میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 اپریل، 2020

شگفتگو - کیا کیا مچی ہیں یارو، "اوہام" کی بہاریں - حبیبہ طلعت

ہم سب ہی جانتے ہیں کہ وہم کسے کہتے ہیں۔۔ جی ہاں یہ ایک بیماری ہے وہ بھی پین ڈیمک ، جس کا علاج گذرے وقتوں میں حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔ وہم کو اصطلاح میں Obsessive Compulsive Disorder المختصر OCDکا نام دیا گیا ہے۔ 
خیال رہے خوف اور گھبراہٹ جبلت میں شامل ہے ۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میں عام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہوجائیں یا بہت عرصے تک رہیں تو یہ ہمیں ان کاموں سے روک سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے سو ہر طرف یہی ہورہا ہے ۔
 چراغ حسن حسرت ایک مضمون میں بھینس کی عزت افزائی کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ ملا روز بھینس کو شعر سناتے سناتے خود شاعر بن گئے۔ مگر اب تک ان کی بھینس سوز عشق سے بالکل خالی ہے لیکن یہاں ایسا ہے نہیں یہاں سوز عشق بھی وافر ہے اور جذبہء جہاد بھی، بس نہیں ہے تو علم اور تحقیق کی اجازت نہیں ہے مبادا کہ بھینس کے بجائے سوچنے سمجھنے والے انسان نہ پیدا ہونے لگیں۔
 ایک نامعلوم شاعر کا معلوم شعر پیش کیے دیتے ہیں،
 حیرت نہ کیجیے یہ اصول تضاد ہے
 دھوکہ ہے وہیں پہ جہاں اعتبار ہے 
اسمارٹ فونز ایک عمدہ ایجاد ہیں آواز پلس تصاویر کا تال میل بہت کارآمد شے ہے۔ اگر آپ ایک عدد فیس بک آکاونٹ کے حامل ہیں۔ لکھنے لکھانے کا شغل بھی ہے۔ اچھی بات یے مگر لازم نہیں کہ آپ مشہور ہوسکیں، اس کے لیے دیگر معروف زرائع زیادہ قابل بھروسہ ہیں۔۔ پی آر یا پیار بڑھانے کے ضمن میں واٹس ایپ گروپ بہت فعال ہیں۔ چونکہ ہر بات کا دوسرا پہلو بھی ہوا کرتا ہے چنانچہ یہاں اس فائدے سےکچھ نقصان پر بھی روشنی ڈالی جا سکتی ہے کہ معاملہ ہے واٹس ایپ گروپس کا ۔۔۔۔اب نیا زمانہ ہے جب دو چار لوگ ہمیں تحریر سے اور زیادہ تر لوگ ہمیں فون نمبر سے بخوبی پہچانتے ہیں سو اسی ڈوری سے باندھ کر نت نئے گروپس میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ مانا کہ یہ بھی مشہور ہونے کی نشانی ہے اور واقعہ ہے بھی زمانہ مابعد جدیدیت کا سو جدیدیت سے ہمیں اتنا علاقہ لازم ٹھہرا۔ 
حالیہ وبائی دنوں میں قوم نے کورونا سے بچنے اور بچانے کے لیے بھی واٹس ایپ گروپس تشکیل دئیے تھے ۔جن میں سے پچھلے ھفتے ہم نے دو مجبورا  "لیو " کر دئیے تھے۔ ایک وجہ تو تھی کہ ہم کورونا تو کیا دل بند ہونے سے بھی نہیں مرنا چاہتے تھے۔ بلکہ موت سے پہلے مرنا کس کافر کو ہے۔ خون آلود تصاویر، لاشوں کی ویڈیوز اور ایسی ہی بھیانک ویڈیوز جن کی تصدیق کی ضرورت بھی نہیں سمجھی جاتی ہے۔ دراصل یہ سب باتیں تو بات برائے بات بیچ میں آگئی ہیں۔ جو کہ ہمارے اصلی اور کھرے پاکستانی ہونے کی پکی دلیل ہے۔
 دوسری بات جو کہنا ہے وہ یہ ہے بھئی کورونا ایک وبا ہے بہت خوفناک۔۔ عالم بھر میں دہشت پھیل چکی ہے۔ لاک ڈاون جاری ہے، ضروری ساز و سامان کی کمی ہے اور خدانخواستہ خوراک کی قلت کا اندیشہ بھی درپیش ہے ایسے میں زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اور اہل خانہ کے واسطے ہوش و حواس سلامت رہیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ مالک کون و مکاں کے آگے سر بسجدہ ہو کر دعا اور استغفار لازم کرلیا جائے۔ ویسے تو وبا کے دنوں میں مرنا بھی شہادت ہے لیکن کوشش یہی ہو کہ غازی کی زندگی گزاری جائے۔ 
دوسرا گروپ جہاں مباحثے سے زیادہ جھگڑے چلتے ہیں معلومات دی نہیں بلکہ ٹھونسی جاتی ہیں۔ قیامت سے قبل قیامتیں برپا کرنے کے شوقین مسلمانوں کے درمیاں جاری کفر و اسلام کی جنگوں سے ہمیں کنارہ کش ہونا پڑا۔۔۔ کچھ مجبورا امید، آس اور دعا کا سہارا تھاما اور خوف و ہراس سے بچنے کو گروپ لیو کر دیا۔۔
 کبھی بہت دل کرتا ہے کہ کہیں پڑھا گیا مولانا قاسم نانوتوی کا واقعہ ان مسلمین کے گوش گذار کیا جائے کہ ان کا ایک شاگرد بہت ذہین تھا بس اسے بھی ایک وہم لاحق ہوگیا تھا کہ اسکا سر ہی نہیں ہے۔ حضرت کو پتا چلا تو آپ نے شاگرد کو بلا کر پوچھا،
 کیوں بھائی تمہارا سر ہے؟
 شاگرد نے جواب دیا نہیں جی میرا تو سر ہی نہیں رہا۔ 
یہ سنتے ہی حضرت نے جوتے سے اس کے سر پر برسات کردی، اب جو جوتے پڑے تو شاگرد چیخنے لگا استاد جی چوٹ لگ رہی ہے۔ 
مولانا نے پوچھا،"  کہاں لگ رہی ہے؟"
استاد جی چوٹ لگ رہی ہے ۔۔
مولانا نے پوچھا ،" کہاں لگ رہی ہے۔۔ 
وہ بولا سر پر ۔
 آپ نے فرمایا ۔" تمہارا تو سر ہی نہیں ہے"۔
 وہ بولا ،"ہے سر ہے مجھے معلوم ہوگیا میرا سر ہے"۔
 اس طرح وہم کا علاج ہوا اور شاگرد کا وہم جاتا رہا۔۔۔
دیکھیے ہم سے حوالہ نہ طلب کیجیے گا ابھی ہی بتایا ہے آپ سب کو کہ ہم سچے اور کھرے پاکستانی ہیں۔ الحمد اللہ بھئی یہ وبا ہے بیماری ہے یا سازش ۔ان سازشی تھیوری پر یقین کرکے تو حوصلے ہی جواب دے جاتے ہیں جب یہ میسیج بھی دیکھنے کو ملے کہ " بھئی آپ کی طرف بارش ہوئی ؟" بڑے جوش سے جواب بھیج دیا گیا " جی ہاں الحمد اللہ یہاں بھی بارش ہوئی ہے " فورا سے یہ دوستانہ لہجہ درشت ہوکر ڈانٹنے تک آجاتا ہے " کیا مطلب؟ الحمد اللہ؟ آپ کو معلوم ہے اپریل چل رہا ہے ایسے میں بارش بس فورا استغفار پڑھیے" ۔۔ ہم نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا " کیا بارش باران رحمت نہیں یے؟ " " ہے مگر اب کی نہیں یہ وہ بارش ہے جس کا قوم کو احساس ہی نہیں ہے، تمام فصلیں تباہ ہونے کو ہیں۔ یہ سب harrp کی سازش ہے وہ موسموں کو کنٹرول کرکے آپ کے تمام وسائل برباد کرنے کو ہیں اور جب رفتہ رفتہ خوراک ناپید ہوجائے گی تب تمام حکومتیں اور انسان ان کی شرائط پر جینے کو تیار ہوں گے۔ اور یہی عالمی حکومت کا ایجنڈا ہے۔
" ہمارا منہ حیرت سے جو کھلا تو کھلا ہی رہا ۔۔کچھ بات نہ بن پڑی کہ ایک اور فائر کھول دیا گیا۔ "اس موسم میں جب گندم کی فصل پک کر تیار ہے ٹھنڈی تیز ہوا بارش اللہ کا عذاب ہے، کسان سے پوچھئے اسکے دل پر کیا گزرتی ہے؟ توبہ استغفار کرنے کی بجائے بنی اسرائیل کی طرح یہ قوم پکوڑے سموسے کھا کر عذاب انجوائے کر رہی  ہے۔ 
ایک تو کروانا کا عذاب دوسرے جب فصل تباہ ہوگی۔ اس کے بعد خدانخواستہ لاکھوں بھوک سے مریں گے۔" . اب ہمارے ذہن میں زور دار جھماکے ہونے لگے۔۔۔ ہم کس منہ سے بتاتے کہ ابھی چار روز قبل ہی ۔۔جب دال سبزی سے منہ کا ذائقہ بگڑ چلا تھا ہم نے بھی عذاب کو انجوائے کیا تھا اور وہ بھی انہی پکوڑوں سے۔۔ جی ہاں یہی وہ موذی پکوڑے تھے جن کو کھانے کے ہم سزاوار ٹھہرے تھے۔ ساتھ تین طرح کی چٹنیاں بھی بنائی تھیں۔ کراچی کی باقیات کے طور پر پودینے کی مرچیلی چٹنی، لاہور سکونت کی یادگار کے طور پر دہی کا رائٹہ اور فاسٹ فوڈ جنریشن یعنی بچوں کا من پسند کھاجا ٹماٹو کیچپ بھی ہمراہ تھا۔۔
 اب بات اسراف کی حدود سے کہیں بڑھ کر عذاب تک آچلی تھی مگر اب کف افسوس ملنے سے کیا حاصل۔۔ چڑیاں چک گئیں کھیت۔ اب شام اور تمام شب، استغفار کی تسبیح ہی پھرولتے گذری۔۔۔ 
بات عذاب کی ہے تو یکسوئی ناممکن۔۔۔ 
کہ کبھی تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ بدنام زمانہ کے جی بی اور خاد کے سربراہان نے اپنی چار سو بیس صفحات کی رپورٹس پاکستانی فیس بکی مجاہدین کے ہاتھ رکھ کر ہمیشہ کے لیے توبہ تائب ہوگئے تھے۔ باقی رہی یہودی تو یہ وہ نابکار قوم ہے جو برسوں سے دنیا کے سب وسائل پہ قابض ہونے اور انسانوں کو اپنے زیر نگین کرنے کے چکر میں ہے۔ اس سلسلے میں ہی انہوں نے یہ جرثومہ نما وبا پھیلائی ہے تاکہ غریب، اور زائد عمر کے بیکار انسان جلد یہ دنیا چھوڑ جائیں اور وہ نوجوانوں کو قبضے میں لے کر اپنی عالمی حکومت قائم کر سکے۔ دیکھا۔۔۔! دیکھا آپ کے ذہنوں میں بھی وہی سوال آیا ہے جو کہ ہمارے دل کو بھی مضطرب کر دیتا ہے کہ یہودی اتنا کچھ کر رہے ہیں تو مسلمان؟ مسلمان کہاں ہے؟؟ ہم بھی تو یہی پوچھتے ہیں کہ مسلم کہاں ہیں؟ 
بھئی ان میں سے کچھ کو اپنی مرضی سے قیامت لانے کی پڑی ہے باقی کچھ کو ان داستانوں، حکایتوں پر ایمان لانے کی مت پوچھیے اس حساس دل پر کیا قیامت گزر جاتی ہے۔۔۔
 شائد یہ بھی کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے بلکہ کہنے دیجیے کہ اسی کم ایمانی یا بدایمانی نے ہم کو ڈبویا ہے۔ ہمارا روایتی جہل ہمیں بالعموم تصویر کا خوش فہمی والا رخ ہی دکھاتا ہے۔ جب تک آفت دوسروں پر گزر رہی تھی تو ہم بغلیں بجا بجا کر کافروں اور لادینوں پر عذاب آنے کا فتویٰ لگا رہے تھے۔
 ایران پر افتاد پڑی تو شیعہ دشمنی وجد میں آ گئی۔ سعودی عرب زد میں آیا تو وہابی دشمنی رقصاں ہو گئی۔ اب جب گھر میں آگ لگی ہے تو قیامت آنے کی دہائیاں دے رہے ہیں۔ ان احمقوں کی جنت میں رہنے والوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ ابھی سو سوا سو برس پہلے برطانوی ہند پر، جس کی آبادی اس وقت 35 کروڑ تھی، طاعون اور ہیضے کی ایسی قیامتیں گزر گئی تھیں جن میں ایک کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ افراد جان سے گزر گئے تھے۔ اگر اس وقت قیامت نہیں آئی تو اب کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں اس وبا میں؟
 ان سب بے ربط سی باتوں کے بعد ایک واقعہ پر سب باتیں مکا دیتے ہیں حمید اختر، فیض سے متعلق یاداشتوں میں بیان کرتے ہیں کہ ایک رات امروز کے نیوز روم میں آئے، گفتگو کے بعد شفٹ انچارج سے سرسری انداز میں پوچھا" آج کی لیڈ( صفحہ اول کی پہلی اور بڑی خبر) کیا ہے؟ بتایا گیا کہ کوریا سے متعلق کوئی خبر ہے۔ اپنی مشہور لمبی ہوں کہہ کر چل دئیے۔ دروازے کے پاس جا کر مڑے اور کہا، "بھئی کبھی اپنا اخبار پاکستان سے بھی نکال لیا کرو" فیض تو یہ کہہ کر چکے گئے مگر رات کی شفٹ والوں کی حالت دیدنی تھی اسکے بعد مقامی خبروں پر زیادہ توجہ دی جانے لگی۔
(حبیبہ طلعت)
٭٭٭٭٭٭

مورخہ 11 اپریل، بزم زعفرانی کی بیسویں مگر مواصلاتی پیشکش کے اعتبار سے پہلی نشست میں پڑھا گیا  

٭٭٭٭٭واپس  ٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔