میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 11 اکتوبر، 2019

شگفتگو کی چودھویں ماہانہ محفلِ مزاح

چم چم کے ایتھوپیا جانے کے بعد ، اسلام آباد میں  تنہائی سے گھبرا کر 31 اگست کو بوڑھے اور بڑھیا  نے اپنے گھر کا سارا سامان  تقسیم کردیا  اور اپنی اگلی زندگی سفر میں رہنے کا فیصلہ کیااور  عازمِ کوئٹہ  ہوئے  یہ جانتے ہوئے بھی کہ کوئٹہ کی سردیاں ۔ اللہ کی پناہ !
یکم ستمبر سے 9 اکتوبر تک چھوٹی پوتی ، برفی کی پیاری باتوں کے مزے لئے اُس کی ننھی شرارتوں سے لطف اُٹھایا  ۔ شگفتگو وٹس ایپ فور پر    محفل کے دوستوں سے رابطہ ، اُن کی پر لطف باتوں ، مزاحیہ چٹکلوں سے  رہا ۔ 
 پھر سردیاں گذارنے  ،  ایتھوپیا جانے  ، کا پروگرام بنا ، 9  اکتوبر کو  کوئٹہ سے اسلام آباد  اور 12 اکتوبر  یعنی ہفتہ کی صبح  3:00  ،  بوڑھے اور بڑھیا   کو  عدیس ابابا  کے لئے روانہ ہونا تھا -
شگفتگو کی چودھویں بزم مناثرہ   زعفرانی نشست، جناب آصف اکبر نے اپنے گھر برپا کرنے کا پروگرام بنایا ۔ 
اب بوڑھا پریشان ، کہ 12 اکتوبر کو تو وہ سفر میں ہوگا اور  بزم مناثرہ کے    زعفرانی دوستوں  کی قہقہہ آور محفل میں اُن سے ملاقات بھی فرض اولین میں سے ایک ہے ۔ پھر نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے ۔
 بزرگِ کبیر جناب آصف اکبر   سے اِس بزرگِ صغیر نے دست بستہ وٹس ایپ پر درخواست کی کہ اگر صرف ایک دن پہلے ، یعنی 11 اکتوبر کو یہ  محفل منعقد کر دی جائے تو تا حیات ممنون و مشکور رہوں گا ۔ کا فی رد و قد و خیالاتِ منفرادانہ کے اظہار کے بعد دوستوں نے سوچا  ، کہ چلو اپنے جمعہ کو  برباد کرنے کے بجائے  پانچ بجے   ۔ اِس محفل کو مقیم کردیا جائے ۔
تو احبابِ  و قارئین ، بزم مناثرہ کے    زعفرانی دوستوں  کی قہقہہ آور محفل کا انعقاد   ڈی ایچ اے ون میں جناب آصف اکبر کے دولت کدہ  میں ہوا-

میزبان کے ہاتھوں سے محفل  کے شروع    کرنے  کا اختیار ڈاکٹر   عزیز فیصل  نے لے لیا 
 
اور  اپنا مضمونِ لطافت  کی ابتداء کرکے  بلند قہقہوں، دبی دبی  ہنسی اور صرف مسکراہٹ  کا انبار تقسیم کرنا شروع کر دیا  -
اگلی  ترتیب ، اینٹی   کلاک وائز کے اعتبار  ،  انداز و بیابان کا بوجھ بوڑھے پر ڈال دیا کیا ۔ بوڑھے نے اپنا   آئی پیڈ نکالا   اور   " برفی اور سر کی مالش " سنایا -

بوڑھے کے بعد جناب ظہیر قندیل نے، اپنا ہنستا مسکراتا  مضمون سنایا ۔ 
 
ظہیر قندیل کے بعد نئے ممبر اعجاز جعفری صاحب نے بھی   قہقہو ں کی برسات شروع کر دی -

 محترمہ حبیبہ طلعت  نے بھی محفل  کو قہقہوں اور مسکراہٹوں کی طرف لے گئیں  ۔


 آصف صاحب  ،  بمبئی ، دلی  ،  حیدرآبادی     دے لبریز انواع و اقسام  کے دسترخوان کی وسعت سے بوڑھا  تو کیا کئی احباب لطف اُٹھا چکے ہیں - لہذا  اِس بار بھی  سب نے خوب لطف اٹھایا ۔

اور یوں بوڑھے کو احسان بار کرکے ،     زعفرانی دوستوں  کی قہقہہ آور محفل کی یادوں کے خزانوں کے ساتھ  احباب نے دعاؤں کے ساتھ  رخصت کیا اور بوڑھا رات 11 بجے ، بڑھیا کے ساتھ اسلام آباد نئے ائرپورٹ پر پہنچ گیا -

(مبصّر -  بقلم خود)
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔