میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 7 جنوری، 2020

ایتھوپیا-فرشتوں کے بنائے ہوئے گرجا گھر

 اگر ایمان ایک معمہ ہے ، تو عیسائی دنیا میں ایسی بہت کم جگہیں ہیں،  جہاں اسراریت  لالی بیلا سے کہیں زیادہ گہری ہے۔


 800 سال پہلے ، ایک ایتھوپیا کے بادشاہ نے عیسائیوں کے لئے ایک نئے دارالحکومت کا حکم دیا تھا۔ 8،000 فٹ   سطح سمندر  سے بلندی پر ، ایتھوپیا کی مرکزی سطح مرتفع پر 11 گرجا گھر کھڑے ہیں -ہرگرجا  بہت بڑی چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا ہے، جس میں کوئی اینٹ، گارا ، کوئی ٹھوس شئے یا لکڑی کو وجود نہیں ، صرف چٹان کو تراش کر عمارت بنائی گئی ہے ۔
انہیں کس نے بنایا ؟
کس لئے بنایا ؟
اِس کے بارے میں بہت کم تاریخی  مواد ملتا ہے  ۔ لیکن ایتھوپیا کے آرتھوڈوکس چرچ کے وفادار کہتے ہیں ،
"اِس میں کوئی راز کی بات نہیں خدائے ربّانی کے حکم پر اِن عبادت گاہوں کو  فرشتوں نے بنایا ہے "۔



 ایتھوپیا کے شمالی پہاڑی علاقے 31 ملین سال پہلے اس وقت وجود میں آئے ،  آتش فشاں پہاڑوں کے وجہ سے ایک میل گہری لاوے کی  سیلابی تہہ بن گئی ۔
  لاوے(Basaltic magma )  میں شامل لوہے  اور میگنیشئم کے یک لخت ٹھنڈا ہونے سے اِن میں موجود  گرم گیسیں وہیں مقید ہو گئیں ، گیسوں کے حجم نے اِنہیں مسام دار  یا اِن کے اندر بڑے بڑے خلا بنادیئے۔یوں آتش فشانی چٹانیں (Igneous Rocks)وجود میں آئیں ۔وقت کے ساتھ پانی نے اِن چٹانوں کو جدا کر دیا  ، تو استعاراتی چٹانیں (Metamorphic rocks )وجود میں آئیں اور سورج نے چٹانوں کی شکست و ریخت کا عمل صدیوں جاری رکھا - بارشوں نے  چٹانوں کے شکستہ اجزاء کو بہانا شروع کیا اور سیلابوں نے اِن کی نشیبی علاقوں میں تہیں جمانی شروع کیں ،اِن تہوں کے بوجھ اور زمین کی گرمی نے اِنہیں ٹھوس کرنا شروع کیا یوں تہہ دار چٹانیں(Sedimentary rocks) وجود میں آئیں۔
  کئی عمودی چٹانی میناروں کی طرح اب بھی افریقی زمین کے سینے میں  ایستادہ ہیں ۔جو سیاحوں کے لئے باعثِ کشش ہیں ۔ 
کہا جاتاہے کہ ایتھوپیئن بادشاہ      لالی بیلا (Gebre Mesqel Lalibela) جس  کی حکومت (1181 تا  1221) رہی ۔ اُس نے یروشلم کا  مذہبی  عبادت(pilgrim)  کاسفرکیا اور وہاں مسلمانوں کے قبضے کی وجہ سے اُس نے ایتھوپیا کے   زاگوے قوم(Zagwe dynasty) کے آرتھوڈاکس عیسائیوں  کے لئے     ، مذہبی عبادت کی جگہ کا انتخاب کیا ۔
بادشاہ     لالی بیلاکا ہدف ان لوگوں کے لئے ایک نیا یروشلم بنانا تھا جو مقدس سرزمین کی زیارت نہیں کرسکتے تھے اور صندوقِ عہد  ( Ark of the Covenant) کے ساتھ طاقتور اکسوم  ریاست کے مقابل ، عیسائیوں کا  ایک مقدس شہر بنانا تھا ۔ 
 کچھ اطلاعات کے مطابق ، وہ خود ہی سرزمین مقدس گیا تھا اور جو کچھ اس نے دیکھا اس سے متاثر ہوا۔ لیکن بادشاہ نے یروشلم   کی نقل پر گرجا گھر نہیں بنائے ،   
    لالی بیلا کا مقدس فن تعمیر اس  لئے انوکھا تھا کہ اُس نے  ، ہتھوڑے کا استعمال کرکے چھینی سے پتھروں کو کاٹ کر گرجا گھر تراشے ۔ 

٭-  فاصل جورجیس (Fasil Giorghis) ۔ ایک نہایت انوکھی تعمیر  افریقی یروشلم کے عجائبات میں سے ایک  ،اونچی لاوے سے بنی چٹان کو گہرائی میں کاٹ اور تراش کر ایک اعلیٰ منصوبہ جس نے لالی بیلا کے اقتدار کی بنیاد کو مضبوط کیا ۔یہاں تین گرجا ہیں جنھیں آپس میں سرنگ سے ملایا گیا ہے یا چٹان کے درمیان راستے کو استعمال کیا گیا ہے ۔ 


  چرچ کے اندر گھومنے والے  بڑی حد تک اندھیرے میں   گھومتے ہیں ، فنکاروں نے بہت سے کمرے بنائے،  جن میں خامی کی گنجائش نہیں تھی۔ راہداریاں  ،تہہ خانے اور ستون  روایتی تعمیر   کےمطابق  ہیں ،حالانکہ ٹھوس چٹان میں چھت کو تھامنے کے لئے ستونوں کی  ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت میں  اسرار یہی ہے کہ  جب عمارت  بنانے کی آسان تکنیک معلوم تھی تو شاہ،  لالی بیلا  نے بظاہر ناممکن کو کیوں آزمایا؟

 11 گرجا گھروں کا علاقہ  62 ایکڑ پر محیط ہے۔جو شاہ لالی بیلا نامی ندی  کے درمیان منقسم ہے۔ لالی بیلا  گرجا گھروں کی چھتیں زمین کے   برابر ہیں اور گرجا گھر میں جانے کے لئے  تنگ خندقوں میں اترتے  نیچے سیڑھیوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ گرجا گھروں کو سرنگوں اور راہداروں کے ذریعہ منسلک کیا گیا ہے اورگہری کھائیوں کے گرد پھیلا ہوا ہے۔ گرجا گھروں کے داخلی ستون   دعائیں مانگنے والے زائرین  کے ہاتھوں    گھس گھس کر ہموار ہوچکے ہیں ۔
 سب سے بڑا چرچ تقریبا   8   ہزار مربع فٹ پر محیط ہے ، ہر ایک کی چار منزلہ اونچائی  ہے۔ لیکن ان کی انتہائی حیرت انگیزلمبائی  کی پیمائش نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ لمبائی ہے جس وہ محبت کا بلاوہ کہتے ہیں ۔
  اسے  ایک مقدس جگہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں ایک عقیدت مند عیسائی کی حیثیت سے آنا ان کے  مضبوط عقیدے کی  علامت ہے۔ کچھ لوگ پیدل چلنے کے لئے سیکڑوں کلومیٹر سفر کرتے ہیں  اور کئی صدیوں سے محبت کے بلاوے کا یہ سفر ہو رہا ہے ۔


 چٹانوں سے کاٹ کر بنائے  ہوئے گرجا گھروں کی  سادہ  مگر خوبصورت نقش و نگار سے مزین نظر آنے والی کھڑکیاں ، مختلف شکلیں اور سائز کے صلیب ، سواستیکا (ایک مشرقی مذہبی نقش) اور یہاں تک کہ خصوصی اسلامی نشان بھی موجود  ہیں۔ کئی گرجا گھروں میں وال پینٹنگز بھی ہیں۔

 ہر چرچ کا اپنا رہائشی راہب ہوتا ہے جو دروازے پر رنگین بروکیڈ لباس میں نظر آتا ہے۔ جو چرچ  کی بڑی سے صلیب کو لئے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے یہ صلیب  جو عموما   چاندی سے بنی ہوتی ہیں ، جب راہب کی صلیب کے ساتھ تصویریں بنائی جاتی ہیں تو راہب بہت خوش ہوتا ہے۔
لالی بیلا ،  میں چٹانوں میں تراشے گئے  11  گرجا گھر ہیں ، جن میں سب سے زیادہ حیرت انگیز  بیٹ جیورجس (سینٹ جارج) ہے۔ گرجا گھروں کے جھرمٹ کے مغربی جانب واقع ہے ، اس کو 40 فٹ نیچے کاٹا گیا ہے اور اس کی چھت یونانی صلیب کی شکل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ یہ لالی بیلا کی موت کے بعد (c.1220) اس کی بیوہ نےسینٹ  بادشاہ کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ یہ  جیومیٹری کے بہترین ڈیزائین کے مطابق نئے یروشلم کی تعمیر کے لالی بیلا کے منصوبوں کا ایک شاندار نمونہ ہے۔

دیگر گرجا گھروں کے برعکس ، سینٹ جارج کا اندر کا رخ صاف ہے۔ ایک پردہ ہولی آف ہولیز کو ڈھانپتا، جس کے  سامنے عام طور پر ایک پجاری کھڑا ہوتا ہے جو زائرین کو کتابیں اور پینٹنگز دکھاتا ہے۔ مصلوبِ چرچ کے ایک بازو کے سائے میں اس کاتابوت یا  صندوقِ عہد (Ark of the Covenant)کی  نقل موجود ہے ۔ ایک کھوجی کو اسے کھولنے کی اجازت دی گئی اور اُس نے اِس تابوت کو خالی پایا گیا۔ کسی کو  بھی نہیں معلوم کہ تابوت کے اندر رکھی ہوئی اشیاء کہاں گئیں۔
  سینٹ جارج سے مرکزی سڑک کے اس پار "شمالی گروپ" میں ، سب سے زیادہ قابل ذکر چرچ بیتا مڈھین ایلم (Beta Medhane Alem)ہے ، جو لالی بیلا کراس کا گھر ہے۔


 اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا ایک چٹان سےتراشا ہوا چرچ  ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق  سینٹ میری آف زوائن۔اکسوم  کی کاپی ہے۔

بیتا مڈھین ایلم (Beta Medhane Alem) راہداریوں  اور سرنگوں کے ذریعہ بیتا مریم (سینٹ میری) سے منسلک ہے ، یہ  سب سے قدیم گرجا  ہے۔ چرچ کی مشرقی دیوار میں ایک عمودی لکیر میں جیومیٹرک کھدی ہوئے ستونوں کی  عمودی لائن میں ایک قطار ہے۔ جو اکسوم کے ستونوں کی طرح ہے ۔
 بیتا مریم کے بعد بیتا گولگوتھا (Beta Golgotha)ہے ، جو اپنے فن پارے کے لئے مشہور ہے جس میں دیواروں پر سینٹ کی بڑے    سائز کی نقاشی بھی شامل ہے۔ یہاں  بادشاہ لالی بیلا کا مقبرہ بھی ہے ، جس کے اوپر سونے   چڑھا ہوا صندوقِ عہد رکھا ہوا ہے ۔ مغربی گروپ  کو سلاسی کے چھوٹے گرجا اور آدم کے مقبرے  مکمل کیا ہے۔


٭٭٭٭واپس ٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔