میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 7 جنوری، 2020

7 جنوری کی ڈائری- جنید خان کی پارٹی


آج گو کہ منگل  ہے لیکن ایتھوپئین  کے کرسمس  کا دن ہے  - جنید خان کی بیگم عائشہ  اور بچے  سردیوں کی چھٹیوں میں چارسدہ سے پاکستان آئے ، اپنی بیگم اور بچوں کو سب سے تعارف کروانے کے لئے   گرینڈ کوبی ٹرکش ریستوران میں جنید خان نے  پاکستانی  فیملیز کو مدعو کیا ، ٹرکش کھانے سے زیادہ بوڑھے ، بڑھیا ، چم چم اور اُس کی ماما کو       فیملیز سے ملنے کا بہت مزہ آیا
 جنید کے بڑی بیٹی بخت آور  چم چم کی دوست ہے- دوسرے نمبر پر زین  اور چھوٹا بیٹا  سب کو پیارا ہے -
 آصف کے نہ آنے کا افسوس ہوا  کیوں کہ وہ  اپنے بزنس ٹور پر نکلا ہوا تھا ۔ لیکن مسز عنبر آصف اور ایان ،رافع ، اذان اور  شانزے - 

عارف ، افشیں عارف ، ثاقب ، امین اور خضریٰ چم چم کی کلاس فیلو-

جنید نے اپنے انڈین مسلم دوست مسعود خان کو بھی مدعو کیا تھا -


چم چم ، بڑھیا اور بوڑھے نے پاکستان اور دبئی سے لائے ہوئے تحفے مرد و زن و طفلاں  کو محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ پیش کئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔