Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 26 اگست، 2026

23 دن میں 20 کلوگرام وزن کم

٭23دن میں 20 کلوگرام جسم کی چربی پگھلائیں ۔ 

نہ کوئی دوا ، نہ کوئی مشقت میں ڈالنے والی ایکساسائز ۔یا ۔تائی چن کا ڈرامہ 

 بس صرف اپنے اشتہائے خوراک پر قابو۔

چم اور اُس کی ماں اٹلی سے گرمیوں کی چھٹیاں گذارنے آئیں ۔ جب جولائی میں واپس جانے لگیں ۔ سوٹ کیس میں 20 کلو گرام تک سامان  رکھنے کی ذمہ داری  چم چم کی پھپو کو ملی ۔ ھلا شیری کا کام  ۔ بڑی پھپو نے سنبھالا  ۔ دادی، خالہ دادی ۔بڑھیا (چم چم کی نانو) اور بوڑھا    ناظرین میں شامل ہوئے ۔ چم چم کے بابا نے   بھی اپنی رائے دینے کا کام سنبھالا  ۔ کیوں کے بابا اور  پھپو کئی بار اٹلی کا چکر لگا چکے ہیں ۔ لہذا ماہرین میں شامل ہیں  ۔  پلنگ  کے نیچے سے وزن ماپنے کی مشین نکالی گئی  ۔ 
اب سوٹ کیس بڑے جو مشین کی کھڑکی کو چھپا لیتے ۔ چم چم نے حل نکالا کہ پہلے  اپنا وزن کیا  پھر سوٹ کیس اٹھا کر وزن کرتی ۔ پھپو بیٹھ کر مشین کی کھڑکی سے وزن دیکھتی  ۔ 25 کلو ہو گیا ۔ اب پانچ کلو نکالنا پڑے گا ۔ پانچ کلو اندازا نکال کر دوبارہ  ۔ چم چم اٹھا کر وزن کرتی ۔ اب 18 کلو گرام ہے  ۔ 20 کلو گرام پورا کرنا پڑے گا ۔

 تو ناظرین  پانچ سوٹ کیس جن میں    70 کلو گرام پورا کرنا تھا ایک کلو گرام کم نہ زیادہ  ، ورنہ مسافروں کو ہینڈ کیری گھسیٹنا پڑتا ۔سب سے اہم پاکستان سے جانے والے مصالحے تھے ۔

بوڑھا دیکھتا تھا اور انجوائے کرتا رہا ۔ بڑھیا بولی ۔ آپ کیا بیٹھ کر انجوائے کر رہے ہیں بچیوں کی مدد کر دیں۔ بوڑھے کے لئے یہ دائیں ہاتھ کا کام تھا ۔

پانچ ایک کے اندر ایک پھنس کر ڈیکو ریشن کے لئے پڑے ہوئی تپائیوں سے چھوٹی نکالی اور اُسے  وزن کرنے والی مشین پر الٹا رکھا دیا اور اُس کے اوپر سوٹ کیس نمبر 1۔رکھا ۔چم بولی 25 کلو گرام بوڑھے نے سوٹ نکالے ۔ چم  چم بولی 17کلو گرام۔

بوڑھے نے  پرچون دکان دار کی طرح ۔ سلے سوٹ ۔ سوٹ کیس پر رکھتا گیا ۔ جب 20 کلو گرام ہوا ، تو سٹاپ کا آرڈر ملا اور یوں تھوڑی دیر میں بوڑھے نے 20 کلوگرام کے چار سوٹ کیس تیا ر کر دئیے ۔اور ہر سوٹ کیس پر پیلےکپڑے کی چندی لگا دی تاکہ سامان کی بیلٹ پر پڑے سوٹ کیس دور سے پہچان لئے جائیں ۔ یہ بھی چم چم کی اختراع ہے۔ کیوں کہ جب چھوٹی تھی تو  2018 میں پہلی دفعہ ایسٹ ٹمورجاتے وقت اُسے پریشانی ہوئی تھی تو  چانگی(سنگا پور) ائرپورٹ پر  اُس نے اپنا گلابی ربن نانو کی شوگر سٹرپ کاٹنے والی قینچی جو واحد چیز تھی جس کی اجازت ائر پورٹ والوں نے دی ۔ سے کاٹ کردو کیبن کیری  بیگز پر لگائے ۔ اور دور سے اپنے بیگ دیکھ لیتی ۔اور ایسٹ ٹمور سے واپسی پر پیلی چندی ہمارے بیگ کا ٹریڈ مارک بن گئی ۔

چم نے اپناوزن بتایا اور بولی۔ آغا جان ۔ آپ اپنا وزن کریں ۔

بوڑھے نے کہا پیاری چم چم کئی سالوں سے یہ 90 سے 92 کلو گرام  کے درمیان پُھدکتارہتا ہے ۔
کمر مجال ہے کہ تین ملی میٹر سے کم ہوئی ہو۔بوڑھاجتنا مرضی کمر کو گھما کر ایکسرسائز کر لے۔ 

تو دوستو بوڑھے نے 28 جولائی 2026 کو رات 11 بجے وزن کیا          ٹھیک 90 کلو گرام نکلا ۔

بوڑھا بولا کاش ۔ انسان کی پیٹ بھی سوٹ کیس کی طرح  ہوتا ۔ جس میں سے اپنا وزن بی ایم آئی کے مطابق  کر سکتا ۔

چم چم کی ماما بولی ۔پپا صرف اُبلی سبزیاں کھائیں اور رات کو چاربوٹیا ںگوشت یا ایک چکن کا لیگ پیس یا دو کباب کھائیں۔ پھر دیکھیں وزن کیسے کم ہوتا ہے ؟
بوڑھا بولا ۔  پپا کی پرنسز  ۔درست ،  بوڑھا  کوشش کرے گا۔

خیر بیٹی اور چم چم کو جہاز پر چھوڑنے  سے پہلے 28 جولائی کی شام کو بوڑھے نے ، سزبیاں کھانے کا پروگرام بنانا ۔ بڑھیا سے جھگڑا ہوا ۔ کم زور ہو جائیں گے ۔ کھانا کھائیں ۔ لیکن بوڑھے نے اپنے روزمرہ کی عادات کو جاری رکھا۔ مثلاً:۔

صبح فجر کی آذان پر اُٹھنا ،ٹھیک پانچ بجے ۔موٹے کپڑے  (سوتی پینٹ ، ٹریک سوٹ کا اَپر) پہن کرفلیٹ سے نکلنا والک کرتے ہوئے اوپن ائر جم میں جانا۔20 منٹ ایکسرسائز کرنا ۔ہفتے میں تین دن گالف کھیلنا /پریکٹس کرنا۔بوڑھے کا جولائی 2023 سے یہ عمل جاری تھا ۔ جو رمضان میں موقوف رھتا۔ لہذا 90 سے 92 تک وزن چلے جانا لازم تھا ، گویا ایکسرسائز سے آپ کا  2 کلو گرام وزن کنٹرول رہتا۔ 

         بوڑھے کا روازنہ کھانا ۔
صبح سات بجے ناشتہ ۔ دو ابلے ہوئے انڈے ،  چار براؤن  رسک اور بغیر چینی کے چائے ۔
ٹی بریک ساڑھے دس بجے ۔
 دوبراؤن  رسک اور بغیر چینی کے چائے ۔

دوپہر کا کھانا: اُبلی ہوئی کوئی بھی بڑھیا کی بنائی ہوئی سبزی ۔پاؤ دہی ۔ جس میں ذائقے کے لئے   اچار۔اور فروٹ میں  ایک آم۔

شام کی چائے :      دو براؤن  رسک اور بغیر چینی کے چائے ۔

شام کا کھانا: آٹھ بجے۔ دوپہر کی ابلی ہوئی سبزی ۔پاؤ دہی ۔جس میں ذائقے کے لئے  اچار۔

بیس اگست کو بڑھیا نے کہا  ذرا اپنا وزن کریں۔
 بوڑھے نے کہا کیوں ؟  

 بڑھیا نے کہا   : ڈائیٹنگ کی وجہ سے  مجھے آپ کا وزن کم لگتا ہے 

بوڑھے نے وزن کی مشین پر کھڑا ہوکر عینک کے بغیروزن کیا۔پڑھا نہ  جانے پر بڑھیا نے پڑھا 70 کے جی ۔

شاید غلط پڑھا ہے بوڑھے نے کہا  اور  عینک پہن کر وزن کیا اور بولا، شاید مشین خراب ہو گئی ہے ۔
آپ اپنا وزن کرو۔ 

بڑھیا نے وزن کیا۔ بولی میرا تو ٹھیک ہے ۔

بوڑھا بولا۔ 23 دن میں 20 کلوزن کم ہونا۔ ناممکن ۔وہی توند ۔تو پھر یہ 20 کلو گرام کھانے کا تو نہیں ہو سکتا، کیوں کہ بوڑھا تو پہلے بھی ۔ ایک روٹی  دوپر اور ایک روٹی شام کے ساتھ صرف ایک کلو گرام اندازاً روزانہ کھانا کھاتا تھا۔
بوڑھے نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا۔

٭-یہ بتائیں کہ روزانہ سبزیاں کھانے سے جسم کی کون سی چربی پہلے گھلتی ہے ؟
٭-سبزیاں خود کسی خاص جگہ کی چربی کو پہلے نہیں گھلاتیں۔ جسم یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ پہلے پیٹ، کمر یا ران کی چربی کم ہو۔ جب آپ کی مجموعی کیلوریز ضرورت سے کم ہوتی ہیں تو جسم مختلف حصوں سے ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرتا ہے، اور اس کی ترتیب ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے۔ آپ کے معاملے میں ایک اہم نکتہ ہے: آپ نے 23 دن میں تقریباً 20 کلو وزن کم کیا ہے۔ اس میں صرف چربی نہیں بلکہ پانی ۔، glycogen اور ممکنہ طور پر پٹھوں کی کمی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف سبزیاں کھا کر مزید تیزی سے وزن کم کرنا مناسب نہیں۔

  ٭-آپ پروٹین کم نہ کریں۔ ہر دن انڈے، مچھلی، چکن، دال، دہی وغیرہ میں سے مناسب مقدار رکھیں۔ 73 سال کی عمر میں پٹھوں کو برقرار رکھنا بہت اہم ہے۔ روٹی مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ ایک چھوٹی روٹی، خاص طور پر ورزش یا گالف والے دن، متوازن غذا کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اور چونکہ آپ بلڈ پریشر کی دوا لیتے ہیں اور طویل عرصے سے سانس کی بیماری بھی ہے، کمر کم کرنے کے لیے مزید انتہائی کم کیلوری والی غذا نہ اپنائیں۔
٭- میرا قد  163 سینٹی میٹر ،عمر 73سال اور اب وزن 70 کلو گرام ہے ۔ میرا بی ایم آئی کیا ہونا چاھیئے ؟ 

آپ کا بی ایم آئی ۔70 ÷ (1.63 × 1.63) = تقریباً 26.4   بنتا ہے ۔ اگر آپ کا وزن 66 کلو گرام ہو تو آپ کے وزن کے مطابق ۔24.8  ہونا چاھئیے ۔لیکن میرے مشورے کے مطابق ۔73 سال کی عمر میں تیزی سے وزن کم کرنامناسب نہیں ورنہ آپ کے پٹھوں اور طاقت میں کمی آسکتی ہے۔اچھا یہ بتائیں کہ آپ کی توند کا سائز ناف پر کتنا ہے ؟

٭۔بوڑھے نے بڑھیا کی سلائی مشین سے انچ ٹیپ نکالی ، توند کا سائز نکالا جو 117 سنٹی میٹر نکلا ۔

٭آپ بلڈ پریشر کی دوا لیتے ہیں، اس لیے نمک کم رکھیں اور دوا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق جاری رکھیں۔ ورزش کے دوران اگر سینے میں درد، چکر، بے ہوشی، غیرمعمولی سانس پھولنا، یا دل کی دھڑکن میں غیرمعمولی تبدیلی محسوس ہو تو ورزش روک کر طبی مدد لیں۔ 

اور ایک اہم بات: آپ کی 26 سالہ سانس کی بیماری اور سابقہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے اگر حالیہ عرصے میں سانس کی کیفیت میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو اپنے پلمونری/معالج سے باقاعدہ جائزہ کروانا خاص طور پر اہم ہے۔ میری نظر میں آپ کا بہترین ہدف 70 کلو گرام  وزن کو برقرار رکھتے ہوئے کمر 117 سنٹی میٹرسے بتدریج نیچے لانا، طاقت اور گالف/ورزش کی صلاحیت برقرار رکھنا۔

٭- آپ بلڈ پریشر کی دوا لیتے ہیں اور طویل عرصے سے سانس کی بیماری بھی ہے، کمر کم کرنے کے لیے مزید انتہائی کم کیلوری والی غذا نہ اپنائیں۔  

دوستو ! چیٹ جی پی ٹی کے رائے کا احترام ۔ لیکن بوڑھااپنے وزن کو   66 کلوگرام کا کرتے ہوئے اپنے بی ایم آئی کو  24.8پر لائے گا ۔  

اور کمر کو  117 سنٹی میٹرکمرے سے 105 سنٹی میٹر  کی جھگی تک لانا ہے ۔کیسے ؟
یہ جھگی بننے پربتاؤں گا ۔
     

٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔