میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 11 جنوری، 2020

شگفتگو کی سترہویں محفل

میزبان: فردوس عالم
روداد نویس: حبیبہ طلعت
حاضر شرکاء: 
ڈاکٹر عزیز فیصل
آصف اکبر
قیوم طاہر
سلمان باسط
عاطف مرزا
ارشد مرشد
ارشد محمود
محمد ظہیر قندیل
بیگم ظہیر قندیل
حبیبہ طلعت
-------------------------------

کڑاکے کی سردی میں ہیٹر چلا کر کمبل میں گھس کر خشک میوے کھانے کا لطف اپنی جگہ لیکن ہم سے سرپھرے خوشی و رغبت کے ساتھ ٹھٹھرتی سہ پہر میں کل بحریہ ٹاون، اسلام آباد، فیز ایٹ میں فردوس بریں کی کھوج میں خوب گھمن گھیریاں کھاتے سرگرداں رہے۔ حیران نہ ہوں، جنت کا حصول اتنا آسان ہے بھی تو نہیں۔۔ بقول ظہیر قندیل ماجرا یہ ہے کہ اسی عالم فانی میں فردوس عالم صاحب نے بحریہ میں ایک جنت بسا رکھی ہے جس کی تلاش میں گوگل میپ کی پشت پناہی کے باوجود کافی چکر کھانے پڑے۔ مگر اس تگ و دو کا حاصل بھی بہت شاندار رہا۔۔۔ ایک پرتپاک استقبال اور پرجوش شرکائے محفل کے زعفران زار شگفتہ نثر پارے جنہوں نے کپکپانے کے معمول کو ہنسنے کے غیر معمول میں بدل ڈالا۔۔۔
محفل قدرے تاخیر سے شروع ہوئی۔ 

  آغاز کراچی میں تشریف فرما آصف اکبر نے اپنا مضمون "مونگ کی دال" سنانے کی کوشش کرتے ہوئے کیا۔ لیکن برا ہو مواصلاتی رابطے کی اٹھ کھیلیوں کا جس کے سبب متواتر رنگ میں بھنگ کا مزا آتا رہا۔ شاید اس کا سبب محفل کا جنت کے ادنیٰ درجے یعنی مکان کے بیسمنٹ میں برپا ہونا تھا۔ 


جس کے بعد ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب نے " سالگرہ۔۔۔۔فیس بک کالم " میں عمر رواں کے تیز تر سفر اور بڑھاپے کی آمد نا خواستہ کا بے حد دلچسپ انداز میں نقشہ کھینچا۔
ان کے بعد طاہر قیوم صاحب نے " یہ بابے مسخرے" میں قہقہہ بار جملوں سے خوب داد پائی۔۔
سلمان باسط نے غضنفر ہاشمی پر تحریر کردہ خاکہ پیش کر کے چست جملوں سے حاضرین کو خوب ہنسایا ۔۔
اب باری تھی عاطف مرزا کی جنہوں نے سگریٹ نوشی کے حوالے سے گراں قدر مسکراتا مضمون عنایت کیا۔

ناچیز نے اپنی باری پر ایک پرانی تحریر 'ک سے کوفتے' پر اکتفا کیا جسے سراہا گیا۔

پہلی بار شریک محفل ارشد مرشد نے شگفتہ اسلوب میں لکھا گیا خاکہ" ہر فن مولا" پیش کیا، جس میں ان کی قابلِ داد مشاہداتی صلاحیت نے خاکی کی شخصیت اور ماحول کو خوب منعکس کیا۔
اب باری تھی فردوس عالم کی جنہوں نے درخواست نگاری کے فن کو بے حد مشاقی کے ساتھ پیش کیا اور گدگداتے جملوں اور برجستہ اشعار نے سب کو محفوظ کیا۔
آخر میں ظہیر قندیل نے جو حسن ابدال سے اپنے فیملی کے ساتھ بہ طور خاص تشریف لائے تھے، حالیہ ٹرین کے سفر پر اپنے مشاہدات کو شگفتگی کے ساتھ نذر محفل کیا۔۔۔۔


سنا ہے جنت میں حضرت انسان کو کوئی کام کاج نہیں ہوگا اور لذت کام و دہن کے واسطے نعمتیں ہزار ہوں گی۔ اسکا نمونہ بھی کل دیکھنے میں آیا جب دہی بڑوں، چنا چاٹ، شامی کبابوں، سموسوں، حلوہ اور برفی کے ساتھ گرماگرم مہکتی چائے نے سب کو خوب لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔۔۔ آخر کار حضرت آدم کی طرح بنی آدم کو بھی جنت سے نکلنا ہی تھا ۔۔۔۔سو شام گیے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔
(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔