میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 13 جون، 2020

شگفتگو - سیدھی سی بات ہے -عاطف مرزا

زعفرانی بزم شگفتگو کےمزاحیہ مناثرہ کی 21 ویں محفل میں وٹس ایپ کیا گیا ،عاطف مرزا  صاحب  کا مضمون ۔  
٭٭٭٭٭٭
بات چلی تھی تکیہ کلام کی، پہلی بار سن کر ہم حیران ضرور ہوئے اور اپنے طوراِس کے معانی نکالنے لگے، مثلاً یہ وہ کلام ہے جو تکیے پر لکھا جاتا ہے یا تکیے پر رکھ کر لکھا جاتا ہے، کلام لکھ کر تکیے پر رکھا جاتا یا لکھ کر اُس پر تکیہ رکھا جاتا ہے، کلام میں تکیہ ہوتا ہے یا تکیے میں کلام،کلام کا تکیہ ہوتا ہے یا تکیے کا کلام۔
 ذرا سنجیدگی سے غور کیا، کسی سے پوچھا، کہیں پڑھا، کسی سے سنا تو عقدہ کھلا کہ یہ وہ لفظ، مختصر فقرہ، آوازہے جسے اپنے کلام کی کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سنو جی، میرا مطلب ہے، مطلب، اصل میں، جو ہے، اوئے ہوئے،دیکھیں گے وغیرہ جیسے الفاظ و تراکیب اور فقروں کی ایک لمبی فہرست بنے گی۔
 غرضیکہ جتنے  منہ اتنے تکیہ کلام۔
٭٭٭واپس  ٭٭٭

1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔