Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
‏باغبانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏باغبانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 8 جولائی، 2021

سمی میری وار میں واری

سمی میری وار میں واری... میں واری آن نی سمی اے۔ 
کیا آپ نے اس قدیم لوک گیت کو سنا ہے اور کیا آپ اس کے پیچھے کی تاریخی کہانی جانتے ہیں؟
 تو چلیں آج آپ کو اس کے پیچھے کی کہانی سناتا ہوں تو یہ کہانی ایک ایسے وقت کی ہے جب زمین اور درختوں سے رشتہ محض مادی نہیں بلکہ روحانی تھا۔1773ء سال کا ذکر ہے۔ جودھپور کے راجہ ابھئے سنگھ نے ایک نیا محل تعمیر کرنے کا ارادہ کیا۔ راجہ کی خواہش تھی کہ محل مضبوط اور شاندار ہو، اور اس کے لیے سب سے موزوں لکڑی جنڈ (سمی) کی سمجھی گئی۔ سپاہیوں کو حکم ملا کہ آس پاس کے جنگلوں سے جنڈ کے درخت کاٹ کر لائے جائیں۔ وہ مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے ایک ہرے بھرے گاؤں کھجرلی تک پہنچے۔ یہ گاؤں اپنی سرسبزی کی وجہ سے مشہور تھا، لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ یہاں کے لوگ بشنوئی " کہلاتے تھے ایک ایسا قبیلہ جو فطرت کو اپنی عبادت سمجھتا تھا۔ ان کے لیے سبز درخت اور بے زبان جانور اللہ کی امانت تھے۔ بشنوئی اصول کے مطابق نہ کسی جانور کا شکار جائز تھا اور نہ کسی درخت کو کاٹنے کی اجازت۔ یہی وجہ تھی کہ کھجرلی باقی خطے سے زیادہ سرسبز اور خوبصورت تھا۔
 سپاہیوں نے جب گاؤں میں قدم رکھا تو ان کی نظریں بڑے بڑے گھنے جنڈ کے درختوں پر جم گئیں۔ یہ درخت ہی وہ خزانہ تھے جس کی تلاش انہیں یہاں تک لائی تھی۔ وہ کلہاڑیاں تیز کر کے درختوں کے تنے کاٹنے ہی والے تھے کہ گاؤں کی ایک نیک عورت امریتا دیوی آگے بڑھیں۔ وہ ایک عام عورت تھیں مگر ان کے ایمان اور عزم نے انہیں غیر معمولی بنا دیا۔
 انہوں نے سپاہیوں کو للکارا کہ یہ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں مل سکتی، یہ ہمارا ایمان ہے ہمارا اصول ہے۔ سپاہیوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہمیں محل کے حکم کی پرواہ ہے، تمہارے عقیدے کی نہیں۔ اس موقع پر امریتا دیوی کی آنکھوں میں بجلیاں گوجیں، وہ ایک درخت کے تنے سے لپٹ گئیں اور بولیں: ۔
اگر درخت کاٹنا ہے تو پہلے مجھے کاٹو۔
 سپاہیوں کے پاس تلواریں تھیں لیکن ان کے سامنے ایک بے سہارا عورت تھی۔ لمحہ بھر کے لیے وہ رکے لیکن پھر سنگدلی غالب آ گئی۔ تلواریں چلیں اور وہ درخت محفوظ رہا مگر امریتا دیوی کی جان چلی گئی۔

 خون کا پہلا قطرہ زمین میں گرا تو جیسے فضا میں ایک طوفان مچ گیا۔ وہ منظر دیکھنے والوں کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ مگر یہ قربانی محض آغاز تھی۔ ماں کے کٹے ہوئے جسم کو دیکھ کر اس کی تینوں بیٹیاں آسو ر۔تنی اور بھاگو بائی آگے بڑھیں۔ ان کے لبوں پر وہی گیت تھا جو آج بھی پنجاب کے میلوں میں گونجتا ہے۔

 سمی میری وار میں واری... میں واری آن نی سمی اے۔

  یعنی اے سمی! اب میری باری ہے، میں قربان ہوتی ہوں ۔

 یہ گیت اب صرف گیت نہیں رہا تھا۔
یہ اعلان تھا ایک چیلنج تھا کہ درختوں کے لیے جان دینا ہی اصل عبادت ہے۔ تینوں بیٹیاں اپنی ماں کی طرح درختوں سے لپٹ گئیں اور اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کے خون سے بھیگی زمین کی خبر گاؤں سے نکل کر پورے علاقے میں پھیل گئی۔ لوگ جوق در جوق اپنے درختوں سے لپٹنے لگے۔ مرد، عورتیں، بچے سب اپنے جسم کو ڈھال بنا کر درختوں کو بچانے لگے۔ سپاہیوں کی تلواریں چلتی رہیں مگر مزاحمت کم نہ ہوئی۔ ہر کٹا ہوا جسم ایک نئے عزم کو جنم دیتا۔ یہ ایک عجیب منظر تھا، جیسے پوری بستی اپنے وجود سے جنگل کی حفاظت کر رہی ہو۔ 

جب تک یہ خبر راجہ ابھئے سنگھ تک پہنچی اور اس نے مداخلت کر کے یہ خون رکوایا تب تک 363 بشنوئی اپنی جانیں قربان کر چکے تھے۔ یہ کوئی معمولی قربانی نہ تھی یہ فطرت کے نام ایک عظیم شہادت تھی۔ وہ درخت جن پر آج بھی ہوا سرسراتی ہے، گویا شہیدوں کے لہو کا ذکر کرتی ہے۔ اسی قربانی کی یادگار کے طور پر:۔ 

 سمی میری وار میں واری... میں واری آن نی سمی اے۔
ہوا کے دوش پر پورے برصغیر میں گونجنے لگا 
۔  

 یہ گیت صرف ایک لوک روایت نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ درخت محض لکڑی نہیں، یہ زندگی کا سانس ہیں۔ آج بھی جب یہ گیت پنجاب یا راجستھان میں گونجتا ہے تو دلوں میں ایک تاثر جاگتا ہے کہ محبت صرف انسانوں سے نہیں، فطرت اور سبز درختوں سے بھی کی جاتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 23 نومبر، 2019

بون سائی بودے

  ہر انسان کا خواب ہوتا ہے کہ اس کے گھر میں چھوٹا سا گارڈن ہو، جس میں اس کے من پسند پودے لگے ہوں، لیکن شہروں میں زمینیں اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ لوگ چھوٹے گھروں اور فلیٹس میں رہنے کے لئے مجبور ہیں۔ ایسے میں بہت سے لوگوں کا گارڈن بنانے کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے، مگر اس میں مایوس ہونے کی بات نہیں ہے۔ ایسے لوگ گھر میں چھوٹے گارڈن اور بونسائی پودے لگاکر اپنی یہ خواہش پوری کر سکتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ آم، جامن، نیم، شیشم، املی، پیپل اور برگد وغیرہ کے دیوہیکل درخت بالکل چھوٹے سائز میں آپ کے ڈرائنگ روم میں سجے نظر آئیں تو کیسا لگے گا؟ یقینا اچھا لگے گا، کیونکہ بونسائی کے ذریعہ ایسا ممکن ہے۔ بڑے درختوں کی چوٹی آپ کھڑے کھڑے یا بیٹھے بیٹھے چھو سکتے ہیں۔ بونسائی کے ذریعہ آپ بڑے درختوں کو چھوٹے قد و قامت میں اپنے گھر آنگن، کمرے، برآمدے اور بالکونی میں لگا سکتے ہیں۔ بونسائی، چھوٹا ہی سہی لیکن ہوم گارڈن بنانے کے لئے بہترین آئیڈیا ہے۔ اس میں لاگت کم اور دلچسپی کا سامان زیادہ ہے، خاص طور سے ان لوگوں کے لئے جو شجرکاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
 
بونسائی کا  مطلب ہے ’’بونے پودے‘‘ یا پودوں کو چھوٹا بنانا۔ یعنی شاخوں اور جڑوں کی مسلسل تراش خراش کرکے اس قدر چھوٹا بنانا کہ وہ دیکھنے میں ایک مکمل درخت نظر آئے لیکن سائز میں بالکل چھوٹا ہو، بونسائی کہلاتا ہے۔ اس طرح کسی بھی پودے کا بیج سے یا قلمی پودے کے ذریعہ بونسائی تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ٹہنیوں، پتیوں اور جڑوں کی کٹائی چھنٹائی کے علاوہ گملوں کی تبدیلی ایک مقررہ مدت پر کی جاتی ہے۔
اگر ہم بونسائی کی تاریخ کی بات
کریں تو اس کی ابتداء چین میں ایک ہزار سال قبل ہوئی۔ چینی زبان میں اسے ’’پنسائی‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور جب یہ فن جاپان میں پہنچا تو جاپانی زبان میں ’’بونسائی‘‘ ہوگیا۔ چینی لوگ بونسائی کے ذریعہ الگ الگ جانوروں اور پرندوں کی شکل دیا کرتے تھے۔ اس کے پیچھے ان کے کچھ رسم و رواج اور دیومالائی کہانیاں وابستہ تھیں۔ جاپان میں اس کا داخلہ زین بدھ ازم کے ذریعہ 12ویں صدی میں ہوا، لیکن جلد ہی یہ بدھ بھکشوئوں کے پاس سے نکل کر اعلیٰ ذات کی عزت و وقار کی علامت بن گیا۔ 19ویں صدی کے وسط تک جاپان میں یہ فن اپنے عروج پر تھا اور اس دوران وہاں پہنچنے والے بیرونی سیاحوں کے ذریعہ بونسائی‘ جاپان سے باہر کی دنیا میں متعارف ہوا۔

بونسائی
 کی ترقی یافتہ دور کا تعلق جاپان سے ہے۔
جس میں پودوں کو چھوٹے سائز میں  ہی پرکشش شکل دی جاتی ہے۔ اس ماڈرن دور کی بات کریں تو اب بونسائی پودوں کو سجاوٹ اور تفریح طبع کے مقصد سے بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔ ٹھیک سے دیکھ بھال کی جائیں تو بونسائی پودے آرام سے سو سوا سو سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
درختوں کی بونسائی شکل دیکھتے ہی سب سے پہلا سوال جو ہمارے دماغ میں آتا ہے، وہ یہ کہ آخر درخت بونے کیسے ہوتے ہیں ؟
آئیے سب سے پہلے ہم خلاصہ کے طور پر اس کے طریقہ کار کو سمجھ لیتے ہیں۔
حقیقت میں بونسائی‘ سائنس اور باغبانی کے علم کا سنگم ہے۔

٭یہ تھوڑی محنت، تھوڑی کوشش اور زیادہ توجہ کا طالب ہوتا ہے۔ نئے قلمی پودے کو بونسائی بنانے کے لئے کوکوپٹ، ریت اور گوبر کی کھاد ملاکر خاص بھربھری بنائی گئی مٹی اور اتھلے برتن کی ضرورت ہوتی ہے۔ بونسائی درخت کا سائز: بونسائی پودے کی ہیئت اور سائز پر مت جائیے، ان کو پودے سے پیڑ بننے میں عام درختوں سے تو کم وقت لگتا ہے لیکن پھر بھی برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایک عام درخت بڑا ہونے کے بعد قریب 5میٹر یا اس سے بھی اونچا ہوتا ہے۔ وہیں سب سے بڑے ہیئت کے بونسائی درخت کی اونچائی زیادہ سے زیادہ ایک میٹر رکھی جاسکتی ہے۔ بہت چھوٹا بونسائی 15سینٹی میٹر، اس بڑا 15 سے 30 سینٹی میٹر، درمیانی بونسائی 30 سے 60 سینٹی میٹر اور بڑا بونسائی 60سینٹی میٹر سے اونچا ہوتا ہے۔
 پودوں کا انتخاب: 
سدا بہار درختوں میں جن کا شمار ہوتا ہے ان میں انار، آم، املتاش، آکاش، نیم، برگد، سنترہ، گولر، پیپل، برگد، چیکو، لیچی، چیڑ، کیشیا، لیمو، املی، جامن و انجیر وغیرہ ہیں۔
 اسی طرح کچھ دوسرے درخت بھی ہیں جن کو پت جھڑ والے درخت کہتے ہیں، ان میں اوک، بیر، برچ، دیودار، پھر، ناشپاتی، اڈوسا، آنولا، امرود، چائنیس نارنگی، پلاش، دیودار، چنپا، چیری، سیمل، چنار، شمّی، سیمل، گڑہل، بوگنویلیا اور گل موہر وغیرہ ہیں۔
 ان درختوں کے انتخاب کے وقت جن باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے، وہ یہ ہیں : 
٭ منتخب پودوں کی عمر کئی سالوں کی ہونی چاہیے۔ 
٭ پودا سخت حالات برداشت کرنے والا ہونا چاہیے۔
 ٭ پودوں کی پتیاں، پھول اور پھل دیکھنے میں خوبصورت ہوں۔ 
٭ پودا کیڑوں مکوڑوں کو متوجہ کرنے والا نہ ہو۔

٭ پودے کی دیکھ بھال کرنے اور اسے اپنی پسند کے مطابق شکل دینے کا الگ ہی مزہ ہے۔ آپ ایسا پودا منتخب کریں جس کی ہیئت اچھی ہو اور جو کٹائی چھنٹائی کے بعد آسانی سے آپ کی خواہش کے مطابق خوبصورت لگے۔ خیال رہے کہ اگر آپ بیج سے پودے اگانا چاہتے ہیں تو آپ پودے کی نمو اور بڑھوتری کے ہر مرحلے میں جس طرح چاہیں کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کو دیکھ ریکھ کرنا اچھا لگتا ہے تو آپ تیار شدہ پودے ہی خریدیں۔
 قلم سے بونسائی بنانا ایک دوسرا طریقہ ہے۔ آپ درختوں کی کٹی ہوئی ٹہنیوں کو الگ سے مٹی میں لگا کر پودے اگا سکتے ہیں۔ بیج کے بجائے کٹی ٹہنی سے اگائے گئے پودوں کو بڑھانے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اس طریقے میں بھی پودے کی بڑھوتری کے ہر مرحلے میں اسے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ 
بونسائی کیسے بنائیں :۔
 بونسائی پودے آپ دو طریقوں سے بنا سکتے ہیں۔ 
 (۱) چھوٹے قلمی پودے سے 
(۲) بیج کے ذریعہ۔ 
لیکن بیج سے بونسائی بننے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، اس لئے آپ چھوٹے قلمی پودے سے ہی بونسائی بنانا شروع کریں۔ سب سے پہلے احتیاط سے پودے کو مٹی سے الگ کریں اور اس کی جڑوں پر لگی مٹی کو برش سے ہٹائیں۔ اب اس کے تنوں اور جڑوں کی تھوڑی تھوڑی کٹائی کریں تاکہ وہ پودا بونسائی گملے میں فٹ بیٹھ سکے۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ پودے کو رکھتے وقت گملے کے کنارے سے لگ بھگ ایک دو انچ کی مٹی جڑوں سے دور ہونی چاہیے۔ اب گملے میں مٹی ڈالیں اور دو تین انچ موٹی مٹی کی پرت بناکر پودے کو رکھیں۔ پھر جڑوں کی چاروں طرف مٹی پھیلاکر دھیرے دھیرے دبائیں۔ اس کے بعد مٹی کے اوپر بجری اور کنکری پھیلائیں تاکہ گملا صاف ستھرا لگے۔
 کچھ دنوں بعد جب پودا گملے میں اچھی طرح جم جائے تو اس کی ٹہنیوں پر دھاتو کی تار لپیٹ کر اسے عام درخت جیسی شکل دیں۔ ویسے ٹہنیوں کو نیچے کی طرف جھکانے کے لئے کچھ لوگ وزن بھی باندھتے ہیں۔ درخت کو خوبصورت اور من پسند شکل دینے کے لئے اس کی ٹہنیوں اور شاخوں کو بڑھتے ہی لگاتار کاٹتے جانا ہوگا۔ 
جتنی اونچائی کا بونسائی آپ چاہتے ہیں، اتنی اونچائی حاصل کر لینے کے بعد آپ اس پر آنے والی نئی کوپلوں کو کاٹتے جا ئیں تاکہ وہ مزید اونچا نہ ہو، بلکہ اسی اونچائی پر پھیلتا جائے اور خوبصورت دکھے۔ اس طرح درخت کی لمبائی میں رکاوٹ ہوتی لیکن چوڑائی میں وہ پھیلتا جاتا ہے۔ جڑیں اور ری پاٹنگ (Repoting): ۔
بونسائی کے عمل میں پودوں کو وقفے وقفے سے نئے برتنوں میں منتقل کرنا ہوتا ہے جسے ری پاٹنگ (Repoting) کہتے ہیں۔ یہ ری پاٹنگ الگ الگ پودوں کے لئے چھ مہینے سے لے کر ایک سال، دو سال، تین سال یا چار سال تک میں کی جاتی ہے۔ ری پاٹنگ کے عمل میں پودے کی جڑوں کی کٹائی بھی کی جاتی ہے اور اسے کسی بڑے برتن میں منتقل کیا جاتا ہے۔ درختوں کی بہتر نشوونما میں جڑ وں کا اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ غذائیت کے لئے پتیوں کے ساتھ ساتھ جڑیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لئے بونسائی کے عمل میں شاخوں کو منظم اور کنٹرول کرنے کے ساتھ مسلسل جڑوں پر بھی کام کرنا ہوتا ہے۔
 جب پودا بڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کی جڑیں بھی بڑھتی ہیں۔ ایسے میں ان کے برتن بدلنے کے دوران جڑوں کی بھی چھنٹائی کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح جڑیں لمبی ہونے کی بجائے گھنی اور پیوستہ ہوتی جاتی ہیں۔ دونوں سروں، یعنی جڑ اور تنے کو لگاتار کاٹتے رہنے سے تنا لمبا ہونے کی بجائے چوڑا اور پیوستہ ہوتا جاتا ہے۔ اب تک آپ جڑوں کو چھانٹ چھانٹ کر اتنا چھوٹا کر چکے ہوتے ہیں کہ اسے ایک چھوٹے اور اتھلے برتن میں لگایا جا سکے۔ اتھلا برتن اس لئے تاکہ گہرائی میں وہ من مانے طور پر نہ بڑھ سکیں۔ 
جب ہم درخت کو ان محدود دائروں میں بڑھاتے ہیں تو ان کے نمو کا یہ طریقہ ہی ان کی فطرت بن جاتی ہے۔ جڑیں نئے طریقے سے ساخت ہونے لگتی ہیں۔ تنے میں بہت کم فاصلے سے نئی شاخیں نکلنے لگتی ہیں۔ شاخوں کی دوریاں کم ہونے سے وہ ایک گھنا درخت بنتا جاتا ہے۔ اور وہ انہی محدود دائروں میں ایک عام اور مکمل درخت کی شکل میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔ لگاتار پتیوں کو ہٹاتے (Defoliation) اور چھانٹتے رہنے کے وجہ سے جب بونسائی تھوڑا بڑا ہو جاتا ہے تو اس کے سائز کے مطابق پتیاں بھی تھوڑی چھوٹی آنے لگتی ہیں۔ پتیاں سائز میں چھوٹی مگر تعداد میں بڑھ جاتی ہیں اور اس سے درخت گھنا دکھنے لگتا ہے۔ ان سب کے باوجود بونسائی کے پھولوں کے سائز میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ بڑے درخت میں آنے والے پھولوں کے سائز کے ہی ہوتے ہیں۔ 
اگر کبھی آپ نے بونسائی درختوں کو پھل سے لدے ہوئے دیکھا ہو تو آپ چونکے بنا نہیں رہے ہوں گے کیونکہ ان میں پھل بھی عام سائز کے ہی آتے ہیں، پھر چاہے لیچی ہو یا آم۔ حالت تو یہاں تک پہنچتی ہے کہ پھلوں کے سبب ان کی ڈالیاں ہی جھک جاتی ہیں۔ ایک بات ضرور ہے، چونکہ ان درختوں کے سائز محدود ہوتے ہیں اس لئے ان میں پھلوں کی تعداد محدود ہی ہوتی ہے۔ کسی درخت کے بونسائی میں پھل اور پھول کا موسم عام درخت کی طرح ہی ہوتا ہے۔
 موسم کے مطابق پودوں کی دیکھ بھال:
 سردی کے دنوں میں بونسائی کی دیکھ ریکھ پر زیادہ دھیان دینا پڑتا ہے، کیونکہ بونسائی اتھلے برتوں میں لگایا جاتاہے اور بڑے پیڑوں کی طرح اس کی جڑیں زمین کے نیچے دبی نہیں ہوتیں، لہٰذا سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت بہت کم ہو، تو بونسائی کو اندر کمروں میں رکھنا چاہیے۔ اس کے برعکس گرمی کے دنوں میں جب دن کے وقت درجہ حرارت بہت زیادہ ہو، تو بونسائی کو صرف صبح اور شام کی دھوپ لگنے دیں اور دوپہر کے وقت اسے سایے میں رکھیں۔ ان دنوں پانی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، اس لئے پودوں میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ 
بونسائی کے فائدے 
 ٭… بونسائی ایک اچھا روزگار بھی ہے۔ اس کی دیکھ بھال فارغ افراد کے ذریعہ اچھی طرح سے کی جا سکتی ہے۔ 
٭… جگہ کی کمی کی وجہ سے جو پودے گھر میں لگانا ممکن نہیں تھا، وہ بھی اب ہم اپنے گھروں میں لگا سکتے ہیں۔ 
٭… بونسائی بے حد خوبصورت اور دلکش ہوتاہے۔ یہ گھر کی خوبصورتی بڑھاتا ہے۔ 
٭… عام فصلیں خراب موسم کی وجہ سے کئی بار خراب ہو جاتی ہیں اور کسانوں کو نقصان ہو جاتا ہے، لیکن بونسائی کو خراب موسم سے بچایا جا سکتا ہے۔
 ٭… دیگر فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی طرح اسے وقت مقررہ پر کاٹنا اور بیچنا نہیں پڑتا۔ 
٭… پھل، پھول اور سبزیوں کے خراب ہو جانے کی وجہ سے کئی بار کسانوں کو صحیح قیمت نہیں مل پاتی اور خراب ہوجانے کے ڈر سے کسان انہیں کم قیمت پر بیچ دیا کرتے ہیں، لیکن بونسائی کی صحیح دیکھ بھال اس کی قیمت کو بڑھاتی ہے۔ 
٭… باغبانی ذہنی تنائو کو دور رکھنے میں مدد کرتی ہے، لیکن شہروں میں باغبانی ممکن نہیں ہو پاتی، ایسے میں بونسائی ایک اچھا ذریعہ ہے۔
 ٭… بزرگ حضرات جن کا وقت نہیں کٹتا، وہ بونسائی لگا کر اپنے آپ کو مصروف رکھ سکتے ہیں۔ 
٭… جن کسانوں کے پاس کھیتی کے کم رقبے ہیں، ان لوگوں کے لئے بونسائی ایک اچھا ذریعہ آمدنی ہے۔
 ٭… اگر گھر میں بونسائی لگایا جائے، تو گھر کے بچے بھی درختوں کے اہمیت کو سمجھیں گے اور ان کے رکھ رکھاؤ کو بے حد آسانی سے سیکھ جائیں گے۔ 
بونسائی کیلئے کچھ ضروری باتیں : 
٭… بونسائی بنانے سے پہلے باغ باغیچوں میں درختوں کے صحیح ہیئت و شکل کو دیکھ لیں۔ اس سے آپ کو بونسائی کے صحیح شکل دینے میں مدد ملے گی۔ 
٭… بونسائی پودوں کو ضرورت کے مطابق پانی اور دھوپ دیتے رہیں تاکہ اس کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ مکمل پودے کی شکل دینے کے لئے وقفے وقفے سے کاٹ چھانٹ کرتے رہیں۔ 
٭… کچھ سال بعد گملے کی مٹی ضرور بدلیں کیونکہ اس میں پودوں کی غذائیت کم ہو جاتی ہے۔ 
٭… پودوں کو گملوں میں ٹھیک طرح سے لگانا چاہئے۔ 
٭… پودوں کو لگاتے وقت جڑوں کے بیچ میں ہوا نہ رہے، لہٰذا پودے کو اچھی طرح سے دبا دینا چاہئے۔ 
٭… بونسائی کو کھلی ہوا میں رکھیں اور اس بات کا دھیان رکھیں کہ دھوپ چاروں طرف سے لگے۔ 
٭… بونسائی کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا اسے روزانہ پانی دیں اور تب تک دیں، جب تک کہ پانی برتن سے بہنے نہ لگے۔ 
٭… بونسائی کو ویسا ہی قد و قامت دیں، جیسا کہ وہ قدرتی طور پر ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 18 مئی، 2019

سٹیویا - صحت کے لئے نقصان دہ

" مجھےلیڈی  ڈاکٹر نے  بتایا کہ " سٹیویا "  نامی ایک شوگر ہے جو " سپلینڈا " سے بہتر ہے اور ہربل بھی ہے ، پاکستان میں نہیں باہر ملتی ہے، اگر ہوسکے تو آپ وہ استعمال کریں  "۔    بڑھیا نے  سال پہلے ، یعنی 2018 میں ،یہ معلومات دیں ۔
"جب میں نے اُسے  بتایا کہ میرا بیٹا باہر ہے وہاں سے منگواسکتی ہوں۔"
  تو اُس نے کہا ،" آپ کافی ساری منگوائیے اور کسی سٹور  پر رکھوا دیں  ، تاکہ بہتوں کا فائدہ ہو "
بڑھیا نے مجھے بتایا تو میں نے کہا ،" اگر یہ دریافت نئی ہے تو ابھی مارکیٹ نہیں ہوئی ہو گی ، اور اگر پرانی ہے تو یقیناً سٹورز پر دستیاب ہو گی "
بہرحال    بڑھیا نے بڑے بیٹے کو  دُبئی اطلاع دی  گئی  ، اُ س  نے وہاں سے آنے والے دوست کے ہاتھ دو پیکٹ بھجوادیئے  ، جس نے ملتان سے ٹی سی ایس کردئیے ، یوں بوڑھے کا تعارف    سٹیویا     یعنی چینی کا نعم البدل پوڈر سے ہوا  ۔
 کوئی ہفتہ پہلے بوڑھا نرسری گیا   تاکہ  بوگن ویلیا لے اور اُسے گھر کی بیرونی دیوار پرچڑھانے کا بندوبست کرے ۔تاکہ گرمیوں میں اے سی کے ہوش رُبا بِل سے بچاجاسکے ، 
وہاں ایک اور گھریلوباغبان کا سوال بھی سنا ،
 " آپ کے پاس سٹیویا ہے ؟ "  
افطاری کے بعد بڑھیا نے  ، عمران (ملازم) سے کہا ، " سٹیویا لے آؤ "۔
بوڑھے کے ذہن میں جھماکا ہوا ۔ " یہ ساشے مجھے دکھانا "
بوڑھے نے ساشے  کو الٹ پلٹ کر دیکھا  ، کچھ زیادہ معلومات نہ تھیں ۔ بوڑھے کے روزہ افطاری میں کافی وقت تھا  ۔ لہذا گوگل چاچا سے مدد لینے کا سوچا ، گوگل چاچا نے حیرت کے پہاڑ توڑ دیئے اور جو معلومات کا خزانہ دیا ، آپ بھی پڑھئیے :

  جب  گوگل چاچانے اِس کی تصویر دکھائی تو ہم پر اب حیرت کا ہمالیہ ٹوٹ پڑا ، 

"ارے یہ تو وہی پودا ہے جو  ایبٹ آباد میں نڑیاں کے قبرستان  کے پاس اُگتا تھا "۔
جسے  بچے  میٹھی   پتّیاں   کہتے تھے ۔  جن کی پتّیوں کی شکل  پودینے سے ملتی تھی ۔ اور  کھٹی پتّیاں   بھی ہوتی تھیں ، جنہیں ہم  چبایا کرتے تھے ۔
 سندھ آتے تو املی  کے پتے  ، نمک مرچ  کے ساتھ چباتے، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارے دور کے بچّے (بشمول بوڑھا) ،  بکری کے قبیل سے تعلق رکھتے تھے ، لیکن عادتیں کم و بیش ویسی ہی تھیں، جیسے  موجودہ زمانے کے تمام بچوں کی ۔ 

" میٹھے پتّے  یا کینڈی لیف   یا سٹیویا   "  کی خوبیوں سے فائدہ اُٹھایا۔
 جنوبی امریکہ کے مشہور پروفیشنل  برازیلئن فٹ بالر    پیلے  کے، بزنس مائینڈ   شہریوں  نے   پیرا گوئے میں ، اِن پتّوں کے عرق کو کشید کرکے  ، پاؤڈر بنایا جو ، شوگر کے مریضوں کے لئے چینی کا بدل قرار پایا   ۔یوں برازیلیئوں نے  سالانہ 76 لاکھ ڈالرکی ایکسپورٹ  2007 تا 2014 تک کی ۔
 اِس وقت یورپی یونیئن  (47 فیصد ) ،  چین (37 فیصد ) ،   جنوبی امریکہ  (11 فیصد ) ،امریکہ  (1 فیصد )  اور باقی دنیا  (1 فیصد ) ۔  باقی دنیا میں پاکستان شامل نہیں ،یہاں ابھی  سٹیویا   کی کاشت تحقیقی   مراحل میں ہے ۔
سٹیویا   کے پھول بھی نکلتے ہیں اور بیج بھی بنتے ہیں  ، لیکن قدرتی طور پر بیج سے  کم پودے نکلتے ہیں  ۔ لہذا قلموں سے پودے اُگائے جاتے ہیں ۔
  اِس کے پتّوں میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں لیکن سکھائے ہوئے پتّے  ، عرق یا پوڈر  چینی سے 200 گنا زیادہ مٹھاس رکھتے ہیں اور اِس کے باوجود خون میں شوگر  کی مقدار میں  اضافہ نہیں کرتے ۔ لہذا شوگر کے مریضوں کے لئے یہ مفید ہے ۔پھر بھی ایک نارمل انسان کے جسم کی روزانہ شوگر کی ضرورت اوسطاً  ۔عورتوں کے لئے  4 سے 6 چائے کے چمچ  اور مردوں کے لئے  9 چائے کے چمچ ۔ لیکن  جسمانی محنت کرنے والوں کے لئے یہ مقدار بڑھ سکتی ہے ۔ لیکن  ذیابیطس کے مریضوں کے لئے ،

لہذا بڑھیا ، رغبت سے سٹیویا   کا ساشے چینی کے نعم البدل کے طور پر استعمال کرتی ہے ۔ یہ اور بات کہ پرہیز کے باوجود  شوگر پھر بھی نقطہءِ پریشانی سے اوپر ہی رہتی ہے۔
 لہذا ایلو پیتھیک ، ھومیوپیتھک دوائیوں کے بعد اب ھربل یعنی حکمت  ، یونانی نہیں بلکہ اسلامی حکمت جسے مسلمان کر کے طبِ نبو ی کے قالب میں ڈھال دیا گیا ہے۔ 
گویا ، یونانی حکمت غیر مسلموں کے لئے اور  طبِ نبو ی مسلمانوں کے لئے ۔ 

تو جناب اب رہا ،
  لوگوں  نے گوگل چاچا کو  بتایا کہ نوجوانوں کے سٹیویا   کے  استعمال کی وجہ سے   مندرجہ ذیل سائیڈ ایفیکٹ پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں :۔
٭-  اُن کو گیس کی پرابلم ہوگئی ۔(کوئی بات نہیں نکال دیں )
٭- اُن بلڈ شوگر خطرناک حد تک نیچے گر گئی کہ جان کے لالے پڑ گئے ۔اب ایک بالغ کو 22 گرام شوگر(تمام ا شیاء)   روزانہ تو لینا چاھئیے نا  ۔(آہ یہی وجہ ہے کہ بڑھیا  میری بالوشاہی یا جلیبوں سے کچھ نہ کچھ اُچک لیتی ہے ) 
٭-اُنہیں  گردوں کا مسئلہ شروع ہوگیا ۔ (اب معلوم نہیں کہ  سٹیویا    سے ہوا یا کوئی اور وجہ بھی ہے ، ویسے شوگر کے مریضوں کو گردوں کا مسئلہ ضرور ہوتا ہے )
٭- اینڈوکرائین  سسٹم (ہارمون پیدا کرنے والے غدود) میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے ۔
٭-سٹیویا      استعمال کرنے کی وجہ سے اُن کے ہاتھوں اور پاؤں میں سُن رہنے کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ۔
٭- مسلز میں درد رہنا شروع ہو گیا ہے ۔

 کہتے ہیں قبر کا حال تو مردہ ہی جان سکتا ہے، لہذا   بڑھیا  میں بھی 6 کے 6  بالاسائیڈ ایفیکٹ   پائے جاتے ہیں اور وہ اِن کو ختم کرنے کے لئے اب ہربل دوائیں لے رہی ہے، سوچ رہا ہوں کہ  اگر وہ   سٹیویا       بند کردے ، تو پھر ذائقہ کام و دھن کے لئے کون سی مٹھاس استعمال کرے ، کینڈرل ، سکرا ل ، سپلینڈا ، سچارین  یا  اسپارٹیم ؟ 

کیا       سٹیویا        کسی دوسری دوا کے استعمال کے ساتھ جسم پر کوئی منفی اثر ڈالتی ہے ؟
٭- سٹیویا           لیتھیئم  سیرم کا لیول بڑھا دیتی ہے  جس سے آپ کو ،    ڈائریا  ، قہہ ، معدے میں درد  ، تھکاوٹ ، جھٹکے ، کپکپاہٹ ،  مسلز کی کمزوری ، غنودگی  وغیرہ جیسے   مسائل ہوسکتے ہیں۔
٭- اگر     لیتھیئم  سیرم کا لیول کم ہوجائے تو :
٭- سٹیویا        کے استعمال سے   جسم میں بلڈ شوگر کم ہوجاتی ہے ، لہذا شوگر کنٹرول کرنے والی دیگر دوائیں اگر استعمال ہو رہی ہیں تو شوگر کا لیول مزید گر جائے گا ۔ 
٭-  اگر آپ اینٹی ہائپر ٹینشن دوائیں لے رہے ہیں، جیسے    بلڈ پریشر کم کرنے کی دوائیں  ،تو   سٹیویا          بلڈ پریشر  کو مزید کم کردے گی ۔
سٹیویا         آج کل مارکیٹ میں ہربل   شوگر کے نام پر بِک رہی ہے ،اگر آپ سمجھتے ہیں  کہ ایسا نہیں ہے ، تو  آپ ضرور استعمال کریں۔ لیکن  چھ ماہ بعداگر آپ پر بالا سائیڈ ایفیکٹ ظاہر ہورہے ہیں ،تو فوراً  سٹیویا          چھوڑ دیں ۔

 بڑھیا نے بھی چھوڑ دی ہے اور اب بغیر چینی کے چائے پی رہی ہے ، لیکن  22 گرام شوگر تو روزانہ لینا ہے نا ۔
بوڑھا ، بڑھیا کی لیبارٹری ہے ، ہر وہ  کھانے  کی چیز جو بڑھیا  نے شروع   کرنی ہے ۔ وہ بوڑھے کولازمی چکھاتی یا کھلاتی ہے ۔بوڑھا  شوگر نہ ہونے کے باوجود اب بغیر چینی کی چائے پیتا  ہے ۔ کیوں کہ بوڑھا دو قسم کی چائے نہیں بنا سکتا ۔
 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔