میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جنوری، 2020

چم چم ، بڑھیا اور بوڑھا اسلام آباد میں

تنہائی سے گھبرا کر 31 اگست کو بوڑھے اور بڑھیا  نے اپنے گھر کا سارا سامان  تقسیم کردیا  اور اپنی اگلی زندگی سفر میں رہنے کا فیصلہ کیا ۔ کیوں کہ چاروں بچے   شادیوں کے بعد پُھر سے اُڑ گئے تھے ۔ لیکن ہر 15 دن بعد چم چم اپنی دادو کے گھر سے آکر بوڑھے اور بڑھیا کے پاس ویک اینڈ گذارتی  اور بوڑھے اور بڑھیا میں نئی توانائیاں پھونک دیتی ۔ 
بیٹی کو ایتھوپیا میں جاب ملی تو وہ چم چم کو لے کر 11 اگست کو ایتھوپیا آگئی ۔ بوڑھے اور بڑھیا نے  چالیس سال میں پہلی مرتبہ اکیلے عید گذاری ۔ 
 بلاآخر فیصلہ کیا اور دو سوٹ کیس چھوٹ بیٹی کے گھر رکھوائے اور    دو سات کلو گرام اور دو بکس 20 کلو گرا م بمع بوڑھے کا لیپ ٹاپ ، بس یہی کل کائینات ، لے کر برفی سے ملنے کوئٹہ پہنچ گئے ۔  
یکم ستمبر سے 9 اکتوبر تک برفی کی پیاری باتوں کے مزے لئے اُس کی ننھی شرارتوں سے لطف اُٹھایا  ۔ پھر ایتھوپیا جانے کے لئے  اسلام آباد بیٹی کے گھر آگئے ۔ 
11 اکتوبر کو بوڑھا اور بڑھیا  ، اسلام آباد سے ایتھوپیا پہنچ گئے ۔
پڑھیں :  - اُفق کے پار ، تصوّرات  کی دُھند میں لپٹا ایتھوپیا
 اور اب پھر دوبارہ 12 دسمبر کو اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کنٹونمنٹ میں قیام کا فیصلہ کیا ۔ چم چم اپنے بابا  چلی گئی ۔

15 دسمبر کو برفی اپنے بابا اور ماما کے ساتھ چھٹیاں گذارنے  اسلام آباد آئی ۔بوڑھے کی چھوٹی بیٹی یکم  دسمبر کو پاکستان پہنچ چکی تھی ۔ بڑھیا کی موجیں ہی موجیں تھی ۔ بیٹی کے ساتھ خریداری اور تمام سہیلیوں سے ملاقات ۔



چم چم نے اسلام آباد میں خوب تفریح کی ، اپنے  پہلے سکول" ایڈویپا  "جاکر اپنے سابقہ  کلاس فیلوز کے ساتھ ملاقات کی -پھر سب کو ایتھوپیا آنے سے ایک دن پہلے کلاس فیلوز کو کھانا دیا۔وہ سب حیران تھے کہ وہ تو  گریڈ  5 میں ہیں اور چم چم کیسے گریڈ  6 میں چلی گئی ؟
چم چم نے بتایا کہ اُس کا سب سے پہلے انٹری ٹیسٹ   ہوا ، پھر بورڈ نے سوال پوچھے اور اُنہوں نے گریڈ 5 کے بجائے گریڈ   6 میں داخلہ دے دیا ۔


ایف نائین پارک میں اپنے چھوٹے کزن عاذ بن عامر لودھی  کے ساتھ خوب کھیلا ۔
 بابا ، دادو ،پھوپو ، چھوٹے کزن عاذ بن عامر لودھی  کے ساتھ گاؤں بھی گئی ،ماما کے ساتھ  فلمیں دیکھیں ، غرض مکمل  تفریح کا لطف اُٹھایا ۔ 

17دسمبر کو پیر ٹھیک ہونے کے بعد ، بوڑھے نے    دوستوں کے ساتھ روزانہ گاف کھیلی ۔
27 دسمبر کی رات  1:30 پر چم چم کی ماما نے عدیس ابابا سے اسلام آباد آنا تھا ۔ برفی کا بابا   (میجر ارمغان)  اور بوڑھا  رات 12:00 بجے ائرپورٹ کے لئے نکلے ۔ غضب کی دھند تھی  کہ 50 فٹ سے آگے دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ 
ارمغان بولا: " پپا میرا خیال ہے کہ جہاز نہیں آئے گا ؟"
بوڑھا : " دبئی سے تو اُڑ چکا ہے ، نئے ائر پورٹ  جدید آلات سے لیس ہے ۔ اترنا مشکل تو نہیں ہونا چاھئیے "
1:15 پر ائرپورٹ پہنچے ، چاچا گوگل نے بتایا کہ جہاز نے  نئے ائر پورٹ کے اوپر دو چکر لگائے ہیں ، اور بالآخر  2:15 پر  واپس دُبئی ائرپورٹ کے لئے مڑ گیا ہے ۔

دھند نے ٹیکنالوجی کو شکست دے دی،سول ایوی ایشن والوں نے سوتے میں 2:35 پر بتایا کہ فلائیٹ ڈایورٹ ہو گئی ہے ۔ بوڑھا اور برفی کا ابا، چم چم کی ماما کو لئے بغیر 4:00 بجے گھر پہنچ گئے ۔
لیکن پاکستان کی فضا میں اڑنے والے، جہازوں کا جال، گوگل چاچا دکھا رہا تھا ۔

28 دسمبر کو  EK-614  فلائیٹ   13:30پر  اسلام آباد پہنچی۔
 دوستوں نے دھند میں جہاز کے اترنے کی وڈیو لگا کر ٹیکنالوجی کی بغلیں بجوائیں ۔کہ  گہری دھند میں انسٹرومنٹ   لینڈنگ سسٹم (ILS)  اور گلوبل نیوی گیشنل سیٹلائیٹ سسٹم(GNSS) کو استعمال کرکے دن کے دھندلکے میں جہاز کو بحفاظت اُتار لیا ۔

28  دسمبر کو عثمان خٹک   امریکہ سے وایا دبئی اسلام آباداُسی فلائیٹ سے  پہنچا  ،  وہ بھی کٹ اُٹھا کر گالف کھیلنے آگیا ۔
لیاقت ، نور ، حلیم، فواد ، اطہر اور ساجد جیسے  پرائڈ گالفرز  سے  کھیلنے کا موقع ملا  ۔
 اطہر عباس اوربوڑھے  ، قاضی فواد اور ساجد رضوی  کی ٹیم کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوتا اور آخری ہول پر اطہر پوائنٹس  لے کر مخالف ٹیم فواد اور ساجد کو چائے پلانے پر مجبور کر دیتا۔

یہ ممکن نہیں  کہ 2016 سے ساتھ کھیلنے والے  گالفروں ، قاضی فواد ، قاضی وقاص ، انعام اور سعد انعام کے  ساتھ گالف نہ کھیلی جائے ۔
  گالف کھیلنے کے بعد دتہ ہٹ کی کرسیوں پر بیٹھ کر،   اپنی  آج کی بہترین شاٹ اورپَٹ  کا لطف اُٹھانا، بُری شاٹ کو آئیندہ نہ کھیلنے کا عزم  نہ کرنا اور چائے پی کر  کل بہتر کھیلنے کی اُمید لے کر  ہاتھ ملا کر رخصت ہونے کا جو مزہ ہے وہ تحریر میں بیان نہیں ہو سکتا ۔


گالف کو اگرآپ کھیل  کی حد تک رکھیں اور دل پر مت لیں تو آپ کے ہارٹ اٹیک سے اِس جہانِ فانی سے کوچ کرنے کے چانس بہت کم ہوجاتے ہیں،  ویسے بھی قاضی فواد نے وصیت کی ،  
"گالف کھیلتے ہوئے مرنے کی صورت میں اُسے گالف گراونڈ  ہی میں دفن کرنا "
دفن کرنا مری میت کو بھی مئے خانے میں
  تاکہ مئے خانے کی مٹی رہے مئے خانے میں
  بوڑھے نے ، یہاں تک کہ کہ    4 جنوری ہفتے کو بڑھیا  کے احکامات سے بغاوت کرکے گاف کھیلی ۔
کیوں کہ بوڑھا ، بڑھیا سے ڈرتا ورتا نہیں ، بس ریسپیکٹ کرتا ہے  اور پھر سفر تو 5 جنوری  کی صبح صادق سے پہلے کرنا تھا ۔اور کیا ہے تھوڑے سے کام تو رہ گئے ہیں ۔اور اب شائد جون کی چھٹیوں میں اِنہی دوستوں کے ساتھ گالف کھیلی جائے ۔
بوڑھے نے گالف  کھیلنے کے بعد ، تمام احکامات  یوں پورے کئے کہ بحریہ 7 ، ڈی ایچ اے 2، صدر   اور لالکرتی کے پِھر کی کی طرح چکر لگانا پڑے ، گو  کہ یہ چکر تو پہلے دن سے ہی  لگ رہے تھے ، لیکن آخری دن تو حد ہی ہوگئی۔
پورا ایک 35 کلو کا بیگ مصالحوں اور دوائیوں سے بھرا ہوا تھا ، وزن کیا تو 40 کلو نکلا ۔ 6 کلو وزن دوسرے بیگ میں ڈالا ، یوں ہر مسافر بشمول چم چم کے ،  20+15+7 کلوگرام کے بیگ تھے ۔ وزن تولنے کی مشین  دیکھ کر چم چم کی ماما نے پوچھا،
" کس کی ہے؟"
بوڑھے نے بتایا ،" ہماری ہے ۔"
اِسے بھی لے چلیں ، عدیس ابابا میں دوسروں سے مانگنا پڑتی ہے "
یوں 2 کلو گرام وزن اور بڑھ گیا ، بوڑھے نے اپنے کپڑے نکالے اور پیچھے رہنے والے سوٹ کیس میں ٹھونس دئیے۔پہلے بھی قربانیاں بوڑھا دیتا آیا ہے اب بھی دے دی ۔ 

تمام سامان آفیسر میس ہی میں رہنے دیا ، بوڑھااور بیٹی ، چھوٹی بیٹی میجر عروضہ کے گھر پہنچے بڑھا وہاں پہلے سے موجود تھی ۔ 

کھانے کے بعد ، ایتھوپیا کے سفر کے لئے روانگی تھی ۔
٭٭٭٭واپس ٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔