لگائی گئی۔

  جنرل پرویز مشرف کو  2004 میں ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، دوہزارپانچ میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورجیولری بکس ملے جو انہوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔

سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو 6 اپریل 2006ء کو ساڑھے سولہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔1 اگست 2007 کو بیگم صہبا مشرف کو ملنےو الے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ 3 اپریل 2007 کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو چودہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔

شوکت عزیز

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو 2005 میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو تین لاکھ پچپن ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انہوں نے سیکڑوں تحائف دس ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائیگی رکھ لیے تھے۔

شوکت عزیز کو 27 ستمبر 2007 کو ملنے والی گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی،20 دسمبر 2006 کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے ۔ جو رکھ لئے گئے جبکہ 2006ء میں انہوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں دے دیے۔ اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006ء کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006ء کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو18 لاکھ روپے کے تحائف بھی ملے۔ 24 فروری 2010 کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی۔

ظفر اللہ خان جمالی

سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں نصب کروایا۔

آصف علی زرداری

ریکارڈ کے مطابق 2 دسمبر 2008 کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ مالیت کی گھڑی ادائیگی کرکے خود رکھ لی جبکہ 26 جنوری2009 کو سابق صدرآصف علی زرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں دو کروڑ دو لاکھ روپے سے زائد ادا کر کے خود رکھ لیں۔ 28 اکتوبر2011 کو آصف زرداری نے سولہ لاکھ پندرہ ہزار کے تحائف رکھ لیے جبکہ 11 مارچ دوہزار گیارہ کو آصف زرداری کوملنے والے تحائف کی مالیت دس لاکھ روپے سے زائد لگائی گئی، 13 جون دوہزار گیارہ کو سولہ لاکھ مالیتی تحائف ادائیگی کر کے رکھ لئے۔ اس کے علاوہ15اگست 2011 کو آصف زرداری نے 847,000 روپے کے تحائف خود رکھ لیے۔

یوسف رضا گیلانی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ۔ 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انہوں نے چھ ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا جبکہ  انہوں نے 21 لاکھ روپے ادائیگی کر کے جیولری باکس رکھ لیا۔

یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفہ میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔ 17 اکتوبر2011 کو یوسف رضاگیلانی نے انیس لاکھ روپے کے تحائف خود رکھ لئے۔

نواز شریف

میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 4,255,919 روپے لگائی گئی تھی، 20 اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار 636,888 روپے ادا کر کے رکھ لی۔

شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو پندرہ جولائی 2009ء میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ 10 جون 2010 کو سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے چالیس ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں۔

شاہد خاقان عباسی

ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انہوں نے 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔


عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کے قیمتی تحائف موصول ہوئے، جن میں 8 کروڑپچاس لاکھ کی ڈائمنڈ گولڈ گھڑی تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی۔38 لاکھ کی دوسری گھڑی ۔ کف لنکس56 لاکھ 70 ہزار روپے ۔ قلم 15 لاکھ روپے ۔ 87 لاکھ 50 ہزارروپے کی انگوٹھی ۔  

عمران خان نے ان تحائف کے 2 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار روپے توشہ خانہ میں جمع کرواکرتحائف رکھ لئے تھے۔  

 

صدر عارف علوی

صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں  1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انہوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔ اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔

جنوری دو ہزار نو کو صدر عارف علوی کو قیمتی کلاشنکوف اے کے 47 تحفے میں ملی جس کی مالیت 6 لاکھ روپے تھی، صدر مملکت نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے اے کے فور سیون اپنے پاس رکھ لی۔

وزرات، افسران، عسکری حکام و دیگر

وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو بیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انہوں نے رقم ادائیگی کے بعد رکھ لی۔

ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 27 ستمبر 2018  کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیے تھے جبکہ 9 فروری 2011ء میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دو تحائف ادائیگی کر کے رکھ لئے تھے۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005ء میں  گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے پانچ لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔

ریکارڈ کے مطابق 2018 میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔اور وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئیر وسیم کو 2018 میں  کوبیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انہوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

 

جہانگیر ترین نے 16 اگست2006  کو جہانگیر ترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروائے۔

جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو 7 اگست 2006ء کو تحائف ملے جو انہوں نے دس ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیے ۔

سابق وزیرخزانہ عمر ایوب نے مئی دوہزارچھ میں  ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں دی۔  

سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو انتیس فروری دوہزار دس میں سات لاکھ کی گھڑی  ملی جو انہوں نے توشہ خانہ میں دے دی۔

صحافی رئوف کلاسرا نے 28 دسمبر2010 کو ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے  5 ستمبر2011ء کو  بیس ہزار کا کارپٹ توشہ خانہ میں جمع کروایا۔

چودہری پرویز الہی نے ، 22 دسمبر2011 کو  چار لاکھ سے زائد کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے۔

٭٭٭٭٭٭

نوٹ: تمام معلومات ، پاکستان کے اخباروں کی زینت بن چکی ہے ۔(مہاجرزادہ)

مکمل فہرست   ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے 

توشہ خانہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔