میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 22 اپریل، 2020

کس کس نے دودھ پیا ہے اِس بوتل سے ؟

اِس چیز کو پہچانتے ہیں آپ ؟
یہ ہماری عمر اور ہمااری عمر کے بعد ہر بچے نے استعمال کی ، جب تک پلاسٹک کی بوتلیں ایجاد نہ ہو گئیں ۔
اِس پرمائیں  ایک موٹا سا کپڑا چڑھاتی تھیں، جس کی  دو وجوہات تھیں :
1- بچے کے دودھ پر نظر نہ لگے ۔
2- بوتل گر کر ٹوٹے نہ ۔

اِس کو دھونے کے دو طریقے تھے ۔تاکہ اندر کا جمی ہوئی ملائی بالکل صاف ہو جائے !
1- برش سے-
2- ریت سے ۔

اِس کے دو نپل ہوتے تھے :
 1- پینے والا-

 2- دودھ گرنے سے بچانے کے لئے بند کرنے والا ۔ 
نپل دودھ کی وجہ سے پھول کر نرم ہوجاتا ، تو بچہ دانت نکلتے وقت چبا کر کاٹ دیتا-
 اور ہاں نپل میں سوراخ نہیں ہوتا تھا ، رضائی سینے والی سوئی کو گرم کر کے سوراخ کیا جاتا تھا ۔
 کیوں سب ٹھیک ہے نا ؟
نوجوانو !
کچھ یاد آیا ؟

٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 15 اپریل، 2020

کرونا - پھیپھڑوں کی بیماری

وٹس ایپ پر  انگلش ملی ایک خبر جس کا ترجمہ حاضرہے (مہاجرزادہ) :
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 پچھلے ہفتے ، ایک 35 سالہ مردہ خاتون ، جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل کالج  کراچی میں لائی گئی ۔ 

ڈویوٹی پر موجود ڈاکٹر نے خاتون کا ایکسرے لینے کا سوچا کیوں کہ ، کئی دنوں سے مردہ یا عنقریب مرنے والے مریض ہسپتال میں لائے جا رہے ہیں ۔
ڈاکٹر نے جب مردہ خاتون کا ایکسرے کروایا ، تو اُس کے پھیپڑوں میں بڑا سا دھبّہ نظر آیا ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ خاتون سانس کے نظام کی بیماری میں مبتلاء تھی ۔
چنانچہ ڈیوٹی ڈاکٹر نے اِس  خاتون کا ایکسرے مزید تشخیص کے لئے سانس کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر کے پاس بھجوایا - جو  کرونا  (
COVID-19) کی تشخیص کا ماہر ہے اور ایسے کیسز کو دیکھ رہا ہے ۔
ماہر ڈاکٹر نے بھی وہی رائے دی جس کا مجھے خوف تھا ، یعنی یہ کرونا نمونیا کا کیس  تھا - جس میں مردہ خاتون کے پھیپھڑے پانی سے بھر چکے تھے  ۔ اور ایسے  300 سے زائد کیسز مختلف جگہوں سے ہسپتال لائے گئے تھے ،  جو نہایت بیمار تھے اور پچھلے 15 دنوں میں مر چکے تھے یا مرنے والے تھے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اپنے کورس میٹ ، ڈاکٹر اقبال برکی کو یہ بھیجا ، اُس کے مطابق:
کیس کا تو مجھے معلوم نہیں لیکن   ، ڈاکٹر کے بیان کے مطابق یہ

کرونا  (COVID-19) کا ہی کیس لگتا ہے ۔ کیوں کہ کرونا پھیپڑوں میں نمونیا کی سی صورت حال پیدا کر دیتا ہے ، اور پھیپڑوں میں زخم  (Pulmonary fibrosis)پیدا ہو جاتے ہیں  - جن سے موت واقع ہو جاتی ہے - میری رائے میں ڈاکٹر کی رپورٹ  صحیح ہے ۔ 
ایک اور ڈاکٹر کی رائے میں :
پھپھڑوں میں زخم پڑجانے کی وجہ سے ، پھیپھڑوں کی وجہ سے خون میں شامل ہونے والی آکسیجن کم ہو جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے   مائیو کار ڈائیٹک  (
Myocarditis) ،یعنی دل کے مسلز کا سوج جانا    اور بغیر سابقہ ہسٹری کے دل کا دورہ پڑتا ہے ، اگر ایسا مریض جس کے پھپھڑوں میں زخم پر جائیں اور وہ  ویٹی لیٹر پر چلا جائے  ، تو 80 فیصد مریض  فوت ہو جاتے ہیں ، امریکہ جیسے ملک میں  یہی ہو رہا ہے ۔
لہذا کرونا وائرس کا واحد حل خود کو وائرس لگنے سے بچانا ہے ۔ کیوں کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز کے بارے میں آپ خبریں سن چکے ہیں ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوستو!
جو پاکستانی ، کرونا کو معمولی بیماری سمجھ رہے ہیں ، اُنہیں تھوڑا سوچنا چاھئیے ۔اور پوری احتیاط کرنا چاہیئے کہ بے احتیاطی کے سبب اُن سے اُن کے پیاروں کو یہ موذی مرض نہ چمٹے ۔

.٭٭٭٭٭٭٭
 پچھلا مضمون : کرونا وائرس ، چین اور گلوبل گاؤں ۔


ہفتہ، 11 اپریل، 2020

شگفتگو - کیا کیا مچی ہیں یارو، "اوہام" کی بہاریں - حبیبہ طلعت

ہم سب ہی جانتے ہیں کہ وہم کسے کہتے ہیں۔۔ جی ہاں یہ ایک بیماری ہے وہ بھی پین ڈیمک ، جس کا علاج گذرے وقتوں میں حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔ وہم کو اصطلاح میں Obsessive Compulsive Disorder المختصر OCDکا نام دیا گیا ہے۔ 
خیال رہے خوف اور گھبراہٹ جبلت میں شامل ہے ۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میں عام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہوجائیں یا بہت عرصے تک رہیں تو یہ ہمیں ان کاموں سے روک سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے سو ہر طرف یہی ہورہا ہے ۔
 چراغ حسن حسرت ایک مضمون میں بھینس کی عزت افزائی کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ ملا روز بھینس کو شعر سناتے سناتے خود شاعر بن گئے۔ مگر اب تک ان کی بھینس سوز عشق سے بالکل خالی ہے لیکن یہاں ایسا ہے نہیں یہاں سوز عشق بھی وافر ہے اور جذبہء جہاد بھی، بس نہیں ہے تو علم اور تحقیق کی اجازت نہیں ہے مبادا کہ بھینس کے بجائے سوچنے سمجھنے والے انسان نہ پیدا ہونے لگیں۔
 ایک نامعلوم شاعر کا معلوم شعر پیش کیے دیتے ہیں،
 حیرت نہ کیجیے یہ اصول تضاد ہے
 دھوکہ ہے وہیں پہ جہاں اعتبار ہے 
اسمارٹ فونز ایک عمدہ ایجاد ہیں آواز پلس تصاویر کا تال میل بہت کارآمد شے ہے۔ اگر آپ ایک عدد فیس بک آکاونٹ کے حامل ہیں۔ لکھنے لکھانے کا شغل بھی ہے۔ اچھی بات یے مگر لازم نہیں کہ آپ مشہور ہوسکیں، اس کے لیے دیگر معروف زرائع زیادہ قابل بھروسہ ہیں۔۔ پی آر یا پیار بڑھانے کے ضمن میں واٹس ایپ گروپ بہت فعال ہیں۔ چونکہ ہر بات کا دوسرا پہلو بھی ہوا کرتا ہے چنانچہ یہاں اس فائدے سےکچھ نقصان پر بھی روشنی ڈالی جا سکتی ہے کہ معاملہ ہے واٹس ایپ گروپس کا ۔۔۔۔اب نیا زمانہ ہے جب دو چار لوگ ہمیں تحریر سے اور زیادہ تر لوگ ہمیں فون نمبر سے بخوبی پہچانتے ہیں سو اسی ڈوری سے باندھ کر نت نئے گروپس میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ مانا کہ یہ بھی مشہور ہونے کی نشانی ہے اور واقعہ ہے بھی زمانہ مابعد جدیدیت کا سو جدیدیت سے ہمیں اتنا علاقہ لازم ٹھہرا۔ 
حالیہ وبائی دنوں میں قوم نے کورونا سے بچنے اور بچانے کے لیے بھی واٹس ایپ گروپس تشکیل دئیے تھے ۔جن میں سے پچھلے ھفتے ہم نے دو مجبورا  "لیو " کر دئیے تھے۔ ایک وجہ تو تھی کہ ہم کورونا تو کیا دل بند ہونے سے بھی نہیں مرنا چاہتے تھے۔ بلکہ موت سے پہلے مرنا کس کافر کو ہے۔ خون آلود تصاویر، لاشوں کی ویڈیوز اور ایسی ہی بھیانک ویڈیوز جن کی تصدیق کی ضرورت بھی نہیں سمجھی جاتی ہے۔ دراصل یہ سب باتیں تو بات برائے بات بیچ میں آگئی ہیں۔ جو کہ ہمارے اصلی اور کھرے پاکستانی ہونے کی پکی دلیل ہے۔
 دوسری بات جو کہنا ہے وہ یہ ہے بھئی کورونا ایک وبا ہے بہت خوفناک۔۔ عالم بھر میں دہشت پھیل چکی ہے۔ لاک ڈاون جاری ہے، ضروری ساز و سامان کی کمی ہے اور خدانخواستہ خوراک کی قلت کا اندیشہ بھی درپیش ہے ایسے میں زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اور اہل خانہ کے واسطے ہوش و حواس سلامت رہیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ مالک کون و مکاں کے آگے سر بسجدہ ہو کر دعا اور استغفار لازم کرلیا جائے۔ ویسے تو وبا کے دنوں میں مرنا بھی شہادت ہے لیکن کوشش یہی ہو کہ غازی کی زندگی گزاری جائے۔ 
دوسرا گروپ جہاں مباحثے سے زیادہ جھگڑے چلتے ہیں معلومات دی نہیں بلکہ ٹھونسی جاتی ہیں۔ قیامت سے قبل قیامتیں برپا کرنے کے شوقین مسلمانوں کے درمیاں جاری کفر و اسلام کی جنگوں سے ہمیں کنارہ کش ہونا پڑا۔۔۔ کچھ مجبورا امید، آس اور دعا کا سہارا تھاما اور خوف و ہراس سے بچنے کو گروپ لیو کر دیا۔۔
 کبھی بہت دل کرتا ہے کہ کہیں پڑھا گیا مولانا قاسم نانوتوی کا واقعہ ان مسلمین کے گوش گذار کیا جائے کہ ان کا ایک شاگرد بہت ذہین تھا بس اسے بھی ایک وہم لاحق ہوگیا تھا کہ اسکا سر ہی نہیں ہے۔ حضرت کو پتا چلا تو آپ نے شاگرد کو بلا کر پوچھا،
 کیوں بھائی تمہارا سر ہے؟
 شاگرد نے جواب دیا نہیں جی میرا تو سر ہی نہیں رہا۔ 
یہ سنتے ہی حضرت نے جوتے سے اس کے سر پر برسات کردی، اب جو جوتے پڑے تو شاگرد چیخنے لگا استاد جی چوٹ لگ رہی ہے۔ 
مولانا نے پوچھا،"  کہاں لگ رہی ہے؟"
استاد جی چوٹ لگ رہی ہے ۔۔
مولانا نے پوچھا ،" کہاں لگ رہی ہے۔۔ 
وہ بولا سر پر ۔
 آپ نے فرمایا ۔" تمہارا تو سر ہی نہیں ہے"۔
 وہ بولا ،"ہے سر ہے مجھے معلوم ہوگیا میرا سر ہے"۔
 اس طرح وہم کا علاج ہوا اور شاگرد کا وہم جاتا رہا۔۔۔
دیکھیے ہم سے حوالہ نہ طلب کیجیے گا ابھی ہی بتایا ہے آپ سب کو کہ ہم سچے اور کھرے پاکستانی ہیں۔ الحمد اللہ بھئی یہ وبا ہے بیماری ہے یا سازش ۔ان سازشی تھیوری پر یقین کرکے تو حوصلے ہی جواب دے جاتے ہیں جب یہ میسیج بھی دیکھنے کو ملے کہ " بھئی آپ کی طرف بارش ہوئی ؟" بڑے جوش سے جواب بھیج دیا گیا " جی ہاں الحمد اللہ یہاں بھی بارش ہوئی ہے " فورا سے یہ دوستانہ لہجہ درشت ہوکر ڈانٹنے تک آجاتا ہے " کیا مطلب؟ الحمد اللہ؟ آپ کو معلوم ہے اپریل چل رہا ہے ایسے میں بارش بس فورا استغفار پڑھیے" ۔۔ ہم نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا " کیا بارش باران رحمت نہیں یے؟ " " ہے مگر اب کی نہیں یہ وہ بارش ہے جس کا قوم کو احساس ہی نہیں ہے، تمام فصلیں تباہ ہونے کو ہیں۔ یہ سب harrp کی سازش ہے وہ موسموں کو کنٹرول کرکے آپ کے تمام وسائل برباد کرنے کو ہیں اور جب رفتہ رفتہ خوراک ناپید ہوجائے گی تب تمام حکومتیں اور انسان ان کی شرائط پر جینے کو تیار ہوں گے۔ اور یہی عالمی حکومت کا ایجنڈا ہے۔
" ہمارا منہ حیرت سے جو کھلا تو کھلا ہی رہا ۔۔کچھ بات نہ بن پڑی کہ ایک اور فائر کھول دیا گیا۔ "اس موسم میں جب گندم کی فصل پک کر تیار ہے ٹھنڈی تیز ہوا بارش اللہ کا عذاب ہے، کسان سے پوچھئے اسکے دل پر کیا گزرتی ہے؟ توبہ استغفار کرنے کی بجائے بنی اسرائیل کی طرح یہ قوم پکوڑے سموسے کھا کر عذاب انجوائے کر رہی  ہے۔ 
ایک تو کروانا کا عذاب دوسرے جب فصل تباہ ہوگی۔ اس کے بعد خدانخواستہ لاکھوں بھوک سے مریں گے۔" . اب ہمارے ذہن میں زور دار جھماکے ہونے لگے۔۔۔ ہم کس منہ سے بتاتے کہ ابھی چار روز قبل ہی ۔۔جب دال سبزی سے منہ کا ذائقہ بگڑ چلا تھا ہم نے بھی عذاب کو انجوائے کیا تھا اور وہ بھی انہی پکوڑوں سے۔۔ جی ہاں یہی وہ موذی پکوڑے تھے جن کو کھانے کے ہم سزاوار ٹھہرے تھے۔ ساتھ تین طرح کی چٹنیاں بھی بنائی تھیں۔ کراچی کی باقیات کے طور پر پودینے کی مرچیلی چٹنی، لاہور سکونت کی یادگار کے طور پر دہی کا رائٹہ اور فاسٹ فوڈ جنریشن یعنی بچوں کا من پسند کھاجا ٹماٹو کیچپ بھی ہمراہ تھا۔۔
 اب بات اسراف کی حدود سے کہیں بڑھ کر عذاب تک آچلی تھی مگر اب کف افسوس ملنے سے کیا حاصل۔۔ چڑیاں چک گئیں کھیت۔ اب شام اور تمام شب، استغفار کی تسبیح ہی پھرولتے گذری۔۔۔ 
بات عذاب کی ہے تو یکسوئی ناممکن۔۔۔ 
کہ کبھی تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ بدنام زمانہ کے جی بی اور خاد کے سربراہان نے اپنی چار سو بیس صفحات کی رپورٹس پاکستانی فیس بکی مجاہدین کے ہاتھ رکھ کر ہمیشہ کے لیے توبہ تائب ہوگئے تھے۔ باقی رہی یہودی تو یہ وہ نابکار قوم ہے جو برسوں سے دنیا کے سب وسائل پہ قابض ہونے اور انسانوں کو اپنے زیر نگین کرنے کے چکر میں ہے۔ اس سلسلے میں ہی انہوں نے یہ جرثومہ نما وبا پھیلائی ہے تاکہ غریب، اور زائد عمر کے بیکار انسان جلد یہ دنیا چھوڑ جائیں اور وہ نوجوانوں کو قبضے میں لے کر اپنی عالمی حکومت قائم کر سکے۔ دیکھا۔۔۔! دیکھا آپ کے ذہنوں میں بھی وہی سوال آیا ہے جو کہ ہمارے دل کو بھی مضطرب کر دیتا ہے کہ یہودی اتنا کچھ کر رہے ہیں تو مسلمان؟ مسلمان کہاں ہے؟؟ ہم بھی تو یہی پوچھتے ہیں کہ مسلم کہاں ہیں؟ 
بھئی ان میں سے کچھ کو اپنی مرضی سے قیامت لانے کی پڑی ہے باقی کچھ کو ان داستانوں، حکایتوں پر ایمان لانے کی مت پوچھیے اس حساس دل پر کیا قیامت گزر جاتی ہے۔۔۔
 شائد یہ بھی کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے بلکہ کہنے دیجیے کہ اسی کم ایمانی یا بدایمانی نے ہم کو ڈبویا ہے۔ ہمارا روایتی جہل ہمیں بالعموم تصویر کا خوش فہمی والا رخ ہی دکھاتا ہے۔ جب تک آفت دوسروں پر گزر رہی تھی تو ہم بغلیں بجا بجا کر کافروں اور لادینوں پر عذاب آنے کا فتویٰ لگا رہے تھے۔
 ایران پر افتاد پڑی تو شیعہ دشمنی وجد میں آ گئی۔ سعودی عرب زد میں آیا تو وہابی دشمنی رقصاں ہو گئی۔ اب جب گھر میں آگ لگی ہے تو قیامت آنے کی دہائیاں دے رہے ہیں۔ ان احمقوں کی جنت میں رہنے والوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ ابھی سو سوا سو برس پہلے برطانوی ہند پر، جس کی آبادی اس وقت 35 کروڑ تھی، طاعون اور ہیضے کی ایسی قیامتیں گزر گئی تھیں جن میں ایک کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ افراد جان سے گزر گئے تھے۔ اگر اس وقت قیامت نہیں آئی تو اب کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں اس وبا میں؟
 ان سب بے ربط سی باتوں کے بعد ایک واقعہ پر سب باتیں مکا دیتے ہیں حمید اختر، فیض سے متعلق یاداشتوں میں بیان کرتے ہیں کہ ایک رات امروز کے نیوز روم میں آئے، گفتگو کے بعد شفٹ انچارج سے سرسری انداز میں پوچھا" آج کی لیڈ( صفحہ اول کی پہلی اور بڑی خبر) کیا ہے؟ بتایا گیا کہ کوریا سے متعلق کوئی خبر ہے۔ اپنی مشہور لمبی ہوں کہہ کر چل دئیے۔ دروازے کے پاس جا کر مڑے اور کہا، "بھئی کبھی اپنا اخبار پاکستان سے بھی نکال لیا کرو" فیض تو یہ کہہ کر چکے گئے مگر رات کی شفٹ والوں کی حالت دیدنی تھی اسکے بعد مقامی خبروں پر زیادہ توجہ دی جانے لگی۔
(حبیبہ طلعت)
٭٭٭٭٭٭

مورخہ 11 اپریل، بزم زعفرانی کی بیسویں مگر مواصلاتی پیشکش کے اعتبار سے پہلی نشست میں پڑھا گیا  

٭٭٭٭٭واپس  ٭٭٭٭٭

شگفتگو -آصف اکبر مایوس

آصف اکبر -- رنگِ مزاح (نثر)
------------------------
(یہ مضمون بزم مناثرہ، عرف شگفتو کی 11، اپریل 2020 کو آن لائن منعقد ہونے والی 20ویں مزاحیہ نثر کی محفل میں نہیں پڑھا گیا۔ نیٹ پرابلم۔)
------------------------
آصف اکبر مایوس
(تحریر بھی آصف اکبر کی)
--------------
یہ نہ سمجھیے گا کہ مایوس آصف اکبر کا پوشیدہ تخلّص ہے۔ہاہاہاہا۔
پوشیدہ سے گندے اذہان فوراً کس طرف جاتے ہیں، یہ بات ان سطور کو لکھتے وقت بھی ہمارے پاکیزہ ذہن میں ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ گاہے گاہے اردو زبان کی کم مائیگی کے شواہد سامنے آتے ہیں۔ ہے نا حیرت کی بات کہ وہ زبان جس نے پالی اور کھڑی بولی اور سنسکرت سے خمیر لیا اور عربی، فارسی، ترکی، انگریزی، پرتگالی اور بہت سی دیگر زبانوں سے الفاظ شیرِ مادر کی طرح ہڑپ کیے، اس اردو زبان میں انگریزی لفظ 'انوزیبل' کا ہم معنی کوئی لفظ نہیں۔ کئی لغات دیکھ لیں۔ بابائے اردو نے بھی اس کا ترجمہ غیر مرئی، غائب، خفیف اور غیر محسوس کیا ہے۔ بعض جگہوں پر پوشیدہ بھی لکھا ہوا ہے۔ اب غیر مرئی اگرچہ عربی زبان میں یہی معنی رکھتا ہے مگر اردو میں اس کا مفہوم کچھ اور ہی بنتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی یہ کہے کہ اس سپر اسٹور میں غیر مرئی محافظ ہر شخص پر نظر رکھتے ہیں تو سننے والے پریشان ہو کر بھاگ نکلیں گے۔ ہم نے اس جملے کو 'ری فرے ز' کرنا چاہا تو پتا چلا کہ اس کے لیے بھی اردو میں کوئی لفظ نہیں۔ لغت کہتی ہے دوبارہ فقرات بنانا؛ مُختلف الفاظ میں لِکھنا یا ادا کرنا ؛ مکرّر لِکھنا ۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے۔
بہرحال ہم نے چاہا کہ اس جملے کو برنگ دگر لکھیں تو نادیدہ، ناقابلِ دید، دکھائی نہ دینے والا، نظر نہ آنے والا، غیر منظور، نادیدنی جیسے الفاظ سامنے آئے۔ تو چلیے آسان الفاظ میں یوں کہہ لیتے ہیں کہ یہ نہ سمجھیے گا کہ مایوس آصف اکبر کا نظر نہ آنے والا تخلّص ہے، یہ دراصل ہماری ایک عارضی کیفیت ہے جس کے زیر اثر یہ خود خاکہ نویسی کا شاہکار وجود میں آ رہا ہے، ایک ایسا فن جو یقیناً ہم پر شروع ہو کر ہم پر ہی ختم ہو جائے گا۔
سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو مزاح کی ہر محفل میں ایک دو ،خاکے سننے میں آتے ہیں۔ کبھی محترم ڈاکٹر عزیز فیصل خاکہ نویسی پر مائل ہوتے ہیں تو کبھی عزیزم عارف۔ مگر ایسے حضرات کی نگاہیں ہمیشہ بلندی پر ہی رہتی ہیں، خاک نشینوں تک آتی ہی نہیں ۔ بلکہ کچھ کی نگاہیں تو مضمون پڑھتے ہوئے بھی بلندی پر رہتی ہیں۔ ایسے لوگ شاید مضمون زبانی یاد کر کے آتے ہیں، یا ممکن ہے فی البدیہہ کہتے ہوں۔
اس سے قبل ہمارے لنگوٹیا دوست احمد حاطب صدیقی بھی خاکوں کی ایک کتاب لکھ چکے ہیں جو بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب کی حیثیت دو دھاری ہے۔ ایک طرف تو اس نے بہت سے غیر مرئی اشخاص کو قابلِ خاکہ گردی بنا دیا۔ دوسری طرف اس نے خاکہ نگاری کے فن کو بھی نئی جہتیں عطا کیں اور یہ واضح کیا کہ کسی کا خاکہ لکھنے کے لیے آپ کا کسی شخص سے زیادہ واقف ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ کسی کو ایک بار ایئرپورٹ لینے چلے جائیں تو اس کا بھی خاکہ لکھ سکتے ہیں۔ مگر انہوں نے بھی اس خاک نشیں کو اس قابل نہیں جانا کہ اس کا خاکہ اڑایا جائے۔ بہرحال ہم بھی دو چار ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھر کر شانت ہو گئے کہ
خاکہ ہے اسی کا حق جو خاک سے بچتا ہو
ہم خاک نشینوں پر کیا خاک لکھے کوئی
پھر بھی ، یہ سوچ کر ہم اس بات سے کہ کبھی ہمارا بھی خاکہ لکھا جائے ، اس قدر مایوس ہوئے کہ سوچا اپنا نام ہی آصف اکبر مایوس رکھ لیں۔ ویسے ابتدائے شاعری میں ہم نے کئی تخلص سوچے بلکہ کچھ عرصہ باغی بطور تخلص استعمال بھی کیا، ہرچند کہ باغ کی رعایت سے تھا۔ مگر مایوس کے بارے میں کبھی سوچا تک نہیں۔
پھر تجلی کا ورود ہوا۔ سوچا ہم بھی تو صاحبِ قلم ہیں، اور اقبال بھی نہیں ہیں کہ اپنے آپ سے آگاہ نہ ہوں، تو کیوں نہ اپنا خاکہ خود ہی لکھ لیں۔
اب یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ
قلم سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنّم بھی
یہ'خاکی' اپنی خصلت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
جبکہ قلم سے مراد خاکہ نگار کا قلم اور خاکی سے مراد مخکوک فرد ہے۔ یہ بات اور بھی اپنے آپ کو منواتی ہے جب آپ ممتاز فریق، معاف کیجیے گا ممتاز رفیق کی لکھی ہوئی خاکوں کی کتاب کی 'روگردانی' کر رہے ہوں، کیونکہ تصویر خانے کی ورق گردانی تو ہو نہیں سکتی۔
بہرحال اس کتاب سے بھی کچھ باتیں سامنے آتی ہیں، جن میں سرِ فہرست یہ ہے کہ جس شخص کا بھی خاکہ لکھا جائے لازم ہے اسے خاک میں ملانے کی پوری پوری کوشش کی جائے، اور تہہ فہرست یہ ہے کہ یہ کام دوست بن کر کیا جائے۔
تو چلیے ہم عزیزم عارف کے انداز میں آصف اکبر کا تعارف کراتے ہیں۔
یہ شخص ایک اچھا شاعر ہے، مگر شاعر نہ ہوتا تو اور اچھا ہوتا۔
کہنے کو تو بڑا عالم فاضل نظر آتا ہے، مگر نہ کہنے کودراصل فاضل ہے۔
فیس بک پر پانچ ہزار کے لگ بھگ دوست رکھتا ہے، جن کے بارے میں بڑے فخر سے کہتا ہے کہ سب از خود اس کے دوست بنے ہیں، مگرحقیقی زندگی میں اس کا کوئی ایسا دوست نہیں، جس کے پاس جا کر بے تکلّفی سے کہہ سکے کہ میں کچھ دن تمہارے پاس رہوں گا۔
خود کو الفاظ کا بادشاہ سمجھتا ہے، اور ہو سکتا ہے ہو بھی، مگر یہ بادشاہت برطانیہ کی آئینی بادشاہت جیسی ہی ہوگی ۔
دنیا کے کسی کام کو مشکل نہیں سمجھتا، مگر کسی بھی کام کو پایہِ تکمیل تک پہنچانا کسرِ شان سمجھتا ہے۔
اپنے بارے میں اس کا خیال ہے کہ بہت مضبوط قوّت ارادی کا مالک ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کبھی، ایک بار بھی سگریٹ چھوڑنے پر قادر نہیں ہو سکا۔ چھوڑنا تو بہت دور کی بات ہے ابھی تک شروع بھی نہیں کر سکا۔
گھر کا کام کاج کرنے کا بہت شوقین ہے، مگر صرف وہی کام کرنا چاہتا ہے جو محنت طلب نہ ہوں۔ اور اتّفاق سے ایسا کوئی کام ہوتا ہی نہیں۔
اس کے پسندیدہ مشغلے دو ہیں، بشرطیکہ آٹا گوندھنا اور روٹی پکانا دو الگ الگ شوق سمجھے جائیں۔ مگر عرصے سے اس نے دونوں مشغلے ترک کر دیے ہیں۔
اس کا خیال ہے ، ہر اہم شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ کتابیں لکھے۔ بقول اس کے جو شخص بغیر کتاب لکھے مر جاتا ہے، وہ لاولد مرتا ہے۔ مگر خود اس نے آج تک اپنی کوئی کتاب شائع نہیں کی۔
مسکراتا ہے تو لگتا ہے جیسے ہنسی ضبط کر رہا ہو، مگر اپنی دانست میں اسے شرارت آمیز مسکراہٹ سمجھتا ہے۔
ہنستا ہےتو لگتا ہے ضبط کا قتلِ عام کر رہا ہے، مگر ہنستا بہت کم ہے۔ بالعموم ہنسی شروع ہوتے ہی قہقہے میں بدل جاتی ہے، اور قہقہے فلک شگاف ہوتے ہیں۔
قہقہے اس کی شناخت ہیں، مگر شناختی کارڈ میں یہ شناخت نامعلوم وجوہ سے درج نہیں۔
بچّوں میں بچّہ بننے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، مگر بچّے ایسے بوڑھے بچّے کو بچّہ ماننے کو تیّار نہیں ہوتے۔
بوڑھوں میں ایسا بوڑھا بنتا ہے کہ بڑے بوڑھے بھی اسے انکل کہنے لگتے ہیں۔ مگر انکل کہنے سے بہت برا مانتا ہے، اور کبھی کبھی تو دانتا کل کل شروع کر دیتا ہے۔
اسکا بچپنا ابھی تک گیا نہیں ہے، مگر جوانی لگتا ہے کبھی آئی ہی نہیں ،اور یہ لڑکپن سے براہِ راست بڑھاپے میں داخل ہو گیا۔
اس کے کئی روپ ہیں مگر ہر روپ بہروپ نظر آتا ہے۔
کبھی یہ استاد کے روپ میں نظر آتا ہے اور کبھی طالب علم کے۔
کبھی یہ مفکّر نظر آتا ہے تو کبھی مورّخ۔
تاریخ نویسی کا اسے بہت شوق بھی ہےاور مہارت بھی حاصل ہے۔ ہر قسم کی دستاویزات پر تاریخ بالکل درست لکھتا ہے۔
مطالعے کا بچپن سے شوقین ہے۔اب بھی مطالعے سے پیٹ بھرنا پسند کرتا ہے۔ مگر مطلع لکھنا اس کی جان کو آتا ہے۔
بات بہت فلسفیانہ انداز میں کرتا ہے، مگر فلسفے سے بالکل ناواقف ہے۔ عام آدمی اس کے اس روپ سے بہت متاثّر ہوتا ہے، اور خاص آدمی،
خاص آدمی اسے گھاس بھی نہیں ڈالتا۔ ویسے اسے گھاس میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں ہے۔
کبھی یہ مسخرہ بن جاتا ہے اور مزاحیہ نثر لکھنے لگتا ہے تو کبھی افسانہ لکھ کر لوگوں کو رلا دیتا ہے۔
کھانا اس قدر کم کھاتا ہے جیسے صرف سونگھتا ہو۔ اس کے باوجودچاق و چوبند نظر آتا ہے۔
گانا گانے کی حسرت لیے پھرتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ملتا۔ انگور کھٹّے ہونے کے مصداق کہتا ہے کہ اگر میری آواز اچھی ہوتی تو میں صرف گلوکار بن کر رہ جاتا، اور کچھ نہ بن پاتا۔ ویسے پھر بھی کچھ بن نہیں پایا۔
ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، مگر شاید زیادہ کوٹے جانے کی وجہ سے کرچی کرچی ہو گئی ہے۔
تقریر کرنے کا لڑکپن سے شوق تھا۔ نوجوانی میں خود کو اچھا مقرّر سمجھتا تھا، مگر اب صرف خاموشی کے فوائد پر تقریریں کرتا ہے۔
فون کرنے سے اس کی جان جاتی ہے۔ خط لکھنا اسے سخت ناپسند ہے۔ مگر کبھی کبھی گھنٹوں فون پر باتیں کرتا ہے۔
سوائے کھانا وقت پر کھانے کے، باقی ہر چیز وقت کی پابندی کے ساتھ کرنے کا قائل ہے۔
کبھی کبھی کھانا کھانا ہی بھول جاتا ہے۔ پھر کہتا ہے پتا نہیں آج اتنی بھوک کیوں لگ رہی ہے۔
یادداشت بچپن میں بہت تیز تھی۔ اپنا نام تک کبھی نہیں بھولتا تھا۔ لیکن شاید یادداشت کا سارا ذخیرہ بچپن میں ہی خرچ کر دیا۔ کئی سالوں سے ہر چیز بھولنے پر قادر ہے ، اور اس کئی کا دائرہ نصف زندگی سے زیادہ پر محیط ہے۔ حد یہ کہ کینیڈا کے جس شہر میں دو ماہ رہ کر آیا، اس کا نام بھول چکا ہے۔ مگر ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے مصر ہے کہ وہ نام اپنی ناقابلِ رشک یادداشت میں سے ہی برآمد کرے گا، غیر کی مدد نہیں لے گا۔
راتوں کو بہت دیر تک جاگنے کا شوقین ہے۔ سنا ہے ایک پرندہ اپنے پٹھّوں کو، جب وہ رات سوتے نہیں ہیں، کہتا ہے کہ کیا اس کی طرح جاگ رہے ہو۔
اپنے آپ کو روایت شکن کہتا ہے، مگر روایات بنانے کا بھی بہت شوقین ہے۔
بہرحال جیسا بھی ہے، اسی کو غنیمت جانیے، اور دعا کیجیے کہ مزید نہ بگڑے۔
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

شگفتگو - کرونا سے ڈرا کاکو

  "کرونا" سے ڈرا "کاکو" عمر کی مناسبت قد چھوٹا ہے اس لیے اب تک "کاکو" ہے _مخاطب کرنے والے بھی اسی عرف سے پکارتے ہیں _جب کہ میانوالی کے اس باسی کا کاغزی نام محمد سہیل ہے _سہیل فنکار آدمی ہے _یاد رہے یہ وہ فنکار نہیں جس کی تیزیاں دیکھ کر کہا جائے بھئی یہ تو بڑا فنکار شخص ہے _اس کی فنکاری تو ڈھولک نوازی ہے _ہمارے طائفے میں جو پاکستان آرمی کا بہترین طائفہ ہے میں پچھلے چھ سالوں سے اس خدمت پر مامور ہے _میانوالی کی نایاب مٹی میں پائے جانے والی خصلتیں بدرجہ اتم موجود ہیں _جوبن میں ہو تو بلا جھجھک اقرار بھی کر لیتا ہے _اسے اس بات کا بھرپور احساس بھی ہے کہ یہ ایک فنکار آدمی ہے _جسے چھوٹی عمر میں ہی اپنے کام میں بڑی حد تک مہارت حاصل ہے _کوئی بھی سبق ہو متعلقہ ماہرین سے لیتا ہے _اس بات کی گواہی اس کے ہاتھ کی صفائی دیتی ہے _خون میں گرمی ہونے کے سبب داڑھی مونچھ وقت سے کچھ پہلے ہی نمودار ہو گئیں تھیں _مونچھوں کو اس نے حفاظتی تدبیر کے طور پر چھوڑ رکھا ہے، داڑھی کو بہت کچھ سوچ کر نہیں چھوڑتا _اس کے باوجود دل نامراد اب تک بچہ ہے اور بہت کچا ہے _یوں تو ایسا پراعتماد ہے کہ فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے استادوں کی موجودگی بھی گھبراہٹ کا باعث نہیں بنتی _مگر فطرت کے کاموں میں ہلکی سی تبدیلی بھی محسوس کرئے تو ساری فن کاری دھری کی دھری رہ جاتی ہے _یہاں تک کہ بادل بھی اونچا گرجے تو بھاگ کر تسبیح نکال لیتا ہے _چند ماہ پہلے تک یہی صورتحال تھی مگر جب حالات معمول پر آ جاتے تو یہ بھی ہاتھ کی کاریگری بڑھانے میں جت جاتا _حالیہ تبدیلی جس کا نام ماہرین طب "کرونا" بتاتے ہیں نے تجدیدایمان پر مجبور کر دیا ہے اب ہاتھ کی صفائی صرف ڈھولک پر دیکھانے لگا ہے _یہ بھی باقی مسلمانانِ جہاں کی طرح شریعت کو معاش تک نہیں آنے دیتا _البتہ باقی فنکاریوں سے ہنوز تائب ہے _سکندر یونانی کے بعد کرونا وہ واحد فاتح عالم ہے جس نے انتہائی کم عمر میں کرہ ارض کو تسخیر کیا ہے _دعا ہے یونانی کی طرح اسے بھی جلد موت آئے _اب تو اچھے بھلے گناہ گار بھی ناصح بن کر وعظ دینے لگے ہیں _لکین کچھ زندہ دل اس خیال سے کہ اس وبا میں کیا خاک مسلماں ہوں گے اب بھی شیطانیت کا ہاتھ بٹانے میں مصروفکار ہیں یوں بھی خیر و شر کی رفاقت طویل ہی اتنی ہے یارانہ ٹوٹتے نہیں ٹوٹتا _کرونا نے ایسا رونا ڈالا ہے آدمی کسی کے گلے لگ کر چار آنسو بھی نہیں بہا سکتا _موت ایسی مارتا ہے کفنانے والے دفنانے سے قبل نہلانے کا تکلف ہی نہیں کرتے _بہادر شاہ ظفر تو خوش نصیب تھا جسے دیارغیر میں ہی سہی دو گز کفن نصیب ہوا تھا _کرونا کے مارے کو تو پلاسٹک میں شوارمے کی طرح پیک کیا جاتا ہے _لحد میں بھی اپنے اپنے ہاتھوں سے نہیں پرائے رسیوں کی مدد سے اتارتے ہیں _کرونا کی سلطنت قائم ہونے کے بعد جنازہ یوں ترک کر دیا گیا ہے جیسے کوئی عیاشی ہو _کوئی ایک غم ہوتا تو سہہ بھی لیتے مگر کرونا نے آخری دیدار سے بھی محروم کر دیا ہے _اب سات سمندر پار سے آنے والوں کا انتظار نہیں ہوتا، نہ پردیس میں دم دینے والوں کی خاک وہاں پہنچائی جاتی ہے جہاں سے اس کا خمیر اٹھا ہوتا ہے _اب نہ کسی مرنے والے کا کوئی محب یہ بین کرتا سنائی دیتا ہے کاش اس کی آئی مجھے آ جاتی _اب بیٹے بیٹیاں بھی اس خواہش سے دستبردار ہوگئے ہیں کہ ہم نہیں جانتے ہمیں بھی قبر میں ساتھ اتارا جائے _ انہیں خدشات کے خوفنظر ہی "کاکو" نے فنکاریوں کو محدود کر لیا ہے _اب فرض نماز تو کجا ساتھ قضا پڑھنا بھی نہیں بھولتا _ٹوپی کو سر پر ایسے جمایا ہے وہ سوتے ہوئے بھی نہیں اترتی _تسبیح ہاتھ کا حصہ ہو گئی ہے _جس سے دو ملاقاتیں ہیں اس سے بھی معافی کا طلب گار ہے _سلام لینے والے کو صرف جواب نہیں وعظ بھی دیتا ہے _اب چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں بہت خوش اور تھوڑے غم میں زیادہ دکھی ہو جاتا ہے _ان تبدیلیوں سے کاکو کی تصویر میں نئے خطوط ابھر آئے ہیںکیونکہ اس کا ہاتھ فلحال ان کاموں میں اتنا صاف نہیں ہے اس لیے کاکو تفریح کا سامان بن گیا ہے _خیر ہمیں کرونا کا احسان مند ہونا چاہیے _جس نے اہل جہاں کی آنکھیں آخری حد تک کھول دیں ہیں کہ بڑے میاں عدم آباد کا سفر تنتنہا ہی کرنا پڑے گا _اس واسطے وفا کے پیمان اسی سے باندھو جس سے اس مسافت کے اختتام پر ملاقات یقینی ہے _ 
(حسیب اسیر)
٭٭٭٭واپس ٭٭٭٭

 ٭٭٭٭٭

شگفتگو کی بیسویں وٹس ایپ محفل - فرام ہوم

ہوا کچھ یوں کہ کرونا آگیا، ہر طرف لاک ڈاؤن کی وبا پھیل گئی۔ دن رات چلنے والے چھوٹے بڑے دفتروں میں چھٹی کے جراثیم ایسے پھیلے کہ عمارتیں کی عمارتیں خالی ہو گئیں۔ کھانا اور نماز تک سے غافل لوگ گھروں میں ایسے قید ہوئے کہ اب سوشل میڈیا پر دوسروں کو روزے نماز کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔ پیسے پیسے کا وظیفہ کرنے والے ہر ایرے غیرے کو وظیفوں والی پوسٹیں بھیجتے پائے گئے۔
اِس وبائیہ ماحول میں ڈرتے ڈرتے ہم نے بیسویں مناثرے کا پروگرام بنانے کا سوچا۔ 
ابھی یہ سوچ مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر عزیز فیصل کی جانب سے کال آئی۔ خاصے فکر مند لگ رہے تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اِس بار کے مناثرے کے بارے میں پریشان ہیں۔ پوچھنے لگے، "اِس بار مناثرے کا کیا ہوگا؟"
میں نے فوراً جواب دیا،"مناثرہ فرام ہوم ہو گا اور ہو گا بھی وٹس ایپ پر شگفتگو کے گروپ میں!"
 پوچھنے لگے،"کیسے؟"
 اِس بار میں نے تین تجاویز پیش کیں، جن میں تحریر ٹائپ یا وائس ریکارڈنگ کی صورت میں پیش کرنے کا آپشن رکھا گیا، ویڈیو ریکارنگ یا ویڈیو کال کے آپشن بھی زیرِ غور آئے مگر یہ دونوں محدود ارکان کی نا رسائی کے سبب چھوڑ دیے گئے۔ خیر تمام معزز ارکان سے مشورے کے بعد تحریری صورت پر اتفاق ہوا۔
 11 اپریل 2010 بہ روز ہفتہ اور بہ وقت 3 بجے "مناثرہ فرام ہوم" ہونا طے پایا۔
اور پھر یوں ہوا کہ 11اپریل 2020 کو آخر تین بجے سب اپنے اپنے قرنطینائی ماحول میں لفظوں کے تیر و تفنگ تیار کر کے شگفتگو کے پہلے مناثرہ فرام ہوم کے لیے شگفتگو کے وٹس ایپ گروپ میں میں حاضر ہو گئے۔
 ڈاکٹر عزیز فیصل نے خوش آمدید کہا اور ایک دھڑلے دار خاکہ پیش کر دیا، خاکہ جناب سلمان باسط کا تھا۔ احباب نے داد و تحسین کے ساتھ تحریر، صاحبِ تحریر اور صاحبِ خاکہ کے بارے میں شگفتگو کی۔ 


کچھ ہی دیر میں حبیبہ طلعت نے اپنا وبائی انشائیہ"کیا کیا مچی ہیں یارو، اوہام کی بہاریں" پیش کیا ۔ اس پر بھی خاصی جملے بازی ہوئی۔

ابھی اِس تحریر کا خمار باقی تھا کہ حسیب اسیر نے "کورونا سے ڈرا کاکو" کے نام سے اپنے رفیقِ کار محمد سہیل کا خاکہ ارسال کیا۔ خاکے میں اُنہوں نے سہیل کی فنکاریوں کا تذکرہ بڑی فنکاری سے کیا۔
 یہاں سے مناثرے کی نظامت مجھ غریب مسافر یعنی عاطف مرزا کو سونپی گئی ۔ میں مطالبہء خاتونِ خانہ و بچگان کے" زیرِ کنٹرول" اچانک سر زمینِ سسرائیلی میں جا وارد ہواتھااور مناثرہ فرام سسرائیل کا عالمی ریکارڈ قائم کر رہا تھا ۔مجھے آتے ہی اختصار کی روایت کا اعلان کرنا پڑ گیا جس کے لیے فرہنگِ عاطفیہ سے چند اکھڑے اکھڑے اقتباسات شرارتی نثریوں کے عنوان سے صاحبانِ شگفتگو کے سامنے رکھے۔ ان جملوں پر یاروں نے تاک تاک کے جملے مارے ۔ جملوں کی چاند ماری جاری تھی کہ ویلا مُک گیا۔

اُس کے بعد سلمان باسط صاحب کی جانب سے شاہین کاظمی کے خاکے سے مقتبس تحریر "کاہنہ"احباب کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کی گئی۔خاکے میں دو شخصیات کے بارے میں قلم آرائی کے منتظر صاحبان کو پورے خاکے میں ایک شخصیت محترمہ شاہین کاظمی ہی نظر آئی جبکہ کسی کاہنہ نام کی خاتون کا کوئی تذکرہ نہیں آیا۔ قلتِ وقت کے سبب کسی نے سلمان صاحب سے پوچھا ہی نہیں کہ یہ کاہنہ کون تھی، خیر یہ سوال کورونا کے سبب اگلی نشست میں پوچھنےکے لیے چھوڑ دیا گیا۔


اِس تعارفی تحریر کے فوراً بعدشگفتگو کے نئی رکن محترمہ شاذیہ مفتی نے انتہائی ڈرامائی انداز سے ایک ڈرامائی عشق کا حال لکھ بھیجا۔ بھیجا فرائی ہو جاتا اگر اختتامیے میں عشق کا کھِدو نہ کھولا جاتا۔ محترمہ کی اِس تحریر سے متاثر ہو کر یار لوگوں نے ڈرامہ "دیوانگی" کا پوسٹر ضرور دیکھا ہو گا، اور خواتین ارکان نے یو ٹیوب پر ڈرامہ "دیوانگی" کھولا ضرور ہو گا۔

اِس ڈرامے سے نکلے ی تھے کہ ڈاکٹر فاخرہ نورین نے اختصار کے قلعے پر ایک طویل تحریر کا میزائل دے مارا۔یہ تحریر تھی اُن کے تازہ ترین معرکےپر، جس کا عنوان انہوں نے "عملوں بس کریں او یار" لکھا۔اِس تمام معرکے میں انہوں نے بھینس کو سوکن کا مقام دینےکی بھرپور کوشش کی اور جگ ہنسائی کی پروا کیے بغیر اپنے سرتاج زبیر صاحب کوبھینس دوہنے جیسے سوفیسٹی کیٹڈ کام سے روک دیا۔ قبلہ زبیرصاحب اِس ڈاکٹرانہ بھینس دشمنی پر آج تک تحیر کا شکار ہیں۔
 قارئینِ کرام ابھی معاشقہء بھینس کے احوال سے نکلے ہی تھے کہ محترم فردوس عالم نے ڈیجیٹل تحریر سے نواز دیا، ایک نمبری اور دونمبری کے ذکر پر صاحبانِ ذوق نے داد بھی ڈیجیٹل انداز میں پیش کی۔
  داد و تحسین کے پیغامات کی ڈیجیلائزیشن جاری ہی تھی کہ ارشد محمود اپنے ننھے سے بیٹے کو دل سے لگائے آن وارد ہوئے اور آتے ہی غیر متوقع طور "اینٹی کلائمیکس " پیش کر کے سارے کلائمیکس کو کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔ سب مبہوت ہو کر موت کا منظر پڑھ رہے تھےکہ اچانک ایک چوہا آن ٹپکا خوام مخواہ۔ یار لوگوں کے ذوقِ مطالعہ کی خبر اُن کے تبصروں سے ہوئی۔
 ابھی ارشد محمود صاحب کی تحریر پر اُنہیں اچھے نثر زدگان کی فہرست میں اول نمبر پر پہنچانے کی تحریک چل ہی رہی تھی کہ ہمارے بہت ہی سنجیدہ ہنس منکھ دوست محمد عارف کے قلم سے اُن کے بزرگ دوست کی تحسین پر مبنی خاکے سے ایک اہم پیرا گراف سرزد ہوا۔ ایک اعلیٰ ہستی کا ادب کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شستہ مزاح میں احاطہ کرنا اِس تحریر سے سیکھا جا سکتا ہے۔عارف کے قلم نے الفاظ پینٹ کیے تو جناب طالب انصاری کا چہرہ سامنے آیا، تحریر سے آگے بڑھنے کے لیے قارئین پورے خاکے کا مطالبہ کر بیٹھے، جو اگلی کسی نشست کے لیے اٹھا رکھا گیا ۔
 ڈاکٹر شاہد اشرف کچن سے براہِ راست فی البدیہہ مزاح لے کر مناثرے میں شریک ہوئے۔آخر میں اُنہوں نے اعلان بھی کیا کہ وہ کچھ نہیں بنا رہے تھے، حالانکہ وہ سب کو بنا رہے تھے کہ انجانے میں روایاتِ زن مریدی نبھاتے پکڑے گئے تھے۔یہاں اُن پر عاطف مرزا کا ایک شرارتی نثریہ بھی صادق آئی کہ دنیا کے 50 فی صد شادی شدہ مرد زن مرید ہوتے ہیں......اور باقی اِقرار نہیں کرتے۔

ابھی داستانِ شاہد اشرف پر لوگوں کے دھڑا دھڑ تبصرے چلنے ہی لگے تھے کہ ڈاکٹر کلیم اپنی الف لیلوی تمثیل کے کردارجام ساقی کے اپنی نوعیت کے واحد دوست بھٹہ صاحب کے بَھول پن اور بُھول پن کی کہانی لے کر میدان میں اترے ۔ بھلکڑ انہ شخصیت کی اعلیٰ صفات کے تذکرے کو انتہائی ہنسوڑ سلیقے سے قلم بند ککرتی یہ تحریر حاضرین کی توجہ میں جم کر رہ گئی کیونکہ یہی مناثرے کی آخری تحریر ثابت ہوئی۔
 وجہ یہ سامنے آئی کہ آصف اکبر صاحب کو انٹرنیٹ کی شرارت نے مناثرے سے اچانک صیغہ واحد غائب میں تبدیل کر دیا۔ البتہ مناثرے کے اختتام سے 24 گھنٹے کے بعد آصف اکبر صاحب نے خود نوشت پیش کر ہی ڈالی ، جس میں انہوں نے بہ اندازِ عارفانہ اپنا ہی خاکہ لکھ ڈالا۔ اِس خاکے میں اُنہوں نے ہمیں آصف اکبر مایوس سے ملوایا ۔ اتنی تاخیر سے پیش کیے جانے کے باوجود اِس تحریر نے ہمیں مایوس کے رتبے پر فائز نہیں کیا۔
احباب نے اِس دوران اپنی تازہ تصاویر پیش کر کے ایک دوسرے کو ہنسایا۔ سب زیادہ ہنسوڑ تصویروں میں بھینسوں سے رقابت رکھنے والی ڈاکٹر سرِ فہرست ہے۔ نقصِ امن کے خطرے کے پیشِ نظر کچھ احباب نے اپنی تصویر پیش کرنے سے احتراز کیا۔ شگفتگو کے ارکان پر اُن کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ٹیکنیکل طور پر ڈاکٹر محمد کلیم کی تحریر کے بعد مناثرے کے اختتام کا اعلان ہوا۔ غیر رسمی اِجلاس کے دوران رُوداد تحریر کرنے کی ذمہ داری حبیبہ طلعت کی لگائی گئی مگراز راہِ ہم دردی میں نے اِسے خواہ مخواہ نبھا یا۔ اب میرا یہ احسان مزاحیہ ادب میں یاد رکھا جائے گا یا نہیں، اِس کی ذمہ داری خالصتاً قارئین کی ہو گی۔رُوداد میں سب کو رگیدنے کے لیے سب کی تحریروں کو تفصیل سے پڑھنے کی ضرورت پیش آئی جس کے سبب رُوداد نویس کویعنی مجھے قہقہوں کے بے شمار شدید جھٹکے بھی لگے۔اللہ تعالیٰ نے خصوصی حوصلہ عطا کیا تو یہ روداد مکمل ہو گئی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*شرکائےمناثرہ*
آصف اکبر
فردوس عالم
سلمان باسط
ڈاکٹر عزیز فیصل
ڈاکٹر شاہد اشرف
رحمٰن حفیظ
ارشد محمود
محمد عارف
ڈاکٹر محمد کلیم
شاذیہ مفتی
ڈاکٹر فاخرہ نورین
حبیبہ طلعت
حسیب الرحمٰن اسیر
عاطف مرزا
٭٭٭٭٭
(مبصّر -  عاطف مرزا )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 9 اپریل، 2020

قرنطانہ اٹالین لفظ یعنی 40 دن (چلہ) ۔

قرنطینہ کا لفظ نیا نہیں ،  یورپ جانے کے لئے تمام راستے روم سے گذرتے تھے۔لہذا تمام ایشیائی بیماریاں اٹلی ،فرانس   یا سپین سے یورپ میں داخل ہوتیں  - جن میں ببونی طاعون اور سیاہ موت   شامل ہیں - لہذا  بحر اوقیانوس  ایشیاء اور افریقہ سے     یورپ میں داخل ہونے والے بحری  تجارتی قافلوں کا  بڑا راستہ تھا ۔ 


لہذا    وہاں  آنے والے بحری قافلوں کو چالیس دن تک روکا جاتا تھا ، جسے اطالوی زُبان میں  قوارانطا   (quaranta)  سپین کی زُبان میں کو رنطا (cuarenta)اور  فرنچ میں کیراط  (quarante)کہا جاتا  ہے  اور انگلش میں یہ  قوارنطائن(Quarantine) کہلایا  -
لہذا اب جہازوں کا  بندر گاہ سے دور   40 دن تک سمندر میں رہنا   قوارنطائن کہلایا ۔  جس کا مقصد بیماریوں کو بندرگاہ سے دور رکھنا تھا ۔
امریکی صدر ،رچرڈ نکسن اپالو 11 کے خلانورد  نیل آرمسٹرانگ ، مائیکل کولن  اور  ایڈون ایلڈرین  جونیئر سے موبائل قرنطائن کے پاس کھڑے ہو کر گفتگو کر رہے ہیں -
 1377 میں سسلی کے شہر  راگوسہ میں یہ قانون بنا اور  بحری  جہازوں  سے اترنے والے لوگوں اور عملے کے لیے40 دن،مخصوص احاطوں میں رہنا لازم قرار دے دیا گیا-اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے اور سزاؤں کا اطلاق کر دیا ، اِس کا فائدہ یہ ہوا کہ جزیرہ سسلی کے لوگ متعدی بیماروں سے محفوظ ہو گئے لہذا یہ قانون باقی ملکوں نے بھی اپنا لیا ۔ چنانچہ قرنطینہ احاطوں میں رہے بغیر کوئی فرد  شہر میں داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔
 1928 میں اینٹی بائیوٹک ایجاد ہو گئیں‘ بیماریوں کے بیکٹیریاز کا علاج ممکن ہو گیاجس کے بعد قرنطینہ ختم ہوتا چلا گیا۔
آج آپ کو کسی پورٹ پر 40 دن انتظار نہیں کرنا پڑتا‘ اس کی وجہ بلڈ ٹیسٹ اور اینٹی بائیوٹک ہیں‘ ڈاکٹر کسی بھی انسان کا خون ٹیسٹ کرتے ہیں‘ اگر بیماری نکل آئے تو اینٹی بائیوٹک کے ذریعے اس کا علاج شروع کر دیا جاتا ہے اور یہ چند گھنٹے بعد محفوظ ہو جاتا ہے یوں انسان نے بیماریوں کا تدارک کر لیا -
لیکن اِس کے باوجود ، ایڈز ، ایبولا  وائرس ، برڈ فلو ، ڈینگی نے انسانوں کی آبادیوں کو بیمار کرنا شروع کیا کیوں کہ بیکٹیریا کے بعد وائرس شروع ہو گئے۔
 اور اب کرونا وائرس نے بستیوں کو اجاڑنا شروع کردیا اور کرونا وائرس کا کوئی ٹیکہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوا ۔
لہذا اِس کوپھیلنے سے بچانے کا حل چین نے سوچا کہ اُس نے شہر کے گھروں کو قرنطائن بنا دیا کہ کوئی شخص دوسرے کے گھر نہ جائے  ۔ اور کرونا وائرس کو پھیلنے کا موقع نہ دے ۔

بدھ، 8 اپریل، 2020

صحافت کے کالے کرتوت -

 میں نے اپنے شوہر کی صحافتی زندگی کے خطرناک اور دلخراش واقعات لکھنے اجازت طلب کی تو انھوں نے مجھے اصل ناموں کے ساتھ واقعات لکھنے کی اجازت دے دی۔
ان کی زندگی کے کئی واقعات ہیں جن میں سے سب سے بہترین واقعات لکھتی رہوں گی۔
سوشل سکیورٹی ہسپتال راولپنڈی سے ہم سب واقف ہیں- اس ہسپتال کے بارے میں میرے شوہر نے ایک  سٹوری 2010 میں روزنامہ جناح میں چھاپی-
 آئیں،  اس کی اندرونی کہانی آپ۔کو سنائیں تاکہ آپ۔کو علم ہو کہ صحافت کے نام پر کیا کچھ کون کون کرتا ہے؟؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کامران اس وقت روز نامہ جناح کے راولپنڈی آفس میں سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے نوکری کر رہےتھے۔ اور انھیں روز نامہ جناح کے اس وقت کے بیورو چیف عثمان نے محکمہ ہیلتھ  راولپنڈی کی بیٹ دی۔ 
ایک دن کامران شام کے وقت اپنے آفس میں نیوز فائل بنا رہے تھے کہ ایک بزرگ آدمی آیا اور اس نے روتے ہوئے بتایا  کہ میں ایک مزدور ہوں اور میرا بیٹا 3 سال سے سوشل سکیورٹی ہسپتال راولپنڈی میں کومہ میں ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے سو موٹو ایکشن بھی لیا  ہوا ہے ۔لیکن سوشل سکیورٹی ہسپتال کی انتظامیہ اور ایم ایس سوشل سکیورٹی ڈاکٹر اظہار عدالت کے ساتھ بھی تعاون نہیں کرتے اور میں بے بس ہوں۔
کامران نے اس بزرگ سے تمام ڈاکومنٹ طلب کئے۔ اگلے روز وہ بزرگ تمام ڈاکومنٹ لے کر آیا۔ جب کامران نے ان ڈاکومنٹس کو دیکھا تو انھیں علم ہوا کہ سوشل سکیورٹی ہسپتال میں معاملات کافی خراب ہیں۔ 

بزرگ نے کہا کہ آپ ایک دو کالمی خبر دے دیں آپ کی مہربانی ہو گی۔ لیکن یہاں ڈاکومنٹس میں کئی دنوں کی سٹوری بن رہی تھی۔ جس میں نرسوں سے زیادتی سے لیکر آڈٹ رپورٹس میں کروڑوں روپے کے گھپلے بھی شامل تھے اور اس سٹوری میں کسی ایک آدمی کے بجائے کمشنر سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ پنجاب شیر عالم مسعود کا نام بھی آ رہا تھا۔ سو کامران نے یہ ایک خبر چھاپنے سے انکار کر دیا اور بزرگ سے کہا کہ اگر آپ تعاون کریں تو میں پورے سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو ہلا کر رکھ دوں گا آپ کا نام صیغہ راز میں رہے گا۔ بزرگ مان گیا اور کامران نے ہسپتال کی ریکی شروع کر دی۔  کامران کے مطابق  ،
"  میں صبح سویرے ،  پرانے کپڑے پہن کر ہسپتال ہسپتال چلا جاتا اور ہسپتال کے اندر جاکر مریضوں میں اخبارات فروخت کرتا اور ساتھ ہسپتال کے اندرونی منظر دیکھتا اور بزرگ کی طرف سے دی گئی معلومات کی تصدیق کرتا۔ جب ابتدائی ریکی مکمل کی تو آڈٹ رپورٹ 2007 نکالوانا تھی- جس کے لئے مجھے آڈٹ برانچ میں   کسی  لڑکی کی مدد کی ضرورت تھی، جو وہاں آڈٹ برانچ میں کام کرتی ہو ۔
آڈٹ برانچ کی لڑکی کے ساتھ دوستی کرنا انتہائی لازمی تھی تا کہ اُس کا اعتماد حاصل کر کے یہ رپورٹ حاصل کی  جا سکے۔یہ آسان کام نہ تھا  لیکن اتنا مشکل بھی نہیں ،  ہسپتال میں کسی کو علم نہیں تھا کہ، میں کون ہوں اور کیوں آتا ہوں؟
جب پرانے کپڑے پہن کر داڑھی بڑھا کر  اخبار بیچتا تھا، تو اُس وقت  میں ایک اخبار فروش تھا  کسی کو شک نہ ہوا ۔ لیکن اب   اِس کام کے لئے مجھے  اپنا  حلیہ  تبدیل  کرنا تھا ، کیوں کہ آڈٹ برانچ میں کام کرنے والی مجھ سے ہمدردی تو حاصل کر سکتی ہے ،
آڈٹ رپورٹ 2007  ، کسی بھی صورت میں  اپنی نوکری کو خطرے میں ڈال کر نہیں دیتی  ۔
لہذا  میں نے  گاڑی رینٹ پر لی اور  اچھے  کپڑےپہن کر سیدھا آڈٹ برانچ پہنچ گیا۔ جب آڈٹ کے روم میں جارہا تھا کہ دیکھا میری خالہ کی بیٹی جو یہاں نوکری کرتی تھی،  سامنے وارڈ کے دروازے پر کھڑی تھی۔ میں نے ایک دم رخ تبدیل کیا اور اسے چکما دے کر نکل گیا۔ لیکن آڈٹ روم میں جانے کے بجائے واپس نیچے آگیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر سوچا کہ ، عشال ( خالہ کی بیٹی کا فرضی نام ) نے  مجھے دیکھ لیا  تو مسئلہ خراب ہو جائے گا ۔ 
تو میں نے دوسرا پلان سوچا  ، جو گو کہ معاشرے کے اعتبار سے درست نہ تھا لیکن   مجبوری تھی ۔میں نے لڑکی کو دوستی کی آڑ میں گھیرنے کا پروگرام بنایا ۔ آڈٹ میں موجود لڑکی کو میں دیکھ چکا تھا ۔ لہذا میں نے  نئی سِم  زین کے نام سے نکالی       اور لڑکی پر کوشش شروع  کردی -"
میرے شوہر نے بتایا ،
" 13 دنوں کی کوشش کے بعد بالآخر  میں نے اُس لڑکی کو آخر اپنی گاڑی پر بیٹھنےراضی کر لیا۔  یوں مزید    9 دن مجھے اس لڑکی کو اعتماد میں لینے پر لگ گئے۔ پھر میں نے   اس لڑکی کو   بتایا کہ میں ایک ٹھیکیدار ہوں اور ایک دوسرا ٹھیکیدار میرا ٹھیکہ کینسل کروانے  کی کوشش میں لگا ہوا ہے   ۔ اگر مجھے  2007  آڈٹ رپورٹ  مل جائے تو میرا ٹھیکہ کینسل ہونے سے بچ جائے گا اور   مجھے نقصان نہ ہوگا۔  لڑکی پہلے  تو نہ مانی  ، لیکن جب میں نے  پیسوں کا لالچ دیا تو مان گئی اور اُن نے مصیبت کے مارے ٹھیکیدار زین کو  آڈٹ رپورٹ   دے دی  ۔میں نے اسے 25 ہزاروپے دیئے۔ اور آفس پہنچ کر وہ سم  توڑ دی-  یوں اُس لڑکی کے لئے زین نامی ٹھیکیدار ، مفقود الخبر ہو گیا  "-
اب میرے شوہر کو سٹوری شروع کرنے کے لئے سیالکوٹ سوشل سکیورٹی سے آڈٹ رپورٹ 2005 درکار تھی- 

" سوشل سیکورٹی ہسپتال کی نرس ( ش) جس کے ساتھ ایم ایس سوشل سکیورٹی ہسپتال ڈاکٹر اظہار نے جسمانی زیادتی  کی تھی - جس کی خبر روزنامہ جناح میں ،میں نے ہی لگائی تھی -   ڈاکٹر  اظہار  نے مجھ سے ملنے کی بہت  کوشش کی، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ اگر ڈاکٹر مجھے سے ملتا   تو عشال   کی نوکری  چلی جاتی - اور آڈٹ والی لڑکی پر میرا راز کھل جاتا -  بدعائیں تو وہ نجانے کتنی دے چکی ہو گی ؟
  اگلے روز میں نے جناح کے بیک پیج پر دو کالمی خبر چھاپی۔ خبر اتنی جاندار تھی کہ صبح سویرے مجھے روز نامہ جناح کے پی اے ذوالفقار کا ٹیلی فون آیا کہ خوشنودی علی خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ آپ کو شام 6 بجے آفس بلایا ہے۔

 شام 6 بجے میں ستارہ مارکیٹ اسلام آباد جناح اخبار کے دفتر پہنچا، تو خان صاحب نےپوچھا،
" یہ جو آپ نے خبر لگائی  ہے سوشل سکیورٹی کے بارے میں،  آپ کے پاس کیا کچھ ہے ؟ ایسا نہ ہو کہ الٹی گلے پڑجائے ؟ "۔ 
میں نے جواب دیا ، "سر !سوشل سکیورٹی ہسپتال کے بارے میں اتنا مواد ہے کہ میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اور ثبوت کے ساتھ"
 تو خوشنود علی خان صاحب نے مجھے بے دھڑک ہو کر لکھنے کی اجازت دی۔ اور ساتھ کہا ،
" سٹوری لکھتے ہوئے ڈرنا نہیں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ "
کہتے ہیں کہ  میں ہیڈ آفس سے نکلا،  تو سیدھا اپنی خالہ کے گھر آیا کہ  کزن سے کچھ سُن گُن ملے  کہ خبر کی اشعاعت  پر آخر  ہسپتال میں کیا ہوا؟
کزن پریشان تھی کہ ہسپتال کے خلاف اخبار میں خبر آئی ہے۔
کامران کہتے ہیں کہ میں نے جب سٹوری  کی اقساط چھپوانا شروع کیں  تو    6 ویں قسط چھپنے کے اگلے  دن  صبح  مجھے ہیڈ آفس اسلام آباد سے چیف رپورٹر کا فون آیا ،
"  آپ کی سٹوری کیش ہو گئی -آج سے آپ کی خبر نہیں لگے گی۔ "

کامران نے وجہ پوچھی تو علم ہوا کہ اسائنمنٹ ایڈیٹر شکیل احمد چشتی آج پارکنگ سے ڈاکٹر اظہار کی گاڑی پر بیٹھ کر گئے۔
کہتے ہیں کہ ایسا  ہی  ہوا ،  شام میں نے ساتویں قسط بھیجی تو  اگلے دن اخبار میں سٹوری نہیں لگی۔ خبر رکوا دی  گئی ۔ سوشل سکیورٹی میں اپنے سورس سے پوچھا ، تو علم ہوا کہ شکیل احمد چشتی 5 لاکھ روپے نقد اور قربانی کے لئے دو بیل لے کر گئے۔
کہتے ہیں کہ اگلے روز میں صبح سویرے گھر سے نکلا اور روزنامہ جناح کے آفس ستارہ مارکیٹ گیا ۔ جب
اسائنمنٹ ایڈیٹر شکیل احمد چشتی ، آفس آیا  -تو میں اِسے  تیسری منزل سے گھیسٹ کر نیچے لایا اور پارکنگ  لاٹ میں  اُسے بے نقط سنا کر  نوکری چھوڑ کر آگیا۔
اس وقت کا وزیر اعلی پنجاب منگل کے روز ماڈل ٹاون میں کھلی کچہری لگاتا تھا۔
کہتے ہیں کہ میں پیر کے روز رات راولپنڈی سے نکلا اور تمام ثبوت اور اخبارات کی کٹنگ لے کر منگل کی صبح وزیر اعلی کے چیف کوآرڈینیٹر میڈیا نوشاد حمید کو ساتھ رکھ کر وزیر اعلی پنجاب سے ملا۔

 وزیر اعلی نے ڈائریکٹر ماحولیات طارق زماں خان اور انکوائری آفیسر مقرر کر کے سخت انکوائری کا حکم دیا۔
اور اگلے چار روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
کہتے ہیں میں 4 روز لاہور رہا ۔۔۔ 

اِس انکوائری کے دوران ہی کمشنر سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ پنجاب شیر عالم مسعود  کو نوکری سے ڈسمس کر دیا گیا۔ کیپٹن  ڈاکٹر اظہار کو گرفتار کر لیا گیا اور کامران نے جناح اخبار سے استعفی دے دیا۔۔۔۔
کسی صحافی کی نوکری پکی نہیں ہوتی ۔۔۔ اور ہر سٹوری چینل یا اخبار کے مالکان اور سنئیر لوگ کیش کر لیتے ہیں۔

بشکریہ   :   اَنشرح حورین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج صبح  مجھے ایک بیٹی کی  فیس بُک فرینڈ پر فرینڈ ریکوئسٹ آئی ،   خواتین کے معاملے میں میں ذرا شکی مزاج ہوں  ، کیوں کہ ماضی میں مجھے کئی بیٹیوں کی ریکوئسٹ آئی اور بالآخر وہ بیٹا بننے  پر مجبور ہو گئے ۔
میں نے پروفائل کھولا  ، تو پہلی تصویر دیکھ کر دل خوش ہوگیا  ، رسولِ وقت ، جناب عبدالستّار ایدھی  کی  ہے -
میں نے تصویر پر لائیک کر کے ، فرینڈ ریکوئسٹ قبول کر لی  - 
تو بالا مضمون پڑھا ۔ یادِ ماضی میں کھو گیا -
2000 ء میں  ریٹائرمنٹ  کے بعد  ، جب میں بزنس میں آیا ، تو  کمپیوٹر سیلز کے ساتھ ، DOSAMA  ایڈورٹائزنگ  بھی شروع کی-جن میں جنگ، جناح ، خبریں ، ڈان ، نیوز، اوصاف  ، مشرق ، ایکسپریس ۔
 وہ  اِس لئے کہ اِس بوڑھے نے  صحافت میں 1971 میں جب قدم رکھا تو پہلی خبر سلیم آزاد   نمائندہ مساوات (سابقہ امن)  نےکاربن پیپر رکھ کر لکھی اور بوڑھے نے ایک لفافے میں ڈال کر کراچی روانہ کر دی  ،  یوں وہ صحافت میں میرے استاد اور کلاس فیلو   ، سلیم آزاد ،کی مدد سے دوسرے دن " روزنامہ  امن " میں چھپ گئی ، اِس طرح اِس بوڑھے نے  عین نوجوانی میں، اخباری    صحافت میں دھکّے سے قدم رکھا ، جو جاری رہا ۔
صلہ یہی ملتا کہ  بس یہ دیکھ کر خوش ہوجاتے کہ اخبار میں خبر چھپ گئی ۔ 
٭٭٭٭٭٭

اَنشرح حورین سے اجازت مانگی کہ بلاگ پر پبلش کردوں اُنہوں نے اجازت دے دی ۔جو آپ کی خدمت میں پیش ہے -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔