Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 12 اگست، 2020

جنگل جلیبی


  نوجوان نسل کے بے شمار افراد کے لئے یہ پھل اور اس کا نام اجنبی ہوگا۔ ایک پھل ہے جو دیکھنے میں جلیبی کی طرح لگتا ہے۔ اسی لئے اسے جنگل جلیبی کہتے ہیں۔جنگل جلیبی کادوسرانام گنگا املی بھی ہے۔ اسے انگلش میں
Manila Tamarind) کہتے ہیں۔


کراچی میں یہ پھل ستر اور اسی کی دھائ میں ٹھیلے والے متوسط اور غریب آبادیوں میں گلی گلی پھیری لگا کر فروخت کیا کرتے تھے۔ عام طور پر ان کے پاس جنگل جلیبی۔ املی کٹارے، امرود اور کھٹے لال بادام ہوا کرتے تھے۔ اب تو عرصہ دراز سے کوئ ان کو فروخت کرنے والا نظر نہیں آتا۔البتہ کبھی کبھار ھفتہ بازاروں میں نظر آجایا کرتی ہے۔ اسی دور میں ایک چھوٹے سے ڈبہ نما ٹھیلے پر چورن چٹنی فروخت کرنے والے بھی ہوتے تھے جن کے ٹھیلے پر پانی بھری شیشے کی برنیوں میں ننھی ننھی مچھلیاں بھی ہوا کرتی تھی۔ اس چورن کی ایک خاص بات یہ ہوتی تھی کہ وہ کچھ مختلف سفوف کو کاغز پر رکھ کر ایک سلائ کسی محلول میں ڈبو کر اس سفوف پر رکھتا تو ایک شعلہ سا اٹھتا تھا جس کو بچے بڑی دلچسپی اور شوق سے دیکھتے تھے بلکہ بعضے تو اس شعلے کو دیکھنے کی خاطر ہی یہ چورن لیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک لال کھٹی میٹھی چٹنی بھی ہوا کرتی تھی۔ بچے اکثر شوق میں مچھلیاں بھی خرید لیا کرتے تھے اور گھر میں ان کو کسی شیشے کے جگ یا بوتل وغیرہ میں پانی بھر کر پالا کرتے تھے۔ ہمارے ایک جاننے والوں کے بچے نے ایک مچھلی چپکے سے گھر کے زیر زمین واٹر ٹینک میں ڈال دی تھی اور وہ مچھلی جب ایک سال بعد گھر والوں کو ٹینک کی صفائ کے دوران نظر آئ تو کوئ بالشت بھر کی ہوچکی تھی۔ اب یہ سب متروک ہوچکے ہیں۔ کراچی کے بچے اب گلی گلی پھرنے والے ٹرائ سائیکل سے اگلو، والز، اور اومور کی آئسکریم خرید کر کھاتے ہیں یا لیز کے چپس اور کیڈبریز کی ڈیری ملک چاکلیٹ۔۔۔
کراچی کے مضافاتی علاقوں ملیر کورنگی وغیرہ میں اب بھی جنگل جلیبی کے درخت نظر آجاتے ہیں۔
جنگل جلیبی ایک سایہ دار درخت ہے اور دوسرا فائدہ پرندے اس کا پھل بڑے شوق سے کھاتے ہیں تو ہم کو اس کی شجر کاری کو فروغ دینا چاہئے۔
یہ قد بڑھانے کے لئے بہت بہترین ہے۔ آئیے اس کے کچھ فوائد کا جائزہ لیتے ہیں۔

1۔قد لمباکرنے کے لئے
جنگلجلیبی ،دوانجیر،پودینے کے چند پتے،شہدایک چمچ،کلونجی ایک چٹکی ،آلوبخار ایک سے دو الے کرتھوڑا پانی ملاکربلینڈ کرکے پی لیں۔
2۔کالی کھانسی
دیسی گھی دوچمچ لے کرجنگل جلیبی کے مغزکاسفید حصہ سات عدد جلاکر چھان کررکھ لیں۔ٹھنڈاکرکے دوچمچ شہد میں ملاکراس آمیزے کاایک چمچ قہوے میں ملاکر پی لیں۔
3۔گھبراہٹ اوربے چینی
ایک گلاس پانی میں ایک چمچ جنگل جلیبی کاپیسٹ ملاکر دوگھنٹے کے لئے رکھ دیں اسکے بعد پی لیں۔
4۔متلی اورقے
ایک کپ پانی میں ایک چمچ جنگلجلیبی پسی ہوئی اورپودینہ کی دس پتیاں ڈال کرایک سے دوابال آنے پر چھان کر پی لیں۔
5۔بالوں میں آئل کاآنا
دہی میں جنگل جلیبی کاپیسٹ اورچند قطرے لیموں کارس ملاکربالوں میں لگائیں۔
6۔چہرے کاماسک
جنگلجلیبی اورگڑ پیس کردونوں کوساتھ ملاکرچہرے پرماسک کے طورپرلگائیں۔
7۔پین کلر آئل
جنگل جلیبی ،سرسوں کاتیل دوسوملی لیٹر،رتن جوت ایک ٹکڑا،آمبہ ہلدی بیس گرام،جائفل تین دانے،لونگ آدھاچمچ تمام اجزاء کوپکاکر ٹھنڈاہونے پرچھان کراستعمال کریں۔
8۔مہروں کادرد
جنگل جلیبی کامغز دس سے بارہ دانے،زیتون کے تیل میں کڑکڑالیں۔پھراسمیں اسگندناگوری،سرنجان شیریں،اجوائن خراسانی ملالیں۔تمام اجزاء کوپیس کر صبح وشام آدھاچمچ لیں۔


اس مضمون میں جنگل جلیبی کے فوائد HTV سے لئے گئے ہیں۔
تحریر
Sanaullah Khan Ahsan
٭٭٭واپس ٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔