اُفق کے پار بسنے والے پیارے دوستو !۔
کل
مؤرخہ 6 جنوری 2026 دن 1100 بجے سگنل کالج میں سائبر وار فیئر پر
راولپنڈی کے سارے ریٹائرڈ آفیسرز کے لئے لیکچر ہوا ۔ جس کی بنیاد باتوں میں
سب سے اہم باتیں: ۔
٭۔ آپ کے مائکرو فنانس بنک ،(یعنی ایزی پیشہ ، جاز کیش اور یو پیسہ اکاونٹ )سے دھوکے کے ذریعے پیسہ ایسے نکلوانا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے ڈیجیٹل کھوجی بھی کُھرا ڈھونڈنے میں بےبس ہوجائیں یا کر دیئے جائیں ۔ پاکستان کے ایک دو نہیں ہزاروں سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔جن میں راقم بھی شامل ہے
٭۔بنکوں سے سمارٹ کارڈ ( ویزہ کارڈ اور یونیئن پے کارڈ )سے بھی فراڈ ہوئے ہیں ۔کیوں کہ آپ کا پن کوڈ کسی دوسرے کے علم میں آجائے ، یا آپ خود دے دیں اوروہ جدید ٹیکنالوجی آپ کا سمارٹ کارڈ کاپی کر لے ۔
٭-بنکوں سے آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے آپ سے دھوکے سے پیسے منگوائے جائیں ۔
جیسے زیر دستخطی کو لندن کے ایک دوست سے موبائل کال آئی ۔ کہ سر بریگیڈئر ۔۔۔۔۔ کا موبائل فون چوری ہو گیا ہے کوئی میسج دے رہا ہے کہ ۔ برادر مجھے 5 لاکھ روپوں کو سخت ضرورت ہے ۔میں آپ کو ہفتے تک لوٹا دوں گا۔ایسے میسج ہر اُس شخص کو آئے جن کا موبائل فون چوری ہوا اور اُس موبائل والے کے دوستوں نے بھجوائے بھی لیکن یہ سب غیرملکی مگر پاکستانی یا پاکستان میں پڑھنے والے غیر ملکی تھے ۔جنھوں نے باقائدہ اپنے بنک اکاونٹ نمبر بھی دیئے ۔
٭۔ آپ کو یقیناً ڈمب فون یا سمارٹ فون پر یہ میسج ضرورآیا ہوگا ۔
- یہ میسج ضرور آیا ہو گا کہ ، مبارک ہو آپ کی جدید ماڈل کی کار، آپ کے موبائل نمبر کی سلیکشن کی وجہ سے انعام میں نکل آئی ۔ آپ جواباً اِس نمبر پر کال کریں ۔
۔ آپ کا ایزی پیسہ کارڈ ۔ ویزہ کارڈ بلاک ہو گیا ہے میں ۔ آپ کے بنک سے بول رہا ہوں ۔اگر آپ پریشانی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمارا آپریشن مینیجر آپ کو اپنے موبائل سے فون کرے گا ۔ اگر آپ تیار ہیں تو ایک د بایئے ورنہ دو ۔ آپ ایک دبائیں یا دو ، آپ کو موبائل فون سے کال آجائے گی ۔
یہ وہ فراڈ ہیں جو رقوم کے فراڈ تھے!۔
لیکن سب سے گھناؤنا فراڈ ِ انہی فراڈ کے ذریعے اکٹھا کیا گیاڈیٹا۔ یعنی موبائل نمبروں سے کئے گئے ، فوجیوں کے آپس میں کئے گئے ایس ایم ایس ، وڈیوز ، وائس ریکارڈ یہ سب آپ کے انجانے میں دشمن بن کر دشمنوں کو معلومات پہنچاتے ہیں ۔مشرقی بارڈر پر ایک سے پانچ کلومیٹر تک ڈمب فون سے سے کی گئی گفتگو انڈین اپنے آلات سے سنتے ہیں ، جو نہایت ہی خطرناک ہے
لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ موبائل کے استعمال کو کم سے کم اور ضرورت کے وقت کیا جائے ۔
اور اپنے بچوں بھی بتایا جائے کہ وہ موبائل پر فیملی فوٹو ایک دوسرے کو نہ بھجوائیں ۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں
کہ موبائل سے فوٹو ڈیلیٹ کرنے سے ڈیلیٹ ہو جاتی ہے ،ہر گز نہیں ، وہ موبائل سے آپ کے سامنے سے ہٹ جاتی ہے لیکن موبائل کمپنی اور وٹس ایپ کے سرور (ڈیٹا بنک) میں موجودرہتی ہے ۔
سائبر سیکیورٹی کلاس پر ہمارے بچوں کے وائس میسج سنیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں ، تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک کو بیرونی طاقتوں سے محفوظ رکھیں ۔ شکریہ
٭۔ آپ کے مائکرو فنانس بنک ،(یعنی ایزی پیشہ ، جاز کیش اور یو پیسہ اکاونٹ )سے دھوکے کے ذریعے پیسہ ایسے نکلوانا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے ڈیجیٹل کھوجی بھی کُھرا ڈھونڈنے میں بےبس ہوجائیں یا کر دیئے جائیں ۔ پاکستان کے ایک دو نہیں ہزاروں سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔جن میں راقم بھی شامل ہے
٭۔بنکوں سے سمارٹ کارڈ ( ویزہ کارڈ اور یونیئن پے کارڈ )سے بھی فراڈ ہوئے ہیں ۔کیوں کہ آپ کا پن کوڈ کسی دوسرے کے علم میں آجائے ، یا آپ خود دے دیں اوروہ جدید ٹیکنالوجی آپ کا سمارٹ کارڈ کاپی کر لے ۔
٭-بنکوں سے آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے آپ سے دھوکے سے پیسے منگوائے جائیں ۔
جیسے زیر دستخطی کو لندن کے ایک دوست سے موبائل کال آئی ۔ کہ سر بریگیڈئر ۔۔۔۔۔ کا موبائل فون چوری ہو گیا ہے کوئی میسج دے رہا ہے کہ ۔ برادر مجھے 5 لاکھ روپوں کو سخت ضرورت ہے ۔میں آپ کو ہفتے تک لوٹا دوں گا۔ایسے میسج ہر اُس شخص کو آئے جن کا موبائل فون چوری ہوا اور اُس موبائل والے کے دوستوں نے بھجوائے بھی لیکن یہ سب غیرملکی مگر پاکستانی یا پاکستان میں پڑھنے والے غیر ملکی تھے ۔جنھوں نے باقائدہ اپنے بنک اکاونٹ نمبر بھی دیئے ۔
٭۔ آپ کو یقیناً ڈمب فون یا سمارٹ فون پر یہ میسج ضرورآیا ہوگا ۔
- یہ میسج ضرور آیا ہو گا کہ ، مبارک ہو آپ کی جدید ماڈل کی کار، آپ کے موبائل نمبر کی سلیکشن کی وجہ سے انعام میں نکل آئی ۔ آپ جواباً اِس نمبر پر کال کریں ۔
۔ آپ کا ایزی پیسہ کارڈ ۔ ویزہ کارڈ بلاک ہو گیا ہے میں ۔ آپ کے بنک سے بول رہا ہوں ۔اگر آپ پریشانی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمارا آپریشن مینیجر آپ کو اپنے موبائل سے فون کرے گا ۔ اگر آپ تیار ہیں تو ایک د بایئے ورنہ دو ۔ آپ ایک دبائیں یا دو ، آپ کو موبائل فون سے کال آجائے گی ۔
یہ وہ فراڈ ہیں جو رقوم کے فراڈ تھے!۔
لیکن سب سے گھناؤنا فراڈ ِ انہی فراڈ کے ذریعے اکٹھا کیا گیاڈیٹا۔ یعنی موبائل نمبروں سے کئے گئے ، فوجیوں کے آپس میں کئے گئے ایس ایم ایس ، وڈیوز ، وائس ریکارڈ یہ سب آپ کے انجانے میں دشمن بن کر دشمنوں کو معلومات پہنچاتے ہیں ۔مشرقی بارڈر پر ایک سے پانچ کلومیٹر تک ڈمب فون سے سے کی گئی گفتگو انڈین اپنے آلات سے سنتے ہیں ، جو نہایت ہی خطرناک ہے
لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ موبائل کے استعمال کو کم سے کم اور ضرورت کے وقت کیا جائے ۔
اور اپنے بچوں بھی بتایا جائے کہ وہ موبائل پر فیملی فوٹو ایک دوسرے کو نہ بھجوائیں ۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں
کہ موبائل سے فوٹو ڈیلیٹ کرنے سے ڈیلیٹ ہو جاتی ہے ،ہر گز نہیں ، وہ موبائل سے آپ کے سامنے سے ہٹ جاتی ہے لیکن موبائل کمپنی اور وٹس ایپ کے سرور (ڈیٹا بنک) میں موجودرہتی ہے ۔
سائبر سیکیورٹی کلاس پر ہمارے بچوں کے وائس میسج سنیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں ، تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک کو بیرونی طاقتوں سے محفوظ رکھیں ۔ شکریہ
٭٭٭٭٭٭
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں