میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 15 جنوری، 2020

ایتھوپیا کے ماضی بعید میں سفر

گو کہ مجھے مضمون کا عنوان افریقہ کے ماضی بعید میں سفر لکھنا تھا ۔ لیکن  میں نے مضمون کا عنوان ایتھوپیا چنا ، اس لئے کہ ایتھوپیا پر مضامین میں عدیس ابابا میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں، یہاں کی خواتین میں  مجھے شمالی دنیا کے نقو ش نظر آئے ہیں ،  کیوں کہ میرے فہم کے مطابق  خوبصورتی عورت کے نقش میں پائی جاتی ہے ۔ (مہاجرزادہ )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہم یہ تو جانتے ہیں کہ سب سے قدیم تہذیب   میسو پوٹامیا کی ہے ۔ جو  دریائے دجلہ اور فرات  کی وادیوں  کی تھی  اور جس کا اندازہ   10 ہزار سال قبلِ  لگایا جاتا تھا ۔ 
لیکن جدید تحقیق کی وجہ سے اب اِسے  6500 سال قبل  کی تہذیب شمار کیا جانے لگا ہے ۔
لیکن آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کی تہذیب  کا اندازہ  75 ہزار سال پرانا مانا گیا ہے ۔ 
چین کی "گیاہو" تہذیب   7 ہزار  سال پرانی ہے ۔ 
اردن کی" عینِ غزل تہذیب"  کو 7ہزار 200 سال پرانا گردانا جاتا ہے ۔
اُس کے بعد مصری تہذیب ہے ۔ جو تقریباً ،   3500 سال پرانی شمار کی جاتی ہے ۔ 
اچھا یہ سب اندازے ، اُن باقیات ،یعنی دریافت ہونے والی ہڈیاں اور کھوپڑیوں سے لگائے گئے ہیں جو آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران دریافت ہوئیں ۔ لیکن ایتھوپیا کی لوسی  کے  ڈھانچےکی ہڈیوں کی عمر پوٹاشیم آرگن ریڈیو میٹرک سے تقریباً 3,200,000سال نکالی گئی ہے۔
اِن تمام  دریافت کے باوجود  ، ہم یہ تقریباً یقین سے کہہ سکتے ہیں، کہ لوسی انسانوں  کی ابتداء تو نہیں ہوسکتی ۔ 
لیکن تہذیبوں کے تمام ڈانڈے جاکر  آسٹریلیا سے جا ملتے ہیں جو 75 ہزار سال پرانی مانی گئی ہے ۔ 
 لیکن جب ہم کرہ ارض پر پھیلنے والی انسانی حیات  کے نقوش دیکھتے ہیں تو  ،اِس کی ابتداء افریقہ دریائے  نیل کے منبع جھیل جو یوگنڈا، کینیا اور تنزانیہ کی اب مشترکہ جھیل وکٹوریہ سے ہوتی ہے ۔  کب؟
اگر لوسی کی عمرتقریبا!  3,200,000سال کے لگ بھگ ہے اور جو ایتھوپیا کے شمالی علاقے ھدار(Hadar) میں ، دریافت ہوئی ، تو یقینا چمپنزی لوسی تک پہنچنے میں انسانی ارتقائی سال اِس سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ایک تاریخ کے محقق ڈاکٹر نواح حرارے کا کہنا ہے ، کہ ماڈرن عقلمند انسان کا ظہور 25 لاکھ سال پہلے ہوا ۔لیکن 20 لاکھ سال تک اُس نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا کہ اُسے انسانوں میں گنا جاتا لیکن وہ چلتا دو پاؤں پر تھا اور اُس کی انگلیاں موجودہ انسانوں کی طرح تھیں ۔
لیکن اُسے چمپنزی کا کزن کہا جاسکتا تھا ،صرف 60 لاکھ سال پہلے ایک چمپنزی ماں کی دو بیٹیاں تھی ، ایک تمام چمپنزیوں کی "جد ماما " بنی اور دوسری ہماری " جد ماما "۔ (صفحہ 5 سیپیئن ۔ انسانوں پر ایک مختصر تاریخ )
   گویا یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے ، کہ لوسی وہی "جد ماما"   ہے جِس کی نسل سے  انسان پھیلے ۔ لیکن مہاجر زادہ اِس سے اتفاق نہیں کرتا ، کیوں ؟کہ  سائنس دان یہ بتانے سے قاصر ہیں ، کہ وکٹوریہ جھیل کے اردگرد  کرہ ارض پر ظہور میں آنے والی ،  افریقی نسل ، ٹھنڈے علاقوں میں جاکر سفید اور دلکش ناک و نقش  میں کیسے تبدیل ہوگئے ؟
اور انسانی جد امجد ، نیلی آنکھوں سفید رنگت والی ماں اور موٹے نقوش والا حبشی باپ ، کا ھبوط پہلے کرہ ارض کے کس حصے میں نمودار ہوئے ؟ 
مذھبی کتابوں کے علاوہ تاریخی کتابیں خاموش ہیں ۔
 انسانی گوری اور کالی رنگت کے باعث فرقے اور قبائل کیسے وجود میں آئے ۔؟ 
اور اِس کی ابتدا کیسے کی جائے ؟

مہاجرزاہ کے فہم کے مطابق، ذیلی چارٹ دیکھیں -




باقی دنیا میں سفید رنگت والی  عورت  اور کالی رنگت والے مرد کےآپس کے ملاپ (Inter breading)  سے   صدیوں کے سفر میں مختلف رنگوں     کی آنکھوں، خوبصورت اشکال  اور  کے انسان وجود میں آئے ۔
 (دائیں -چھوٹی بچی اور افریقی خاتون کی شربتی آنکھیں - درمیانی- افریقی بچہ اٹھائے ہوئے خاتون کا شوہر جنگ پر گیا تھا ،بائیں- عورت نے بنک سے مردانہ نطفہ لیا مگر وہ افریقی مرد کا نکلا ۔ ) 
 رنگت کے اور زبانوں کے اختلاف نے انسانوں کے درمیان فرق ڈالا ،گوری رنگت  حکمرانوں کی رنگت کہلائی ، کالی اور سانولی رنگت غلاموں کی ۔ لہذا  رنگتوں کے اِس اختلاف نے انسانوں کو فرقوں میں تبدیل کردیا۔  کالی رنگت والے تاریک بر اعظم کی طرف دھکیل دئیے گئے  اور سانولی رنگت  والوں نے ایشیاء کی طرف کوچ کیا اور گوری رنگت والے مغرب کی طرف قابض ہوگئے ۔
 جغرافیہ دانوں کی رائے کہ کہ پہلے تمام بر اعظم آپ میں جڑے تھے ، پھر آہستہ آہستہ زمین پر توازن برقرار کرنے کے لئے  وہ   دور ہوکر اپنی موجودہ جگہ پر پہنچ گئے ۔
 سوال پیدا ہوتا ہے کہ دور ہونے کی وجہ کیا ہوئی ؟
جب  زمین ٹھنڈی ہوئی تو اُس پر خلاء سے  برفانی تودوں نے گرنا شروع کیا  اور تمام نشیبی علاقے   برف کے پگھلنے کے بعد پانی سے بھر گئے ۔ جنھیں  بحر و ابحار سے موسوم کیا گیا ۔ پانی  تمام حیات کا لازمی جزؤ بنادیا گیا ۔  اور واحد جرثومے سے کر الارض پر حیات  کی ایک کڑی نے جنم لیا ۔اِس طرح کئی کڑیاں بنتی گئیں ۔
انسانی تخلیق کا واحد جرثومہ جِس سے حیاتِ انسانی ظہور میں آئی ، وہ آپس کے ملاپ (Inter breading) کے ذریعے دنیا میں پھیلی جس کے خطے ابھی تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے تھے ۔  خطے جدا ہونے کے بعد  جو انسانی  گروپ  وہاں پہنچے مقید ہوگئے  تو اُن کی حیات کا پھیلاؤ ایک نیا رنگ اختیار کر گیا ۔ جیسے  آسٹریلیاء کے  قدیم باشندے ۔ 



افریقہ میں پائے جانے والے بن مانس نما انسانوں کے ڈھانچوں نے یہ ثابت کہا کہ ماضی کا انسان ، موجودہ انسان کی طرح کسی  بھی  جانور سے ملاپ کر سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے وہ نسل جو اِس ملاپ کے نتیجے  میں پیدا  ہوئی وہ چمپنزی   یا گوریلے  کی نسل سے  تھی ،  جو آپس کے ملاپ کی وجہ سے معدوم ہوگئی ۔ لیکن اگر   نر کا یہ ملاپ انسانی مادہ سے ہوا تو وہ قائم رہی ، یہ کہنا کہ انسان بندر کی جدید قسم ہے غلط  ہے۔ انسان کا نطفہ تمام حیوانی حیات سے مختلف ہے ۔ جس کا ملاپ اگر حیوانوں سےکروایا جائے ، تو علیل جسم وجود میں آئے گا ۔ جن کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں دریافت ہو رہی ہیں ۔
ابھی تک قدیم انسانوں کی جو باقیات ملی تھیں ان کا تعلق ایتھوپیا سے ہے اور اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً دو لاکھ برس پرانی ہیں۔ اگر کہیں ایڈن گارڈن تھا بھی، تو وہ پورا افریقہ تھا۔
مراکش کے  جبل ارہود سے حاصل ہونے والے ہڈیوں پر  تحقیق کے مطابق تقریباً تین ساڑھے تین لاکھ سال قدیم ہے جبکہ کھوپڑیوں وضع تقریباً موجودہ دور کے انسانوں ہی جیسی ہے۔ 
ماہرین آثار قدیمہ نے انٹارکٹکا کے لاپا نامی مقام سے تین ایسی کھوپڑیاں دریافت کی ہیں جن کے سر اونٹ کے کوہانوں کی طرح بلند اور لمبے ہیں۔ یہ دریافت کسی عظیم تر انکشاف سے کم نہیں کیوں کہ اس سے قبل سائنس دانوں کا ماننا تھا کہ اس خطے پر زمانہ جدید کے انسانوں سے قبل کبھی بھی انسان کے قدم نہیں پڑے اور اس دریافت کے بعد غالباً تاریخ کی کتابوں کو از سر نو لکھنا پڑے گا کیوں کہ ملنے والی کھوپڑیاں محض انسانوں کی سادہ کھوپڑیاں نہیں بلکہ وہ کھوپڑیاں ہیں جن کے سروں کوبچپن میںقبیلے کے روسم و رواج کے مطابق  مصنوعی طریقے سے لمبا کیا گیا تھا -جس طرح ہم آج بھی متعدد افریقی قبائل کو رسم و رواج کے تحت ایسا کرتے دیکھتے ہیں۔ اور وہ کھوپڑیاں جن کے سر بندروں کی طرح چھوٹے تھے ، جیسے پاکستان میں دولے شاہ کے چوئے پائے جاتے ہیں۔


 موجودہ انسانی ارتقا سے پہلے ابتدا میں انسانوں کی مختلف نسلیں تھیں، جو دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف تھیں اور سب کی اپنی خوبیاں اور خامیاں تھیں۔ اور ایسی مختلف نسلوں کا دیگر جانوروں کی طرح ہی ارتقا ہوا، ان کی شکلیں اور ہیئیت ہزاروں سال میں تبدیل ہوتی گئیں۔تو کیا انسان کرہ ارض پر نباتات کی طرح     ، نطفے کے چھڑکاؤ کے بعد  اُگے  ۔
رنگتوں پہ قائم حکومتوں کے درمیان اتحاد ہوا ، مخالف رنگتوں سے جنگیں ہوئی ، مالِ غنیمت  اور عورتیں  لوٹ کر اپنے علاقوں میں لے جائی گئیں ۔
 اب تاریخ دان پریشان ہیں کہ ماں سے نسل چلائیں یا باپ سے ، جہاں ماؤں کے ڈی این اے مشترک ملے وہاں نسل " جد ماما" سے تسلیم کی گئی اور جہاں  باپوں کے ڈی این اے مشترک ملے وہاں نسل " جد بابا " سے چلائی گئی ۔ 
اِس قدیم تمہید کے بعد اب ہم  دریائے نیل کے دائیں بائیں رہنے والی قدیم تہذیبوں  پر نظر ڈالتے ہیں ۔
جن کا ارتقاء جھیل وکٹوریہ سے ہوا تھا اور     جو   بلآخر دریائے نیل کے سمندری دہانے پر جاکر پھیل گیا ۔جہاں سے مصری تہذیب  نے کئی سو سال  شمالی  افریقہ (مصر ، سوڈان اور ایتھوپیا )  پر حکومت کی ۔

٭٭٭٭واپس ٭٭٭
  اگلا مضمون:
  ایتھوپیا اور مصری تہذیب  (زیر تحریر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔