میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 اپریل، 2020

شگفتگو -آصف اکبر مایوس

آصف اکبر -- رنگِ مزاح (نثر)
------------------------
(یہ مضمون بزم مناثرہ، عرف شگفتو کی 11، اپریل 2020 کو آن لائن منعقد ہونے والی 20ویں مزاحیہ نثر کی محفل میں نہیں پڑھا گیا۔ نیٹ پرابلم۔)
------------------------
آصف اکبر مایوس
(تحریر بھی آصف اکبر کی)
--------------
یہ نہ سمجھیے گا کہ مایوس آصف اکبر کا پوشیدہ تخلّص ہے۔ہاہاہاہا۔
پوشیدہ سے گندے اذہان فوراً کس طرف جاتے ہیں، یہ بات ان سطور کو لکھتے وقت بھی ہمارے پاکیزہ ذہن میں ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ گاہے گاہے اردو زبان کی کم مائیگی کے شواہد سامنے آتے ہیں۔ ہے نا حیرت کی بات کہ وہ زبان جس نے پالی اور کھڑی بولی اور سنسکرت سے خمیر لیا اور عربی، فارسی، ترکی، انگریزی، پرتگالی اور بہت سی دیگر زبانوں سے الفاظ شیرِ مادر کی طرح ہڑپ کیے، اس اردو زبان میں انگریزی لفظ 'انوزیبل' کا ہم معنی کوئی لفظ نہیں۔ کئی لغات دیکھ لیں۔ بابائے اردو نے بھی اس کا ترجمہ غیر مرئی، غائب، خفیف اور غیر محسوس کیا ہے۔ بعض جگہوں پر پوشیدہ بھی لکھا ہوا ہے۔ اب غیر مرئی اگرچہ عربی زبان میں یہی معنی رکھتا ہے مگر اردو میں اس کا مفہوم کچھ اور ہی بنتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی یہ کہے کہ اس سپر اسٹور میں غیر مرئی محافظ ہر شخص پر نظر رکھتے ہیں تو سننے والے پریشان ہو کر بھاگ نکلیں گے۔ ہم نے اس جملے کو 'ری فرے ز' کرنا چاہا تو پتا چلا کہ اس کے لیے بھی اردو میں کوئی لفظ نہیں۔ لغت کہتی ہے دوبارہ فقرات بنانا؛ مُختلف الفاظ میں لِکھنا یا ادا کرنا ؛ مکرّر لِکھنا ۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے۔
بہرحال ہم نے چاہا کہ اس جملے کو برنگ دگر لکھیں تو نادیدہ، ناقابلِ دید، دکھائی نہ دینے والا، نظر نہ آنے والا، غیر منظور، نادیدنی جیسے الفاظ سامنے آئے۔ تو چلیے آسان الفاظ میں یوں کہہ لیتے ہیں کہ یہ نہ سمجھیے گا کہ مایوس آصف اکبر کا نظر نہ آنے والا تخلّص ہے، یہ دراصل ہماری ایک عارضی کیفیت ہے جس کے زیر اثر یہ خود خاکہ نویسی کا شاہکار وجود میں آ رہا ہے، ایک ایسا فن جو یقیناً ہم پر شروع ہو کر ہم پر ہی ختم ہو جائے گا۔
سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو مزاح کی ہر محفل میں ایک دو ،خاکے سننے میں آتے ہیں۔ کبھی محترم ڈاکٹر عزیز فیصل خاکہ نویسی پر مائل ہوتے ہیں تو کبھی عزیزم عارف۔ مگر ایسے حضرات کی نگاہیں ہمیشہ بلندی پر ہی رہتی ہیں، خاک نشینوں تک آتی ہی نہیں ۔ بلکہ کچھ کی نگاہیں تو مضمون پڑھتے ہوئے بھی بلندی پر رہتی ہیں۔ ایسے لوگ شاید مضمون زبانی یاد کر کے آتے ہیں، یا ممکن ہے فی البدیہہ کہتے ہوں۔
اس سے قبل ہمارے لنگوٹیا دوست احمد حاطب صدیقی بھی خاکوں کی ایک کتاب لکھ چکے ہیں جو بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب کی حیثیت دو دھاری ہے۔ ایک طرف تو اس نے بہت سے غیر مرئی اشخاص کو قابلِ خاکہ گردی بنا دیا۔ دوسری طرف اس نے خاکہ نگاری کے فن کو بھی نئی جہتیں عطا کیں اور یہ واضح کیا کہ کسی کا خاکہ لکھنے کے لیے آپ کا کسی شخص سے زیادہ واقف ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ کسی کو ایک بار ایئرپورٹ لینے چلے جائیں تو اس کا بھی خاکہ لکھ سکتے ہیں۔ مگر انہوں نے بھی اس خاک نشیں کو اس قابل نہیں جانا کہ اس کا خاکہ اڑایا جائے۔ بہرحال ہم بھی دو چار ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھر کر شانت ہو گئے کہ
خاکہ ہے اسی کا حق جو خاک سے بچتا ہو
ہم خاک نشینوں پر کیا خاک لکھے کوئی
پھر بھی ، یہ سوچ کر ہم اس بات سے کہ کبھی ہمارا بھی خاکہ لکھا جائے ، اس قدر مایوس ہوئے کہ سوچا اپنا نام ہی آصف اکبر مایوس رکھ لیں۔ ویسے ابتدائے شاعری میں ہم نے کئی تخلص سوچے بلکہ کچھ عرصہ باغی بطور تخلص استعمال بھی کیا، ہرچند کہ باغ کی رعایت سے تھا۔ مگر مایوس کے بارے میں کبھی سوچا تک نہیں۔
پھر تجلی کا ورود ہوا۔ سوچا ہم بھی تو صاحبِ قلم ہیں، اور اقبال بھی نہیں ہیں کہ اپنے آپ سے آگاہ نہ ہوں، تو کیوں نہ اپنا خاکہ خود ہی لکھ لیں۔
اب یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ
قلم سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنّم بھی
یہ'خاکی' اپنی خصلت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
جبکہ قلم سے مراد خاکہ نگار کا قلم اور خاکی سے مراد مخکوک فرد ہے۔ یہ بات اور بھی اپنے آپ کو منواتی ہے جب آپ ممتاز فریق، معاف کیجیے گا ممتاز رفیق کی لکھی ہوئی خاکوں کی کتاب کی 'روگردانی' کر رہے ہوں، کیونکہ تصویر خانے کی ورق گردانی تو ہو نہیں سکتی۔
بہرحال اس کتاب سے بھی کچھ باتیں سامنے آتی ہیں، جن میں سرِ فہرست یہ ہے کہ جس شخص کا بھی خاکہ لکھا جائے لازم ہے اسے خاک میں ملانے کی پوری پوری کوشش کی جائے، اور تہہ فہرست یہ ہے کہ یہ کام دوست بن کر کیا جائے۔
تو چلیے ہم عزیزم عارف کے انداز میں آصف اکبر کا تعارف کراتے ہیں۔
یہ شخص ایک اچھا شاعر ہے، مگر شاعر نہ ہوتا تو اور اچھا ہوتا۔
کہنے کو تو بڑا عالم فاضل نظر آتا ہے، مگر نہ کہنے کودراصل فاضل ہے۔
فیس بک پر پانچ ہزار کے لگ بھگ دوست رکھتا ہے، جن کے بارے میں بڑے فخر سے کہتا ہے کہ سب از خود اس کے دوست بنے ہیں، مگرحقیقی زندگی میں اس کا کوئی ایسا دوست نہیں، جس کے پاس جا کر بے تکلّفی سے کہہ سکے کہ میں کچھ دن تمہارے پاس رہوں گا۔
خود کو الفاظ کا بادشاہ سمجھتا ہے، اور ہو سکتا ہے ہو بھی، مگر یہ بادشاہت برطانیہ کی آئینی بادشاہت جیسی ہی ہوگی ۔
دنیا کے کسی کام کو مشکل نہیں سمجھتا، مگر کسی بھی کام کو پایہِ تکمیل تک پہنچانا کسرِ شان سمجھتا ہے۔
اپنے بارے میں اس کا خیال ہے کہ بہت مضبوط قوّت ارادی کا مالک ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کبھی، ایک بار بھی سگریٹ چھوڑنے پر قادر نہیں ہو سکا۔ چھوڑنا تو بہت دور کی بات ہے ابھی تک شروع بھی نہیں کر سکا۔
گھر کا کام کاج کرنے کا بہت شوقین ہے، مگر صرف وہی کام کرنا چاہتا ہے جو محنت طلب نہ ہوں۔ اور اتّفاق سے ایسا کوئی کام ہوتا ہی نہیں۔
اس کے پسندیدہ مشغلے دو ہیں، بشرطیکہ آٹا گوندھنا اور روٹی پکانا دو الگ الگ شوق سمجھے جائیں۔ مگر عرصے سے اس نے دونوں مشغلے ترک کر دیے ہیں۔
اس کا خیال ہے ، ہر اہم شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ کتابیں لکھے۔ بقول اس کے جو شخص بغیر کتاب لکھے مر جاتا ہے، وہ لاولد مرتا ہے۔ مگر خود اس نے آج تک اپنی کوئی کتاب شائع نہیں کی۔
مسکراتا ہے تو لگتا ہے جیسے ہنسی ضبط کر رہا ہو، مگر اپنی دانست میں اسے شرارت آمیز مسکراہٹ سمجھتا ہے۔
ہنستا ہےتو لگتا ہے ضبط کا قتلِ عام کر رہا ہے، مگر ہنستا بہت کم ہے۔ بالعموم ہنسی شروع ہوتے ہی قہقہے میں بدل جاتی ہے، اور قہقہے فلک شگاف ہوتے ہیں۔
قہقہے اس کی شناخت ہیں، مگر شناختی کارڈ میں یہ شناخت نامعلوم وجوہ سے درج نہیں۔
بچّوں میں بچّہ بننے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، مگر بچّے ایسے بوڑھے بچّے کو بچّہ ماننے کو تیّار نہیں ہوتے۔
بوڑھوں میں ایسا بوڑھا بنتا ہے کہ بڑے بوڑھے بھی اسے انکل کہنے لگتے ہیں۔ مگر انکل کہنے سے بہت برا مانتا ہے، اور کبھی کبھی تو دانتا کل کل شروع کر دیتا ہے۔
اسکا بچپنا ابھی تک گیا نہیں ہے، مگر جوانی لگتا ہے کبھی آئی ہی نہیں ،اور یہ لڑکپن سے براہِ راست بڑھاپے میں داخل ہو گیا۔
اس کے کئی روپ ہیں مگر ہر روپ بہروپ نظر آتا ہے۔
کبھی یہ استاد کے روپ میں نظر آتا ہے اور کبھی طالب علم کے۔
کبھی یہ مفکّر نظر آتا ہے تو کبھی مورّخ۔
تاریخ نویسی کا اسے بہت شوق بھی ہےاور مہارت بھی حاصل ہے۔ ہر قسم کی دستاویزات پر تاریخ بالکل درست لکھتا ہے۔
مطالعے کا بچپن سے شوقین ہے۔اب بھی مطالعے سے پیٹ بھرنا پسند کرتا ہے۔ مگر مطلع لکھنا اس کی جان کو آتا ہے۔
بات بہت فلسفیانہ انداز میں کرتا ہے، مگر فلسفے سے بالکل ناواقف ہے۔ عام آدمی اس کے اس روپ سے بہت متاثّر ہوتا ہے، اور خاص آدمی،
خاص آدمی اسے گھاس بھی نہیں ڈالتا۔ ویسے اسے گھاس میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں ہے۔
کبھی یہ مسخرہ بن جاتا ہے اور مزاحیہ نثر لکھنے لگتا ہے تو کبھی افسانہ لکھ کر لوگوں کو رلا دیتا ہے۔
کھانا اس قدر کم کھاتا ہے جیسے صرف سونگھتا ہو۔ اس کے باوجودچاق و چوبند نظر آتا ہے۔
گانا گانے کی حسرت لیے پھرتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ملتا۔ انگور کھٹّے ہونے کے مصداق کہتا ہے کہ اگر میری آواز اچھی ہوتی تو میں صرف گلوکار بن کر رہ جاتا، اور کچھ نہ بن پاتا۔ ویسے پھر بھی کچھ بن نہیں پایا۔
ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، مگر شاید زیادہ کوٹے جانے کی وجہ سے کرچی کرچی ہو گئی ہے۔
تقریر کرنے کا لڑکپن سے شوق تھا۔ نوجوانی میں خود کو اچھا مقرّر سمجھتا تھا، مگر اب صرف خاموشی کے فوائد پر تقریریں کرتا ہے۔
فون کرنے سے اس کی جان جاتی ہے۔ خط لکھنا اسے سخت ناپسند ہے۔ مگر کبھی کبھی گھنٹوں فون پر باتیں کرتا ہے۔
سوائے کھانا وقت پر کھانے کے، باقی ہر چیز وقت کی پابندی کے ساتھ کرنے کا قائل ہے۔
کبھی کبھی کھانا کھانا ہی بھول جاتا ہے۔ پھر کہتا ہے پتا نہیں آج اتنی بھوک کیوں لگ رہی ہے۔
یادداشت بچپن میں بہت تیز تھی۔ اپنا نام تک کبھی نہیں بھولتا تھا۔ لیکن شاید یادداشت کا سارا ذخیرہ بچپن میں ہی خرچ کر دیا۔ کئی سالوں سے ہر چیز بھولنے پر قادر ہے ، اور اس کئی کا دائرہ نصف زندگی سے زیادہ پر محیط ہے۔ حد یہ کہ کینیڈا کے جس شہر میں دو ماہ رہ کر آیا، اس کا نام بھول چکا ہے۔ مگر ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے مصر ہے کہ وہ نام اپنی ناقابلِ رشک یادداشت میں سے ہی برآمد کرے گا، غیر کی مدد نہیں لے گا۔
راتوں کو بہت دیر تک جاگنے کا شوقین ہے۔ سنا ہے ایک پرندہ اپنے پٹھّوں کو، جب وہ رات سوتے نہیں ہیں، کہتا ہے کہ کیا اس کی طرح جاگ رہے ہو۔
اپنے آپ کو روایت شکن کہتا ہے، مگر روایات بنانے کا بھی بہت شوقین ہے۔
بہرحال جیسا بھی ہے، اسی کو غنیمت جانیے، اور دعا کیجیے کہ مزید نہ بگڑے۔
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔