میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 8 اگست، 2020

شگفتگو - خبریے - عاطف مرزا

٭ایک٭
خواتین کی راز کی باتیں صرف پڑوسن، سہیلی، کزن، کلاس فیلو، تندور والی دائی، سکول کی مائی، کام والی ماسی، ریشمی کپڑے والی پٹھانی، رشتے کرانے والی آنٹی، پولیو ٹیم والی باجی، مردم شماری والی استانی، بچوں کی ٹیوشن والی آپی، درس والی خالہ اور چند چیدہ چیدہ خواتین کے علاوہ کسی کو پتا نہیں ہوتیں۔

٭دو٭
پاکستان میں ایک بزرگ دوسروں کے عیب نکالتے پھر رہے ہیں جبکہ ان کے اپنے گھر والوں کا کردار صاف نہیں ہے۔

٭عاطف مرزا٭

٭٭٭٭٭واپس٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔