میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 18 مئی، 2020

جاہلوں کے فتاویٰ - انجن مدینہ

 خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی، کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین شروع کی گئی-

 آج بھی وہ لائن مدینہ شریف میں بچھی ہوئی ہے اور ترکی ریلوے اسٹیشن کے نام سے مشہور ہے-
 اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ہوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ہونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو دیکھا کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آواز کرنے لگا تو سلطان عبدالحمید غضبناک ہوگئے اور کوڑا اٹھاکر انجن کو مارنا شروع کیے اور کہا شہرِ رسول میں اتنی بلند آواز ؟
  100 سال کا عرصہ ہونے کو آیا، اس وقت سے جو انجن بند ہوا ہے وہ آج تک ایسے ہی مدینہ   میں رکھا ہوا ہے-
اُس کے بعد آدھے یورپ میں پھیلی تُرکی حکومت سمٹنے  لگی  -
یہاں تک کہ شورمچانے والے انجن بنانے والوں نے اِن کے سر پر ہروشلم کا تاج سجا دیا ۔
 ٭٭٭٭٭٭
٭- جاہلوں  کے فتاویٰ - چھاپہ خانہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔