Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 3 مئی، 2020

نائی چاچا سے گیسو تراش کا سفر

بوڑھے کو یہ تو یاد نہیں کہ کب نائی چاچا سے پہلی بار حجامت بنوائی ۔لیکن بھائیوں کی چڑیا اُڑتے ضرور دیکھی اور یہ بھی اُس کے تجربے میں آیا کہ انسان کا ہر بچہ بالوں سمیت ہسپتال  سے ماں گے گود  میں آتا ہے ۔ جس کے لئے ہسپتال کے رجسٹر میں پہلے سے درج کروایا جاتا ہے اور پھر یہ ہسپتال والوں کی مرضی کے وہ ماں کی گود میں ، لڑکا لڑھکادے یا لڑکی ۔ 

نومولود کے آتے ہی مبارکباد اور مٹھائیوں کا دور چلتا تھا ۔ نائی چاچا آتا اور بلاتخصیص لڑکا ہے یا لڑکی  اپنےاسترے سے سر کو ایسا چمکاتا جیسے شیشہ اُس کے بعد نائی چاچا کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ ہر جمعرات کو  سات ہفتوں تک اُس شیشے کو اپنے اُسترے سے پالش کرے اور بچوں کو مجبور کرے کہ وہ اُنگلی کی پشت سے نومولود کے سر پر کّوئے کی طرح ٹھونگا لگا کر اُس کی مضبوطی چیک کی جائے ۔

بوڑھا بھی نائی چاچے کے استرے کا کئی بار شکار ہوا اور وہ بھی فوجی نائی چاچا ۔     

بوڑھے کے اُفق کے پار بسنے والے میرے پیارے دوستو ۔ 

یہ نہ سمجھنا کہ  سروں کی حجامت بوڑھے کے والد کے بھائیوں کا پیشہ تھا ۔ بوڑھے کے بچپن میں گھر کے دروازوں سے داخل ہونے والا ہر مرد چاچا کا لقب پاتا اور ہر عورت خالہ کا ۔ 

یہ القاب اتنے مشہور ہوئے کہ پڑوسیوں کے تمام مرد چاچا اور اُن کی نصف بہتر  خالہ کے لقب سے بلائی جاتیں ۔ 

اور جس کی دو بیویاں ہوتیں تو بڑی خالہ اور چھوٹی خالہ ۔

نائیوں  سے بال اُڑوانے اور کرسی کے ایک تخت پر زارو قطار رونے کا یہ سلسلہ والدہ محترمہ نے  پابندی سے جاری رکھا ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں پورے محلّے میں بچوں کے چمکتے سر نظر آتے   اور ہر بچہ اپنے سے دوسرے بچّے کو اُؤئے گنجا کہہ کر بلاتا۔ بوڑھا بھی اِسی خطابِ ناہنجارانہ اور گستاخانہ سے ملقوب و منسوب ہوتا رہا ۔

لیکن ظلم یہ کہ سرسوں کا خالص تیل ، بازاری کی ہٹی  میں چلنے والے تیلی سے ٹین کی بنی ہوئی ایک مخصوص بوتل میں منگوایا جاتا ۔جس کے سر کی چمک کئی گنا بڑھ جاتی ۔ 

گھر میں تیل کے  چھوٹے ڈبے  اور بڑے کنستر میں پڑے سرسوں کے تیل کو لگانے کی اجازت نہ تھی کیوں کہ وہ سر پر ملے جانے کے بجائے ۔ پکوڑوں کے تلنے کی کام آتا۔ 

 لیکن ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ سر کی مکمل گولائی میں ماں سے زیادہ نانیوں اور دادیوں کا ھاتھ ہوتا ۔ بوڑھے کے سر کی چاند کی مانند گولائی اُس کی دادی کی کاوشوں کا نمونہ تھی ویسے بھی ، بوڑھے کو بچپن میں  نمّو  اور اگر نہ سنے تو نمونہ کہہ کر آوازیں دی جاتیں ۔ چنانچہ نمّو اور نمونہ کی آوازوں   اور نائی چاچا کے اُسترے  کے زیر سایہ پل کر یہ بوڑھا بچپن اور لڑکپن سے گذرا ۔

 فوجی نائی ، سویلیئن نائی جو  سردیوں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے سرکاری نائی  کی دسترس سے چھٹکارا ملتا تو بوڑھا،  دوردراز کے نائی چاچاؤں کا مشقِ ہدف بنتا ۔یہ نہیں کہ بوڑھا نائی چاچا کے اُسترے  مشقِ ستم سے تنگ آکر دیگر شہروں کا رُخ کرتا بلکہ گرمیوں یا سردیوں کی چھٹیوں میں  والدہ مرحومہ ، بستر بند بندھواتیں اور جہاں جہاں  مامؤں  ہوتے وہاں چھٹیاں گذارنے  ٹرین میں ہم بچوں کو  کھانے کے تمام لوازمات سمیت بٹھاتیں  اور پہنچ جاتیں ۔جہاں ریلوے سٹیشن پر ماموں ، ممانی ، اور اُن کے بے شمار بچے موجود ہوتے ۔

یہ کوئی نصف صدی پہلے کا ذکر ہے ۔ کہ بوڑھا اپنے  دو بھائیوں اورتین بہنوں سمیت اپنی والدہ سمیت ۔ راولپنڈی چھوٹے ماموں ، بہاولپور منجھلے ماموں ، نوابشاہ  بڑے ماموں  اور حتمی منزل میرپورخاص  ، خالہ کے گھر پہنچا۔ 

وہاں ابّا نے بوڑھے کا تعارف مکّہ مسجد کے مرکذی دروازی کے بائیں جانب خلیل چچا سے بال کٹوا کر کروایا ۔ جس میں سامنے شیشے لگے تھے ۔ اور چھوٹے کی ٹنڈ اور اپنی ٹنڈ سے بال پھسل پھسل کر گرتے بوڑھے نے پہلی بار دیکھے ۔ 

گھر آئے تو امی نے پوچھا ، نمّو بال کہاں سے کٹوائے۔ تو نمّو سے پہلے چھوٹا بولا ۔ خلیل بابر کی ہٹی سے ۔

یہ ہٹی کیا ہوتی ہے ؟ خالہ بولیں 

آپا ۔ایبٹ آباد میں دکان کو ہٹی کہتے ہیں ۔ امی بولیں۔

امّی وہ خلیل چچا بابر نہیں باربر تھے  ۔نمو بولا 

زیتون وہ خلیل  باربار سکول کے پاس رہتا ہے ۔ خالہ بولیں ۔

یوں نائی چچا کے بعد بوڑھے کی ڈکشنری میں ، باربر چچا کا اضافہ ہوا۔ لیکن  ماہر گیسوتراش کا تعارف  نمو کا کوئیٹہ میں ہوا ۔ میٹرک کا امتحان دے کر میرپورخاص سے  وحید مراد سٹائل کے بال سجائے       آنے والے نمو کو دیکھتے    ہی  والد  محترم نے کہا ۔ کل بال کٹوا لینا ۔

نمو نے خان محمد جبار خان گیسو و زُلف تراش ، یہاں بغلوں کے بال بھی تراشے جاتے ہیں ۔کی آرام دہ کرسی پر  سورج گنج بازارکی چمکتی دوکان کے اندر بیٹھ کر ،جس کے چاروں طرف  گیسوؤں سمیت ایسی ایسی تصاویر تھیں  کہ بوڑھا کیا بتائے ، سب سے خراب تصویر سولجر کٹ نما  رنگروٹ چہرے کی تھی    جو غالبا انگلش فلموں کا نامی گرامی اداکار تھا ، مبلغ 8 آنے میں اپنے بال ایسے ترشوائے کہ اگر کوئی فلمساز وہاں سے گذرتا تو بوڑھا وحید مراد جونیئر بن جاتا۔

 زلفو کی سیٹ کروانے اور گردن کے پیچھے یعنی گدّی سے  بال ترشوانے  ،  ڈیٹول  سے جراثیم مروانے ، ریٹھے کے شیمپو سے دھلوانے ۔ کے بعد بوڑھے نے سڑک کراس کر کے فوٹو گرافر سے ایک روپےمیں چار  مختلف پوز  نامی تصاویر کھنچوائیں جو بوڑھے کی زندگی کی یادگار تصاویر میں سے ایک ہیں۔

 بوڑھا گھر پہنچا تو ابا آفس سے آچکے تھے اور لان میں کرسی پر  بیٹھےاخبا ر پڑھ رہے تھے ۔ ابا نے ترچھی آنکھوں سے دیکھا ۔ مغرب کی طرف جاتے ہوئےتیز سورج کی روشنی میں نمو کو ابا کے چہرے پر کوئی اتار چڑھاؤ نظر نہیں آیا ۔ 

ابا سے گذر کر نمو امی  کے پاس جاکر چارپائی پر  بیٹھ گیا ۔چاروں بہن بھائی لان میں کھیل رہے تھے ۔ آپاکی شادی ہو چکی تھی ۔

بال کٹوا لئے ہیں ۔ امی نے آہستہ سے پوچھا ۔ 

جی ۔ نمو نے جواب دیا۔

یہ کیسے کٹوائے ہیں ۔ نائی نے کتنے پیسے لئے ۔ امی نے ایک سانس میں پوچھا ۔

آٹھ آنے ۔نمو دھیر  سے سرگوشی کے انداز میں بولا 

امی نے حیرانی میں " آٹھ آنے " کہتے ہوئے بھانڈا پھوڑا ، اتنے میں تو تم  چاروں یعنی ابا سمیت سب کے بال نائی چاچا گھر پر آ کر کاٹتا ۔

وہ ٹھیکیدار فوجی  نائی ہے  ؟ میٹرک پاس  60 کلو گرام  ، باڈی بلڈر نمو  نے  جل کر کہا ۔ 

ابا کی کان بہت تیز تھے ۔ اُنہوں نے نظر بھر کر دیکھا ۔ اخبار ہاتھ میں پکڑ کر کھڑے ہوئے ۔ کمرے میں چلے گئے ۔

تیرے ابا غصے میں نظر آرہے ہیں ۔ اللہ خیر کرے۔امی نے سرگوشی میں کہا ۔ ابا کا غصے میں چنگیز خانی روپ نمو نے کئی بار دیکھا ۔ جب ابا فٹ بال کے کھلاڑی بن جاتے اور شرارتیں نہیں پڑھائی پر نمو اور چھوٹا زیادہ تر فٹ بال کی طرح سیدھا چارپائی کے نیچے گول ہوجاتا کھینچ کر نکالا جاتا  اور کم از کم تین سے بارہ دفعہ ابا کی ٹیم امی کے فاؤل پلے یعنی ہینڈ بال کے باوجود جیت جاتی۔

 خیر اب ابا نے فٹ بال کھیلنا چھوڑ دیا تھا اور ہم دونوں بھائیوں کے لڑھکنے کے انداز بدل چکے تھے ۔بوڑھا تو مار کھاتا رہتا  جو زور دار تارے نچاتے تھپڑوں کی صورت میں ہوتے تھے اور چھوٹا پہلا تھپّر پڑتے ہی سار محلّہ سر پر اٹھا لیتا کہ پڑوسی سمجھتے شاید  نظام الدین عابد ، اسوۃءِ ابرہیمی پر چلتے ہوئے بیٹے کی قربانی پر قائل ہوچکے ہیں اور  پّل صراط سے گذرنے کا انتظام کرنے والے ہیں ۔ کہ پڑوس کے لان سے خالد پرویز کے ابا  چوہدری محمد علی  کی آواز جو اکاونٹنٹ تھے  اور ابا کی یونٹ کا کئی بار آڈٹ کر چکے تھے  ۔

 صوبیدار صاحب نّکے نو چھڈ دیو ، ھالے عید وچ چھ ماہ پڑے نے ۔

لیکن یہ کوئی دسمبر 1968 کی بات ہے ۔ ہم سب بہن بھائیوں کے میرپورخاص شفٹ ہونے اور ابا کے کوئٹہ ہی میں رہنے کی وجہ سے پنجابی فلموں کے یہ سین بوڑھے نے کم ہی دیکھے ۔ 

نمّو نے سوچا ، شاید میٹرک پاس لڑکپن سے جوانی میں جاتے بیٹے کی حرکتِ معاشیانہ گستاخانہ ابا نے قابلِ سزا نہ سمجھی ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کمرے میں پانی پینے گئے تھے تاکہ اُن کا جو غصہ ہے اِس سے پہلے کہ بنکاک کے شعلے بن کر لپکے بجھ جائے ۔

واپس آکر ابّا دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئے اور اخبار پڑھنے لگے ۔ اور جناب اُفق کے پار ہنے والے دوستو۔ غضب ہو گیا ، نمو سر جھکائے بیٹھا تھا کہ نمّو کے بائیں کان پرٹوٹ پڑنے والا  آتش فشائیں دھماکا  ابا کا تھپڑ تھا ، جو سیدھے ہاتھ کی طرف سے نمو کو پڑا اور وہ اپنے دائیں طرف چارپائی پر گرا ، چارپائی پر گرتے گرتے، نمو نے تاروں کی روشنی میں اخبار کی طرف دیکھا وہ جنگ اخبار کا پانچواں صفحہ تھا جس پر فلمی اشتہارات تھے ۔اور ایک دھاڑ سنائی دی    

نالائق خبیث  فوجی کا بیٹا  ناچنے اور گانے والوں  کا روپ دھارنے چلا ہے ۔

دوسرا تھپڑ بائیں ہاتھ کا دائیں کان پر پڑا ۔ نمو امی کی گود میں جاگرا ۔ 

ارے بس کریں نا ۔ جوان بیٹا ہے ۔کچھ تو خیال کریں ۔ امی منمنائیں ۔          

ابا واپس کرسی پر جا بیٹھے ۔ بس صرف دو تھپڑ ، نمو نے ڈبڈبائی آنکھوں سے سوچا ، سودا مہنگا نہیں ۔ اور سیدھا ہو کر سر جھکا کر بیٹھ گیا ۔

یہ تمھارااسے میرپو راکیلے چھوڑ کر آنے کا انجام ہے۔ ایک تو شیعوں کی مسجد میں جاتا تھا اور دوسرے ہیرو بن کر آیاہے ، میں اِس خبیث کو ولن بنا دوں گا ۔ ابا نے امی کولتاڑا

سرکنڈوں  کے دوسری طرف سے آواز آئی ۔ 

 صوبیدار صاحب کوئی گل نئیں آک کل منڈیاں تو  فلما دی ہوا لگ پئی اے ۔ خالد نو   ویکھو ہالے نویں وچ اے ، تے  بنن ندیم  چلا جے۔

نمو وہیں بیٹھا تھا ۔ابّا کو چوہدری صاحب کی بات نے مزید تاؤ دلایا وہ کمرے میں گئےواپس آئے اورجناب نمو  کے  سامنے کھڑے ہوگئے۔ نمو کا سر جھکا ہوا تھا ۔ابا نے نمو کے بال پکڑے ۔ کچ کچ کی آواز آئی ۔ 

آئے ہائے یہ  کیا کر دیا نمو کے ابا ۔ 

میں بناتا ہوں ہیرو ۔ ابا گرجے

دوسری بار کچ کچ کی آواز آئی۔

ابا نے گھاس  کاٹنے کی مشین کے انداز میں ،عین پیشانی کے بیچ سے سر کی انتہائی بلندی تک۔  امی کی مشینی قینچی سے ایسے گیسو تراشے کہ   نمو شیشے میں اپنا سر دیکھ کر روتا اور ہنستا۔          

وحید مراد کی فلموں کے ہیروئن کی جدائی میں جتنے گانے جو نمّو کو پہاڑوں کی طرح ازبر تھے  زُبان سے    ، ہو دنیا کے رکھوالے کی لے میں نکلنے کو بیتاب تھے ۔ مگر فوجی کا بیٹا صرف ٹسوے بہا سکتا تھا۔ شکوہء ستم نہیں کر سکتا تھا ۔سوائے سر پر ایک بار پھر مشین پھروانے اور ٹوپی پہننے کے وہ تو  اللہ کا شکر ہے کہ نمو کے کان سلامت تھے اور بہاولپوری  ٹوپی نمو کو آنکھوں پر گر کر بے بصارت نہیں کرتی ۔  

٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید پڑھیں :۔

٭۔  ایتھوپیا کا نائی 

1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔