میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 12 جنوری، 2020

ایتھوپیا - دوسرا سفر اسلام آباد تا عدیس ابابا

4 جنوری کو  بڑھیا ،چم چم کی ماما اور بوڑھا  ، بیٹی کے گھر الوداعی  عشائیہ کھا کر  سامان سے لدے ہوئے نکلے ، دو گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں   9 بجے رات  نکلے    اور 10 بجے آرام سے ائرپورٹ پہنچ گئے اور چم چم کاانتظار  کرتے رہے ۔

10:25پر چم چم کا قافلہ ائرپورٹ پہنچا  ، الوداعی ملاقات کے بعد  چم چم ، چم چم کی ماما،بڑھیا اور بوڑھا سامان ٹرالیوں میں ڈلوا کر  انٹرنیشنل ڈیپارچر کے گیٹ سے اند داخل ہوئے ، سامان کی سکیننگ ہوئی ایک 33 کلو کا بیگ جس میں دوائیاں اور مصالحے تھے کھلوا کر چیک کروایا ، سکیورٹی/کسٹم کلیئر ہونے کے بعد ، تمام کارگو میں جانے والے بیگ اور پریشر کُکّر کے ڈبے کو پلاسٹک  میں لپیٹا گیا ۔  کیوں کہ بوڑھا بیگ کو تالے نہیں لگاتا کیوں کہ لوگ ایماندار ہیں ۔
بوڑھے نے 300 روپے ادا کئے ۔ اور  بورڈنگ پاس کے لئے  امارات کے کاونٹر کی طرف بڑھے ۔

بورڈنگ پاس لے کر ایمبارکیشن کاونٹر کی طرف بڑھے ، 
وہاں ایک لمبی لائن تھی ، سینئر سٹیزن کی لائن میں جوان کھڑے ہوئے تھے بوڑھا اعتماد سے لائن کو کراس کرتا ہوا ، بڑھیا اور چم چم کے ساتھ سب سے آگے آیا ، ایک نوجوان نے کہا ،
"انکل لائن میں آئیں"
"لائن ہی میں آیا ہوں نوجوان"بوڑھے نے جواب دیا۔
" نہیں آپ پیچھے جائیں " نوجوان احتجاجاًبولا ۔

" ذرا سامنے کے بورڈ کو پڑھیں ، کیا لکھا ہوا ہے ؟" بوڑھے نے کہا
" لیکن یہاں تو سب کھڑے ہیں سینئر سیٹیزن کی کوئی لائن نہیں ہے"۔ نوجوان بولا۔

" ہم نے بنا لی ہے ، لہذا آپ چپ رہیں یا اپنی لائن میں جائیں" بوڑھے نے کہا،
نوجوان چُپ ہو گیا ، اور بوڑھا ، بڑھیا اور چم چم کو لے کر  کاونٹر کی طرف بڑھا ۔
 بوڑھے سے ایتھوپیا سے ویزہ فارم لے کر پاسپورٹ ٹٹولا گیا ، سینئر کو بلایا اُسے ویزہ فارم دکھا یا جس پر چم چم ، بڑھیا اور بوڑھے کو ایتھوپیا آنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ اُسے غور سے پڑھا ، بوڑھے اور بڑھیاکی طرف دیکھا   ، چم چم کی طرف دیکھا اور سر ہلا دیا ۔ 
 پاسپورٹ پرمہریں لگوا کر، فائینل  سامان کی کلیئرنس ایف آئی اے نے سکینر مشین سے سامان نکلوا کر کروائی  اور  لانج میں جا بیٹھے ۔ 
چم چم کی ماما نے پوچھا ،" پپا آپ نے بتایانہیں کہ عدیس سے اسلام آباد سفر کیساگذرا؟"
بڑھیا  نے بتانا شروع کیا  ، چینی گڑیا سے بحث کا حال بھی بتایا  ۔ 
" پپا ، کیا آپ نے اُسے سوری کہا ! چم چم کی ماما بولی 
" بالکل کہا ، بلکہ جب اُس نے تیز چلتے ہوئےٹکر ماری ، تب بھی اُس کی سوری کے جواب میں کہا ،بے بی کوئی بات نہیں " بوڑھا بولا۔
" کیا ؟ آپ نے اُسے بے بی کہا " چم چم کی ماما بے یقینی میں بولی ۔
" نہیں تو کیا ، آپا یا آنٹی کہتا ؟ " بوڑھا بولا
 " پپا ، بے بی  پارٹنر کو  کہتے ہیں اور نیگیٹو لفظ ہے " چم چم کی ماما جھنجھلا کر بولی ۔

" ارے ڈولی ، مجھے کیا معلوم کہ اِس لفظ کے معنی ہی تم نوجوان نسل نے بگاڑ دیئے ہیں " بوڑھا بولا۔
" اب سمجھا کہ پہلی دفعہ ، بے بی کہنے پر ،اُس چینی گڑیا کا رنگ سُرخ کیوں ہوا تھا ؟اور دوبارہ جس بے بی کہا کر سر پر ہاتھ رکھا تو اُس کارنگ گلابی کیوں ہوا ؟" بوڑھا بولا۔

اور سوچنے لگا ، پہلے شعروں کا استعمال رُسوا کیا کرتا تھا اور اب شائد الفاظ کا استعمال رُسوائی کے نہج پر نہ لے آئے ۔ 
ہم زمانہ ءِ قدیم کے باشندے ،  بچیوں کو بیٹی ، بے بی   ہی کہتے تھے اور اب معلوم ہوا ، کہ اگر "اچھی بچی" کہا جائے تو وہ بھی قابلِ گرفت بن جاتا ہے ۔ بھابی ، بہن اور آپا سے  بھی ہم نہیں نکلے ۔ نام ہم سے پکارا نہیں جاتا  ، آہ !  انشاء   جی ، اب کیا کیا جائے ؟"
 رخصت کے وقت چینی گڑیا کا جملہ ،" سر میں آپ کو نہیں بھول سکوں گی " ، نے بوڑھے کو حوصلہ دیا کہ الفاظ جو بھی مفہوم دیں ،  آپ کا عمل بتاتا ہے کہ بولا جانے والا جملہ ایک مشفق بُزرگ کا ہے یا ٹھرکی بُڈھے کا ۔  پاکستان میں تو 20 سالہ  لڑکیوں سے اتنا واسطہ نہیں پڑتا ، لیکن یہاں تو وہ ہر دُکان پر پائی جاتی ہیں جن سے    لازمی بات چیت ہوتی ہے  اور وہ بھی ہنسی خوشی  دکان پر پڑی ہوئی اشیاء  کی مارکیٹنگ (اپنی نہیں) کرتی ہیں ، بوڑھے نے صرف تقریبات کے علاوہ کسی ایتھوپیئن  نوجوان خاتون کو میک اَپ میں نہیں  دیکھا ۔
بہر حال بوڑھے نے اب وہ تمام الفاظ اپنی ڈکشنری سے نکال دیئے ہیں ، اب سمجھ آئے یا نہ آئے ، ایک جملہ کہتا ہے ،" بیٹی کیسا حال ہے ؟"
خیر  1:10 ،پر  ڈیپارچر ایریا میں داخل ہونے کا حکم ملا ، ٹنل سے گذرتے ہوئے جہاز میں بیٹھے ، اور اپنی سیٹوں پر جا کر بیٹھ گئے ۔ بوڑھا حسبِ معمول  فلمی نیند  میں گُم ہو گیا ، کھانا آیا بڑھیا  نے جگایا ۔ کھانا کھا کربوڑھا پھر سو گیا،03:40 پر جہاز  دُبئی ائر پورٹ پر اُتر گیا ۔اگلی  فلائیٹ  6 گھنٹے بعد تھی ۔ 
ائرپورٹ پر موجود  آرام دہ کرسیوں  پر جاکر براجمان ہوگئے ۔چم چم نے اپنی ماما کے ساتھ جاکر  عدیس ابابا میں موجود سہیلیوں کے لئے تحفے خریدے ، ماں اور بیٹی اپنا 7 کلو والا بیگ خالی لائیں تھیں ، صرف ماما کے بیگ میں بوڑھے کا لیپ ٹاپ تھا جو نکال لیا گیا تھا دو گھنٹے بعد دونوں ائر پورٹ گھوم کر اور چم چم کھانا کھا کر واپس  آئیں بوڑھا اور بڑھیا سورہے تھے ، وہ بھی آکر اپنی اپنی سیٹوں پر آکر سوگئیں ۔
07:30 پر سب اُٹھے اور گالف کارٹ میں بیٹھ کر گیٹ 3B پر پہنچے ، اِس کا مطلب تھا کہ جہاز تک بسوں میں جانا پڑے گا ۔ 20 منٹ انتظار کے بعد جہاز کی طرف روانگی کا حکم ملا ، چیک اِن کرتے وقت  تینوں 7 کلو کے بیگ لے لئے گئے اور اُنہوں نے ٹکٹ دے دئے ، چم چم کی ماما نے بتایا کہ جہاز والوں نے اُس کی سیٹ اَپ گریڈ کر دی ہے ، چم چم نے شور مچا دیا کہ وہ وہاں بیٹھے گی ۔ 
بسوں میں سوار ہوئے اور جہاز کی طرف روانہ ہوگئے کوئی 20 منٹ کے سفر کے بعد جہاز کے پاس پہنچے ، بوڑھے کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا، کندھے پر بڑھیا کی زنبیل ، سیڑھیاں چڑھتے وقت چوتھی پانچویں  سیڑھی پر ،   ایک نوجوان  ایتھوپیئن خاتون  نے بوڑھے کا لیپ ٹاپ  پکڑنے کی کوشش  کی لیکن بوڑھے نے مسکرا کر انکار کردیا ۔
وہ آگے بڑھ گئی بوڑھے نے مڑ کر دیکھا  ، بڑھیا بھی رییلنگ  پکڑ کر آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی ۔
پھر وہی  سیٹ نمبر 21 ملی ۔ بوڑھا کھڑکی کے پاس بیٹھا ، مسافر پورے   بیٹھ جانے کے بعد  جہاز نے دُبئی کے وسیع ائرپورٹ پر رینگنا شروع کیا ۔
بوڑھا جب ماضی کے اُفق کے پار جھانکتا ہے تو  اُسے دبئی کی ترقی پر رشک آتا ہے ۔ 1960 میں پاکستان کی مدد سے ریت کے ٹیلوں میں تعمیر ہونے والا دُبئی ائر پورٹ تو کیا بلکہ ساری  یونائیٹڈ عرب امارا ت اُن کے حکمرانوں  کی بالغ اللنظری اور وسیع ویژن  کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ، جہاں دنیا بھر کے سیاح  ، دُبئی کا جدید شہر دیکھنے آتے ہیں ، بوڑھے نے بھی اپنے بچوں کے ساتھ دُبئی میں 15 دن گذارے ، جہاں ٹیکسی ڈرائیورں سے معلوم ہو ا کہ پاکستان کے ہر بزنس ٹائیکون نے دبئی میں اپنے پلازے اور محل بنا کر کرائے پر چڑھائے ہوئے ہیں ۔جن میں ملازمین پاکستانی نہیں انڈین اور بنگلہ دیش کے باشندے ہیں ۔ کیوں ؟
یہ ڈھونڈنا آپ کا کام ہے !

  جنوری 9:35  پر  امارت ائرلائن کا جہاز، دبئی ائر پورٹ سے بلند ہوا ، 

 اور  ایتھوپیا کی فضاؤں میں     امارات ، اومان  ،سعودی عرب، بحرہ قلزم ، جبوتی ، صومالیہ  کے راستے داخل ہوا  ۔
 جب بوڑھا 12 اکتوبر کو دبئی سے عدیس ابابا کے لئے سفر پذیر ہوا تو یہی جہاز، دُبئی سے اومان، بحر ہند  پر یمن کا چکر کاٹ کر بحر قلزم سے  جبوتی کے اوپر  سے  ایتھوپیا میں داخل ہوا
 بہر حال ہمیں کیا جہاز کوئی بھی روٹ اختیار کرے ، پائلٹ ، نیوی گیٹر اور موسمی ہواؤں کی مرضی ۔ چیدہ چیدہ بادلوں کے اوپر سے اُڑتا ہوا، امارت کا بوئینگ      777 ایتھوپیا  کی لاوے  کی مٹی سے بنی سرزمین دکھاتا   ۔


  13:13  (پاکستان 15:13) پر "بول انٹرنیشنل ائیرپورٹ، عدیس ابابا   "   پر اتر گیا ۔

اور آہستہ آہستہ ٹیکسی کرتا،   ائر پورٹ کے مناظر دکھلاتا ۔ ٹرمینل کی عمارت کے سامنے جا کر رک گیا ۔
گو کہ ہم فرسٹ کلاس کے بالکل پیچھے والے    کیبن میں  21  نمبر سیٹوں پر بیٹھے تھے ، چونکہ ہمیں یعنی Fزون والوں کو آخر میں بٹھایا تھا ، لہذا اب پہلے نکلنے کی ہماری باری تھی ، لیکن ایک بھیانکر غلطی ہوگئی ۔ وہ کیا ؟ کہ بڑھیا کا انسولین پیکٹ    فریج میں رکھوانے کے لئے فضائی میزبان کو دی  اور فریج  50 سیٹوں کے بعد جہاز کی دم پر واقع کچن میں تھا ، بڑھیا بھی بھول گئی اور فضائی میزبان بھی ۔ چنانچہ طے یہ پایا کہ جب سب اُتر جائیں گے تو  انسولین  پیکٹ دیا جائے گا ، کیوں کہ کھڑے مسافروں کے درمیان سے گذر کر انسولین بکس فریج سے نکالنا اور واپس لے کر آنا ناممکنات میں سے تھا ۔ 

لہذا بوڑھا  اور بڑھیا سیٹوں پر بیٹھے ، چم چم کی ماما  پہلے چلی گئی تاکہ بزنس کلاس میں بیٹھی چم چم کو ہدایت دے کہ جب تک نانو اور آغاجان نہیں آتے وہ سیٹ پر بیٹھی رہے گی ۔ جب تک 150 مسافر ہماری لین کے نہیں اُتر ے  تو بوڑھا اور بڑھیا بیٹھے رہے ۔ 
چونکہ سب سے آخر میں اترے لہذا ویزہ کی لائن مین  500 مسافروں میں سب سے آخری نمبر تھا ۔
بلاشبہ  عدیس ابابا کا ائر پورٹ افریقہ کا ایک بڑا ائرپورٹ ہے ۔ جہاں سیاحوں کی بڑی تعداد ایتھوپیا آتی ہے ، اور ہرمسافر  اپنے ملک سے ای ویزہ  لیتا ہے اور  ڈی بارکیشن   سے گذرتے وقت   50  ڈالرادا کرکےباہر نکل کر سامان  لینے کے چکر میں پھنس جاتا ہے ۔
 چم چم ، بوڑھا اور بڑھیا 30دن کا ویزہ لگوا کر باہر نکلے تو چم چم کی ماما نے بتایا کہ کیبن بیگیج جو اُنہوں نے ائر پورٹ پر لیا تھا وہ تو مل گیا ہے لیکن سامان ابھی تک نہیں آیا ، گاڑیاں باہر آچکی ہیں ۔بڑھیا کو خارجی دروازے  کے پاس پڑی کرسیوں پر بٹھایا ، چم چم ، اُس کی ماما اور بوڑھا   بیلٹ پر گھومنے والے سامان میں  پیلا ربن لگے پلاسٹک میں کور سامان کو دیکھنے لگے ۔ گھنٹے بعد چم چم نے نعرہ لگا یا ۔
" ماما ہمارے بیگ " دونوں بیگ اتارے ، ٹرالی میں رکھے اوربوڑھا  چم چم کو نانو کے پاس بٹھا آیا  کیوں کہ وہ تھک چکی تھی ، بوڑھا اور بیٹی پھر لگیج بیلٹ پر نظر گاڑھ کر بیٹھ گئے ۔ 

ساتھ والی بیلٹ جبوتی  کی فلائیٹ کی تھی  وہاں کا سامان ختم ہوا تو  لگیج والوں نے  دبئی والی فلائیٹ کا سامان بھی اُس پر ڈالنا شروع کر دیا ۔ دبئی والی بیلٹ پر رش کم ہوا بوڑھا سمجھا کہ شائد جبوتی والے غلطی سے اپنا سامان لینے اِس بیلٹ پر آگئے ہیں ،
ہمارے تین بیگ جوتی سے آنے والی فلائیٹ کے بیگج بیلٹ پر گھوم رہے تھے ، میں اور بیٹی ، دُبئی   کی بیلٹ پر آنے والے سامان کو اُچک اُچک کر دیکھ رہے تھے ، کسی  مردِ دانا  نے دوسرے مردِ دانا کو بتایا  کہ اُس بیلٹ پر بھی چیک کر لو ، لہذا بیٹی اُس طرف لپکی  یوں   ،  تین بیگ بوڑھے اور بیٹی نے        16:30 پرٹرالیوں پر رکھے اور ایک لمبی لائن کے پیچھے کھڑے ہو گئے  ۔ 
بیٹی کو اچانک ایک خیال آیا ۔
" پپا آپ ٹہریں میں جاکر کر چیک کرتی ہوں شائد وہ ہمیں گرین بیلٹ سے گذرنے دیں "وہ بولی ۔

گیٹ پر موجود خاتون سے بات کی ، اُس نے بخوشی اجازت دے دی ، بوڑھا چم چم اور بڑھیا بلالایا ۔ چار افراد اور دو ٹرالیوں پر مشتمل یہ قافلہ    ، گرین گیٹ سے باآسانی گذر گئے ۔ باہر نکل کر  " فیکاڈو " کو فون کیا ، وہ دوڑا آیا اور  بیٹی کے ہاتھوں سے ٹرالی لی اور ہمیں ٹیکسی میں بٹھا کر  ، کورٹا انٹر نیشنل ہوٹل لے آیا ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔