میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 30 مارچ، 2014

لکھاری - ثنا اللہ خان احسن

ثنا ء اللہ خان احسن فیس بُک کا ایک مشہور نام ، جس میں تحقیق اور جستجو کا مادہ اُس کی سرشت میں شامل ہے ۔
فیس بُک پر اُن کے پوسٹ کئے ہوئے مضامین    پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں ۔
اُن کے کئی مضامین اُن کی اجازت سے ، " اُفق  کےپار " پڑھنے والوں   کے لئے شامل کئے گئے ہیں :



٭- جنگل جلیبی
٭ـ   اسرول یعنی چھوٹی چندن-
٭ـ   ہندوستانی ٹھگ-
 ٭ـ   خطاط مسجد نبویﷺ - استاد شفیق الزماں-
 ٭- کُکّو کلاک ۔ ۔ Cuckoo Clock -
٭ -  آم پر مفصّل اور دلچسپ تحریر ۔
 ٭- دو اسلام   - غلام جیلانی برق  -  
  ٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔