Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 23 ستمبر، 2022

ٹرانس جینڈر۔سقیم انسان

 اُفق کے پار بسنے والے ، نیک دل  دوستو۔

سوشل میڈیا بالا ٹاپک کی خرافات سے بھرا ہوا ہے ۔ جس میں ٹرانس جینڈر (مخنث مرد و عورت) کے جسمانی عارضے کو صرف اور صرف، مرد کی حرامزدگی سے جوڑا ہے ۔ جو کسی بھی انسانی مرد   یا مؤنث ، (انسان  جانوروں میں ہو یا پرندوں ) کو  اپنی جنسی تسکین کے لئے استعمال کرتا ہے ۔اور یہ پھیلایا جارہاہے ، کہ پاکستان کی ہر گلی میں، ٹرانس جینڈرز الفواحش  (ظاہر یا باطن) میں ملوّث نظر آئیں گے ۔

بوڑھا بھی یہ ٹاپک ، پڑھ رھا تھا اور سوشل میڈیا کے خرافاتی و بکواسی، مذہبی فاشٹ  اور غیر مذہبی فاشسٹ  پاکستانیوں    مرد و زن کی یاوہ گویا ئیاں پڑھ رہا تھا ۔

بوڑھا صرف ایک سوال پوچھتا :۔خواجہ سرا یا ہیجڑا کس کی تخلیق ہے ؟؟؟


وٹس ایپ مذھبی گروپ, جو اپنے اپنے تراجم اور لَغویاتی گھمن گھیریوں، کاغذی تلواری لڑایاں لڑ رہے ہیں میں گھمسان کی جنگ، پی ٹی آئی  کے صدر پاکستان  کے  ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 ، جو   نیشنل اسمبلی میں غیر پی ٹی آئی ، حکومت نے 2022 میں بطور قانون منظور کیا ۔

 یہی وجہ ہے کہ کائینات میں انسان کے علاوہ جو انسان سے مماثلت رکھے والی مخلوق ڈھانچوں کی صورت میں۔زیر زمین دریافت ہو رہی ہیں ، یا دقتاً فوقتاً ، مؤنث جانوروں کے بطن سے  تولد ہوتی ہیں ، وہ سب اِسی  مردانہ خباثت کا نتیجہ ہیں، جو فواحش کے زمرے میں آتی ہیں ۔ 

لوطیوں کی لواطت، اِس سے الگ ہے ۔

 جس کے لئے ربّ العالمین نے خود رمّی یعنی سنگساری کی سزا تجویز کی ہے ، جو مذھبی طبقہ دورانِ حج ،پتھر کے ستونوں پر پتھراؤ کرکے اپنا جنسی تلذذ  نکالتا ہے ۔  

پھر جب اُن کے طرف سے ، بھی مخالفت شروع ہوئی۔ جن کا اِس سے بالکل تعلق نہیں تھا ۔کیوں کہ وہ مکمل مؤنث تھیں اور بوڑھے سے درخواست کی کہ وہ ، اُس پٹیشن کو لازمی پھیلائے ۔ تاکہ مملکت خداداد پاکستان میں ، ماؤں کے بطن سے تولد کی جانے والے ٹرانس جینڈرز کی مخلافت کی جائے ۔ جن کے لئے حکومتِ پاکستان نے باعزت روزگار کے مواقع کھول دئے ۔ اور ملائیت کے پنجوں سے نکال دیا ۔ 

لیکن اِس کے لئے بوڑھے کو جذباتی کرنے کے لئے اُن علمی کُتب کے حوالے دئے گئے ، جو رحمت للعالمین  پر اھانت کے زمرے میں آتی ہیں ۔

تو بوڑھے نے یہ پوسٹ مشتہر کی :۔

تو اِن کتابوں کو کھوجنے والے ۔


ایک دوست نے سوال کیا :۔


 اُفق کے پار بسنے والے ، نیک دل  دوستو۔
اب بوڑھا ، اِس ٹرم، ٹرانس جینڈر   کی تخلیق کا مجرم کون ؟،  کی وضاحت پیش کرنے والا ہے ۔لیکن اُن کتابوں سے جو ملائیت نے اپنے اوپر حرام کر رکھی ہیں اور بوڑھے  کے اوپر ، کافر ، مشرک اور ملحد  کے فتاویٰ چسپاں کر رکھے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون ۔ ٹرانس جینڈر   کی تخلیق کا مجرم کون؟   


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔