میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 14 جولائی، 2020

شگفتگو- کا تیئسواں ماہانہ مناثرہ

٭ترتیب مناثرہ٭

آصف اکبر : 20 منٹ
03:10 – 03:30
شگفتگو- حسّاس شاعر کے نام خط

عاطف مرزا : 10 منٹ
03:30 – 03:40
شگفتگو- انشائیہ سیاحت

عزیز فیصل ڈاکٹر : 10 منٹ
03:40 – 03:50
 شگفتگو- جی میل اور ہاٹ میل 
  نسیمِ سحر : 10 منٹ
03:50 – 04:00

 شگفتگو- سرفراز شاہد کا ایک بے سروپا، سروپائی خاکہ

  حسیب الرحمٰن اسیر : 10 منٹ
04:00 – 04:10

 شگفتگو-  وضو کر لیجیئے -

  حبیبہ طلعت : 10 منٹ
04:10 – 04:20

 شگفتگو- تصویر اور کیمرا

  شاہد اشرف ڈاکٹر : 10 منٹ
04:20 – 04:30
شاذیہ مفتی : 10 منٹ
04:30 – 

 شگفتگو- حیلے رزق بہانے موت


خالد نعیم الدین - مورخہ 13 جولائی -

 : 10 منٹ
20:49 – 

 شگفتگو- عوامی میلہ یا میل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔