میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 27 مارچ، 2019

ہربل- سینا چائے وزن کم کریں

دریائے نیل   کے علاقے   (   جنوبی سوڈان ، ایتھوپیا ، سوڈان اور مصر) میں اُگنے والا خودرو پودا- جس کی تجارت  مصر کی بندرگا ہ سکندریہ   سے ہونے کی وجہ سے اِس کا نام ، صحرائے  سینا کے نام پر سینا اسکندریہ (Senna alexandrina) پڑ گیا - یہ ایک خوبصورت پودا ہے جِس کے پیلے پھول  ، آنکھوں کو بھلے دکھائی دیتے ہیں ۔ باغوں میں لگانے کے لئے اِس کو  باقی بر اعظموں میں بھی لے جایا گیا ۔  مصری  میں اِسے عشرق  ، عشرگ     اور بر صغیر میں اِسے ، سنا مکی ۔ سونا مکی ۔ سونا پاتا ۔تخم سنبھالو۔  کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔پاکستان میں اِسے  سنا مکّی  (مکّہ میں اُگنے والی  سنا) کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔
اِس سے انگریزی دوا (Senna glycoside) بنتی ہے جو آپریشن سے پہلے بڑی آنت سے   فضلہ کی صفائی میں مدد دیتی ہے ۔
سیناء کا پودا ڈھائی فٹ سے چار فٹ تک اونچا ہوتاہے۔اس کے تخم ایک انچ لمبے چمکدار اور زردی مائل سبز ہوتے ہیں ۔ اس کے پھول  پیلے  ہوتے ہیں ۔اس کی پھلی چپٹی  سی ہوتی ہے۔جس کے اندر چپٹا سالمبوترا اور کسی قدر خمیدہ چھوٹا ساتخم ہوتاہے۔اس کے پتے  دواء کے طورپر استعمال کئے جاتے ہیں  ۔  
سینا یا سنا ، کی دو اقسام ہیں۔
٭- چھوٹے پتوں والی  سینا   (Cassia angustifolia)- جو مصر میں دریائے نیل کے علاقوں میں پائی جاتی  ہے 
٭- بڑے پتوں والی سینا-(Cassia acutifolia)جو پوری دنیا  میں پائی جاتی ہے ۔
 یہ پودا   صدیوں  انسانی   جسم کی مختلف بیماریوں جو خصوصاً قبض سے پیدا ہوتی ہیں ، اُن کے لئے   مصری ، یونانی اور ہندی طب میں    استعمال کیا جاتا رہا ہے -
٭-  معدے اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا ، فنگس ، وائرس  ، کیڑے   کا خاتمہ ہوتا ہے اور اینٹی آکسیڈنٹ ہے ۔ لہذا:
کینسر ، ذیابیطس ، گردوں کی بیماری ، جگر کی بیماریوں اور ملیریا میں  مفید ہے ۔ 
 مغربی ممالک میں اِس کی عموماً چائے(Senna Tea) بنا کر پی جاتی ہیں ، جو وزن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے ۔  اِس پودے کے پتوں میں پائے جانے والے اجزاء انسانی جسم سے تمام فاصد مادّے   فضلے کے راستے نکال دیتے ہیں ۔
٭-قبض کی صورت میں اِسے بطور دوائی مسلسل 7 دنوں سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاھئیے ۔ 
٭- چائے بنانے کے لئے  دو گلاس پانی میں ایک کھانے کا چمچ ڈال کر  صرف 10 منٹ ابالیں -
٭- قبض کی دوائی کے لئے  اِسے  20 منٹ ابالیں - یہ کیسٹر آئل(  ارنڈی کا تیل) سے زیادہ مفید ہے ۔ 
٭- اِس کے تنکے او  ر ڈنٹھل  کونکال کر صرف پتوں کو ابالا جائے ، کیوں کہ اِن میں قبض کشا  ء تاثیر ، املتاس(
Cassia fistula) کی طرح ۔بہت زیادہ ہوتی ہے - متلی ، بے چینی اور گھبراہٹ پیدا کر دیتی ہے ۔ 
 نوٹ:
ھربل دوائیں ، انسانی صحت کے لئے نہایت مفید ہیں اور اِن کے سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوتے ۔ اللہ نے  تمام نباتات ،  انسان کی زمین پر بطور   غیر ارضی مخلوق (Alien) پہنچنے سے پہلے اُگا دی تھیں ۔
زمین پر موجود حیوانی مخلوق بھی اپنی صحت کا علاج انہیں نباتات سے کرتی ہیں ۔ 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حیوانی اور انسانی حسِ شامعہ(Sense of smell) دونوں ایک  ہی قوت رکھتی ہیں ، لیکن انسانی حسِ شامعہ مصنوعی ماحول میں  قدرتی حسِ شامعہ سے مختلف ہوجاتی ہے ۔  سونگھ کر کسی بھی چیز کو کھانا ، حیوانی فطرت ہے ۔
کہا جاتا ہے ، کہ کسی انسانی یا    گوشت خورحیوانی جسم میں  جب کوئی مرض نمودار ہوتا ہے تو اُس کے جسم کی بو تبدیل ہوجاتی ہے ۔ جانور کو بھی احساس ہو جاتا ہے کہ اُسے کوئی پریشانی لاحق ہوچکی ہے ۔ لہذا  وہ جانور اپنے جسم سے نکلنے والی بو سے متماثل بو، وہ   نباتات میں سونگھتا ہے اور پھر وہ  پودا  کھاتا ہے،  یہاں تک کہ جسم کی وہ بو بیمار  ختم ہو جاتی ہے ۔
   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اِس سال 2020 میں پھیلنے والے وبائی مرض کرونا  کے سلسلے میں  یہ بھی کہا جارہا ہے   کہ ، اِس کا قہوہ بنا کر پیئں تو کرونا مریض کا بخار اتر جاتا ہے اور مرض بھی ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ 
 تجربہ کرنے میں نقصان کیا ہے - خوراک کا استعمال تیسرے دن بتا دے گا ۔ورنہ پیٹ تو صاف ہو گا نا ۔
٭- کرونا مرض کے بارے میں ابھی تحقیق ہو رہی ہے  لیکن جو بنیادی دیسی  علاج   جوتجویز کئے جارہے ہیں وہ  امیون سسٹم  ( خودکار حفاظتی نظام) کو طاقتور بنانے کے لئے ہے ۔  کرونا  وائرس ، مریض کی   سانس کی نالیوں اور پھپھڑوں کو     14سے 15 دنوں میں زخمی کرتا ہے ۔ اب سننے میں آیا ہے کہ یہ خون میں کلاٹنگ پیدا کرتا ہے اور مریض 24 گھنٹوں میں فوت ہو جاتا ہے ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔