Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 18 ستمبر، 2022

پالومینو اور لنکس رنگت کی نسل ۔

اُفق کے پار بسنے والے ، نیک دل خرگوش پال دوستو۔

خرگوشوں کی دنیا میں ، اُن کے بنیادی رنگ سفید اور سیاہ کے امتزاج سے  سمیٹے ہوئے   رنگ،کرہءِارض پر  پھیلی ہوئی خرگوش نسل    احسن الخالقین  کی  رنگوں بھری کائینات  میں  ، کُن  سے کلمہ اور کلمہ سے آیت  او ر آیات  کی تصریف      کا بھرپو اظہار ہے ۔

لیکن کرہ  ارض میں   اپنے پنجوں سے کھو ہ بناکر انسانوں سے پوشیدہ رہنے والے خرگوشوں میں یہ رنگ پہلی بار امریکہ میں دیکھا گیا ۔ غالباً بوڑھے کے سال پیدائش سے ایک سال پہلے یعنی 1952 میں ۔ اور آج اتفاق سے بوڑھے کو یوم ولد ( پیدائش کادن)  یعنی 16 ستمبر ہے ۔

لیکن ایک راز کی بات کہ پالیمینو(Palomino) لفظ اصل میں سپینی زُبان سے انگریزی نے  ادھار لیا ہوا ہے جو سپینی   ، کبوتروں کے انڈے سے نکلے ہوئے اور سنہری رواں بھرے کبوتر کے چوزوں کو کہتے تھے ۔لہذا سپینی اپنے ہاں کے تمام گولڈن رنگت  رنگ رکھنے والے  ، جانوروں یا پرندوں  کوپالیمینو کہتے تھے ۔ 

چنانچہ جب چمکدار  سنہری رنگ والے گھوڑے کو نمائش میں رکھا گیا ، تو  کسی سپینی  کے منہ سے نکلا  وہ پالیمینو گھوڑا  کتنا خوبصورت ہے  ۔

چنانچہ   1952 میں یہ امریکی خرگوش پال  مارک ینگر  نے اپنی ،  لون پائن ریبٹری میں    منگوائے  اور اُن کی نسل  امریکہ میں پیدا ہو کر، ریبٹری کے مالک ۔  مارک ینگر  کے ہاں بڑے ہوئے۔ اِن خوبصورت سنہری رنگت  والے خرگوشوں کو امریکن ریبٹ بریڈرز ایسوسی ایشن کے قومی کنونشن میں رکھا تھا۔
جہاں اِسے الگ پہچان کے لئے ، پالومینو نام 1953 میں اپنایا گیا تھا، اور  معمولی تبدیلیوں کے ساتھ ، اِس نسل کو 1957 میں تسلیم کیا گیا تھا۔حالانکہ ، خرگوش کی تمام نسلیں ، اُس پہلے خرگوش نے پھیلائی اور سیاہ رنگت اور اُس  کی مادہ سفید رنگت کی تھی ، یوں نیچرائزڈ امریکن ریڈ انڈینز پر بازی لے گئے ۔ یہ نسل   1960 کی دہائی میں زیادہ عام ہو گئی۔  ، 

پالومینو خرگوش کی آنکھیں بھوری رنگ کی ہوتی ہیں اور ان کے جسم دیگر نسلوں سے بڑے ہوتے ہیں۔ ان کی شکل نیوزی لینڈ کے خرگوش سے ملتی جلتی ہے اور ان کے دو اہم رنگ ہیں، سنہری اور لنکس۔

لنکس کو آپ یونانی جنگلی بلی کہہ سکتے ہیں ، جس کی رنگت خرگوش کو ادھار دی گئی ، بوڑھے کی ریسرچ کے مطابق، یہ دونوں رنگ پالومینو(کبوتر کے بچے )  اور لنکس (جنگلی بلی )، نیوزی لینڈ سے امریکہ نیچرائزڈ کئے ہوئے ، اُن خرگوشوں کو علیحدہ نسل  قرار دینے کے لئے تفویض دئے گئے جیسے آدم (حبشی) اور اُس کی زوج (اٹالیئن) کو مختلف النواع رنگت کے انسانی نسل کو دئے گئے ۔

پڑھیں ۔ایتھوپیا کے ماضی بعید میں سفر       

 مادہ خرگوش پیدائش کے بعد 4 سے 5 ماہ کے درمیان  بلوغت  کو پہنچ جاتی ہے اور ایک سے دو ماہ کے بعدخرگوش کے ملاپ سے ،خرگوش کے صلب  ، کے بچہ دانی میں پہنچتے ہی  اِس کے   بیضہ سے ترائب نکلتے ہیں      اور   یہ حاملہ ہو جاتی ہے ۔   حمل کی مدت تقریباً 30 دن ہوتی ہے اور کامیاب ڈیلیوری کے بعد وہ 3 سے 8 بچے خرگوش کو جنم دے سکتی ہے۔

اِس نسل کے  خرگوشوں کا وزن 3.5 سے 4.5 کلو گرام کے درمیان ہوتا ہے۔ سائز کے لحاظ سے، اس نسل کا تعلق درمیانے درجے کے خرگوشوں  میں ہے ۔

 اوسطاً 7 سے 10 سال کے درمیان عمر ہوتی ہے، لیکن اگر ان کے لیے دیکھ بھال کے حالات  بہترین رکھے  جائیں تو ان کی عمر زیادہ ہو سکتی ہے۔ 

موسم بہار میں ، اِن کے بال جھڑتے ہیں ، آپ ہفتے میں ایک سے دو بار ان کی کھال کو کنگھی کر یں تو پرانے بال نکل جائیں گے اور نئے بال آئیں گے ورنہ پرانے بال جسم پر گچھوں کی صورت میں جمع ہوجائیں گے ۔

٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  



٭٭  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔