Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 28 مئی، 2021

19 فروری تا 31 مئی ۔ داستان ایک سفرِ مسلسل

31 مئی ۔پنشنرز کے دن کو پاکستان میں پنشنرزکے حق میں تاریخ بدلنے کے لئے ،وہ تمام ستارے جو گردشِ قیادت کے تلاطم خیز ہیجان و فقدان سے بکھر چکے تھے ۔وہ دوبارہ   آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کے مدار میں داخل ہورہے ہیں ۔ یا داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اُنہیں اِس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ فردِ واحد کسی بھی تنظیم کا عقلِ کل نہیں ہوتا ۔  ہم کھلے دل سے ، اُنہیں خوش آمدید کہتے ہیں -

تنظیمیں سنیٹرل ایگزیکٹو کونسل، تنظیم کے دیگر صوبائی اور ڈویژنل عہدیداران اور پنشنرز کے مشوروں سے چلتی ہیں ورنہ پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں ۔ باقی عہدیداران کا تنا اور شاخیں رہ جاتی ہیں ، جن کا ننگ  چھپانے کے لئے اگلے موسمِ بہار کا انتظار کرناپڑتا ہے ۔ 

اِس کرہ ارض پر وہی نظام قائم رہتا ہے جو انسانوں کے لئے منفع بخش ہو ! (الکتاب)

-- -  مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ  ۔ ۔[13:17]  

جناب مصطفیٰ حسین خان صاحب نے 24 مئی کو تین ممبران کی میٹنگ میں بتایا ، کہ

 پنشنرز کو حکومتی عمائدین نے ایک بار پھر دھوکا دینے اور اُنہیں معیشت کے سمندر میں پچھلے دو سال کی طرح ۔ اِس سال بھی پھینکنے کی تیاری کر لی ہے ۔

 مختلف تجاویز کے بعد اُنہوں نے آئیڈیا دیا کہ ہمیں 30 مئی کو دھرنے کا اعلان کرنا ہوگا ۔ سیکریٹری جنرل نے تسلیم کیا کہ دھرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ تمام پنشنرز تنظیموں کے عہدیداران سے عندیہ لینے کے بعد 30 مئی کے دھرنے کے لئے سیکریٹری جنرل نے وٹس ایپ پر ملک کے دیگر صوبوں کے پنشنرز اور عہدیداران سےایک سوال کے ذریعے  رائے مانگی ۔

کیا اسلام آباد کے تمام فیڈرل گورنمنٹ  کی ملازمتوں  سے ریٹائرڈ  پشنرز ایک فیڈرلی ریٹائرڈ پنشنر کے ساتھ اسلام آباد کے ڈی چوک میں 30 مئی کی صبح 8 بجے پرامن انداز میں دھرنا دے کر اپنے حقوق کی آواز بلند کرنا پسند کریں گے ؟؟؟

اگر آپ اِس سوال پر غور کریں تو یہ  سیکریٹری جنرل کی طرف سے نہیں بلکہ ایک فیڈرلی ریٹائرڈ پنشنرز کی طرف سے ، پنشنرز کی  PULSE (نبض) جانچنے کا ایک فوجی طریقہ تھا ۔ 

جس کو سب  تنظیموں کے عہدیداران نے سراہا ۔ کہ اب دھرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں  ۔

چنانچہ تمام تجاویز کو عملی جامع پہنانے کے لئے 25 مئی 2021 کو سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبران کا اجلاس ہوا ، جس میں جناب رانا محمد اسلم ، میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد ، جناب مصطفیٰ حسین خان، جناب اشفاق احمد ، جناب صفدر اقبال ، (ؤٹس ایپ پر) جناب بشیر احمد بلوچ اور جناب ڈاکٹر عامر بھٹی شامل ہوئے ۔

میٹنگ کے خاتمے کے بعد جناب بشیر احمد بلوچ نے نوٹیفیکشن دیا کہ :

آج 25 مئی مرکزی قائدین ، سی ای سی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ڈی چوک اسلام آباد کا علامتی دھرنا اور پر امن احتجاج کی تجویز پر غور ہوا۔ جس میں 30مئی 2021 کو احتجاجی دھرنا صبح آٹھ بجے ہونا طے پایا۔

یہ نوٹیفکیشن ۔ سیکریٹری جنرل نے آل پاکستان پنشنرز ایسوسی کے تمام رجسٹرڈ ممبران ، متفق ممبران پاکستان ، پنشنران اور تمام پنشنرز تنظیموں ، ایسوسی ایشنوں ، سوسائٹیز اور گروپس کے عہدیداران کو وٹس ایپ ، فیس بک ، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر مشتہر کر دیا ۔

30 مئی کو اتوار کا دن ، کئی پنشنرز اور عہدیداران نے تجاویز دیں کہ دھرنے کادن اتوار کے بجائے سوموار 31مئی 2021 کر دیا جائے تو بہتر ہے ۔چنانچہ بشیر احمد بلوچ نے سی ای سی کے ممبران کو وٹس ایپ گروپ پر تجویز دی :

مجھے کئی فون آ چکے ہیں اور پرانے عقل مند لوگوں کی یہ تجویز آ رہی ہے کہ احتجاج اور دھرنے کی تاریخ تبدیل کر دو، یعنی 30مئی سے 31مئی کر دو، اتوار سے پیر کر دو مطلب ورکنگ ڈے میں، لہٰذا میں اپنے جانب سے یہ تجویز دیتا ہوں،دھرنے کی تاریخ 31 مئی کر دی جائے۔

چنانچہ ۔ کثرتِ رائے سے دھرنے کی تاریخ 31 مئی 2021 کر دی گئی ۔

31 مئی کا دن ہمیں بتائے گا کہ 31 مئی کے دھرنے کی کشش نے کتنے ستاروں کو سی ای سی کے ممبران نے اپنی جھولی میں بھر لیا ۔
وہ جہاز جس کی سمت ، یو ٹیوب ، فیس بُک ، انسٹا گرام اور ٹیوٹر پر ، حسد اور الزامات سے موڑنے کی پوری کوشش کی گئی- سنٹرل ایگزیکٹو کونسل   کے ممبران نے اپنی پوری دیانت داری ، لگن اور دن رات کی کاوشوں  سے  ، اُس کی پتوار کو قابو میں رکھ کر   ، سمت اُسی جانب رکھی   اب وہ انشاء اللہ  اپنے منزل پر پہنچنے والا ہے ۔ 

 میں سیکریٹری جنرل۔ سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبران کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اُن کی کاوشوں سے بالآخر حالات کے مدو جزر کا مقابلہ کرنے کے بعد ،اسلام آباد میں 31 مئی 2021 کو ہونے والے ۔ پنشنرز کے عظیم الشان اجتما عی دھرنے کے لئے ۔ حیدر آباد سے ، حیدرآبا ڈویژن کے متحرّک صدر ۔ سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبر اور کواڑڈینیٹرصوبہءِ سندھ ،جناب بشیر احمد بلوچ کی روانگی نے ، آپا کے ممبران اور دیگر پنشنرز ایسوشی ایشن کے لیڈران کو یہ یقین دلوادیا کہ ،

آل پاکستان ایسوسی ایشن نے حکومت کو، یہ  احساس دلائے گی کہ  31 مئی کادن پنشنرز کی امنگوں کے مطابق ، پنشنرز کی پنشن میں اضافہ کروانے کے لئے ایک نہایت اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ۔ 

کیوں کے :
پہلا قافلہ : جناب بشیر احمد بلوچ صاحب جمعہ المبارک کی قیادت میں شام راولپنڈی پہنچ چکا ہے

دوسرا قافلہ جناب ولی خان کی قیادت میں خیبر پختون خواہ سے شام 30 مئی کو پہنچے گا ۔

تیسرا قافلہ ۔ جناب حیدر علی خان ، چیئرمین آڈیٹر ایسوسی ایشن  خیبر پختون خواہ   کے پنشنرز کے ساتھ اسلام آباد پہنچ رہا ہے ۔

 چوتھا قافلہ : آل پاکستان ریٹائرڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر غفور علی بھٹی کی قیادت میں اسلام آباد پہنچے گا ۔ 

پانچواں قافلہ : شیخوپورہ  سے بسوں میں   ضلعی کوارڈینٹر رانا محمد اشرف خان اور صدر پنشنرز چودھری محمد الیاس کمبوہ ضلع شیخوپورہ کی قیادت میں اسلام آباد  پہنچے گا ۔

اسلام آباد سے 4 سے 5 گھنٹوں کی مسافت پر رہنے والے پنشنرز قافلوں کی صورت میں ھائیڈ پارک پہنچنے کے لئے 31 مئی کی صبح ۔تمام پنشنر تنظیموں کے عہدیداران بسوں اور ٹرین پر راولپنڈی پہنچ رہے ہیں ۔
جناب ڈاکٹر صغیرعالم سیاب عباسی ۔ اپنی تنظیم کے تمام ممبران کے ساتھ 31 مئی کے دھرنے میں شامل ہو رہے ہیں ۔ 

میں بطور سیکریٹری جنرل ۔ اُن تمام میڈیا کوارڈینیٹرز  کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، جن میں سر فہرست :

جناب یعقوب گُل چیف میڈیا کوآرڈینیٹر  آڈیٹر ایسوسی ایشن پاکستان ۔

  جناب شیخ محمد علیم سینئر آڈیٹر ۔ پاکستان پنشنرز بینیفٹ گروپ
اور دیگر پنشنرز دوست جنہوں نے اپنی پوسٹ سے پنشنروں کے دل میں اپنا حق مانگنے کی امنگ جگائی اور اُنہیں احساس دلایا کہ اگر پنشنرز اپنے آرام دہ بستروں سے نکلیں اور اسلام آباد پہنچیں اور حکومت سے اپنا حق مانگیں۔
غرض کہ پنشنرز کا ایک سیلاب ہے جو حکومت کےپنشنرز مخالف  دیواروں
٭- پنشنرز پاکستان کی معیشت پر ایک بوجھ ہیں ۔
٭-پنشن کو ختم کردیا جائے ۔
٭ -خزانے  سےنہ لی گئی  74 سالہ پنشن کو غبن کر لیا جائے۔
٭۔ پنشنرز کی لی جانے والی پنشن پر بھی ٹیکس لگایا جائے۔
٭۔پاروڈنٹ فنڈ ہضم کر لو ۔
٭- گروپ انشورنس کی رقم خرد برد کر لو ۔
٭- بناولنٹ فنڈ بغیر ڈکار کے پی جاؤ ۔ 
کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کرنے کے لئے بڑھا چلا آرہا ہے ۔
 
آ ل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن ۔ سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کےممبران کی انتھک  کوششوں سے پنشنر تنظیموں کے اتحاد کی فضاء 31 مئی کو پاکستان کے پنشنرز اور گلوبل ورلڈ  میں بسنے والے   پنشنرز دیکھیں گے ۔


اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو والسلام ۔
سیکریٹری جنرل ۔ میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

4 تبصرے:

  1. یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ بالآخر پنشنرز جاگ اٹھے اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے عملی قدم قدم اٹھانے کےلئے تیار ہوئے۔ میں ایسوسیشن کے عہدیداروں پر ایک بات واضح کردوں۔ کہ ہمارا واحد مقصد پنشنرز کی فلاح و بہبود ہے۔ ہم کسی صورت میں اس تنظیم کو دوسرے مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم آپ کے شانہ بشانہ اس جدوجہد میں عملی طور پر اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. سنٹرل ایگزیگتیو کمیٹی میں میرا نام شامل نہیں ہے جبکہ میں چیف میڈیا کواردینیٹر ہوں پلیز غور فرمائیں شکریہ یعقوب گل

    جواب دیںحذف کریں
  3. 2nd تاریخ 30 مئی کی جگہ 31 مئی 2021 کر کے درست کریں شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  4. اے جذبہ جنوں تو ہمت نا ہار
    جستجو جو کرے تو چھوئے آسمان۔

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔